Totkay Tipsٹوٹکے مفید

Totkay Tipsٹوٹکے مفید this page is run by Arfa Khan

06/08/2025
ایک دن میں 1 چمچ السی کے بیج ... خون کے جمنے، ہارٹ اٹیک اور فالج سے بچاتا ہے! 1 چمچ ایک دن: السی کے بیج خون کے جمنے، ہار...
03/04/2025

ایک دن میں 1 چمچ السی کے بیج ... خون کے جمنے، ہارٹ اٹیک اور فالج سے بچاتا ہے!

1 چمچ ایک دن: السی کے بیج خون کے جمنے، ہارٹ اٹیک اور فالج کو روکنے کے لیے

★ السی کے بیج Flaxseed کا تعارف
فلیکس سیڈ، جسے السی کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، ایک چھوٹا لیکن طاقتور بیج ہے جو صحت کے لیے ایک طاقتور کارٹون پیک کرتا ہے۔ اپنی روزمرہ کی خوراک میں صرف ایک کھانے کے چمچ فلیکسیڈ کو شامل کرنا آپ کی صحت کے لیے خاص طور پر خون کے جمنے، ہارٹ اٹیک اور فالج کو روکنے میں اہم فرق لا سکتا ہے۔ آئیے دریافت کریں کہ یہ آسان اضافہ آپ کو کیسے فائدہ پہنچا سکتا ہے۔

وٹامنز اور سپلیمنٹس خریدیں۔
★اومیگا 3 فیٹی ایسڈ سے بھرپور
فلیکس سیڈ کی نمایاں خصوصیات میں سے ایک اس میں اومیگا 3 فیٹی ایسڈز کا اعلیٰ مواد ہے۔ یہ ضروری چکنائیاں اپنے دل کی حفاظتی فوائد کے لیے مشہور ہیں۔ Omega-3s جسم میں سوزش کو کم کرنے، ٹرائگلیسرائیڈ کی سطح کو کم کرنے اور صحت مند بلڈ پریشر کو برقرار رکھنے میں مدد کرتا ہے۔ ایسا کرنے سے وہ خون کے لوتھڑے بننے سے روکنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں جو دل کے دورے اور فالج کا باعث بن سکتے ہیں۔

فائبر میں زیادہ
فلیکس سیڈ غذائی ریشہ کا ایک بہترین ذریعہ بھی ہے، دونوں حل پذیر اور ناقابل حل۔ حل پذیر ریشہ کولیسٹرول کی سطح کو کم کرنے میں مدد کرتا ہے جو بائل ایسڈز سے منسلک ہوتا ہے اور انہیں جسم سے نکال دیتا ہے۔ یہ عمل خون میں گردش کرنے والے کولیسٹرول کی مقدار کو کم کرتا ہے۔ دوسری طرف ناقابل حل ریشہ آنتوں کی باقاعدہ حرکت کو فروغ دیتا ہے اور قبض کو روکنے میں مدد کرتا ہے۔ ایک ساتھ، یہ ریشے دل کی صحت کی حمایت کرتے ہیں اور مجموعی طور پر عمل انہضام کو بہتر بناتے ہیں۔

اینٹی آکسیڈینٹ پاور ہاؤس"
فلیکس سیڈ میں lignans، ایک قسم کا اینٹی آکسیڈینٹ ہوتا ہے جو دل کے لیے حفاظتی فوائد پیش کرتا ہے۔ Lignans شریانوں میں چربی کی تہہ تختی کے جمع ہونے کو کم کرنے میں مدد کرتے ہیں، جو کہ دوسری صورت میں ایتھروسیکلیروسس شریانوں کی سختی و تنگی atherosclerosis کا باعث بن سکتے ہیں — ایسی حالت جو شریانوں کو تنگ کرتی ہے اور دل کے دورے اور فالج کا خطرہ بڑھاتی ہے۔ اینٹی آکسیڈینٹ آکسیڈیٹیو تناؤ سے بھی لڑتے ہیں، دل اور عروقی نظام کی مزید حفاظت کرتے ہیں۔

فلیکسیڈ کو کیسے شامل کیا جائے"
اپنے روزمرہ کے معمولات میں فلیکسیڈ شامل کرنا آسان اور ورسٹائل ہے۔ آپ اپنے صبح کے اناج یا دہی پر پسے ہوئے السی کے بیج کو چھڑک سکتے ہیں، اسے اسموتھیز میں ملا سکتے ہیں، یا اسے اپنی بیکنگ کی ترکیبیں جیسے مفنز اور بریڈ میں شامل کر سکتے ہیں۔ پورے بیجوں پر گراؤنڈ فلیکس سیڈ کی سفارش کی جاتی ہے، کیونکہ یہ آپ کے جسم کے لیے غذائی اجزاء کو ہضم کرنا اور جذب کرنا آسان ہے۔

نتیجہ*
اپنی روزمرہ کی خوراک میں صرف ایک کھانے کا چمچ فلیکس سیڈ کو شامل کرنا آپ کے دل کی صحت کے لیے زبردست فائدے پیش کر سکتا ہے۔ اس میں اومیگا 3 فیٹی ایسڈز، فائبر اور اینٹی آکسیڈنٹس کا بھرپور مواد اسے خون کے جمنے، ہارٹ اٹیک اور فالج سے بچنے کا ایک آسان اور موثر طریقہ بناتا ہے۔ تو، آج کیوں نہ شروع کریں؟ ایک چھوٹی سی تبدیلی آپ کی مجموعی صحت میں نمایاں بہتری کا باعث بن سکتی ہے۔ فلیکس سیڈ کے صحت سے متعلق فوائد سے لطف اندوز ہوں اور صحت مند دل کی طرف قدم بڑھائیں!
♥️براہ کرم نوٹ کریں:
آپ کی دولت آپ کی صحت سے شروع ہوتی ہے اور آپ کی صحت آپ سے شروع ہوتی ہے!

I've just reached 13K followers! Thank you for continuing support. I could never have made it without each one of you. 🙏...
01/01/2025

I've just reached 13K followers! Thank you for continuing support. I could never have made it without each one of you. 🙏🤗🎉

‏شلجم، سیب سے دس گنا زیادہ مفید ہے..!میں نے یہ بات سن کر حسب عادتتحقیق شروع کی اور کوشش کی کہمزید مستند فوائد تلاش کئیے ...
22/12/2023

‏شلجم، سیب سے دس گنا زیادہ مفید ہے..!
میں نے یہ بات سن کر حسب عادت
تحقیق شروع کی اور کوشش کی کہ
مزید مستند فوائد تلاش کئیے جائیں
اور دیکھا جائے کہ
یہ عام سی ، سستی سبزی
اتنے مہنگے سیب سے
دس گنا زیادہ بہتر کیسے ہے.. ؟
تحقیق سے معلوم ہوا کہ شلجم
خاص طور پر پٹھوں کی کمزوری، کمر درد
ٹانگوں کے درد، دل، جگر، آنکھوں، ہڈیوں، جوڑوں کا درد، یورک ایسڈ کم کرتا ہے،
کولیسٹرول نارمل کرتا ہے قبض دور کرتا ہے
شلجم ابال کر بیسن کے ساتھ گوندھ کر روٹی بنا کر کھانے سے شگر کنٹرول کرنے میں معاون ہے البتہ گندم چھوڑنا ہوگی.
چونکہ اس میں فائبر زیادہ ہے
سلاد کے طور پر کھانے سے پیٹ بھر جاتا ہے وزن کم کرنے والوں کا دوست ہے.
آئیے
ایک قابل بھروسہ ویب سائٹ
کے تعاون سے
سیب اور شلجم
میں موجود
مفید اجزاء کا تناسب دیکھتے ہیں.
سب سے اہم بات
شلجم میں سیب سے 10 گنا زیادہ وٹامن سی ہوتا ہے
یعنی سیب میں 24 فیصد
شلجم میں 200فیصد.
وٹامن B1
سیب میں 7 فیصد شلجم میں 29 فیصد.
وٹامن B6
سیب میں 14 فیصد شلجم میں 58 فیصد
سوڈیم
سیب میں 0 اور شلجم میں 32 فیصد
پوٹاشیم
سیب میں 12 اور شلجم میں 39 فیصد
کیلشیم
سیب میں 5 اور شلجم میں 43 فیصد
میگنیشیم
سیب میں 5، شلجم میں 22 فیصد
فاسفورس
سیب میں 7 اور شلجم میں 33 فیصد
آئرن
سیب میں 8، شلجم میں 36 فیصد
مینگنیز
سیب میں 6، شلجم میں 42 فیصد
کاپر
سیب 10، شلجم 61.
زنک
سیب 2 فیصد، شلجم 21 فیصد.
سیلینئیم
سیب میں 0 زیرو، شلجم میں 11 فیصد
فائبر
سیب 9، شلجم 13 فیصد.
پروٹین
سیب 1 فیصد، شلجم 6 فیصد
اب آپ خود اندازہ لگا سکتے ہیں
اگر سیب دستیاب نہ ہو، مہنگا ہو تو
شلجم مناسب قیمت میں بآسانی دستیاب ہوسکتا ہے.
اگر سیزن نہ ہو تو اسے قدرتی سرکہ میں
اچار بنا کر سال بھر محفوظ رکھ سکتے ہیں.
روزانہ کسی بھی نئی شکل میں نیا ذائقہ بنا کر استعمال کر سکتے ہیں.

21/12/2023
* ہلدی  ایک سپرفوڈ *بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ‏السَّلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهہلدی ایسا مصال...
14/11/2022

* ہلدی ایک سپرفوڈ *

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
‏السَّلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُه

ہلدی ایسا مصالحہ ہے جس کا استعمال پاکستان کے ہر گھر میں کھانا پکانے کے لیے ہوتا ہے جبکہ مختلف ممالک میں اسے مختلف امراض کے علاج کے طور پر بھی بطور دوا استعمال کیا جاتا ہے۔

ایسا بھی کہا جاتا ہے کہ ہلدی ایسا سپرفوڈ ہے جو کینسر سے مقابلہ کرتا ہے، ڈپریشن میں کمی لاتا ہے اور بھی بہت کچھ کرسکتا ہے۔

مگر اس حوالے سے کتنی حقیقت ہے اور یہ صحت کو کیا کچھ فراہم کرسکتا ہے؟

ویب ایم ڈی کی ایک رپورٹ میں اس کا جائزہ لیا گیا ہے۔

*ڈپریشن*
ہلدی میں موجود متعدد مرکبات ممکنہ طورپر صحت کو معاونت فراہم کرتے ہیں، ان میں سب سے نمایاں curcumin ہے، سائسندانوں کے خیال میں یہ وہ جز ہے جو ڈپریشن میں کمی لاسکتا ہے جبکہ سکون آور ادویات کو زیادہ موثر طریقے سے کام کرنے میں مدد دیتا ہے، تاہم اب تک اس حوالے سے تحقیقی رپورٹس میں نتائج ملے جلے رہے ہیں۔

*ذیابیطس ٹائپ ٹو*
ہلدی ورم کش ہوتی ہے اور اس وجہ سے یہ بلڈشوگر لیول مستحکم رکھنے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے، یعنی یہ ذیابیطس ٹائپ ٹو سے بچنے یا اس کو کنٹرول میں رکھنے کے لیے کارآمد ٹول ثابت ہونے والا مصالحہ ہے۔ پری ڈائیبیٹس کے شکار 240 افراد پر ہونے والی ایک تحقیق میں دریافت کیا کہ ہلدی سپلیمنٹ کا 9 ماہ تک استعمال ذیابیطس کا شکار ہونے کا خطرہ کم کرتا ہے۔ اس حوالے سے تحقیق بھی جاری ہے مگر زیادہ تر جانوروں پر ہورہی ہے، انسانوں پر نہیں۔

*وائرل انفیکشن*
اگر آئندہ کبھی موسمی نزلہ زکام کا شکار ہوں تو ہلدی چائے کو استعمال کرکے دیکھیں جو کہ متعدد اقسام کے وائرسز سے لڑنے میں مدد دے سکتی ہے جن میں فلو بھی شامل ہے مگر اس حوالے سے بیشتر تحقیق لیبارٹری میں ہوئی ہے لوگوں پر نہیں۔

*ہائی کولیسٹرول*
اس حوالے سے طبی سائنس کی رائے ملی جلی ہے، کچھ تحقیقی رپورٹس میں دریافت کیا گیا کہ ہلدی کا استعمال نقصان دہ کولیسٹرول کی سطح میں کمی کرتا ہے جبکہ دیگر رپورٹس میں کہا گیا کہ اس سے کوئی اثر مرتب نہیں ہوتا۔ سائنسدان تاحال ہلدی کے دل کو تحفظ دینے کے اثرات کا جائزہ لے رہے ہیں اور ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ ہلدی کا استعمال بائی پاس کرانے والے افراد میں ہارٹ اٹیک سے تحفظ دے سکتا ہے۔

*الزائمر*
الزائمر کے شکار افراد کو دائمی ورم کا سامنا ہوتا ہے اور ہلدی قدرتی طور پر ورم کش خصوصیات رکھتی ہے، مگر کیا یہ مصالحہ الزائمر کا مقابلہ کرسکتا ہے؟ تو اس حوالے سے اب تک کوئی ٹھوس سائنسی ثبوت سامنے نہیں آسکا ہے کہ یہ اس مرض کی روک تھام کے لیے موثر ہے۔

*جوڑوں کے امراض*
ہلدی کا استعمال جوڑوں کے درد، اکڑن اور ورم میں کمی لانے کے حوالے سے فائدہ مند سمجھا جاتا ہے اور اب تک تحقیقی نتائج بھی حوصلہ بخش رہے ہیں، مگر اس حوالے سے ابھی مزید تحقیق کی ضرورت ہے، اگر آپ جوڑوں کے درد کے لیے اسے آزمانا چاہتے ہیں تو اس کا استعمال کالی مرچ کے ساتھ کرنا بہتر ہے۔

*کینسر*
لیبارٹری اور جانوروں پر ہونے والی تحقیقات میں دریافت کیا گیا ہے کہ ہلدی کینسر زدہ خلیات کی نشوونما روک دیتی ہے، مگر ان رپورٹس میں یہ نہیں بتایا گیا کہ اس وقت کیا ہوگا جب کوئی شخص ہلدی کو کھائے گا، مزید یہ کہ ہلدی کچھ کیموتھراپی ادویات کے اثر میں مداخلت کرسکتی ہے۔

*سردرد*
ہلدی ادرک کی نسل سے ہوتی ہے جو کہ سردرد سے نجات کے لیے قدرتی ٹوٹکا ہے تو یہ حیران کن نہیں کہ سردرد کے علاج کے لیے ہلدی کے استعمال کا مشورہ دیا جائے خصوصاً آدھے سر کے درد کے لیے۔ تاہم اس حوالے سے سائنسی شواہد بہت کم ہیں کہ ہلدی سے سردرد کا علاج یا روک تھام ممکن ہے، بس ایک تحقیق میں کہا گیا ہے کہ یہ نیا طریقہ علاج کا حصہ ہوسکتی ہے۔

*کیل مہاسے*
کچھ لوگ دعویٰ کرتے ہیں کہ ہلدی کا ماسک جلد پر لگانے سے کیل مہاسوں سے لڑنے میں مدد ملتی ہے، جس کی ممکنہ وجہ اس مصالحے کی جراثیم اور ورم کش خصوصیات ہیں،

جھریوں سے نجات پانے کے کچھ طریقےمرد ہو یا خواتین جھریوں کا مسئلہ سب کو ہی ہوتا ہے۔ اس مسئلے کے حل کے لئے خواتین مہنگے مہ...
18/10/2022

جھریوں سے نجات پانے کے کچھ طریقے

مرد ہو یا خواتین جھریوں کا مسئلہ سب کو ہی ہوتا ہے۔ اس مسئلے کے حل کے لئے خواتین مہنگے مہنگے پروڈکٹس استعمال کرتی ہیں، تاکہ ان کے چہرے پر جھریاں نہ آئیں اور ان کی جلد بری نہ لگے بالکہ چہرے صاف سھترا اور خوبصورت نظر آئے۔ لیکن ہر کوئی ان مہنگے پروڈکٹس کو نہیں خرید سکتا اور نہ جھریاں دور کرنے کے لئے مہنگے علاج کرواسکتا ہے۔
ہمارے آنکھوں کے نیچے خون کی باریک باریک سینکڑوں وریدیں ہوتی ہیں اس لئے یہ مہنگے پروڈکٹس اور علاج بھی جھریوں کو ختم کرنے میں مددگار ثابت نہیں ہوتے اس لئے آنکھوں کی جھریوں کے مکمل خاتمے کے لئے ایک زبردست قدرتی نسخہ آج آپ لوگوں کو بتایا جارہا ہے۔ جس کے استعمال سے آپ کی آنکھوں کی دلکشی واپس آجائے گی۔ آنکھوں کے گرد جھریوں کے مکمل خاتمے کے لئے زبردست نسخہ ملاحظہ کیجئے۔
چہرے کی جھریاں ختم کرنے کا طریقہ
گنے کا رس _____ ایک کھانے کا چمچ
بیسن __________ آدھا کھانے کا چمچ
ہلدی __________ ایک کھانے کا چمچ
ترکیب و طریقہ استعمال
ہلدی کا استعمال آنکھوں کے گرد جھریوں کا خاتمہ کرنے کے ساتھ ساتھ سیاہ حلقوں کو بھی غائب کردیتا ہے۔ ایک کھانے کا چمچ گنے کے رس کو کسی پیالی میں ڈالیں اور اس میں ایک کھانے کا چمچ ہلدی اور آدھا کھانے کا چمچ بیسن ڈال کر چمچ کی مدد سے اچھی طرح مکس کرکے کریم بنالیں۔ اب اس کریم کو آنکھوں کے ارد گرد لگائیں اور تقریباً 20 منٹ کے بعد ٹھنڈے پانی سے دھولیں۔
اس کریم کو ہفتے میں کم از کم دو مرتبہ ضرور استعمال کریں۔ آنکھوں کے جھریوں کے لئے بہترین قدرتی نسخہ ہے۔ آنکھوں کی جھریوں کے لئے اچھی خوراک، سنزیوں اور پھلوں اور ان کا جوس کا زیادہ استعمال اور اس کے ساتھ ساتھ بھرپور نیند بہت فائدہ پہنچاتی ہے۔ جبکہ بلڈ پریشر زیادہ ہونے کی صورت میں اسے بھی قابو میں لانا فائدے مند ہوسکتا ہے۔ اگر حلقے اور جھریاں فوری طور پر ختم کرنا ہو تو کھیرے، آلو یا سیب کے قتلے وغیرہ آنکھوں پر استعمال کئے جاسکتے ہیں۔

مزید کچھ طریقے یہ بھی ہیں۔

کھیرے اور ایلوویرا کی کولڈ کریم:
کھیرے اور ایلوویرا کی کولڈ کریم سے آپ کے چہرے میں نمی بحال ہو گی اور یہ آپ کی اسکن کو موسچرائز اور ہائیڈریٹ کرے گا، جس سے چہرے پر قدرتی نکھار آئے گا۔

اجزاء:
ایک چوتھائی کپ کھیرے چاپ کردہ
آدھا کپ تازہ دہی
آدھا کپ تازے لیموں کا رس
ایک چوتھائی کپ ایلوویرا جیل گرینڈ کیا ہوا

طریقہ استعمال:
تمام اجزاء کو ملا کر گرینڈر میں گرینڈ کر لیں، اب اسے باریک چھنّی میں چھان لیں۔
پھر اس آمیزے کو ائیر ٹائٹ کنٹینر میں ڈال کر رات بھر کے لیے فریج میں رکھ دیں۔
اب روزانہ اس کریم کو آدھے گھنٹے کے لیے لیپ کی طرح چہرے پر لگائیں اور آدھے گھنٹے بعد سادے پانی سے دھو لیں۔

شہد, تخم ملنگا اور سیب کا اسکرب:
شہد چہرے کے کھلے مسام، اور ان میں موجود گندگی اور مٹی کو دور کرتا ہے، ساتھ ہی یہ جلد کو نرم وملائم اور موسچرائز بھی کرتا ہے جبکہ سیب چہرے کی رنگت جو نکھارتا ہے اور بلیچنگ ایجنٹ کے طور پر کام کرتا ہے یہ اسکرب آپ کی جلد کو جوان بنائے گا۔

اجزاء:
آدھا کپ باریک چاپ کردہ سیب
2 کھانے کے چمچ شہد
2 کھانے کے چمچ تخم ملنگا

طریقہ استعمال:
شہد، تخم ملنگا اور سیب کو گرینڈر میں ڈال کر گرینڈ کر کیں، گاڑھے پیسٹ جیسا آمیزہ بنا لیں چاہیں تو حسب ضرورت پانی کا استعمال کریں۔
اب اسے پانچ منٹ کے لیے رکھ دیں۔
پھر چہرے پر اس سے اسکرب کریں اور کچھ دیر بعد مساج کر کے نیم گرم پانی سے چہرہ دھو لیں۔

چاول اور دودھ کا کلینزر:
چاول چہرے کے جلد کو ٹائیٹ کرتا ہے، مسام کو بند کرتا ہے، اس میں وٹامن ای کی وافر مقدار موجود ہوتی ہے جو اسکن کو ایکسفولیٹ کرتی ہے، جبکہ دودھ قدرتی نکھار فراہم کرتا ہے۔

اجزاء:
ایک چوتھائی کپ چاول کا آٹا
2 سے 3 چمچ دودھ

طریقہ استعمال:
چاول کے آٹے کو دودھ میں ملا کر رکھیں۔
اب اس پیسٹ کو چہرے پر لگائیں۔
کچھ دیر مساج کرنے کے بعد لگا چھوڑ دیں۔
پھر چہرہ نیم گرم پانی سے دھو لیں اور کوئی ٹونر یا لوشن لگا لیں

کلیجی کی بو کی وجہ سے اسے کھانا پسند نہیں کرتے تو اس کی بساند دور کرنے کے لئے 3 شاندار ٹپسبہت سے لوگ کلیجی کھانا پسند نہ...
10/07/2022

کلیجی کی بو کی وجہ سے اسے کھانا پسند نہیں کرتے تو اس کی بساند دور کرنے کے لئے 3 شاندار ٹپسبہت سے لوگ کلیجی کھانا پسند نہیں کرتے کیونکہ کلیجی میں بساند کافی ہوتی ہے خاص طور پر بچے تو ایسے کھانوں سے دور بھاگتے ہیں،عید قرباں پر عام طور پر ہر گھر کا پہلا کھانا کلیجی کا سالن یا بھنی کلیجی یا فرائی کلیجی ہی ہوتا ہے۔ خواتین کتنی ہی کوشش کر لیں ان سے کلیجی کی بو ختم نہیں ہوتی، تو ہم آپ کی اس مشکل کو حل کرنے کے لئے اس کی بو ختم کرنے کے تین طریقے لے کر آئے ہیں جس کوآزما کر آپ کلیجی میں سے بو کو بالکل ختم کر سکتے ہیںکوشش کریں کہ کلیجی کو پورے ایک پیس کی شکل میں دھوئیں اس کی صفائی کریں اس کے بعد اس کی بوٹیاں بنائیں۔ جب آپ اسے ایک پیس میں لیں گے تو اس کے اوپر ایک جھلی ہوگی اس کر کلیجی پر سے اتار لیں۔ پھر دھوئیں تو اندر کے مساموں میں سے بھی خون صاف ہو جائے گا۔.

طریقہ نمبر 1:

پہلے کلیجی کی بوٹیاں بنا لیں۔ اسے دھوئیں نہیں ۔ پہلے ثابت لہسن لے کراس کی ایک یا دو پوتھی لے لیں( کلیجی کے حساب سے لیں) اس لہسن کو چھلکے سمیت کچل کراس کو کلیجی میں شامل کردیں اور خوب اچھی طرح مکس کریں۔ اور اس کو کچھ دیر کے لئے ایسے ہی چھوڑ دیں۔ تقریباً آدھے گھنٹے کے بعد اس کو پیالے میں ڈال کر پانی ڈال دیں لہسن کے چھلکے سب اوپر آجائیں گے۔ وہ ہٹا دیں، اور کلیجی الگ نکال لیں، اس کی بو بالکل ختم ہو جائے گی۔

طریقہ نمبر 2:

کلیجی کو دھوئے بغیر آدھا کلو کلیجی میں ایک بڑے سائز کا لیموں کا رس ڈال کر اچھی طرح مکس کر کے آدھا گھنٹہ ایسے ہی چھوڑدیں۔ اب اس کو کسی چھلنی میں ڈال کر اچھی طرح دھو لیں۔ کلیجی سے ہر قسم کی بو اور خون بالکل ختم ہو جائے گا۔.

طریقہ نمبر 3:

کلیجی میں تھوڑا سا پانی شامل کریں اس میں 3 سے 4 چمچ سفید سرکہ ڈال دیں۔ اور اس کو بھی تھوڑی دیر کے لئے ایسے ہی چھوڑ دیں۔ اب کسی چھلنی میں ڈال کر اس کو خوب اچھی طرح دھو لیں۔ اور پھر پکائیں ۔ اسکی بو اور بساند بالکل ختم ہوچکی ہو گی۔

Address

Islamabad

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Totkay Tipsٹوٹکے مفید posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category