26/02/2026
محبتیں (بالی ووڈ) بمقابلہ ڈیڈ پوئٹس سوسائٹی (ہالی ووڈ)
میرا خیال ہے کہ اب آپ کے لیے یہ بات خبر تو نہیں ہوگی کہ بالی ووڈ کی فلم محبتیں ، ہالی ووڈ کی فلم ڈیڈ پوئٹس سوسائٹی کا چربہ ہے۔ دونوں کہانی ایک سخت گیر ماحول رکھنے والے تعلیمی ادارے کی ہیں ۔ دونوں میں ایک استاد پرانے گھسے پٹے طریقوں کی بجائے نئے انداز اپنانے کا خواہش مند ہے۔ یہ دونوں استاد خود انہی کالجوں سے پڑھے ہوئے ہیں۔ بس ، میرا خیال ہے مشترک باتیں یہیں ختم ہو جاتی ہیں۔ اب دیکھتے ہیں کہ ان میں فرق کیا ہے۔.................................
اگر آپ زندگی کے حقائق سے فرار چاہتے ہیں اور کچھ دیر کے لیے کسی خوابناک دنیا میں کھو جانا چاہتے ہیں تو محبتیں فلم آپ کے لیے بنی ہے۔ ساڑھے تین گھنٹے اس دنیا میں رہیں، انجوائے کریں اور پھر واپس اپنی تلخ دنیا میں آجائیں۔ یہی اس فلم کی کامیابی کی وجہ بھی ہے۔...................................
اگر آپ زندگی کے تلخ حقائق کا سامنا کر سکتے ہیں۔ زندگی کی پیچیدگی ، رنگا رنگی جس میں صرف دو رنگ نہیں ہیں بلکہ کئی رنگ ہیں، کچھ جو آپ کو پسند آئیں گے، کچھ جو آپ کو پسند نہیں آئیں گے، زندگی جسے اندھا دھند نہیں جیا جا سکتا بلکہ سوچنا سمجھنا پڑتا ہے، غور و فکر کرنے کی ضرورت ہوتی ہے، صرف فیصلے ہی نہیں کرنے ہوتے بلکہ ان کے نتائج کی ذمہ داری بھی لینا ہوتی ہے تو پھر ڈیڈ پوئٹس سوسائٹی آپ کی فلم ہے۔.............................
محبتیں میں فلم شروع ہوتے ہی محبت شروع ہو جاتی ہے اور بس محبت ہی ہوئے چلی جا رہی ہے۔ تین لڑکے ہیں تینوں ہی محبت کرنے آئے ہیں۔ چوتھا ان کا استاد (شاہ رخ خان) ہے وہ بھی بس محبت کرنا جانتا ہے۔حد تو یہ کہ یہ سب گروکل کے باہر کھوکھے کا مالک ()بھی ایک کھوکھے والی (ارچنا پورن سنگھ) کی محبت میں گرفتار ہے۔ محبتیں کی دنیا میں کسی کو کوئی اور غم نہیں ہے اورراج ملہوترا کے علاوہ ہر کسی کو اس کی محبت مل جاتی ہے۔.............................
اگرچہ یہ سب گروکل میں اکٹھے ہوئے ہیں جہاں آنے کا ان کا بنیادی مقصد تعلیم ہے۔ مگر پوری فلم میں کوئی کلاس نہیں ہوتی ، کہیں پڑھائی یا تعلیم سے متعلقہ سرگرمی نہیں ہوتی۔ ان لڑکوں اور ان کے استاد کے ماں باپ نہیں ہیں، کسی سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ بس سادہ سی زندگی ہے۔ انہیں محبت کرنا ہے ۔ اور کچھ نہیں کرنا۔ بس۔ بہت ہی یک رنگی اور نہایت درجہ بورنگ لائف ہے (کم از کم میری نظر میں تو)۔ اس تعلیمی ادارے میں نظام کے نام پر صرف ایک پرنسپل ہے اور کچھ نہیں۔..........................
ڈیڈ پوئٹس سوسائٹی ویلٹن اکیڈمی(Welton Academy) کی کہانی ہے۔ اس میں بھی کچھ لڑکے ہیں اور ان کا ایک استاد ہے۔ تاہم یہاں آپ کو پوری زندگی ملتی ہے۔ ان بچوں کے والدین بھی ہیں۔ جن کی اپنی خواہشات ہیں، ان لڑکوں سے ان کی توقعات ہیں۔ یہاں کلاسیں بھی ہوتی ہیں۔ امتحان بھی ہوتے ہیں، مختلف ہم نصابی سرگرمیاں بھی ہوتی ہیں۔ استاد بھی صرف ایک نہیں ہے۔ ہر استاد کا پڑھانے کا اپنا الگ طریقہ ہے۔ یہ لڑکے بھی الگ الگ مزاج رکھتے ہیں۔ ایک کو ضرور محبت ہو جاتی ہے مگر ہر کوئی محبت نہیں کر رہا۔ کسی کو شاعری میں گہری دلچسپی ہے تو کوئی ایکٹنگ کرنا چاہتا ہے۔ اکیڈمی کا پورا نظام ہے۔ ہاسٹل ہے، وارڈن ہیں، اکیڈمی کو اپنی شہرت کی فکر ہے۔ اکیڈمی کے بڑے بھی کسی کو جوابدہ ہیں۔...............................
محبتیں کی دنیا میں سوچنے سمجھنے کی گنجائش نہیں ہے۔ بس محبت ہو جاتی ہے فوراً ۔ ڈیڈ پوئٹس سوسائٹی میں کچھ بھی اچانک نہیں ہوتا۔ ایک صورت حال بنتی ہے۔ کردار اندرونی کشمکش کا شکار ہوجاتے ہیں۔ پھر وہ کوئی فیصلہ کرتے ہیں ہیں۔ لیکن یہ فیصلے کرنا آسان نہیں ہوتا۔ ان کی ایک قیمت ہوتی ہے۔ ان کے نتائج ہوتے ہیں جن کی ذمہ داری اٹھانی پڑتی ہے۔
محبتیں میں اگرچہ نظام کے نام پر بس ایک پرنسپل نرائن ہے جو بظاہر مکمل طور پر با اختیار ہے مگر حیرت انگیز طور پر وہ راج ملہوترہ کو گروکل سے نکالنے کے حوالے سے بالکل بے بس ہے کیوں کہ اس نے جو کنٹریکٹ سائن کیا ہے اس میں لکھا ہے کہ راج ملہوترہ کو مقررہ مدت سے پہلے کوئی نہیں نکال سکتا۔......................................
یہاں کہانی کار بالکل گدھا معلوم ہوتا ہے۔ کہانی کی ضرورت کے تحت راج ملہوترہ کو اس کالج میں رکھنا ضروری تھا لیکن اس کے لیے کوئی ڈھنگ کا بہانہ تو بناتے بھائی۔ ساری دنیا میں کانٹریکٹ کو مقررہ وقت سے پہلے ختم کرنے کی شق (clause) ہوتی ہے۔ ایسا کانٹریکٹ تو ہم نے آج تک نہیں دیکھا کہ مکمل طور پر بااختیار اور مطلق العنان ڈکٹیٹر قسم کا پرنسپل ایسا کانٹریکٹ سائن کرتا ہے ایک ٹیچر کے ساتھ کہ جس میں کانٹریکٹ کو ختم کرنے کی کوئی کلاز ہی نہیں ہے۔.....................................
ڈیڈ پوئٹس کی دنیا زیادہ حقیقی معلوم ہوتی ہے ۔ ویلٹن اکیڈمی کا پرنسپل اتنا بااختیار نہیں ہے جتنا گروکل کا پرنسپل ہے؛ چنانچہ وہ ایک چکر چلاتا ہے اور ایک اسٹوڈنٹ کی خود کشی کا سارا ملبہ مسٹر کیٹنگ پر ڈال دیتا ہے ، اسٹوڈنٹس سے کاغذوں پر دستخط کرواتا ہے اور ان کی بنیاد پر مسٹرکیٹنگ کو اکیڈمی سے نکالتا ہے۔.............................
محبتیں کی دنیا میں کوئی سنجیدہ مسئلہ موجود ہی نہیں ہے۔ معاشرے میں اونچ نیچ بس اس حد تک ہے وکی جھوٹ بولتا ہے کہ وہ کسی بہت امیر آدمی کا بیٹا ہے اور سمیر غریب ہونے کی وجہ سے ایک کارپوریٹ سٹائل کے کھوکھے پر کام کرتا ہے۔ عام دنیا، ڈھابے، غریب مزدور، ریڑھی والے اس دنیا میں کوئی وجود نہیں رکھتے۔ غربت، بھوک، افلاس جیسی چیزیں محبتیں کی کارپوریٹ دنیا میں نہیں ہیں۔ کوکا کولہ اور ہیر وہنڈا ضرور موجود ہیں۔ ایک اور دلچسپ بات یہ ہے کہ محبتیں کی دنیا میں صرف ہندو بستے ہیں۔صرف بھگوان کی پوجا کے مناظر نظر آتےہیں، ہولی منانے کی بات ہوتی ہے (اگرچہ میں ذاتی طور پر ہولی کو ایک مذہبی تہوار کے طور پر نہیں دیکھتا)۔ اس پوری دنیا میں صرف ایک سکھ ہے جو کھوکھا چلاتا ہے اور بس۔ باقی سب ہندو ہیں۔ یہ بھارت جیسے رنگا رنگ کلچر رکھنے والے ملک کی فلم کے طور پر بہت عجیب سی فلم لگتی ہے۔............................
ڈیڈ پوئٹس کے حوالے سے یہ بات غیر متعلق ہو جاتی ہے کیوں کہ انہو ں نے کوئی خاص مذہبی ریفرنس نہیں دیا۔ فلم کی دنیا مذہبی لحاظ سے خاصی سیکولر ہے۔ اس دنیا میں بھی مطلق غریب لوگ نہیں ہیں مگر مڈل کلاس لوگ ، سیلف میڈ لوگ اور ان کی معاشی پریشانیاں پردوں کے پیچھے نہیں چھپی ہوئی۔ وہ بالکل آپ کے سامنے ہیں۔ ایکٹنگ کی اجازت اس لیے نہیں ملتی اس کا باپ اسے بڑی مشکل سے پڑھا رہا ہے اور نہیں چاہتا کہ بیٹا اس قسم کے شوق میں وقت ضائع کرے ۔ (یاد رہے کہ ایکٹنگ کو دنیا کے کسی بھی ملک میں اچھا شعبہ نہیں سمجھا جاتا۔ اسے ہوائی روزی ہی گنتے ہیں)۔
سمیر کا اس طرح کسی کھوکھے پر کام کرنا اس کے اپنے حالات کا نتیجہ کم لگتا ہے اور کہانی کار کی مجبوری زیادہ ۔ کہانی کار کے لیے ضروری تھا کہ کردار کو گروکل سے باہر نکالے تاکہ یہ لڑکا اپنی بچپن کی محبت سے مل سکے۔......................................
یاد رکھیں کہ کہانی کار کی مجبوری اگر کہانی میں اتنی واضح نظر آرہی ہوتو ایسی کہانی کو اچھی کہانی نہیں سمجھا جا تا۔ اچھی کہانی وہ ہوتی ہے جس میں ایک واقعہ دوسرے واقعے کو جنم دے۔ کہانی کار کی گرفت کہانی پر کمزور ہو تو وہ اتفاقات کے سہارے کہانی آگے بڑھاتا ہے۔ محبتیں میں بھی اتفاقات بہت ہوتے ہیں۔ تینوں لڑکے اتفاق سے گروکل میں اکٹھے ہو جاتے ہیں۔ تینوں اپنی اپنی محبوباؤں سے اتفاق سے ملتے ہیں۔ یہ بھی ایک اتفاق ہے کہ گروکل کے پرنسپل نے اپنی بیٹی کے عاشق (راج ملہوترا) کو ملے یا دیکھے بغیر ہی کالج سے نکال دیا تھا۔ چنانچہ راج ملہوترا کئی سال بعد جب اسی کالج میں استاد کے طور پر کام کرنے آتا ہے تو پرنسپل کو پتہ ہی نہیں چلتا کہ یہ وہی لڑکا ہے۔ مزید اتفاق یہ کہ وہ ایک ایسا مضمون (میوزک) پڑھانے کی پیشکش کرتا ہے جو گروکل میں پڑھایا ہی نہیں جاتا۔ یہ بھی اتفاق ہی ہے کہ پرنسپل کچھ بھی نیا کرنے کا قائل نہیں ہے مگر پھر بھی میوزک کی کلاس شروع کرنے کی اجازت دے دیتا ہے۔........................
ڈیڈ پوئٹس سوسائٹی میں اس طرح کی اتفاقات برائے نام ہیں۔مسٹر کیٹنگ نیا ہے ویلٹن اکیڈمی میں، مگر وہ ایک لازمی مضمون (انگریزی لٹریچر) پڑھانے آیا ہے۔ اگر آپ نے ڈیڈ پوئٹس سوسائٹی دیکھی ہے اور اس میں ایسا کوئی اتفاق نظر آتا ہے تو کمنٹس میں مجھے ضرور بتائیں۔.......................
دونوں استادوں کے کردار:
محبتیں کا استاد(راج ملہوترہ) آپ کو بتاتا ہے کہ کیا کرنا ہے۔وہ جذباتی خطیب ہے، نعرہ دیتا ہے، اور نتائج کی پروا کیے بغیر “دل کی سنو” کا درس دیتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ فلم کے کسی مقام پر یہ نہیں لگتا کہ راج کو موسیقی کا کوئی گہرا علم ہے۔
''''''''''''''''''''
Dead Poets Society کا استاد آپ کو اپنے دماغ سے سوچنا سکھاتا ہے۔وہ آزادی کے ساتھ ساتھ نتائج کا جائزہ لینے پر بھی زور دیتا ہے بلکہ نتائج کی ذمہ داری اٹھانے کا بھی درس دیتا ہے۔ وہ کبھی یہ نہیں کہتا کہ قیمت ادا کیے بغیر آزادی ممکن ہے۔ اسے اپنے مضمون پر مکمل گرفت ہے، اور وہ خود کو ہیرو نہیں بناتا۔.........................
دونوں فلموں کا انجام:
محبتیں کا انجام محبت کی کامیابی کی شکل میں ہوتا ہے۔ نرائن شرما باقاعدہ شکست تسلیم کرنے کا اعلان کرتا ہے اور اس موقع پر ایک بار پھر ایک لمبی تقریر کرتا ہے۔ سب کو ان کی محبت مل جاتی ہے ۔ تینوں لڑکیوں کو ان کی من پسند لڑکیاں اور کھوکھے والے کو کھوکھے والی۔ حتیٰ کہ راج ملہوترہ کے لیے بھی ’دلوں کے وزیرِ اعظم ‘ والی تسلی موجود ہے۔ میگھا کی روح راج کے ساتھ ہے۔ظاہر ہے کہ یہ صرف خوابوں میں ہی ہو سکتا ہے کہ سب کو وہ سب کچھ مل جائے جو وہ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔.............
ڈیڈ پوئٹس میں انجام حقیقی زندگی کے زیادہ قریب ہے۔ کوئی جیت جاتا ہے ، کوئی ہار جاتا ہے۔ ایک لحاظ سے مسٹر کیٹنگ ہار جاتا ہے کیوں کہ اسے ویلٹن اکیڈمی سے نکال دیا جاتا ہے۔ لیکن ایک اور رخ سے دیکھیں تو پرنسپل ہار جاتا ہے کیوں کہ کئی اسٹوڈنٹس اس کا حکم ماننے کی سے انکار کر دیتے ہیں۔ میز پر چڑھ کر کھڑا ہونا سسٹم سے بغاوت کی علامت کے طور پر دکھایا گیا ہے اور کئی اسٹوڈنٹ آخری سین میں میز پر چڑھ کر کھڑے ہو جاتے ہیں۔ بلکہ اس میں پہل ایک ایسا اسٹوڈنٹ کرتا ہے جو بہت شرمیلا تھا اور کلاس میں دو جملے نہیں بول پاتا تھا۔