Around the world

Around the world For Information and Entertainment.

دنیا کا وہ انسان جو 11 دن تک نہیں سویا!1964 میں امریکی طالب علم Randy Gardner نے ایک سائنسی تجربے کے لیے 11 دن تک مسلسل ...
12/03/2026

دنیا کا وہ انسان جو 11 دن تک نہیں سویا!

1964 میں امریکی طالب علم Randy Gardner نے ایک سائنسی تجربے کے لیے 11 دن تک مسلسل جاگ کر دنیا کا ریکارڈ بنایا۔ آخر میں وہ اتنا تھک گیا کہ باتیں کرنا اور صحیح سوچنا بھی مشکل ہو گیا۔ یہ واقعہ انسانی جسم کے لیے نیند کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔

جب برفانی طوفان میں کتوں کی ٹیم زندگی بچانے والی دوا لے کر نکلی1925 میں Nome (الاسکا) میں ڈفتھیریا کی بیماری پھیلنے لگی ...
12/03/2026

جب برفانی طوفان میں کتوں کی ٹیم زندگی بچانے والی دوا لے کر نکلی

1925 میں Nome (الاسکا) میں ڈفتھیریا کی بیماری پھیلنے لگی اور فوری طور پر دوا کی ضرورت پڑ گئی۔ اس وقت Anchorage اور Seattle سے دوا منگوانے کا انتظام کیا گیا، مگر شدید برف باری اور طوفانی موسم کی وجہ سے جہاز یا کشتی کے ذریعے اسے پہنچانا ممکن نہیں تھا۔ اس لیے Nenana سے Nome تک برفانی سلیج کھینچنے والے کتوں کی کئی ٹیموں کے ذریعے دوا کو مرحلہ وار منتقل کیا گیا۔ آخری حصے میں ٹیم کی قیادت ایک کتے Balto نے کی اور یوں دوا محفوظ طریقے سے شہر تک پہنچ گئی۔ اس واقعے کو تاریخ میں “Serum Run to Nome” کے نام سے یاد کیا جاتا ہے اور اسے مشکل حالات میں انسانی اور جانوروں کے مشترکہ تعاون کی ایک مثال سمجھا جاتا ہے۔

پاکستان میں 5G کی آمد کی آہٹ سنتے ہی ہمارے سوشل میڈیا پر جو مثال سب سے زیادہ گردش کر رہی ہے وہ کچھ یوں ہے:"پاکستان میں 5...
12/03/2026

پاکستان میں 5G کی آمد کی آہٹ سنتے ہی ہمارے سوشل میڈیا پر جو مثال سب سے زیادہ گردش کر رہی ہے وہ کچھ یوں ہے:
"پاکستان میں 5G آنے والا ہے اب آپ تین گھنٹے کی HD مووی صرف چند سیکنڈز میں ڈاؤن لوڈ کر سکیں گے!" 🤭
اگر کوئی خلائی مخلوق اس وقت ہمارا سوشل میڈیا پڑھ لے، تو وہ یہی سمجھے گی کہ شاید اس پوری قوم کا سب سے سنگین قومی مسئلہ "بفرنگ" (Buffering) تھا، جو اب بالآخر حل ہونے جا رہا ہے۔ گویا ہم سب غاروں میں بیٹھے اسی دن کا انتظار کر رہے تھے کہ کب 5G آئے اور ہم 'پشپا 3' کو بغیر رکے دیکھ سکیں۔
یہ دراصل ہماری اجتماعی سوچ کا المیہ ہے۔ جب کسی نئی ٹیکنالوجی کی مثال دینی ہو، تو وہ مثال اس قوم کی ذہنی سطح کی عکاس ہوتی ہے۔ اگر ہماری کل پرواز فلموں، پب جی (PUBG) کی پنگ اور یوٹیوب تک محدود ہے، تو سمجھ لیجیے کہ ہم ٹیکنالوجی کو تخلیق کے لیے نہیں، بلکہ صرف اپنا وقت اور پیسہ کھپانے کے لیے استعمال کرنے والی قوم بن چکے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ 5G کا مطلب صرف "زیادہ اسپیڈ" ہرگز نہیں ہے۔ یہ انٹرنیٹ کی دنیا کا چوتھا صنعتی انقلاب ہے جو ان تین ستونوں پر کھڑا ہے:

ا1 * Ultra-fast speed (بجلی جیسی رفتار): ڈیٹا اتنی تیزی سے منتقل ہوگا کہ فاصلے مٹ جائیں گے۔
ا2 * Ultra-low latency (فوری ردِعمل): Latency کا مطلب ہے کسی کمانڈ کو بھیجنے اور اس کا جواب آنے کا درمیانی وقت۔ (یہ وہ والا ٹائم نہیں جو ہمارا پاکستانی مکینک "بس استاد جی دو منٹ" کہہ کر لگاتا ہے، یہاں بات ملی سیکنڈز کی ہو رہی ہے)۔ 5G میں یہ وقت لگ بھگ صفر ہو جاتا ہے۔
ا3 * Mass connectivity (بڑے پیمانے پر جڑت): ایک ہی وقت میں ایک مربع کلومیٹر کے اندر لاکھوں ڈیوائسز انٹرنیٹ سے جڑ سکیں گی، بغیر کسی نیٹ ورک جام کے۔
اسی لیے پوری دنیا میں 5G کو انٹرٹینمنٹ نہیں، بلکہ میڈیکل، ٹرانسپورٹ، زراعت اور تعلیم کا انقلاب سمجھا جا رہا ہے۔
آئیے دیکھتے ہیں کہ دنیا اس سے کیا کام لے گی اور ہمارے یہاں اس کے کیا شاندار (اور طنزیہ) استعمال ہو سکتے ہیں:

1. ریموٹ سرجری (Remote Surgery)
* دنیا میں: ایک سرجن نیویارک میں بیٹھا ہوگا اور روبوٹک آرم (Robotic Arm) کے ذریعے 5G نیٹ ورک کی زیرو Latency کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کراچی کے ہسپتال میں دل کا بائی پاس کر رہا ہوگا۔ ایک سیکنڈ کی تاخیر بھی نہیں ہوگی۔

* ہمارا خدشہ: سرجن کٹ لگا رہا ہو اور اچانک واپڈا کی لائٹ چلی جائے، یا ہسپتال کا وائی فائی پیکیج ختم ہو جائے؟ یا پھر بیچ سرجری میں وی پی این (VPN) کنیکٹ کرنا پڑ جائے؟😝

2. خودکار گاڑیاں (Autonomous Vehicles)
* دنیا میں: ڈرائیور کے بغیر چلنے والی گاڑیاں 5G کے ذریعے ایک دوسرے اور ٹریفک سگنلز سے سیکنڈ کے ہزارویں حصے میں بات کریں گی تاکہ حادثات کو زیرو کیا جا سکے۔

* ہماری حقیقت: ذرا تصور کریں، ایک خودکار (Self-driving) ٹیسلا کار شاہدرہ یا ناظم آباد کے ٹریفک میں پھنس جائے۔ سامنے سے رانگ وے پر چنگ چی آ رہی ہو، دائیں سے گدھا گاڑی اوورٹیک کر رہی ہو اور پیچھے سے ایک بس والا مسلسل ہارن دے رہا ہو۔ ٹیسلا کا جدید ترین آرٹیفیشل انٹیلی جنس (AI) سسٹم یہ منظر دیکھ کر وہیں ہینگ ہو جائے گا اور شاید خود بخود شٹ ڈاؤن ہونے کی بھیک مانگنے لگے!🤪

3. اسمارٹ زراعت (Smart Agriculture)
* دنیا میں: ڈرونز اور کھیتوں میں لگے لاکھوں سینسرز 5G کے ذریعے کسان کو بتائیں گے کہ مٹی کے کس حصے کو کتنے پانی اور کھاد کی ضرورت ہے۔

* ہمارا استعمال: ہمارے ہاں شاید ان جدید ڈرونز کا سب سے بڑا استعمال پڑوسیوں کی چھت پر چلنے والے افیئر کی جاسوسی کرنے، یا بسنت کے دنوں میں کٹی ہوئی پتنگیں لوٹنے کے لیے کیا جائے گا۔

4. رئیل ٹائم ایجوکیشن اور VR
* دنیا میں: طلبہ ورچوئل رئیلٹی (VR) ہیڈ سیٹ پہن کر دنیا کے کسی بھی جدید لیب یا میوزیم میں بالکل ایسے چل پھر سکیں گے جیسے وہ واقعی وہاں موجود ہوں۔

* ہمارا استعمال: رشتہ کرانے والی آنٹیاں VR گلاسز پہن کر لڑکے والوں کے گھر کا 3D معائنہ کر رہی ہوں گی کہ صوفے کے پیچھے کتنی مٹی پڑی ہے اور کچن میں برتن دھلے ہیں یا نہیں۔

دنیا 5G کو فیکٹریوں کی پیداوار بڑھانے، سمارٹ شہر بسانے اور انسانی جانیں بچانے کے لیے استعمال کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ اور ہم فخریہ بتا رہے ہیں کہ "اب تین جی بی کی مووی ایک منٹ میں آئے گی!"

یاد رکھیں، ایک مہنگا اسمارٹ فون اگر اخروٹ توڑنے کے لیے استعمال ہو، تو اس میں قصور فون کا نہیں ہوتا۔ ٹیکنالوجی بذاتِ خود کبھی قوموں کی تقدیر نہیں بدلتی، فرق اس بات سے پڑتا ہے کہ قوم اس ٹیکنالوجی کو استعمال کرنے کی کیا نیت رکھتی ہے۔

اگر ذہن میں صرف ٹک ٹاک، فلمیں اور گیمز ہوں، تو 5G بھی ہمارے لیے محض ایک مہنگی اور "تیز رفتار تفریح" بن کر رہ جائے گا۔ اور اگر ذہن میں تحقیق اور جدت ہو، تو یہی 5G ملک کی معیشت کا پہیہ گھما سکتا ہے۔

اب فیصلہ ہمیں کرنا ہے کہ ہم نے 5G سے مستقبل بنانا ہے، یا صرف اپنے ڈرائنگ روم میں بیٹھ کر یہ بحث کرنی ہے کہ "یار! 4K رزلٹ میں گانا کتنی جلدی لوڈ ہوا.
Link to original article on Science ki Dunya

https://www.facebook.com/share/p/1Am2jxuL5z/

عوامی آگاہی پیغاماکثر لوگ یہ بات نہیں جانتے کہ ہر گیس سلنڈر پر اس کا اصل خالی وزن (Tare Weight) واضح طور پر لکھا ہوتا ہے...
14/01/2026

عوامی آگاہی پیغام

اکثر لوگ یہ بات نہیں جانتے کہ ہر گیس سلنڈر پر اس کا اصل خالی وزن (Tare Weight) واضح طور پر لکھا ہوتا ہے۔ یہ وزن سلنڈر کی صرف لوہے کی باڈی کا ہوتا ہے، اس میں گیس شامل نہیں ہوتی۔
یہ بات کیوں اہم ہے؟
سردیوں میں جب گیس ختم ہو جاتی ہے تو سلنڈر کے اندر میل، نمی اور گیس کا کچرا وہیں رہ جاتا ہے۔ یہی کچرا وقت کے ساتھ جمع ہو کر سلنڈر کو بھاری بھی کر دیتا ہے اور خطرناک بھی۔
جب آپ سلنڈر تبدیل کروائیں تو یہ ضرور کریں:
• سلنڈر پر لکھا ہوا اصل وزن دیکھیں
• خالی سلنڈر ترازو پر ضرور تلوائیں
• اگر خالی سلنڈر کا وزن، لکھے گئے اصل وزن سے زیادہ ہو تو سمجھ لیں کہ اس کے اندر کچرا موجود ہے
• ایسے سلنڈر میں:
• نہ صرف خطرہ بڑھ جاتا ہے
• بلکہ جب دوبارہ ری فلنگ ہوتی ہے تو آپ کو کم گیس ملتی ہے
یاد رکھیں:
زیادہ وزن = اندر کچرا
کم گیس = مالی نقصان
اور خراب سلنڈر = جانی خطرہ
محکمہ سول ڈیفنس کی ہدایت:
• ہر بار سلنڈر بدلتے وقت وزن چیک کریں
• مشکوک، بہت بھاری یا زنگ آلود سلنڈر واپس کر دیں
• اپنی اور اپنے گھر والوں کی سلامتی کو ترجیح دیں
تھوڑی سی توجہ، بڑے نقصان سے بچا سکتی ہے

18/03/2025
His throw is liberation, it is hope. He did it, he did it himself, this belongs to him & him alone & we as a country sho...
08/08/2024

His throw is liberation, it is hope. He did it, he did it himself, this belongs to him & him alone & we as a country should cherish him. He didn’t just win, he broke the record. The Olympic record belongs to a Pakistani

His throw is liberation, it is hope. He did it, he did it himself, this belongs to him & him alone & we as a country sho...
08/08/2024

His throw is liberation, it is hope. He did it, he did it himself, this belongs to him & him alone & we as a country should cherish him. He didn’t just win, he broke the record. The Olympic record belongs to a Pakistani.

‏اب تک کی معلومات کے مطابق یہ مرزا غالب کی کیمرے سے کھنچی واحد فوٹو ہے، جو انکے دوست بابو شیو نارائن نے 1865 کے قریب کھی...
29/04/2024

‏اب تک کی معلومات کے مطابق یہ مرزا غالب کی کیمرے سے کھنچی واحد فوٹو ہے، جو انکے دوست بابو شیو نارائن نے 1865 کے قریب کھینچی تھی۔۔۔یہ تصویر بابو صاحب کی پڑ پوتی شری متی سنتوش ماتھر کی ملکیت ہے اور الہ آباد میں انکے گھر موجود ہے۔۔

منتخب

MashAllah
29/04/2024

MashAllah

دُنیا کا سب سے تیز ترین بڑھنے والا درخت  پاؤلونیا ھے جسے آگ نہیں لگتی یعنی فائر پروف ھے۔۔۔۔۔ انگلش میں paulownia لکھا جا...
22/04/2024

دُنیا کا سب سے تیز ترین بڑھنے والا درخت پاؤلونیا ھے جسے آگ نہیں لگتی یعنی فائر پروف ھے۔۔۔۔۔ انگلش میں paulownia لکھا جاتا ھے، یہ جرمن درخت ھے اور جرمن ماہرین نباتیات ھی اس کے پیدا کنندہ ھیں۔۔۔۔۔
پاؤلونیا سالانہ 6 میٹر سے زیادہ بڑھنے کا ریکارڈ رکھتا ھے ، فائر پروف لکڑی کا حامل ۔ ماحول دوست ھے اور ھر ملک کے زمینی حالات اور موسمی حالات اور کم نمی میں پروان چڑھ سکتا ھے ۔ اس کی لکڑی وزن میں ھلکی ھے لیکن نہایت ھی پائیدار ھے ، اسی لیے بحری جہاز ، جنگی جہاز اسی کی لکڑی سے بن رھے ھیں ، موسیقی کے بہت سے آلات بھی ۔ اس کی لکڑی مہنگی ، بغیر گانٹھ کے اور خوبصورت بھی ھے کیونکہ یہ درخت عمودی ھے ۔ ٹیڑھا بالکل نہیں ھوتا ، جرمنی میں تو اس کے جنگل کے جنگل اُگائے جاتے ھیں تجارت کی غرض سے اور فرنیچر ، جنگی جہاز و بحری جہاز بنانے کے لئے۔۔۔۔۔
یہ درخت چائینہ اور جاپان میں بھی بہت زیادہ کاشتہ ھے۔۔۔۔۔
موسم بہار میں انتہائی خوبصورت پھول جامنی رنگ کے بکثرت اس پر آتے ھیں اور بے حد مسحور کن خوشبو والے ھوتے ھیں بعد میں ڈوڈیاں بنتی ھیں جن میں اسکے بیج بکثرت ھوتے ھیں یعنی اگر کسی نے ایک درخت لگا لیا تو پورے علاقے کو بیج دے سکتا ھے۔۔۔۔۔

اسرائیل جو کہ خشک ترین زمین والا ملک ھے اُس نے اپنی زمینوں پر اس کا تجربہ کیا جو نہایت کامیاب رہا اور اب وہ اس درخت کی نرسری کا جرمنی سے سب سے بڑا خریدار ھے ۔ اس کے پتے وٹامن سے بھرپور ہوتے ہیں اور بھیڑ بکریوں کی بہترین خوراک قرار دیے گئے ھیں

۔۔۔۔۔ سب سے اعلیٰ معیار کا شھد اسی درخت کے پھولوں سے تیار ھوتا ھے ۔۔۔۔۔
اسرائیل کے ساتھ جُڑے برادر اسلامی ملک اُردن یا جورڈن نے سرکاری سطح پر اس کی شجر کاری شروع کر دی ھے ۔

بیس سالہ پروگرام کا اعلان یہ کیا ھے یا پالیسی یہ بنائی ھے کہ اُردن کے شہری اور ادارے اگلے بیس سال تک یہ پودے صرف لگائیں گے اور پالیں گے لیکن کاٹنا جُرم تصور ھوگا۔۔۔۔۔

پاکستان میں یہ پودا پہنچ چکا ھے اور لوگ تجارت کی غرض سے لگانا شروع ہو گئے ھیں ۔

سفیدے کی طرح جس طرح سفیدے جنگل لگا کر بیچے جاتے ہیں ، لیکن یہ سفیدے کی طرح مضر اور پانی کا دشمن نہیں ھے۔۔۔۔۔

فی الوقت یہ پاکستان کی نرسریوں میں مہنگا ملتا ھے ۔ اس کا پتہ بہت بڑے سائز میں ھوتا ھے ، جس وجہ سے ماحول میں آکسیجن کی کمی کو پورا کرنے کے لئے یہ درخت بہترین انتخاب ثابت ھوگا ، اقوام متحدہ کاربن ڈائی آکسائڈ اومِشن سرٹیفکیٹ جاری کرتی ھے اور سالانہ 500 ڈالر فی ایکڑ کے حساب سے جنگلات کو ترقی دینے والے افراد کو ادا کرتی ھے ۔۔۔۔۔
کاپی

نکولس جیمز ووجِک 4 دسمبر 1982 کو ٹیٹرا امیلیا سنڈروم کے ساتھ پیدا ہوئے، اس عارضے کی وجہ سے نکولس دونوں بازؤں اور ٹانگوں ...
06/04/2024

نکولس جیمز ووجِک 4 دسمبر 1982 کو ٹیٹرا امیلیا سنڈروم کے ساتھ پیدا ہوئے، اس عارضے کی وجہ سے نکولس دونوں بازؤں اور ٹانگوں سے محروم ہیں۔ لیکن نکولس نے اس کمی کو اپنی کمزوری نہیں بنایا۔ پیدائش کے فورا بعد اس کے ماں اور باپ نے اس کو قبول کرنے سے انکار کر دیا اور اس کو ہسپتال میں چھوڑ کر چلے گئے۔ کچھ عرصے بعد اس کے ماں باپ نے اسے واپس اپنا لیا۔ نکولس کے نچلے دھڑ کی جگہ ایک چھوٹا سا پیر موجود ہے جس کو نکولس مزاق میں ڈرم سٹک کہتے ہیں۔ 21 سال کی عمر میں نکولس نے گرفٹ یونیورسٹی سے بی ایس کامرس اینڈ اکاونٹنگ کی ڈگری حاصل کی۔
12 فروری 2012 کو نکولس نے Kanae Miyahara سے شادی کی۔ 2017 تک، ان کے ہاں دو بیٹے اور دو بیٹیوں کی پیدائش ہوئی تھی۔ یہ خاندان کیلیفورنیا میں رہتا ہے۔

صرف ایک انگھوٹے کی مدد سے نکولس کمپیوٹر پر 43 الفاظ فی منٹ ٹائپ کرنے کے قابل ہے۔ نکولس کئی کتابوں کے مصنف ہیں جن میں Life with out limi, Your life without limit, Limitless, unstoppable. اور Love without limit وغیرہ شامل ہیں۔
(Photo credit: internet)

29/03/2024

خودساختہ انصاف کی کہانی
ہندوستان کی ریاست مہاراشٹر کے ضلع ناگ پور کے ایک چھوٹے سے گاؤں کستور با نگر میں اگست 2004 میں ایک ایسا واقعہ رونما ہوا جس نے آنے والے وقتوں کے لئے بہت سے لوگوں کو بہت کچھ سوچنے ، سمجھنے اور بدلنے پر مجبور کیا۔
اس گاؤں میں ایک اکویادو نام کا ایک شخص رہتا تھا۔ یادو کی پہچان ایک گینگسٹر ، اغوا کار، سیریل ریپیسٹ، قاتل اور بھتہ خو رکی تھی۔ اپنی زندگی کی آخری 13 سالوں میں یادو اور اس کا گینگ ریپ، قتل ، قبضہ اور بھتہ خوری کی تمام حدیں پار کر لی تھی۔ اور اس کے خلاف ان گنت درخواستوں اور شکایات کے باوجود، متاثرین کو کبھی انصاف نہ مل سکا۔ ان سالوں میں یادو نے کم از کم تین قتل اور 40 سے زیادہ خواتین کا ریپ کیا۔ اس دوران وہ متواتر پولیس کو رشوت دیتا رہا اور قانون کی گرفت سے بچتا رہا۔
بلا اخر اشنا نارائن نام کی ایک خاتون نے یادو کے خلاف مزاحمت کی اور لوگوں کو اکھٹا کیا، لوگوں کے ہجوم نے یادو کے گھر کو آگ لگا دی، جبکہ یادو پولیس کی حفاظتی تحویل میں چلا گیا۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بے حسی سے مایوس ہو کرگاؤں والوں نے جن میں زیادہ تر خواتین شامل تھیں، نے معاملات کو اپنے ہاتھ میں لینے کا فیصلہ کیا۔

اگست 2004 کی شدید گرمی میں، عدالتی سماعت کے دوران جہاں یادو کو گواہی کے لیے لایا گیا تھا، اس وقت افراتفری مچ گئی اور تقریباً 200 گاؤں والوں نے کمرہ عدالت پر دھاوا بول دیا۔ چاقوؤں، لاٹھیوں اور پتھروں سے لیس ہو کر، انہوں نے یادو پر ایک جنونی حملہ کیا۔ جذبات سے بھرے اور انصاف سے مایوس لوگوں نے یادو کو عدالتی اہلکاروں اور پولیس کی نظروں کے سامنے بے رحمی سے پیٹ پیٹ کر ہلاک کر دیا گیا۔
اس واقعے نے نہ صرف اس گاؤں، ضلع اور ریاست بلکہ پورے ہندوستان میں قانون نافذ کرنے والے اداروں، انصاف اور خواتین کے تحفظ کی حالت پر گرما گرم بحث چھیڑ دی۔ ایک طرف لوگوں نے گاؤں والوں کے اقدامات کو ادارہ جاتی ناکامی اورانصاف سے مایوسی کے طور پر دیکھا، جبکہ دوسری طرف لوگوں اس واقعے کو ماورائے عدالت قتل قرار دے کر اس کی مذمت کرتے ہوئے قانونی کاروائی کا مطالبہ کیا۔
اس واقعے نے بھارت میں پائے جانے صنفی بنیادوں پر ہونے والے تشدد اور انصاف تک رسائی اور انصاف کی فراہمی میں ناکامی جیسے مسائل کو اجاگر کیا۔ اور ہر کمیونٹی نے ان انتظامی معاملات میں اصلاحات کی ضرورت کا مطالبہ شروع کیا۔ اگرچہ اس واقعے سے براہ راست منسوب کوئی خاص اصلاحات نہیں کی گئیں ، لیکن اس واقعے نے خواتین کی حفاظت کو بہتر بنانے اور ہندوستان میں انصاف کے نظام کو وسیع اور جدید کرنے سے متعلق ایک اہم کردار ادا کیا۔

Send a message to learn more

Address

Islamabad

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Around the world posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share