Open Mic - Lok Virsa

Open Mic - Lok Virsa Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Open Mic - Lok Virsa, Live Music Venue, Lok Virsa, Islamabad.

نعیم فاطمہ علوی یہ کیسا ضبط ہے جو دھاڑیں مار کر رونے نہیں دیتا           یوں تو یہ منصوبہ بندی کئی روز سے چل رہی تھی ۔او...
03/09/2022

نعیم فاطمہ علوی
یہ کیسا ضبط ہے جو دھاڑیں مار کر رونے نہیں دیتا
یوں تو یہ منصوبہ بندی کئی روز سے چل رہی تھی ۔اور ہم اپنی نیشنل کمشنر گرل گائیڈز مسز ماریہ معود صابری کے ساتھ مسلسل رابطے میں تھے۔۔کہ متاثرین سیلاب کے پاس کیسے پہنچا جائے۔۔
شو مئی قسمت ماریہ کے ایک قریبی رشتے دار آرمی آفیسر کو سیلاب زدہ علاقے کا انچارج بنا دیا گیا۔ماریہ نے متاثرین تک امداد پہنچانے کے لیئے ان سے رابطہ کیا ۔انہوں نے گورنمنٹ کے لوکل نمائندوں سے متعارف کروا دیا تاکہ گرل گائیڈز کے نمائیندگان کو متعلقہ جگہوں پر پہنچنے میں آسانی ہو۔اور یوں کئی دنوں کی مسلسل کوششوں کے بعد جب ہوم ورک کا سلسلہ مکمل ہوا تو فوری ضرورت کی اشیاء کے بارے میں معلومات اکٹھی کی گئیں ۔سو اس سلسلے میں بھی سوچ سمجھ کر اور حکام بالا سے پوچھ گچھ کرکےلسٹ بنا لی گئی۔
اب صرف فنڈ ز کا مرحلہ درکار تھا ۔۔
صدقے جاؤں پاکستانیوں کے یا ان مہربان چہروں کے جو پاکستان کا روشن پہلو ہیں ۔ہوم ورک میں ایک ہفتہ لگا مگر فنڈزایک دو دن میں ہی اکٹھے ہوگئے۔وہ بھی ہزاروں میں نہیں لاکھوں میں ۔۔کچھ مدد باہر سے آئ کچھ مقامی دوستوں نے دی۔۔
اب ماریہ نے مجھ سے کہا ہوم ورک تو مکمل ہو گیا ہے اب میں چاہتی ہوں کہ ہم دونوں نیشنل ہیڈ کواٹر کے عملے کے ساتھ خود پنڈی راجہ بازار جا کر ہول سیل سے سامان خریدیں ۔
سو میڈم ماریہ کے ساتھ سامان خریدنے کے لیئے حسیب اور مجھے یہ سعادت حاصل ہوئ ۔
سامان جمع ہو گیا تو میڈم نے کہا سب لوگ اپنے اپنے گھروں سے دو دو سلے ہوئے جوڑے اور کم از کم دو دو بیڈ شیٹ نکالیں ۔وہ بھی جمع ہو گیا۔
اب نیشنل ہیڈ کواٹر کے ملازمین نے دفتر سے چھٹی کے بعد جی جان سے محنت کرکے انہیں بوریوں میں بھرا۔ مجھے نیشنل ہیڈ کواٹر کے گارڈ کی یہ بات نہیں بھولتی اس نے کہا۔۔۔”میں اپنی جیب سے تو مدد نہیں کر سکتا البتہ کام کرکے ہاتھ تو بٹا سکتا ہوں سو ڈیوٹی ختم ہوتے ہی اس نے کام میں ہاتھ بٹایا”
کل بروز جمعہ میرے ساتھ سرگودھا کی ٹرینر صغرٰی عالم،لاہور کی نجمہ بٹ،اسلام آباد کی زارا ان کے علاوہ نیشنل سیکرٹری ساجدہ اور ہیڈ کواٹر سے نوید اور حسیب ڈرائیور راشد کے ساتھ صبح آٹھ بجے یہ امداد لےکر مطلوبہ جگہ پر روانہ ہو گئے۔میری طبیعت خراب تھی اور صحت بھی ہر گز اجازت نہیں دیتی تھی کہ میں ایسے دور دراز کے علاقوں میں جا سکوں مگر ایک تو جزبے کی جولانیاں دوسرا ماریہ کا حکم دونوں مجھے اکساتے رہے۔
ایک بات یاد رکھیئے ۔۔۔۔حکومت سے این او سی لیئے بغیر کوئ بھی مددگار مطلوبہ جگہ پر نہیں پہنچ سکتا۔یہ اجازت نامہ اسٹنٹ کمشنر سے دفتر سے حاصل کرنا پڑتا ہے ہم میں سے حسیب کوآرڈینیٹر تھا۔جو سب سے مسلسل رابطے میں تھا۔اسٹنٹ کمشنر ثانیہ صافی کے آفس پہنچے تو سب لوگ باخبر تھے انہوں نے فورا اجازت نامہ بھی دے دیا متاثرین کی لسٹ بھی فراہم کر دی اور کچھ ذمہ دار لوگوں کو بھی ہمارے ساتھ بھیج دیا تاکہ ہمیں راستے میں دشواری نہ ہو۔پشاور سے ہماری ڈپٹی کمشنر گر ل گائیڈز کا قافلہ بھی اپنی امداد کے پیکٹ لےکر ہمارے ہمراہ ہولیا۔
ہمارا قافلہ چارسدہ روڈ کے ساتھ چوتی پل سے گزر کر جونہی ڈھیری شابڑہ اور جنگی کورونا کے علاقے میں داخل ہوا کھڑی فصلوں کے جھکے ہوئے تنے ،گھروں کی دیواروں کا گیلا پن بعض دیواروں میں بڑے بڑے شگاف دریا کی بپھری موجوں کی کہانی لکھ کر زمین کی گہرائیوں میں کہیں چھپ چکا تھا۔
دریا کنارے چھپر ہوٹل جہاں کبھی ہمارے اور آپ جیسے لوگ زبان کا چسکا پورا کیا کرتے ہونگے اب صرف ان کے نشانات ہی رہ گئے تھے۔پشاور کے قریب چارسدہ مین روڈ کے مضافاتی علاقے کے لوگ تو واپس اپنے گھروں میں آچُکے تھے۔ مگر ہماری گائیڈ گاڑی چھوٹی چھوٹی گلیوں سے آگے اور آگے چلی جا رہی تھی۔گردو پیش کھیتوں میں ابھی تک پانی کھڑا تھا جہاں پانی نہیں تھا وہاں زمین پانی کو جذب کر کر کے دلدل بن چکی تھی۔ہماری گاڑیاں مسلسل کیچڑ پر پھسلتی ہوئ رستہ بنا رہی تھیں اور ہم با جماعت اللہ کو یاد کرتے ہوئے ڈھیری شابڑہ کے متاثرین کو ڈھونے کی لگن میں چلتے ہی جا رہے تھی۔کسی بھی لمحے ہماری گاڑیاں ادھر ادھر ہوکر کھیتوں میں پھنس سکتی تھیں۔ٹرک ڈرائیور تو مسلسل چیختا رہا کہ میں آگےنہیں جاسکتا مگر ہم اسے کسی نہ کسی طرح بہلا کر آگے آنے پر مجبور کرتے رہے۔
بہر حال وہ مطلوبہ مقام بالآخرآہی گیا۔جسے حکومت نے ہماری امداد کے لیئے منتخب کیا تھا ۔
یہاں کے متاثرین مکینوں نے مجھے بتایا کہ اس علاقے کا زمینی راستہ آج ہی بحال ہوا ہے اور آپ وہ پہلے لوگ ہیں جو ہم تک امداد پہنچانے آئے ہیں۔۔ایک نے تو میرے پاس آکر شکریہ بھی ادا کیا ۔۔میں نے بھی انہیں بتایا کہ ہم بھی دل و جان سے آپ کے ساتھ ہیں ۔جب سے سیلاب آیا ہم بھی سکھ کی نیند نہیں سو پائے۔
ہماری گاڑیاں جس پُل کے پاس پہنچ کر کھڑی ہوئیں اس سے آگے جانا ناممکن تھا کیونکہ پل کے نیچے بہت سا پانی کھڑا تھا۔پل بھر میں گردو پیش سے بے شمار لوگ اکٹھے ہو گئے۔ہم نے ایک فیملی کی ضروریات کا خیال رکھتے ہوئے پیکنگ کی تھی اتنے زیادہ لوگ دیکھ کر ہم پریشان ہوگئے کہ دشوار گزار راستوں پر آئے بھی مگر کتنی بری بات ہے کہ ان سب کی ضرورت پوری نہ کر سکیں گے۔
کچھ ہی دیر میں حکومت کے نمائیندگان نے سب کو مخاطب کرکے کہا لائن بنا لو اور جس کا نام لیا جائے صرف وہی لوگ آگے آئیں اور یوں خوش اسلوبی اور منظم طریقے سے امداد کی تقسیم کا معاملہ حل ہونے لگا۔
زندگی میں پہلی دفعہ میں نے یہ معجزہ محسوس کیا کہ ہماری امداد میں اتنی برکت ہوگئی جیسے اللہ نے اسے دوگنا تگناکر دیا ہو۔ہر مستحق کو پنجابی میں کہتے ہیں نا رج رج کے دیا مگر ہمارا ٹرک خالی نہیں ہو رہا تھا۔آخر میں حکومتی نمائیندگان نے اعلان کیا ہر گھر کو پیکٹ مل گئے ہیں لہٰزا اب ترسیل امداد کو بند کر دیا جائے۔ہمارے پاس افرادی قوت بہت تھی مقامی نمائیندگان ،فوجی بھائیوں کی نفری اس کے علاوہ ہماری ڈپٹی کمشنر پشاور کا ذاتی عملہ اور گن مین مگر جونہی مقامی لوگوں نے کچھ بچا کچھا مال دیکھا ٹرک پر چڑھ گئے اور پل بھر میں بچا کھچا سامان اٹھانا شروع کر دیا۔خیر ہم نے بھی سوچا واپس کیوں لےکر جائیں یہیں تقسیم کر دیتے ہیں۔
اس کے بعد مقامی متاثرین نے کہا آپ کو اس پانی میں سے گزر کر جانا پڑے گا لہٰزا پل کے اس پار بھی آئیں۔ وہاں صرف روحی ظاہر شاہ کو “فور وھیل گاڑی “ ہی جا سکتی تھی سو ہم سب خواتین اس گاڑی میں بیٹھ گئے مقامی لوگ پانی کے اندر پیدل چل کر ہماری رہنمائ کرتے رہے ۔
اور یوں جب ہم پل کے اس پار پہنچے تو یقین کیجیئے ! دھاڑیں مار مار کر رونے کو دل چاہا۔کیچڑ اور دلدل میں پھنسی عورتیں ،بوڑھے ، بچے۔۔۔اپنے اجڑے گھروں کے درو دیوار تھامے دلدل میں چارپائیاں بچائے بیٹھے تھے روحی ظاہر شاہ بے شمار دوائیوں کے پیکٹ اپنے ساتھ لے کر گئیں تھیں ہمارے پاس برقعوں میں لپٹی کیچڑ میں لتھڑی خواتین جمع ہو گئیں ۔ان کے پاؤں سوجے ہوئے تھے جسم خارش ذدہ اورصاف پانی کے نہ ملنے کی وجہ سے پیٹ خراب۔ کسی کو گردے کی درد کی شکایت ،توکوئ شوگر کا مریض کسی کا بلڈ پریشر ہائ تو کوئ حاملہ۔۔۔۔ ایک شخص کوبرا سانپ مار کر دکھا رہا تھا کہ پانی صرف بپھری ہوئ موجوں کا عذا ب نہیں لایااپنے ساتھ بےشمار اور بھی مصیبتیں اور تکلیفیں لے کر آیا ہے۔
میں نے ان سے پوچھا کہ پانی آنے کے دوران آپ لوگوں نے جان کیسے بچائ تو انہوں نے دس بارہ فٹ اونچی موٹروے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ ہم وہاں چڑھ گئے تھے اور وہاں چونکہ عام لوگوں کی رسائ بھی ممکن تھی لہٰزا لوگوں نے بے پناہ مدد کی۔میں نے مسکراتے ہوئے رواں دواں موٹروے کو دیکھا جس نے میرے ہم وطنوں کی زندگیاں بچانے میں اہم کردار ادا کیا تھا ۔اللہ اسے یونہی شادو آباد رکھے۔
دوستو اب کچھ ضروری گزارشات گوش گزار کرتی ہوں جنہیں ذہن نشیں کر لیجیئے ۔
ہم لاکھ کوشش کرنے کے باوجود انفرادی طور پر مستحقین کے پاس کسی صورت امداد نہیں پہنچا سکتے۔
ہمیں حکومت پر اعتماد کرنا چاہیئے حکومت ظالم یا کرپٹ نہیں ہمارے جیسے درد دل رکھنے والے لوگ وہاں بھی موجود ہیں۔ان کے پاس جو مستحقین کی معلومات ہوتی ہیں وہ ہمارے پاس نہیں ہیں۔
سڑکوں کو صاف کرنا دور دراز کے متاثرہ لوگوں تک پہنچنا ان کی اصل ضروریات کا پتہ لگانا یہ کام صرف حکومت ہی کر سکتی ہے۔
اور یقین کیجیئے جھوٹے پراپو گنڈےمیں مت آئیے حکو مت بہت مدد کر رہی ہے مگر نقصان اتنا ہے جس کا مداوا فوری طور پر ممکن نہیں
وہاں دوائیوں کی اس لیئے ضرورت نہیں کہ وہ ستم رسیدہ آفت کے مارے ہوئے لوگوں کو دوائیوں کا علم نہیں کہ کیسے انہیں کھانا ہے۔انہیں اس وقت ڈاکٹروں کی ضرورت ہے جو انہیں ان کی مرض جان کر انہیں دوائیاں دے۔اگر یہ لوگ مفت کی دوائیاں سوچے سمجھے بغیر کھانے لگے تو فائدے کی بجائے نقصان ہو گا۔یہ بات میں نے روحی ظاہرشاہ کی دوائیاں دیکھ کر جانی ۔۔روحی کو خود بھی اس بات کا احساس ہوا اور انہوں نے فیصلہ کیا کہ آئیندہ چند روز میں میں یہاں میڈیکل کیمپ لگاؤں گی
اسٹنٹ کمشنر کے دفتر میں بیٹھے کچھ لوگوں نے بتایا کہ پشاور کے قریب چارسدہ کے مضافاتی علاقوں میں خیموں کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ یہ اپنے مضبوط کلچر میں بندھے لوگ خیموں میں رہنا پسند نہیں کرتے۔
فی الحال وہاں پکانے کا کوئ انتظام نہیں اس لیئے خشک راشن ہی ان کی بنیادی ضرورت پوری کرے گا۔
جو لوگ انفرادی طور پر وہاں امداد کرنے کے لیئے جاتے ہیں وہ چند شر پسند عناصر کی چھینا جھپٹی میں سب کچھ لٹا کر آ جاتے ہیں۔
بڑی سڑکوں کے ارد گرد کے علاقے کسی حد تک زندگی کوپھر سے بحال کرنے کی کوششوں میں مصروف ہو چکے ہیں مگر دور دراز کے علاقوں کو بحال ہونے میں ابھی بہت وقت اور مدد درکار ہوگی
حکومت کو بھی چاہیئے کہ اب نئے سرے سے قانون بنائے اور دریا کے کناروں پر ناجائز تعمیرات کی حوصلہ شکنی کرے تاکہ یہ آفت اتنی شدو مد کے ساتھ دوبارہ اپنی کہانی نہ دہرا سکے
یہ بھی کھرا سچ ہے کہ پانی کی بپھری ہوئ موجیں بھلے گلی کوچوں میں دوڑتی پھرتی رہیں مگر وہ بھی اپنی لاکھ کوششوں کے باوجود ہماری گندگی کو صاف نہیں کر سکیں چارسدہ کے اسٹنٹ کمشنر کے کمرے کے باہر گندگی کا ڈھیر دیکھ کر مایوسی ضرور ہوئ۔
مگر نم آلود مٹی سے ذرخیزی کی امید بھی دامن دل سے لپٹتی رہی۔

09/07/2020

سوشل میڈیا کے جتنے بھی پلیٹ فارمز ہیں مجھے نہیں پتہ کہ ان کے لیے کوئی ضابطہِ اخلاق بھی وضع ہے یا نہیں۔ ہاں البتہ سائیبر کرائمز کے لیے ضرور کچھ سزائیں ہیں۔یہاں سوال اٹھ...

28/12/2018

بہت بہت معزرت کے ساتھ ابھی اس پروگرام کے بارے میں کچھ فیصلہ نہیں ہوا جب ہو گا اس پیج پر تفصیل سے بتا دیا جائے گا

24/11/2018

جمعرات 29 نومبر مائ بھاگی ہال لوک ورثہ میں آڈیشن پروگرام چار بجے سے چھ بجے شام ہو گا

20/11/2018

آڈیشن اوپن مائیک پروگرام لوک ورثہ کے مائ بھاگی ہال میں ہر جمعرات چاربجے شام سے چھ بجے شام تک ہوتا ہے۔اس کے لیئے کوئ داخلہ فیس نہیں ہوتی ۔۔یہ پروگرام ہر اس شخص کے لیئے ہے جو گا سکتا ہے۔لوک ورثہ اس کو بغیر کسی شرط کےپلیٹ فارم مہیا کرتا ہے۔تاکہ وہ اپنے شوق کی تکمیل کر سکے۔آپ میں سے کوئ بھی اس موقع سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔

20/11/2018

بارہ ربیع الاول کے احترام میں اس دفعہ 22 نومبر بروزجمعرات آڈیشن اوپن مائیک پروگرام نہیں ہو گا۔۔ اگلا اوپن مائیک آڈیشن پروگرام29نومبربروز جمعرات کو ہو گا..
نعیم فاطمہ علوی

15/11/2018

Address

Lok Virsa
Islamabad

Telephone

+92 345 528 2562

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Open Mic - Lok Virsa posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share