04/06/2026
پختونخواہ میں پچھلے تیرا سال حکمرانی اور عوام کی خدمت پر ایک محتصر نظر۔
امن، بجلی، گیس، روزگاراور صحت کو سامنے رکھ کر اپ موجودہ )
(پختونخواہ رجیم سے کتنا مطمعِن ہو کمنٹ میں اپنی قیمتی رائے دیں
پہلی بار بار پختون قوم نے عمران خان کے نام پر ٢٠١٣ میں ووٹ ڈالے اس لیے کہ عوام تبدیلی چاہتی تھی اور امید کر رہی تھی کہ شاید عوام کی بھلائی ہو مگر افسوس کے ساتھ اس وقت کے حکمران طبقے نے عوام کو دھرنا کلچر میں الجھا کے رکھا اور پختونخواہ کے بے روزگار طبقے کو اسلام اباد میں دھرنوں کی شکل میں پھنسا کے رکھا اور سوشل میڈیا کے ذریعے ایک عجیب اور نہ ختم ہونے والا لت لگا دیا۔ پختون معاشرے میں یہ پہلا دور تھا جس میں عام طور پر بے روزگار نوجوان مرد اور خاص طور پر نوجوان خواتین نے سوشل میڈیا میں کھل کے قدم رکھا اور ڈالرو کے عوض عزت نفس اور چوٹے بڑے کی تمیز تقریباً ختم ہونے لگا۔
پھر اگیا ٢٠١٨
اور ایک بار پر پختون قوم کے ساتھ پاکستان کے اور حصوں کو بھی ملا کے ایک تجربہ شروع کیا گیا جو کہ بُری طرح ناکام ہوا اور ملک کی نظام کا رُخ مکمل طور پر ایک اور سمت میں چلنے لگا جس سے ہر خاص و عام بخوبی واقف ہے۔
پھر اگیا موجودہ رجیم جس میں پختونخواہ ایک بار پھر اُسی سیاسی پارٹی کے ہاتھ اگیا جن کے پاس پچھلے دس سالوں سے تھا۔
موجودہ حکمران جو پختونخواہ پر مسلت ہے کسی بھی زاویے سے عوام کے لیے فائدہ مند نہیں ہے۔
جس مقصد کے لیے عوام نے ووٹ دیا ہے اس مقصد کو اس موجودہ منتخب لوگوں نے مکمل طور پر نظرانداز کیا ہے۔ بس عوام کو دھوکہ دینے کے حاطر ہفتے میں ایک دن پورے پختون قوم کے عزت کو اڈیالہ جیل کے سامنے تارتار کرکے دفعہ ہو جاتے ہیں۔
پختونخواہ میں بجلی کی پیداوار اور ڈیم ہونے کے باوجود حد سے زیادہ لوڈشیڈنگ ہے۔
پختونخواہ میں حد سے زیادہ بےامنی ہے۔
ہمارے پختونخواہ میں بےروزگاری عروج پر ہے۔
ہمارے صوبے کا صحت کا نظام تباہی کی طرف تیزی سے گامزن ہے۔
یہ جو موجودہ کابینہ ہے پل پروٹوکول کے ساتھ ٹھنڈے اےسی کے عادی ہو چکی ہے ان کو عوام یا عوام کے مسائل سننا بھی پسند نہیں ہے۔
ورنہ جب انکو پتہ ہے کہ انکی اوقات نہیں ہے کہ یہ لوگ اڈیالہ سے اپنے لیڈر کو رہا کرے تو بھائی بس چوڑ دے اڈیالہ کو اور اپنی عوام کےمسائل پر توجہ دو اور عوام کو اس جہنم نما پختونخواہ سے نکال کر ریاست مدینہ کے طرز پر زندگی بسر کرنے کے لیے کام کریں۔
پچھلے تیرا سال میں پختونخواہ میں کتنے ن٨ے کارخانے لگے ہیں اور کتنے لوگوں کو روزگار ملا ہے؟
چار کروڑ عوام کے منتخب نمایندوں ہر ضلع میں ایک انڈسٹریئل زون بنانا چاہئے تھا تا اور ہر طرح کے صنت کو فروغ دینا چاہئے تھا مگر افسوس۔۔۔
اور یہ جو چلانگے مار کہ کہتے ہیں کہ ہم چار کروڑ عوام کے منتخب نمائندے ہیں تو کیا پچھلے تیرا سال میں پختونخواہ میں مکمل امن اگیا ہے؟ کیابجلی کا لوڈشیڈنگ ختم ہو گیا ہے؟ کیاعوام کو گیس اور روزمرہ استعمال کی چیزیں سستی مل رہی ہے؟ کیاہر غریب بچہ سکول جانے لگا ہے؟ کیاعوام کو روزگار بااسانی مل رہا ہے یا عوام ذلیل ہو رہی ہے؟ کیاہسپتالوں میں ہر عام و خاص کے لیے ادویات موجود ہے؟ کیا صحت کا نظام بہتر ہوا ہے؟ کیا ہر پختون اپنے ہی گھر محفوظ محسوس کرنے لگا ہے؟ آیے بڑے چار کروڑعوام کے منتخب نمایندے۔
اجکل انکو گلگت اور کشمیر الیکشن کی پڑی ہوئی ہے۔ بھائی صاب اپنے منتخب خلقوں میں ایسا کام اور نظام لے آو کہ اپکو کمپین کرنے کی ضرورت نہ آئے اور پورے ملک کے لوگ اپکے کام کو دیکھ کر اپکے پارٹی کو ووٹ دے۔ اور یہ جو کہتے ہیں کہ کرپشن کے خلاف ہےاور ہمارے ہوتے ہوے کرپشن نہیں ہے تو یہ بھول رہے ہیں کہ یہ وہ جدید دور جس مہں کچھ بھی نہیں چھپتا۔
خیر اب انتظار ہے اگلے الیکشن کی امید ہے کہ پختون قوم جاگ جائےگااور اگر اب بھی نہیں جاگا تو پھر وہی بات اتی ہے کہ جو قوم اپنی حالت خود نہیں بدلنا چاہتی تو وہ کوئی بھی نہیں بدل سکتا۔