Safeer - The Acting Coach

Call Directions Website Contact the establishment

Safeer - The Acting Coach Acting Coach based in Islamabad. Let's talk about acting, theater, TV dramas, and movies. Safeer has been associated with theater since the year 2000.

In his early career, he did a lot of street theater. Later, he switched to proscenium. In 2010, he joined 'Theatre Wallay'. He still remains a part of it. In 2021, he helped set up another theater group 'Swaang'. Though he conducted innumerable theater workshops during his career, it was in 2019 when he started a regular acting class at Rung School of Music and Arts. Later, he was requested by Pakistan National Council of the Arts (PNCA) to start an acting class at their premises. He taught there for 2 years.

🎭 Curious About the Acting Class?Come and Ask Me Anything!Thinking about joining the Acting Class with Safeer but not qu...
26/09/2026

🎭 Curious About the Acting Class?
Come and Ask Me Anything!

Thinking about joining the Acting Class with Safeer but not quite sure what happens inside the class?

What do we actually do for 90 minutes?
Why do acting students play games and do all those strange exercises?
Is the class suitable for complete beginners?
Do you need previous theatre experience?
What will you learn during the three-month course?

Join me for an informal live online session where I’ll talk about the class, the training approach, and what you can expect.

And then, you ask the questions.

No question is too basic. No previous acting experience is required.

🎭 Come meet your mentor. Ask your questions. Get to know the class.

📅 29 September
🕤 9:30 PM
💻 Live / Online

Acting Class with Safeer

25/09/2026

Zip Zap Zoop
Do you think they are playing it properly? Anything wrong with this game? Why do we play this game?

اک خط پرندوں کے نام بدھا جس پیڑ کے نیچے کبھی نروان کو آواز دیتا تھا سنا ہے شہر والوں نے اسے بھی کاٹ ڈالا ہے(ستاروں کے کس...
21/09/2026

اک خط پرندوں کے نام

بدھا جس پیڑ کے نیچے کبھی نروان کو آواز دیتا تھا
سنا ہے شہر والوں نے اسے بھی کاٹ ڈالا ہے
(ستاروں کے کسی جھرمٹ میں بیٹھی ایک حسرت رو پڑی ہوگی)
پرندو!
درگزر کرنا
کہ جب سے شہر کے لوگوں نے
اپنے سائبانوں کے لیے خود چھتریاں ایجاد کر لی ہیں
وہ کہتے ہیں:
ہمیں پیڑوں کی چھاؤں
یا تمہارے گھونسلوں سے کیا؟
ہمیں تو جون کے سورج بھی اب کچھ کہہ نہیں سکتے
ہم ایک کمزور سی شئے سے
ذرا سی آکسیجن مانگنا ذلت سمجھتے ہیں
(سنو یارو!
ابھی کل تک
یہی انسن ہرے پیڑوں کی شاخوں پر
اچھلتا کودتا جیون بتاتا تھا
مگر جب اس نے اپنی پچھلی ٹانگوں پر کھڑے ہونے کا فن سیکھا
تو اپنے ہاتھ میں کلہاڑیاں لے لیں
سنا ہے
اب وہ اپنے معبدوں کو کاٹ کر بندوق کے دستے بناتا ہے )
پرندو!
درگزر کرنا
تم اہلِ دل ہو
پیڑوں سے ابھی تک پیار کی رسمیں نبھاتےہو
(روش ندیم)

🎭 Admissions Are Open!The wait is over!Acting Class with Safeer is starting from 6th October at Ahang Kada, E-11/2. Ahan...
18/09/2026

🎭 Admissions Are Open!

The wait is over!

Acting Class with Safeer is starting from 6th October at Ahang Kada, E-11/2. Ahang Kada آهنګ کده

A practical, activity-based acting class where we learn through games, exercises, improvisation and performance. Less sitting and listening. More doing, exploring and discovering.

📍 Ahang Kada, E-11/2, Islamabad
🗓 Tuesdays & Thursdays
⏰ 6:00–7:30 PM
💰 PKR 12,000/month
📆 Duration: 3 Months
🎬 Starting: 6th October
⏳ Admission deadline: 3rd October

Whether you're taking your first steps into acting or looking to deepen your existing skills, there's a stage waiting for you.

For admissions & details:
📞 0333 5340993

Come. Explore. Express. Transform.

A Blast from the Past… 🎭I played Allah Bakhsh in Theatre Wallay’s Bhaago many years ago. But before anyone starts lookin...
18/09/2026

A Blast from the Past… 🎭

I played Allah Bakhsh in Theatre Wallay’s Bhaago many years ago. But before anyone starts looking for this scene in the play, let me clarify: this photo is not from Bhaago! 😄

Some time later, I did a solo performance at another event, and this photograph was taken there.

The rather interesting transformation you see here was the handiwork of Dr. Afshan Huma, who did the makeup. Thank you Afshan Huma

Looking at old theatre photographs is dangerous business. One minute you’re just scrolling through your gallery, and the next you’re wondering where all those years went. �

میں واپس آؤں گامیں نے حال ہی میں کہیں لکھا تھا کہ ہندوستان کی تقسیم میرا پیچھا نہیں چھوڑتی۔ اگرچہ میرا ذاتی تعلق پنجاب س...
16/09/2026

میں واپس آؤں گا
میں نے حال ہی میں کہیں لکھا تھا کہ ہندوستان کی تقسیم میرا پیچھا نہیں چھوڑتی۔ اگرچہ میرا ذاتی تعلق پنجاب سے نہیں ہے اورمیں نے اپنے دادا یا نانا سے فسادات کی کوئی کہانیاں بھی نہیں سنیں۔ مگر زندگی کا بیشتر حصہ پنجاب میں گزارنے اور پنجاب کے گاؤں گاؤں میں تھیٹر کرنے کی وجہ سے پنجاب میرے اندر رچ بس گیا ہے۔ شاید اسی لیے میں پنجابیوں سے بھی زیادہ پنجابی لگتا ہوں۔
تقسیم کی کہانیاں سرسری سی سنی تھیں، مگر کوئی دس سال پہلے ایک تھیٹر پروجیکٹ پر کام کرتے ہوئے تقسیم کی کہانیاں اکٹھی کرنے کی ذمہ داری ملی۔ باقی ٹیم دیہاتی زندگی سے ناواقف تھی، سو دیہی علاقوں میں جا کر بزرگ مردوں اور خواتین کی کہانیاں اکٹھی کرنے کی ذمہ داری تقریباً اکیلے ہی اٹھائی۔ چکوال سے فیصل آباد، گوجرہ، اوکاڑہ اور پھر لاہور تک گھومتا رہا۔
یہ تفصیل بتانے کا مقصد یہ ہے کہ تقسیم سے متاثرہ لوگوں کی کہانیاں براہِ راست سنیں اور بزرگوں کی تکلیف کو قریب سے محسوس کیا۔ کئی بزرگوں کی حالت دیکھ کر میں نے خود انہیں کہانی سنانے سے روک دیا، کیونکہ ان کی تکلیف برداشت سے باہر تھی۔ ایسے لوگ بھی ملے جو اپنی کہانی سنانے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتے تھے۔ میری سمجھ میں یہی آیا کہ ان کے لیے کہانی سنانا اس ساری تکلیف سے دوبارہ گزرنے کے مترادف تھا۔
دوسری طرف ایسے لوگ بھی ملے جو بھرے پڑے تھے اور چاہتے تھے کہ کوئی ان کی کہانی سنے۔ یہ ٹراما سے نکلنے کا ایک اور راستہ ہے۔ کہانی سنا دیتے ہیں تو جیسے سارا غبار نکل جاتا ہے اور دل ہلکا ہو جاتا ہے۔
ایک بوڑھی اماں ایسی بھی تھیں جنہوں نے دعویٰ کیا کہ انہیں تو تقسیم کے وقت کوئی مسئلہ ہی نہیں ہوا تھا، حالانکہ میں ان کے بیٹے سے پہلے ہی ان کی کہانی سن چکا تھا۔ تقسیم کے وقت بیٹا کوئی دس سال کا تھا اور اماں تیس سال کے لگ بھگ۔ ایسے میں فلم ’میں واپس آؤں گا‘ میں بزرگ کرداروں کا بار بار عورتوں کے ذکر سے دامن بچانا مجھے بہت حقیقی لگا۔
اس پس منظر کے ساتھ ’میں واپس آؤں گا‘ دیکھنا آسان نہیں تھا۔ شاید یہی وجہ تھی کہ میں بہت دن اسے ٹالتا رہا۔ سچ بتاؤں تو کل بھی یہ فلم کچھ حد تک حادثاتی طور پر دیکھ لی۔ فسادات کے مناظر آئے تو میں ٹی وی کے آگے سے اٹھ کر چلا گیا۔ بس اتنا کہوں گا کہ جو کچھ دکھایا گیا ہے، اس میں مجھے کوئی جھوٹ محسوس نہیں ہوا۔
خیر، فلم کی طرف آتے ہیں۔
نصیرالدین شاہ نے کینو، یعنی ایشر سنگھ گریوال، کا کردار بہت خوبصورتی سے ادا کیا ہے۔ اس کی پوری کہانی بھی خوبصورت انداز میں پیش کی گئی ہے۔ نصیرالدین شاہ کے اس کردار کی ایک خاص بات یہ ہے کہ زیادہ تر مناظر میں وہ بس بستر پر لیٹے ہوئے ہیں۔ جب کسی ایکٹر کے پاس چلنے پھرنے کی گنجائش نہ ہو تو یہ اس کی اداکاری کا بہت کڑا امتحان ہوتا ہے، کیونکہ اب اس کے پاس صرف اس کا چہرہ ہے اور بس۔
کچھ لوگوں کو شکایت ہے کہ کہانی گول گول گھومتی رہتی ہے۔ بھئی، سچی کہانیاں ایسی ہی ہوتی ہیں۔ یہ کوئی اخباری رپورٹ تو ہے نہیں کہ واقعات اپنی درست ترتیب کے ساتھ آپ کے سامنے رکھ دیے جائیں۔ کہانی عموماً کسی نہ کسی کردار کے نقطۂ نظر سے بیان ہوتی ہے۔ اس فلم کی کہانی نِرویر، یعنی دلجیت دوسانجھ، کے نقطۂ نظر سے بیان کی گئی ہے۔ سو کہانی کی مختلف پرتیں بھی اسی وقت ناظرین پر کھلتی ہیں جب وہ نِرویر کے سامنے کھلتی ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ نِرویر اپنے دادا کے بالکل برعکس شخصیت کا مالک ہے۔ دادا اسی سال پہلے کیا ہوا وعدہ پورا کیے بغیر مر نہیں پا رہا، جبکہ نِرویر اپنی گرل فرینڈ سے کوئی وعدہ کرنے سے ہی بھاگ رہا ہے۔ پرانی نسل اور موجودہ ڈیجیٹل دور کی نسل کے درمیان اس فرق کو خوبصورت انداز میں سامنے رکھا گیا ہے۔ ویسے میرا ذاتی خیال ہے کہ اس پہلو کو تھوڑا مزید وقت دیا جاتا تو اچھا ہوتا۔ لیکن خیر، یہ فلم بنانے والوں کا مقصد نہیں تھا، سو اچھا ہی کیا کہ اپنی اصل کہانی پر نظر رکھی۔
تقسیم کے حوالے سے پاکستانی اور بھارتی کہانی کار اور فلم ساز جب بات کرتے ہیں تو تعصب در آ ہی جاتا ہے۔ اس فلم کی اچھی بات یہ ہے کہ اس تعصب کو ایک طرف رکھ کر تشدد اور فساد کے غیر انسانی اور بے معنی ہونے کو بہت خوبصورتی سے اجاگر کیا گیا ہے۔
مجھے وہ منظر بہت پسند آیا جب کینو واپس سرگودھا جانے کی کوشش میں مسلمان کا روپ دھار کر ٹرین میں سوار ہوتا ہے اور ٹرین پر سکھ فسادی حملہ آور ہو جاتے ہیں۔ ایک سکھ جب اسے مارنے کی کوشش کرتا ہے تو کینو کے سر سے ترکی ٹوپی گر جاتی ہے اور اس کے سکھوں والے بال، کیس، نظر آ جاتے ہیں۔ اب وہی سکھ اسے بچانے کی کوشش کرتا ہے۔
یعنی محض ایک ٹوپی کی بنیاد پر فیصلہ ہو رہا ہے کہ اس شخص کو زندہ رہنے دیا جائے یا مار دیا جائے۔
فلم کا کمزور پہلو سرگودھا کی زندگی ہے۔ مجھے نہیں معلوم کہ بھارتی فلم سازوں کو کیوں یہ لگتا ہے کہ پاکستان میں سب دہلی یا لکھنؤ والی اردو بولتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں سرگودھا میں تقسیم سے پہلے پنپنے والی محبت کی کہانی بھی کچھ غیر حقیقی سی لگی، اور ان مناظر میں فسادی بھی عجیب سے محسوس ہوئے، کیونکہ ان میں پنجاب ڈھونڈنے سے نہیں ملا۔
حالانکہ یہ کہانی ایک پنجابی سکھ کی کہانی ہے۔
فلم کی موسیقی بھی کوئی خاص تاثر نہیں چھوڑ پائی۔ فلم دیکھنے کے بعد کسی گانے کے بول ہونٹوں پر نہیں آئے۔ ہو سکتا ہے اس میں میرے اس نقطۂ نظر کا بھی دخل ہو کہ میں فلموں میں گانوں کو اکثر غیر ضروری چیز سمجھتا ہوں۔ ہماری اور ہمارے پڑوسیوں کی فلموں میں بیشتر گانوں کا کہانی میں کوئی جواز نہیں ہوتا۔
خیر، ہو سکتا ہے اے آر رحمان کے فین میرا بائیکاٹ کر دیں۔
معاف کر دینا دوستو! 😄

“You kept asking.I kept saying, ‘Soon.’Well, this time I mean it. 😄Acting Class | October 2026Admissions announcement co...
15/09/2026

“You kept asking.
I kept saying, ‘Soon.’

Well, this time I mean it. 😄

Acting Class | October 2026

Admissions announcement coming soon.”
DM for the registration link.

Guys! 🎭You can get 50% off this workshop if you approach them with my reference.If you’re interested, let me know.And wh...
14/09/2026

Guys! 🎭

You can get 50% off this workshop if you approach them with my reference.

If you’re interested, let me know.
And who knows… you might even find me there! 😉

A direct space for actors, theatre makers, and performers.I’ve launched the official Safeer Acting Coach WhatsApp Channe...
14/09/2026

A direct space for actors, theatre makers, and performers.
I’ve launched the official Safeer Acting Coach WhatsApp Channel.
Instead of fighting social media algorithms, this is where I’ll share:
Practical acting exercises and vocal technique tips
Casting calls and upcoming workshop announcements
Curated thoughts on script analysis and performance craft
Your number and details remain 100% private.

🔗 Join here: https://whatsapp.com/channel/0029VaEbzODLtOjHhgdvVH3H

(Tip: Once joined, tap the 🔔 bell icon at the top right so you don’t miss updates.)

Yesterday, Strategic Youth Paradigm invited me to speak on Literacy, with a special focus on reading literature. They di...
09/09/2026

Yesterday, Strategic Youth Paradigm invited me to speak on Literacy, with a special focus on reading literature. They didn’t know me, and I didn’t know them, so I walked in with some curiosity and a little uncertainty.

Well… it went rather better than I expected. 😊

What began as a talk soon became a lively conversation about reading, literature, imagination, and the way stories shape how we understand people and the world around us.

The participants asked thoughtful questions, challenged ideas, and kept the conversation going. That, for me, is when a talk becomes truly worthwhile.

We also talked about how literacy is more than simply reading words. Literature teaches us to read between the lines, encounter different perspectives, develop empathy and imagination, and ask better questions.

My sincere thanks to Strategic Youth Paradigm for inviting me and to everyone who participated so generously.

I went there to talk about reading.

I came back with plenty to think about myself. 📚

Address

I 8 Markaz
Islamabad
44000

Opening Hours

Tuesday 11:00 - 19:00
Wednesday 11:00 - 19:00
Thursday 11:00 - 23:00
Friday 11:00 - 19:00
Saturday 00:00 - 19:00
Sunday 00:00 - 20:00

Telephone

+923035667670

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Safeer - The Acting Coach posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Establishment

Send a message to Safeer - The Acting Coach:

Shortcuts

Share