Safeer - The Acting Coach

Safeer - The Acting Coach Acting Coach based in Islamabad. Let's talk about acting, theater, TV dramas, and movies. Safeer has been associated with theater since the year 2000.

In his early career, he did a lot of street theater. Later, he switched to proscenium. In 2010, he joined 'Theatre Wallay'. He still remains a part of it. In 2021, he helped set up another theater group 'Swaang'. Though he conducted innumerable theater workshops during his career, it was in 2019 when he started a regular acting class at Rung School of Music and Arts. Later, he was requested by Pak

istan National Council of the Arts (PNCA) to start an acting class at their premises. He taught there for 2 years.

محبتیں  (بالی ووڈ) بمقابلہ  ڈیڈ پوئٹس سوسائٹی (ہالی ووڈ) میرا خیال ہے کہ اب آپ کے لیے یہ بات خبر تو نہیں ہوگی کہ بالی وو...
26/02/2026

محبتیں (بالی ووڈ) بمقابلہ ڈیڈ پوئٹس سوسائٹی (ہالی ووڈ)
میرا خیال ہے کہ اب آپ کے لیے یہ بات خبر تو نہیں ہوگی کہ بالی ووڈ کی فلم محبتیں ، ہالی ووڈ کی فلم ڈیڈ پوئٹس سوسائٹی کا چربہ ہے۔ دونوں کہانی ایک سخت گیر ماحول رکھنے والے تعلیمی ادارے کی ہیں ۔ دونوں میں ایک استاد پرانے گھسے پٹے طریقوں کی بجائے نئے انداز اپنانے کا خواہش مند ہے۔ یہ دونوں استاد خود انہی کالجوں سے پڑھے ہوئے ہیں۔ بس ، میرا خیال ہے مشترک باتیں یہیں ختم ہو جاتی ہیں۔ اب دیکھتے ہیں کہ ان میں فرق کیا ہے۔.................................
اگر آپ زندگی کے حقائق سے فرار چاہتے ہیں اور کچھ دیر کے لیے کسی خوابناک دنیا میں کھو جانا چاہتے ہیں تو محبتیں فلم آپ کے لیے بنی ہے۔ ساڑھے تین گھنٹے اس دنیا میں رہیں، انجوائے کریں اور پھر واپس اپنی تلخ دنیا میں آجائیں۔ یہی اس فلم کی کامیابی کی وجہ بھی ہے۔...................................
اگر آپ زندگی کے تلخ حقائق کا سامنا کر سکتے ہیں۔ زندگی کی پیچیدگی ، رنگا رنگی جس میں صرف دو رنگ نہیں ہیں بلکہ کئی رنگ ہیں، کچھ جو آپ کو پسند آئیں گے، کچھ جو آپ کو پسند نہیں آئیں گے، زندگی جسے اندھا دھند نہیں جیا جا سکتا بلکہ سوچنا سمجھنا پڑتا ہے، غور و فکر کرنے کی ضرورت ہوتی ہے، صرف فیصلے ہی نہیں کرنے ہوتے بلکہ ان کے نتائج کی ذمہ داری بھی لینا ہوتی ہے تو پھر ڈیڈ پوئٹس سوسائٹی آپ کی فلم ہے۔.............................
محبتیں میں فلم شروع ہوتے ہی محبت شروع ہو جاتی ہے اور بس محبت ہی ہوئے چلی جا رہی ہے۔ تین لڑکے ہیں تینوں ہی محبت کرنے آئے ہیں۔ چوتھا ان کا استاد (شاہ رخ خان) ہے وہ بھی بس محبت کرنا جانتا ہے۔حد تو یہ کہ یہ سب گروکل کے باہر کھوکھے کا مالک ()بھی ایک کھوکھے والی (ارچنا پورن سنگھ) کی محبت میں گرفتار ہے۔ محبتیں کی دنیا میں کسی کو کوئی اور غم نہیں ہے اورراج ملہوترا کے علاوہ ہر کسی کو اس کی محبت مل جاتی ہے۔.............................
اگرچہ یہ سب گروکل میں اکٹھے ہوئے ہیں جہاں آنے کا ان کا بنیادی مقصد تعلیم ہے۔ مگر پوری فلم میں کوئی کلاس نہیں ہوتی ، کہیں پڑھائی یا تعلیم سے متعلقہ سرگرمی نہیں ہوتی۔ ان لڑکوں اور ان کے استاد کے ماں باپ نہیں ہیں، کسی سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ بس سادہ سی زندگی ہے۔ انہیں محبت کرنا ہے ۔ اور کچھ نہیں کرنا۔ بس۔ بہت ہی یک رنگی اور نہایت درجہ بورنگ لائف ہے (کم از کم میری نظر میں تو)۔ اس تعلیمی ادارے میں نظام کے نام پر صرف ایک پرنسپل ہے اور کچھ نہیں۔..........................
ڈیڈ پوئٹس سوسائٹی ویلٹن اکیڈمی(Welton Academy) کی کہانی ہے۔ اس میں بھی کچھ لڑکے ہیں اور ان کا ایک استاد ہے۔ تاہم یہاں آپ کو پوری زندگی ملتی ہے۔ ان بچوں کے والدین بھی ہیں۔ جن کی اپنی خواہشات ہیں، ان لڑکوں سے ان کی توقعات ہیں۔ یہاں کلاسیں بھی ہوتی ہیں۔ امتحان بھی ہوتے ہیں، مختلف ہم نصابی سرگرمیاں بھی ہوتی ہیں۔ استاد بھی صرف ایک نہیں ہے۔ ہر استاد کا پڑھانے کا اپنا الگ طریقہ ہے۔ یہ لڑکے بھی الگ الگ مزاج رکھتے ہیں۔ ایک کو ضرور محبت ہو جاتی ہے مگر ہر کوئی محبت نہیں کر رہا۔ کسی کو شاعری میں گہری دلچسپی ہے تو کوئی ایکٹنگ کرنا چاہتا ہے۔ اکیڈمی کا پورا نظام ہے۔ ہاسٹل ہے، وارڈن ہیں، اکیڈمی کو اپنی شہرت کی فکر ہے۔ اکیڈمی کے بڑے بھی کسی کو جوابدہ ہیں۔...............................
محبتیں کی دنیا میں سوچنے سمجھنے کی گنجائش نہیں ہے۔ بس محبت ہو جاتی ہے فوراً ۔ ڈیڈ پوئٹس سوسائٹی میں کچھ بھی اچانک نہیں ہوتا۔ ایک صورت حال بنتی ہے۔ کردار اندرونی کشمکش کا شکار ہوجاتے ہیں۔ پھر وہ کوئی فیصلہ کرتے ہیں ہیں۔ لیکن یہ فیصلے کرنا آسان نہیں ہوتا۔ ان کی ایک قیمت ہوتی ہے۔ ان کے نتائج ہوتے ہیں جن کی ذمہ داری اٹھانی پڑتی ہے۔
محبتیں میں اگرچہ نظام کے نام پر بس ایک پرنسپل نرائن ہے جو بظاہر مکمل طور پر با اختیار ہے مگر حیرت انگیز طور پر وہ راج ملہوترہ کو گروکل سے نکالنے کے حوالے سے بالکل بے بس ہے کیوں کہ اس نے جو کنٹریکٹ سائن کیا ہے اس میں لکھا ہے کہ راج ملہوترہ کو مقررہ مدت سے پہلے کوئی نہیں نکال سکتا۔......................................
یہاں کہانی کار بالکل گدھا معلوم ہوتا ہے۔ کہانی کی ضرورت کے تحت راج ملہوترہ کو اس کالج میں رکھنا ضروری تھا لیکن اس کے لیے کوئی ڈھنگ کا بہانہ تو بناتے بھائی۔ ساری دنیا میں کانٹریکٹ کو مقررہ وقت سے پہلے ختم کرنے کی شق (clause) ہوتی ہے۔ ایسا کانٹریکٹ تو ہم نے آج تک نہیں دیکھا کہ مکمل طور پر بااختیار اور مطلق العنان ڈکٹیٹر قسم کا پرنسپل ایسا کانٹریکٹ سائن کرتا ہے ایک ٹیچر کے ساتھ کہ جس میں کانٹریکٹ کو ختم کرنے کی کوئی کلاز ہی نہیں ہے۔.....................................
ڈیڈ پوئٹس کی دنیا زیادہ حقیقی معلوم ہوتی ہے ۔ ویلٹن اکیڈمی کا پرنسپل اتنا بااختیار نہیں ہے جتنا گروکل کا پرنسپل ہے؛ چنانچہ وہ ایک چکر چلاتا ہے اور ایک اسٹوڈنٹ کی خود کشی کا سارا ملبہ مسٹر کیٹنگ پر ڈال دیتا ہے ، اسٹوڈنٹس سے کاغذوں پر دستخط کرواتا ہے اور ان کی بنیاد پر مسٹرکیٹنگ کو اکیڈمی سے نکالتا ہے۔.............................
محبتیں کی دنیا میں کوئی سنجیدہ مسئلہ موجود ہی نہیں ہے۔ معاشرے میں اونچ نیچ بس اس حد تک ہے وکی جھوٹ بولتا ہے کہ وہ کسی بہت امیر آدمی کا بیٹا ہے اور سمیر غریب ہونے کی وجہ سے ایک کارپوریٹ سٹائل کے کھوکھے پر کام کرتا ہے۔ عام دنیا، ڈھابے، غریب مزدور، ریڑھی والے اس دنیا میں کوئی وجود نہیں رکھتے۔ غربت، بھوک، افلاس جیسی چیزیں محبتیں کی کارپوریٹ دنیا میں نہیں ہیں۔ کوکا کولہ اور ہیر وہنڈا ضرور موجود ہیں۔ ایک اور دلچسپ بات یہ ہے کہ محبتیں کی دنیا میں صرف ہندو بستے ہیں۔صرف بھگوان کی پوجا کے مناظر نظر آتےہیں، ہولی منانے کی بات ہوتی ہے (اگرچہ میں ذاتی طور پر ہولی کو ایک مذہبی تہوار کے طور پر نہیں دیکھتا)۔ اس پوری دنیا میں صرف ایک سکھ ہے جو کھوکھا چلاتا ہے اور بس۔ باقی سب ہندو ہیں۔ یہ بھارت جیسے رنگا رنگ کلچر رکھنے والے ملک کی فلم کے طور پر بہت عجیب سی فلم لگتی ہے۔............................
ڈیڈ پوئٹس کے حوالے سے یہ بات غیر متعلق ہو جاتی ہے کیوں کہ انہو ں نے کوئی خاص مذہبی ریفرنس نہیں دیا۔ فلم کی دنیا مذہبی لحاظ سے خاصی سیکولر ہے۔ اس دنیا میں بھی مطلق غریب لوگ نہیں ہیں مگر مڈل کلاس لوگ ، سیلف میڈ لوگ اور ان کی معاشی پریشانیاں پردوں کے پیچھے نہیں چھپی ہوئی۔ وہ بالکل آپ کے سامنے ہیں۔ ایکٹنگ کی اجازت اس لیے نہیں ملتی اس کا باپ اسے بڑی مشکل سے پڑھا رہا ہے اور نہیں چاہتا کہ بیٹا اس قسم کے شوق میں وقت ضائع کرے ۔ (یاد رہے کہ ایکٹنگ کو دنیا کے کسی بھی ملک میں اچھا شعبہ نہیں سمجھا جاتا۔ اسے ہوائی روزی ہی گنتے ہیں)۔
سمیر کا اس طرح کسی کھوکھے پر کام کرنا اس کے اپنے حالات کا نتیجہ کم لگتا ہے اور کہانی کار کی مجبوری زیادہ ۔ کہانی کار کے لیے ضروری تھا کہ کردار کو گروکل سے باہر نکالے تاکہ یہ لڑکا اپنی بچپن کی محبت سے مل سکے۔......................................
یاد رکھیں کہ کہانی کار کی مجبوری اگر کہانی میں اتنی واضح نظر آرہی ہوتو ایسی کہانی کو اچھی کہانی نہیں سمجھا جا تا۔ اچھی کہانی وہ ہوتی ہے جس میں ایک واقعہ دوسرے واقعے کو جنم دے۔ کہانی کار کی گرفت کہانی پر کمزور ہو تو وہ اتفاقات کے سہارے کہانی آگے بڑھاتا ہے۔ محبتیں میں بھی اتفاقات بہت ہوتے ہیں۔ تینوں لڑکے اتفاق سے گروکل میں اکٹھے ہو جاتے ہیں۔ تینوں اپنی اپنی محبوباؤں سے اتفاق سے ملتے ہیں۔ یہ بھی ایک اتفاق ہے کہ گروکل کے پرنسپل نے اپنی بیٹی کے عاشق (راج ملہوترا) کو ملے یا دیکھے بغیر ہی کالج سے نکال دیا تھا۔ چنانچہ راج ملہوترا کئی سال بعد جب اسی کالج میں استاد کے طور پر کام کرنے آتا ہے تو پرنسپل کو پتہ ہی نہیں چلتا کہ یہ وہی لڑکا ہے۔ مزید اتفاق یہ کہ وہ ایک ایسا مضمون (میوزک) پڑھانے کی پیشکش کرتا ہے جو گروکل میں پڑھایا ہی نہیں جاتا۔ یہ بھی اتفاق ہی ہے کہ پرنسپل کچھ بھی نیا کرنے کا قائل نہیں ہے مگر پھر بھی میوزک کی کلاس شروع کرنے کی اجازت دے دیتا ہے۔........................
ڈیڈ پوئٹس سوسائٹی میں اس طرح کی اتفاقات برائے نام ہیں۔مسٹر کیٹنگ نیا ہے ویلٹن اکیڈمی میں، مگر وہ ایک لازمی مضمون (انگریزی لٹریچر) پڑھانے آیا ہے۔ اگر آپ نے ڈیڈ پوئٹس سوسائٹی دیکھی ہے اور اس میں ایسا کوئی اتفاق نظر آتا ہے تو کمنٹس میں مجھے ضرور بتائیں۔.......................
دونوں استادوں کے کردار:
محبتیں کا استاد(راج ملہوترہ) آپ کو بتاتا ہے کہ کیا کرنا ہے۔وہ جذباتی خطیب ہے، نعرہ دیتا ہے، اور نتائج کی پروا کیے بغیر “دل کی سنو” کا درس دیتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ فلم کے کسی مقام پر یہ نہیں لگتا کہ راج کو موسیقی کا کوئی گہرا علم ہے۔
''''''''''''''''''''
Dead Poets Society کا استاد آپ کو اپنے دماغ سے سوچنا سکھاتا ہے۔وہ آزادی کے ساتھ ساتھ نتائج کا جائزہ لینے پر بھی زور دیتا ہے بلکہ نتائج کی ذمہ داری اٹھانے کا بھی درس دیتا ہے۔ وہ کبھی یہ نہیں کہتا کہ قیمت ادا کیے بغیر آزادی ممکن ہے۔ اسے اپنے مضمون پر مکمل گرفت ہے، اور وہ خود کو ہیرو نہیں بناتا۔.........................
دونوں فلموں کا انجام:
محبتیں کا انجام محبت کی کامیابی کی شکل میں ہوتا ہے۔ نرائن شرما باقاعدہ شکست تسلیم کرنے کا اعلان کرتا ہے اور اس موقع پر ایک بار پھر ایک لمبی تقریر کرتا ہے۔ سب کو ان کی محبت مل جاتی ہے ۔ تینوں لڑکیوں کو ان کی من پسند لڑکیاں اور کھوکھے والے کو کھوکھے والی۔ حتیٰ کہ راج ملہوترہ کے لیے بھی ’دلوں کے وزیرِ اعظم ‘ والی تسلی موجود ہے۔ میگھا کی روح راج کے ساتھ ہے۔ظاہر ہے کہ یہ صرف خوابوں میں ہی ہو سکتا ہے کہ سب کو وہ سب کچھ مل جائے جو وہ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔.............
ڈیڈ پوئٹس میں انجام حقیقی زندگی کے زیادہ قریب ہے۔ کوئی جیت جاتا ہے ، کوئی ہار جاتا ہے۔ ایک لحاظ سے مسٹر کیٹنگ ہار جاتا ہے کیوں کہ اسے ویلٹن اکیڈمی سے نکال دیا جاتا ہے۔ لیکن ایک اور رخ سے دیکھیں تو پرنسپل ہار جاتا ہے کیوں کہ کئی اسٹوڈنٹس اس کا حکم ماننے کی سے انکار کر دیتے ہیں۔ میز پر چڑھ کر کھڑا ہونا سسٹم سے بغاوت کی علامت کے طور پر دکھایا گیا ہے اور کئی اسٹوڈنٹ آخری سین میں میز پر چڑھ کر کھڑے ہو جاتے ہیں۔ بلکہ اس میں پہل ایک ایسا اسٹوڈنٹ کرتا ہے جو بہت شرمیلا تھا اور کلاس میں دو جملے نہیں بول پاتا تھا۔

کیا آپ نے یہ دونوں فلمیں دیکھی ہیں؟ اگر دیکھی ہیں تو آپ کو ان  میں سے کون سی بہتر فلم لگی؟
25/02/2026

کیا آپ نے یہ دونوں فلمیں دیکھی ہیں؟
اگر دیکھی ہیں تو آپ کو ان میں سے کون سی بہتر فلم لگی؟

مختصر ناول ہے کہانی  کہنے والا کوئی ایک کردار نہیں ہے اور نہ ہی   کوئی ہمہ وقت اور ہر جگہ موجود راوی (Narrator)ہے۔ کہانی...
19/02/2026

مختصر ناول ہے
کہانی کہنے والا کوئی ایک کردار نہیں ہے اور نہ ہی کوئی ہمہ وقت اور ہر جگہ موجود راوی (Narrator)ہے۔ کہانی کئی کرداروں کے تناظر سے بیان کی گئی ہے۔ یا یوں کہہ لیجیے کہ ہر منظر کو اس کے مرکزی کردار کے نقطہ نظر سے بیان کیا گیا ہے۔ یہ قاری کے لیے شروع میں الجھن کا باعث بن سکتا ہے۔ کیوں کہ ہر باب میں آپ کو پہلے یہ دیکھنا ہے کہ ’میں‘ کون ہے۔ کسی باب میں یہ امتثال ہے ، کسی میں تصور تو کسی میں پروفیسر سہارن رائے۔
ناول کا زمان و مکان متعین نہیں ہے ۔ تاہم عدلیہ کہ بحالی کی تحریک کی بنیاد پر آپ اسے سال 2007سے 2009ء کے زمانے کے واقعات پر مشتمل کہہ سکتے ہیں۔ اگرچہ اس سے پہلے کا کچھ احوال فلیش بیک میں بھی پیش کیا گیا ہے۔ آپ مختلف مقامات کو اپنے طور کوئی نام دے سکتے ہیں اور اپنے طور پر زمانے کا تعین بھی کر سکتے ہیں۔ یوں یہ آج کی کہانی بھی ہو سکتی ہے اور آج سے دس بیس پچاس سال پہلے کی بھی اور بعد کی بھی۔ یہ کہانی کراچی ، اسلام آباد اور کشمیر کی بھی ہو سکتی ہے اور کہیں اور کی بھی۔قاری اپنی آسانی کے لیے زمان و مکان کا تعین خود کر سکتے ہیں۔
کرداروں کے نام بھی ایسے ہی ہیں کہ آپ انہیں کسی خطے یا نسل سے نہیں جوڑ سکتے ۔ مثلاً اگر آپ پاکستان کو ذہن میں رکھیں تو یہ اندازہ لگانا آپ کے لیے آسان نہیں ہو گا کہ سہارن رائے نام کا بندہ پاکستان کے کس علاقے سے تعلق رکھتا ہوگا۔ تاہم وہ لوک ادب اور لوک ورثے سے جڑے رہنے کا قائل ہے اور جب لوک ادب کی بات ہوتی ہے تو پنجابی ، پشتو، سندھی سب کے حوالے آجاتے ہیں ۔ میرے لیے ایک دلچسپ بات یہ تھی کہ ایک موقع پر پروفیسر سہارن رائے پشتو گیت گاتا ہے۔
زبان بہت سادہ اور سلیس ہے اور انداز، بیان بہت سرسری سا معلوم ہوتا ہے ۔ کسی بھی موقع پر یہ نہیں لگتا کہ کوئی بہت اہم بات بتائی جا رہی ہے۔ دوسری طرف کہانی بہت تیزی سے آگے بڑھتی ہے۔ کبھی کبھی لگتا ہے اخبار کی سرخیاں پڑھ رہے ہیں اور ان میں تعلق آپ نے خود پیدا کرنا ہے ۔ بیان کے سرسری انداز /تیزی کی وجہ سے عین ممکن ہے کہ کوئی بہت اہم بات آپ نظر انداز کر جائیں ۔ سو آپ کو تھوڑا محتاط ہو کر پڑھنا چاہیے تاکہ اہم باتیں یا نکات پر سے آپ کی نظر پھسلتی ہوئی آگے نہ نکل جائے۔ ایسا نہ ہو کہ پھر واپس لوٹنا پڑے اور پچھلے صفحے کو دوبارہ پڑھنے کی ضرورت پیش آ جائے۔
ناول محض بیان (Narration)پر اکتفا نہیں کرتا، بلکہ مکالمہ بھی پوری طرح موجود ہے۔ سو ان مناظر کو ڈرامے میں بدلنا بہت آسان معلوم ہوتا ہے۔ اگرچہ میرا خیال ہے کہ اسے تھیٹر ڈرامے کے مقابلے میں ٹی وی ڈرامے یا فلم میں ڈھالنا زیادہ آسان ہوگا۔
مصنف نے خوابوں کو بھی کافی جگہ دی ہے۔ کردار حقیقت کی دنیا سے خواب و خیال میں نکل جاتے ہیں اور پھر اچانک ایک جھٹکے سے واپس حقیقت کی دنیا میں لوٹ آتے ہیں۔ یہ خواب بھی تمثیلیں ہیں جوکرداروں کی شخصیت کے پرت کھولتے ہیں۔
ناول کے موضوع کے بارے میں سوچیں تو فوری طور پر جو بات ذہن میں آتی ہے وہ نظامِ تعلیم اور طریقہ تدریس ہے۔ ناول لگے بندھے بلکہ گھسے پٹے کہنا زیادہ مناسب ہوگا ؛ ناول گھسے پٹے انداز میں تعلیم دینے کے مقابلے میں نئے انداز اپنانے کی طرف آپ کا دھیان دلاتا ہے اور مروج اندازِ تدریس پر تنقید کرتا ہے جو طلبا میں تنقیدی شعور پیدا نہیں کرتا۔ پروفیسر رائے ایک جگہ کہتا ہے: ’’تعلیم ایک قوم کو سلا بھی سکتی ہے اور بیدار بھی کر سکتی ہے۔یہ معاشرے کی سماجی اور معاشی تفریق کو بڑھا بھی سکتی ہے اور کم بھی کر سکتی ہے‘‘۔
لیکن تعلیم کو ایک استعارہ بھی سمجھا جا سکتا ہے؛ ناول دراصل زندگی کو لگے بندھے انداز میں جینے کی بجائے نت نئے تجربات کرنے پر اکساتا ہے۔ اور نئے رستوں پر چل نکلنے کی صورت میں پیش آنے والی مشکلات ، کارپوریٹ دنیا کی بھیڑ چال اور اس میں واپس انسانی تعلقات کو از سر نو دیکھنے کی بات کرتا ہے۔
ناول کا اپنا انداز بھی عام ڈگر سے ہٹ کر ہے۔ بیان کے حوالے سے میں پہلے بات کر چکا ہوں اور یہ بھی بتا چکا ہوں کہ اس کہانی کا کوئی ایک راوی نہیں ہے۔ ہر کردار اپنا اپنا حصہ سناتا ہے (اگرچہ ایسا بھی نہیں کہ اس انداز میں پہلے کسی نے ناول نہ لکھا ہو)۔ کرداروں کے درمیان تعلق ہو یا واقعات ، کہیں بھی آپ کو روایتی پن نہیں ملتا۔ اگر آپ عام ناول پڑھتے رہے ہیں تو آپ کو بار بار یہ خیال آئے گا کہ ناول کے دو اہم کرداروں کے درمیان کوئی رومانی تعلق قائم ہو جائے گا۔ لیکن خیر یہ بھی اپنی جگہ ایک بحث طلب بات ہے۔ آپ خو د ہی فیصلہ کیجیے گا کہ اس تعلق کو رومانی کہا جا سکتا ہے کہ نہیں۔
آخری بات: ناول اچھائی اور برائی ، انصاف اور جبر کے درمیان نہ ختم ہونے والی کھینچا تانی کے بارے میں ہے ۔ اچھے لوگ یہ لڑائی لڑتے ہیں، کامیابی کے خواب دیکھتے ہیں اور پھر یہ خواب اگلی نسل کے حوالے کر کے خود آگے بڑھ جاتے ہیں۔

The calm before Mahol Bahut Kharab Hai.One hour to go. Rehearsing Mahol Bahut Kharab Hai on the very stage it will unfol...
17/02/2026

The calm before Mahol Bahut Kharab Hai.
One hour to go. Rehearsing Mahol Bahut Kharab Hai on the very stage it will unfold.

With my Gang that performed Mahol Bahut Kharab Hai. In the Green Room at PNCA.
17/02/2026

With my Gang that performed Mahol Bahut Kharab Hai. In the Green Room at PNCA.

یہ بزرگ حاجی محمود فردوسی ہیں، سکردو بلتستان سے تعلق رکھتے ہیں اوراپنی مادری زبان میں  شاعری کرتے ہیں ، چار کتابوں کے مص...
16/02/2026

یہ بزرگ حاجی محمود فردوسی ہیں، سکردو بلتستان سے تعلق رکھتے ہیں اوراپنی مادری زبان میں شاعری کرتے ہیں ، چار کتابوں کے مصنف ہیں۔
مادری زبانوں کے میلے کے موقع پر تھیٹر والے ٹیم نے ماحولیاتی مسائل پر ایک کھیل پیش کیا جس کے بعد انڈس کلچرل فورم کی طرف سے ہماری ساری ٹیم کو ہاتھ سے بنے ہوئے اسکارف پہنائے گئے۔ مجھے یہ اسکارف بہت پسند آیا جس کے لیے انڈس کلچرل فورم کا شکریہ۔ (اس کے پیچھے ایک پرانی یاد بھی ہے کہ پندہر سولہ سال پہلے ایک اسکارف جو مجھے بہت پسند تھا ایک شادی میں چوری ہو گیا تھا۔)
میں وہ اسکارف گلے میں لٹکائے میلے میں گھوم رہا تھا کہ حاجی صاحب سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے جس طرح اس اسکارف کو چھو کر دیکھا اس نے مجھے بہت مشکل میں ڈال دیا۔ میں وہ اسکارف دینا بھی نہیں چاہتا تھا مگر نہ دینا بھی دل پر بوجھ تھا۔ یاد رہے کہ حاجی صاحب نے مجھ سے اسکارف مانگا ہر گز نہین تھا۔
میری یہ مشکل یوں آسان ہو گئی کہ وہیں ایک اسٹال پر بالکل ویسے ہی اسکارف پڑے تھے۔ میں نے ان میں سے ایک اسکارف پسند کیا اور بابا جی کو ڈھونڈا جو اتفاق سے وہیں پاس ہی گلگت بلتستان کے ایک اسٹال پر مل گئے۔ وہ اسکارف میں نے بابا جی کو پیش کیا تو ان کی خوشی دیدنی تھی۔
قریب ہی یارِ من جناب ضیا بلوچ موجود تھے انہوں نے یہ تماشا دیکھا تو اسکارف دوبارہ پہنانے کو کہا اور کچھ تصویریں بنا لیں۔ یہ اس میلے کا سب سے بڑا یاد گار واقعہ رہے گا۔ (تصویریں بنانے کے حوالے سے میں بہت سست واقع ہوا ہوں۔ میلے پر ملنے والے دوستوں میں سے کسی کے ساتھ کوئی تصویر نہیں بنائی۔ )

Honoured to be part of the Mother Languages & Literature Festival and to share the stage with those who make spaces for ...
16/02/2026

Honoured to be part of the Mother Languages & Literature Festival and to share the stage with those who make spaces for language, culture, and dialogue to thrive.

Thank you to the festival organisers - Indus Cultural Forum - for hosting Mahol Bahut Kharab Hai and supporting theatre that speaks to our times at the Pakistan National Council of the Arts.

13/02/2026

This is the 5th Anniversary of this Page. I created it on 13 Feb 2021.

Mahol Bahut Kharab Hai A thought-provoking play on climate change, environmental neglect, and human responsibility. Pres...
10/02/2026

Mahol Bahut Kharab Hai
A thought-provoking play on climate change, environmental neglect, and human responsibility. Presented as part of the Mother Languages and Literature Festival, this performance uses theatre to reflect on the state of our planet and our shared future.
Written and Directed by Safeer Ullah Khan
📅 14 February
🕓 4:00 PM
📍 PNCA Auditorium, Islamabad
Join us for an evening of meaningful theatre and reflection.

Stories began to breathe,bodies found their voices,and imagination filled the room.Scenes from the theater workshop at F...
10/10/2025

Stories began to breathe,
bodies found their voices,
and imagination filled the room.
Scenes from the theater workshop at Foundation University Rawalpindi Campus - FURC

Caught in action — or rather, in too many actions!A few stills from the Foundation University theater workshop, 8th Octo...
10/10/2025

Caught in action — or rather, in too many actions!
A few stills from the Foundation University theater workshop, 8th October.
Foundation University Rawalpindi Campus - FURC

Just giving my ears the spotlight they deserve ✨At the Foundation University the other day, they made me hold my ears 🤪🤣...
09/10/2025

Just giving my ears the spotlight they deserve ✨
At the Foundation University the other day, they made me hold my ears 🤪🤣

Address

I 8 Markaz
Islamabad
44000

Opening Hours

Tuesday 11:00 - 19:00
Wednesday 11:00 - 19:00
Thursday 11:00 - 23:00
Friday 11:00 - 19:00
Saturday 00:00 - 19:00
Sunday 00:00 - 20:00

Telephone

+923035667670

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Safeer - The Acting Coach posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Establishment

Send a message to Safeer - The Acting Coach:

Share