Kia Ap Ko Yaad Hai ?کیا آپ کو یاد ہے

Kia Ap Ko Yaad Hai ?کیا آپ کو یاد ہے Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Kia Ap Ko Yaad Hai ?کیا آپ کو یاد ہے, Arts and entertainment, Xyz, Islamabad.

30/07/2026
21 اگست 1915 کو بدایوں میں پیدا ہوئیں۔ دس بہن بھائیوں میں نویں نمبر پر تھیں۔ والد کا نام مرزا قسیم بیگ چغتائی اور والدہ ...
21/07/2026

21 اگست 1915 کو بدایوں میں پیدا ہوئیں۔ دس بہن بھائیوں میں نویں نمبر پر تھیں۔ والد کا نام مرزا قسیم بیگ چغتائی اور والدہ نصرت خانم عرف نچھو تھیں۔

چھٹی جماعت آگرہ سے اور مڈل ،میٹرک اور ایف اے علی گڑھ سے پاس کیے پھر آئی ٹی کالج لکھنؤ سے بی اے کیا۔ کچھ عرصہ بریلی کے اسکول میں بطور ہیڈمسٹریس کام کرنے کے بعد علی گڑھ سے بی ٹی کیا۔

بمبئی میں بطور انسپیکٹریس آف اسکول کی ملازمت کے دوران میں کئی فلموں کی کہانیاں لکھیں ضدی اور بزدل ہٹ ہوئیں۔ 24 اکتوبر 1991 کی صبح اپنے بستر پر مردہ پائی گئیں۔

معروف ادیب مرزا عظیم بیگ کی بہن تھیں ۔

ان کی تیس سے زائد کتابیں شائع ہوئیں۔ان پر ایک درجن سے زائد کتابیں لکھی گئیں۔

1942 میں کھینچی گئی عصمت چغتائی کی یہ نادر تصویر کم ہی دوستوں نے شاید پہلے کبھی دیکھی ہوگی

21/07/2026

جس شخص نے پاکستان کے لیے اپنی فیکٹریاں چھوڑ دیں، اسی پاکستان نے ایک دن اس سے اس کا خواب چھین لیا

محمد لطیف 1907ء میں مشرقی پنجاب کے تاریخی شہر بٹالہ میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد کا نام مہر میران بخش تھا۔ محمد لطیف ایک ذہین، محنتی اور دور اندیش نوجوان تھے۔ انہوں نے اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور 1930ء میں مکینیکل انجینئرنگ کی ڈگری مکمل کی۔ اس دور میں کسی مسلمان نوجوان کا انجینئر بننا خود ایک بڑی بات تھی، مگر محمد لطیف صرف ملازمت کرنے کے لیے نہیں بنے تھے۔ ان کے ذہن میں ایک بڑا خواب تھا: اپنی صنعت، اپنی مشینیں، اپنا کارخانہ اور اپنی قوم کے لیے خود انحصاری۔

1932ء میں انہوں نے اپنے آبائی شہر بٹالہ کے نام پر “بٹالہ انجینئرنگ کمپنی” کی بنیاد رکھی، جسے بعد میں بیِکو کے نام سے شہرت ملی۔ ایک چھوٹی سی ابتدا آہستہ آہستہ ایک بڑے صنعتی ادارے میں بدلنے لگی۔ محمد لطیف نے اپنی محنت، فنی مہارت اور صنعتی سوچ سے بیِکو کو صرف ایک کاروبار نہیں بلکہ انجینئرنگ کا ایک باوقار نام بنا دیا۔

پھر 1947ء آ گیا۔

برصغیر تقسیم ہوا۔ لاکھوں لوگ اجڑ گئے۔ گھر، زمینیں، دکانیں، کارخانے، یادیں اور نسلوں کی کمائی سرحد کے دوسری طرف رہ گئی۔ ایسے وقت میں سی ایم لطیف چاہتے تو بھارت میں رہ کر اپنا کاروبار بچا سکتے تھے۔ ان کے پاس فیکٹریاں تھیں، مشینیں تھیں، کاروبار تھا، مستقبل تھا۔ مگر انہوں نے دولت کے بجائے وطن کا انتخاب کیا۔ انہوں نے اپنا سب کچھ بھارت میں چھوڑا اور پاکستان کی محبت میں لاہور آ گئے۔

یہ ہجرت صرف ایک انسان کی ہجرت نہیں تھی؛ یہ ایک صنعت کار کے خواب کی ہجرت تھی۔

لاہور آ کر انہوں نے ہمت نہیں ہاری۔ دسمبر 1947ء میں بادامی باغ کے علاقے میں انہوں نے بیِکو کو دوبارہ صفر سے شروع کیا۔ نہ وہ پرانی سہولتیں تھیں، نہ وہ تیار نظام، نہ وہ مشینوں کی مکمل دنیا؛ مگر محمد لطیف کے پاس ایک چیز تھی جو ہر چیز سے بڑی تھی: یقین۔ تین سال کی مسلسل محنت، جدوجہد اور دن رات کی کوشش کے بعد انہوں نے لاہور میں بیِکو کو مضبوط بنیادوں پر کھڑا کر دیا۔

یہ ادارہ آہستہ آہستہ پاکستان کی صنعتی پہچان بن گیا۔ اس میں اسٹیل ورکس، اسٹیل فاؤنڈری، اسٹیل رولنگ ملز، آئرن فاؤنڈری، مشین ٹول شاپ، ڈیزل انجن شاپ، اسٹرکچرل شاپ اور جنرل انجینئرنگ شاپ جیسے بڑے شعبے قائم ہوئے۔ بیِکو میں مشینوں کے پرزے، واٹر پمپس، پاور لومز، کرینیں، الیکٹرک موٹرز، سائیکلیں اور دوسری انجینئرنگ مصنوعات تیار ہونے لگیں۔ یہ وہ زمانہ تھا جب پاکستان کے پاس وسائل کم تھے، مگر بیِکو جیسے ادارے ملک کو یہ حوصلہ دے رہے تھے کہ ہم بھی بنا سکتے ہیں، ہم بھی کر سکتے ہیں، ہم بھی صنعتی قوم بن سکتے ہیں۔

ساٹھ اور ستر کی دہائی تک بیِکو پاکستان کا فخر بن چکا تھا۔ بادامی باغ کی یہ فیکٹری صرف لاہور کی پہچان نہیں رہی تھی بلکہ پاکستان کے صنعتی خواب کی علامت بن گئی تھی۔ کہا جاتا ہے کہ مختلف ممالک کے وفود اور انجینئرز بیِکو کا دورہ کرتے تھے۔ چین کے وزیر اعظم چو این لائی کے دورے کا ذکر بھی کیا جاتا ہے، اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ چین سمیت کئی ممالک کے انجینئرز بیِکو سے تربیت اور مشاہدے کے لیے وابستہ رہے۔ شام کے حافظ الاسد، تھائی لینڈ کے بادشاہ اور دوسرے غیر ملکی وفود کے حوالے سے بھی بیِکو کی تاریخ میں روایات ملتی ہیں۔

اپنے عروج کے زمانے میں بیِکو میں ہزاروں لوگ روزگار حاصل کرتے تھے۔ تقریباً چھ ہزار ملازمین اس ادارے سے وابستہ بتائے جاتے ہیں۔ ایک فیکٹری چل رہی تھی، مگر حقیقت میں ہزاروں گھروں کے چولہے جل رہے تھے۔ نوجوان انجینئرز سیکھ رہے تھے، کاریگر ہنر حاصل کر رہے تھے، پاکستان کی مشینری بن رہی تھی، اور ایک نیا ملک اپنے قدموں پر کھڑا ہونے کی کوشش کر رہا تھا۔

سی ایم لطیف صرف صنعت کار نہیں تھے، وہ ایک خواب دیکھنے والے معمار تھے۔ انہوں نے پاکستان کو یہ دکھا دیا تھا کہ اگر نیت، ہنر، نظم اور محنت ہو تو ایک اجڑا ہوا مہاجر بھی نئے ملک میں ایک صنعتی سلطنت کھڑی کر سکتا ہے۔

مگر پھر تاریخ نے ایک دردناک موڑ لیا۔

یکم جنوری 1972ء کو وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت نے اقتصادی اصلاحات کے تحت پاکستان کے 31 بڑے صنعتی اداروں کو قومی تحویل میں لینے کا فیصلہ کیا۔ بیِکو بھی ان اداروں میں شامل تھا۔ ایک سرکاری فیصلے نے سی ایم لطیف کی برسوں کی محنت، خواب، سرمایہ، جدوجہد اور صنعتی وراثت کو ان سے جدا کر دیا۔

جس شخص نے پاکستان کے لیے بھارت میں اپنی فیکٹریاں چھوڑ دی تھیں، اسی پاکستان میں اس کی اپنی بنائی ہوئی فیکٹری اس سے لے لی گئی۔

یہ جملہ پڑھنے میں آسان ہے، مگر اس کے پیچھے ایک انسان کا ٹوٹا ہوا دل، ایک صنعت کار کی برباد عمر، اور ایک قوم کے صنعتی مستقبل کا زخمی خواب چھپا ہوا ہے۔

حکومت نے بیِکو کا نام بدل کر پاکستان انجینئرنگ کمپنی، یعنی پیکو، رکھ دیا۔ مگر نام بدلنے سے روح نہیں بدلتی۔ ایک ادارہ صرف عمارتوں، مشینوں اور زمین کا نام نہیں ہوتا۔ ادارہ وژن سے بنتا ہے، قیادت سے چلتا ہے، نظم سے بڑھتا ہے، اور تجربے سے زندہ رہتا ہے۔ جب اس روح کو نکال دیا جائے تو بڑی سے بڑی مشین بھی بے جان لوہا بن جاتی ہے۔

کہا جاتا ہے کہ نیشنلائزیشن کے بعد بیِکو کبھی اپنی پرانی شان واپس حاصل نہ کر سکا۔ جو ادارہ کبھی پاکستان کا صنعتی شاہکار تھا، وہ آہستہ آہستہ زوال کی طرف جانے لگا۔ منافع کی جگہ خسارے نے لے لی۔ نظم کی جگہ بدانتظامی آ گئی۔ وہ فیکٹری جس پر کبھی غیر ملکی وفود فخر سے نظر ڈالتے تھے، وقت کے ساتھ سرکاری نظام کی روایتی کمزوریوں میں الجھتی چلی گئی۔

بعد کے برسوں میں جنرل ضیاء الحق کے دور میں سی ایم لطیف کو ادارہ واپس لینے کی پیش کش کی گئی، مگر انہوں نے اسے قبول نہ کیا۔ شاید دل ٹوٹ چکا تھا۔ شاید وہ جانتے تھے کہ جس خواب کی روح ایک بار نکال دی جائے، اسے صرف کاغذی واپسی سے زندہ نہیں کیا جا سکتا۔ شاید وہ یہ بھی چاہتے تھے کہ انصاف صرف ایک شخص کے لیے نہیں بلکہ اصول کے لیے ہو۔

سی ایم لطیف آخرکار پاکستان سے مایوس ہو کر جرمنی چلے گئے۔ وہ شخص جس نے جوانی مشینوں، فیکٹریوں، اسٹیل، انجینئرنگ اور صنعتی تعمیر میں گزار دی تھی، اس نے باقی زندگی خاموشی، تنہائی، باغبانی اور پھولوں کے ساتھ گزار دی۔ جس ہاتھ نے کبھی مشینیں بنائیں، وہ آخر عمر میں پودے لگاتا رہا۔ جس ذہن نے کبھی پاکستان کے صنعتی مستقبل کا نقشہ بنایا تھا، وہ دیارِ غیر میں خاموش ہو گیا۔

2004ء میں سی ایم لطیف 97 سال کی عمر میں جرمنی میں وفات پا گئے اور وہیں دفن ہوئے۔

یہ ایک انسان کی موت نہیں تھی؛ یہ ایک سوال کی تدفین تھی۔

کیا ہم نے اپنے محسنوں کو پہچانا؟

کیا ہم نے اپنے صنعت کاروں کی قدر کی؟

کیا ہم نے اپنے انجینئرز، کاریگروں اور خواب دیکھنے والوں کو وہ عزت دی جس کے وہ مستحق تھے؟

بیِکو صرف ایک فیکٹری نہیں تھی۔ یہ پاکستان کے اس خواب کا نام تھا کہ ہم اپنے لیے خود مشینیں بنائیں گے، خود انجن تیار کریں گے، خود صنعت کھڑی کریں گے، خود روزگار پیدا کریں گے، اور دنیا کو دکھائیں گے کہ پاکستان صرف صارف ملک نہیں بلکہ بنانے والی قوم بھی بن سکتا ہے۔

مگر افسوس، ہم نے اپنے ہاتھوں سے اپنا ایک روشن چراغ بجھا دیا۔

آج جب ہم چین، جرمنی، جاپان اور کوریا کی ترقی کی مثالیں دیتے ہیں تو ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ کبھی ہمارے پاس بھی بیِکو تھی۔ کبھی ہمارے پاس بھی سی ایم لطیف تھا۔ کبھی بادامی باغ میں بھی ایسی مشینیں چلتی تھیں جو پاکستان کے صنعتی مستقبل کی آواز لگتی تھیں۔

فرق صرف اتنا ہے کہ دوسری قوموں نے اپنے صنعت کاروں کو قومی معمار سمجھا، ہم نے اپنے معماروں کو تنہا چھوڑ دیا۔

سی ایم لطیف کی کہانی صرف ماضی کا قصہ نہیں، آج کے پاکستان کے لیے ایک آئینہ ہے۔ قومیں نعروں سے نہیں بنتیں، کارخانوں سے بنتی ہیں۔ ملک صرف سیاست سے نہیں چلتا، ہنر، صنعت، محنت، انجینئرنگ اور روزگار سے چلتا ہے۔ جو قوم اپنے بنانے والوں کی قدر نہیں کرتی، وہ پھر دوسروں کی بنائی ہوئی چیزوں کی محتاج ہو جاتی ہے۔

سی ایم لطیف نے پاکستان کے لیے سب کچھ چھوڑا تھا۔

مگر پاکستان نے انہیں وہ مقام نہ دیا جس کے وہ حق دار تھے۔

آج بھی جب بیِکو اور سی ایم لطیف کا نام آتا ہے تو دل سے ایک ہی آواز نکلتی ہے:

کاش ہم نے اپنے محسنوں کو پہچانا ہوتا۔

کاش ہم نے فیکٹریاں چلانے والوں سے فیکٹریاں نہ چھینی ہوتیں۔

کاش پاکستان کا صنعتی خواب یوں بے بسی سے نہ ٹوٹتا۔

اور کاش سی ایم لطیف اسی مٹی میں دفن ہوتے جس کی محبت میں وہ اپنا سب کچھ چھوڑ آئے تھے

اس رمضان کے صدقے یا اللہ تعالیٰ عمران خان کی حفاظت فرما آمین ثم آمین
20/02/2026

اس رمضان کے صدقے یا اللہ تعالیٰ عمران خان کی حفاظت فرما آمین ثم آمین

Address

Xyz
Islamabad
XYZ

Telephone

3337865456

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Kia Ap Ko Yaad Hai ?کیا آپ کو یاد ہے posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share