Chat Pati Baatein

Chat Pati Baatein Chat Pati Batein will add Growth of Generation & info to your daily life.

Black Rose Mongo's
08/07/2023

Black Rose Mongo's

https://youtu.be/vpIUtrwrBjg
20/04/2022

https://youtu.be/vpIUtrwrBjg

Who doesn't like a nice refreshing glass of Lassi? Get blown away by this ingenious small business owner who has created an impact through adding a twist to ...

07/04/2022

Gandhara is a historical region in Modern day Pakistan, which once a hub of trade and culture is a key location between Asia and middle east. According to Br...

💕میری شادی ایک ان پڑھ سے ہوئی تھی جبکہ میں پڑھی لکھی ہوں میرا نام شہزادی ہے سچ بتاوں تو میرا خواب تھا ایک پڑھا لکھا اچھا...
12/01/2021

💕میری شادی ایک ان پڑھ سے ہوئی تھی
جبکہ میں پڑھی لکھی ہوں
میرا نام شہزادی ہے سچ بتاوں تو میرا خواب تھا ایک پڑھا لکھا اچھا کمانے والا لڑکا
لیکن کچھ مجبوریوں میں عمر سے شادی کر دی گئی
مجھے عمر اچھا نہیں لگتا تھا
ان کا کام بھی اتنا اچھا نہ تھا
خیر میں اللہ کے سامنے رو کر دعا مانگتی تھی یا اللہ
یا تو عمر کو مار دے یا پھر اس سے جان چھڑوا دو میری کسی طرح
💕وہ جاہل سا بولنے کا بھی نہیں پتا
میں ہر بات پہ عمر کو بے عزت کر دیتی
تنقید کرتی عمر پہ غصہ کرتی
عمر مجھے پیار سے سمجھاتا
کبھی چپ ہو جاتا
کبھی غصہ ہو کر گھر سے باہر چلا جاتا
💕میں ایک بار جھگڑ کر امی ابو کے پاس چلی گئی اور ضد کی کے بس طلاق لینی ہے عمر سے
امی ابو نے بہت سمجھایا کے بیٹی لڑکا اچھا ہے نہ کرو ایسا
بس بیچارہ پڑھا لکھا نہیں ہے
باقی کیا کبھی اس نے تم پہ ہاتھ اٹھا یا یا گالی دی ہو
لیکن میں بس طلاق لینا چاہتی تھی
میں نے جھوٹ بولا کے وہ خرچہ نہیں دیتا مجھے
امی ابو نے عمر کو بلوا لیا
وہ میرے سامنے بیٹھا تھا
امی ابو کہنے لگے عمر کیوں بھای تم شہزادی کو خرچہ کیوں نہیں دیتے
💕عمر بابا سے مخاطب ہو کر بولا
انکل جی جو کما کر لاتا ہوں سب اخراجات نکال کر جو بچتا یے شہزادی ہاتھ پہ رکھ دیتا ہوں
میرے چاچا تایا سب موجود تھے وہاں
میں بولی مجھے 30 ہزار روپے ہر مہینے چاہئے بس
اس شرط پہ ہی جاوں گی میں عمر کے ساتھ
عمر خاموش ہو گیا
سر جھکائے بیٹھا تھا
💕چاچا بولے ہاں عمر دے سکتے ہو خرچہ 30 ہزار
کچھ لمحے خاموش رہا پھر میری طرف دیکھنے لگا
لمبی سانس کی بولا ٹھیک ہے میں شہزادی کو 30 ہزار روپے دوں گا الگ سے ہر مہینے
میں نے دل کی گالی دی کمینے دیکھنا جینا حرام کر دوں گی تمہارا
میں عمر کے ساتھ چلی گئی
ہم بجلی پانی گیس کا بل راشن کھانا سب اخراجات بھی تھے
💕عمر سے جب بھی پوچھا کیا کام کرتے ہو تو کہتا گورنمنٹ آفس میں کام کرتا ہوں
اس کے علاوہ نہ میں کبھی پوچھا نہ انھوں نے بتایا
خیر عمر مجھے ہر مہینے 30 ہزار روپے دیتا
ایک دن میں نے کہا مجھے آئی فون لیکر دو
میں بس تنگ کرنا چاہتی تھی کے عمر مجھے طلاق دے دے
عمر مسکرانے لگا
میرے پاوں پکڑے اور بولا شہزادی لے دوں گا پریشان نہ ہو
تم بس مجھے چھوڑ کر جانے کی بات نہ کیا کرو
جو کہو گی کروں گا
میں کبھی کھانے میں مرچ ڈال دیتی تو کبھی زیا دہ نمک
وہ تھکا ہارا کام سے آتا کھانا کھا کر بے ہوشی کی طرح سو جاتا
💕نہ جانے کون سا کام کرتا تھا کے اتبا تھک جاتا ہے
میں جتنی نفرت کرتی تھی اس جاہل سے وہ اتنی محبت کرتا تھا
میں ایک دن اپنی دوست کے ساتھ کار میں شاپنگ کرنے جا رہے تھے شہر کے سب مہنگے اور بڑے مال میں
جب ہم ایک بس اڈے کے پاس سے گزرے تو
میری زندگی نے جو لمحہ دیکھا
میں بے جان ہو گئی
وہ عمر جسے میں بہت نفرت کرتی تھی
💕جس کو میں جاہل ان پڑھ کہتی تھی
جس کو کبھی میں نے پیار سے کھانا تک نہ دیا تھا
جس کا کبھی حال نہ پوچھا تھا
جسے میں انسان ہی نہیں سمجھتی تھی
جسے میں قبول ہی نہیں کرنا چاہتی تھی
وہ عمر سر پہ بوجھ اٹھائے کسی کا سامان بس پہ چڑھا رہا تھا
ٹانگیں کانپ رہی تھی
پرانے سے کپڑے پہنے
پسینے سے شرابور
پاوں میں ٹوٹی ہوئی جوتی پہنی تھی
💕فارس میں مر کیوں نہ گئی تھی
وہ میرے لیئے کیا کچھ کر رہا تھا
اتنے میں ایک شخص بولا اوئے چل یہ سامان اٹھا اور دوسری بس کئ چھت پہ لوڈ کر
عمر کو شاید بھوک لگی تھی
ہاتھ میں روٹی پکڑی رول کیا ہوا
ساتھ روٹی کھا رہا تھا ساتھ سامان اٹھا رہا تھا
میں قربان جاوں
میرا عمر میرے لیئے کس درد سے گزر رہا تھا
میں آنسو لیئے دیکھتی رہی
کام ختم ہوا
وہاں سائیڈ پہ ایک دکان کے سامنے زمین پہ بیٹھ گیا
کتنی بے بسی تھکن تھی عمر میں
سارا دن وہاں درد سہنا رات کو میری باتیں
فارس سر وہ حادثہ تھا یا اللہ کی مرضی بس میرا دل بدل گیا
💕میں بن بتائے کچھ خریدے گھر واپس لوٹ گئی
بہت روئی تھی بہت زیادہ
عمر کو پلاو پسند تھا میں نے پلاو بنایا
عمر گھر آیا
میں اسے کھانا نہیں دیتی تھی خود گرم کر کے کھاتا تھا
گھر آیا
مجھ سے سلام کیا کچن میں گیا
پلاو دیکھ کر بولا شہزادی آج تو آپ نے کمال کر دیا
ایک سال بعد پلاو کھانے لگا ہوں
فارس سر کھانا پلیٹ میں ڈال کر میرے پاس بیٹھ گئے کھانا کھانے لگے میں عمر کی طرف دیکھے جا رہی تھی
عمر کتنا درد سہتا ہے اور بتاتا بھی نہیں
میں کتنی اذیت دیتی ہوں کوئی شکوہ نہیں
عمر پہ آج مجھے بہت پیار آ رہا تھا
دل چاہ رہا تھا سینے سے لپٹ جاوں
عمر نے کھانا کھایا
پھر جیب سے پیسے نکالے کہنے لگا یہ لو شہزادی 30 ہزار
میں چیخ چیخ کر رونے لگی عمر کے پاوں چوم لیئے
عمر مجھے کچھ بھی نہیں چاہئے
مجھے یہ پیسے نہیں چاہئے
عمر حیران تھا مجھے کیا ہو گیا ہے
عمر نے میرا ہاتھ تھاما بولے
اگر یہ پیسے کم ہیں تو اور لا دوں گا مجھے چھوڑ کر نہ جانا
💕کہنے لگے شہزادی بہت بھولی ہو تم
پاگل تم بچھڑنے کے بعد کہاں بھٹکو گی خدا جانے
بہت پیار کرتا ہوں نا تم سے اسلیئے تم کو خود سے دور نہیں کر سکتا
میں عمر کے سینے سے لگ گئی آج مجھے
نہ کوئی آئی فون چاہئے تھا نہ کوئی بڑا گھر گاڑی
مجھے اب دنیا کی کوئی خبر نہ تھی میری دنیا عمر بن چکا تھا
ہم عورتیں کیسے منہ پھاڑ کر کہہ دیتی ہیں جب کھلا نہیں سکتے تھے تو شادی کیوں کی
بات بات پہ جھگڑا اور طعنے شروع کر دیتی ہیں
کبھی اہنے شوہر کا وہ چہرہ دیکھنا جس میں نے عمر کا دیکھا تھا
خدا کی قسم ہم ایک سانس نہ لے سکیں اس ماحول میں یہاں مرد اپنی فیملی کے لیئے خود کو قربان کر دیتا ہے
جتنے شوہر کماتا ہے اس پہ خوش رہو
پیسہ بھی سب کچھ نہیں ہوتا
خدا کی قسم مجھے بڑی گاڑیوں اور اے سی والے محل میں وہ سکون نہیں ملا جس سکون عمر کی بانہوں میں آتا ہے
جو سکون عمر کا سر دبانے میں آتا ہے ۔جو سکون
عمر کی پسند کے کھانے بنانے میں آتا ہے
ہمسفر کی بے بسی کو سمجھو تو سہی
💕دیکھ تو سہی
آپ کبھی جھگڑا نہیں کریں گی
عمر اب میری زندگی ہے
اور میں عمر کی شہزادی
فارس سر اجازت چاہتی ہوں
شاید کوئی لڑکی سنبھل جائے یہ پڑھ کر

ایک خاتون کی باتیں

10/11/2020

سفرنامہ
جہاز سے اترا تو آزادی کے سانسیں مجھے محسوس ہوئی ، ایسا لگا کہ میں کہے جنت کی زمین پر اترا ہو ۔۔ دیرے دیرے قدم اگے کئ امیگریشن کاونٹر کے طرف ۔ انٹری کا سٹیمپ لگ گیا پاسپورٹ پر تو اگے بڑا ائیرپورٹ کے مین باہر دروازے کے طرف ۔۔ باہر جب پہنچ گیا تو لوگوں کا ہجوم دیکھا ۔۔ جو اپنے پیاروں کے انتظار میں کھڑے تھے ۔۔ ہر انکھ دروازے پر تھی اور ہر سوچ کا مہور مسافر کے انے کا تھا ۔۔۔ باہر ہجوم میں گیا تو والد اور بھائی نے استقبال کیا ۔۔ ائیرپورٹ کے احاطے سے باہر گاڑی میں سوار ہوا ۔۔
موٹرکار کے کے شیشے سے باہر دنیا ایسا لگا جیسا کہ ہر چیز میرے انے پر خوش ہے ۔ ہمارے سڑکوں پر رکشہ ، بیل گاڑیاں ، گدھا گاڑیاں اور لوگوں کا ہجوم دیکھ کر ایسا لگا کہ دنیا جاگ گئی ہے پہلی دفعہ ۔۔ دوپہر کی وقت سکول کے بچے سکول سے چھٹی ہوکر ہمیں بہت اچھے لگے ، ہمیں تو سکول کا وقت یاد دلایا سکول کے بچوں کو دیکھ کر ایک زمانے میں ہم بھی اسطرح خوش ہوا کرتے تھے ۔۔اب تو پردیس کی زندگی نے اے ٹی ایم کا مشین بنادیا ہے ، زندگی ایک خاص سرکل میں چلتی ہے ، گھر ، ڈیوٹی ، سونا ۔۔۔۔۔۔۔ نہ سڑکوں پر رونق اور نہ پردیس میں گھر پر مزہ ۔۔
تھوڑے اگے چل کر سڑک کے کنارے مسجد میں نماز ادا کی ، بہت دلی سکون ملا اس سے ۔۔۔ اگے جاکر روٹی کھانے کا ٹائم ہوگیا تھا تو خوراک محل کا رخ کیا ۔۔۔ وہاں کھانے کے ساتھ ساتھ ارد گرد ماحول سے لطف اندوز ہوا ۔۔۔
وہاں سے فارغ ہوکر راستے میں دھیان فروٹ شاپس پر فوکس کیا تاکہ کچھ فروٹ خریدلے ، جو ہر پردیسی کا پہلا شاپنگ ہوتا ہے ، کچھ فروٹس شاپ پر روک کر فروٹس کے دام کم کرنے کا ایکٹنگ بھی کیا اور اس میں کامیابی بھی مل گئی ۔۔۔۔
شام کی قریب گھر پہنچ گئے تو گھر کے باہر لوگ کھڑے تھے استقبال کیلئے ۔ گھر داخل ہوا تو ایسا لگا جیسے کندھوں سے بہت باری بوج اترگیا ہو ۔۔۔
ایک مسافر کی زندگی کا سب سے خوبصورت سفر ائیرپورٹ سے گھر تک کا سفر ہوتا ہے ۔۔ جس کے احساسات میں الفاظ میں بیان نہیں کرسکتا ۔۔۔ کبھی کبھار میں سوچتا ہو کہ بندہ ہر 6مہینے بعد پاکستان کا چکر لگائے اگر وہ سفر کرسکتے ہو ۔ تاکہ وہ ہر 6مہینے بعد اس خوبصورت لمحات کا مزہ لے ...
لیکن مسافر کی زندگی کا سب سے بدترین سفر بھی گھر سے ائیرپورٹ کے طرف ہوتا ہے ۔۔ (انشااللہ اس پر بھی لکھونگا )
اللہ تمام مسافر بھائیوں کا حامی وناصر ہو ۔

15/10/2020
26/09/2020
‏میری بیوی لڑکیوں کے کالج میں پڑھاتی تھی میں روز اسے کالج چھوڑنے اور لینے جاتا تھا،کالج کے گیٹ پر پہنچ کر میں گاڑی سے ات...
17/09/2020

‏میری بیوی لڑکیوں کے کالج میں پڑھاتی تھی میں روز اسے کالج چھوڑنے اور لینے جاتا تھا،کالج کے گیٹ پر پہنچ کر میں گاڑی سے اترتا اور اس کی طرف کا دروازہ کھول دیتا تب وہ نیچے اترتی، میرا یہ طریقہ لڑکیوں کے کالج میں موضوع بحث بن چکا تھا،کالج کی استانیاں میری بیگم پر رشک کرتیں ‏اور اسے چھیڑتیں کہ کیا نصیب پایا ہے،کیا رومانس ہے،کاش کہ ہمارے شوہروں کو بھی یہ توفیق ملتی،بلکہ طالبات بھی ایسی باتیں کرتی،لیکن کسی کو نہیں معلوم تھا کہ رومانس ومانس کچھ نہیں تھا گاڑی کا دروازہ خراب تھا ‏اور وہ باہر سے ہی کھلتا تھا
مختصر یہ کہ اب میں تین استانیوں کا شوہر ہوں، دروازہ اب تک ویسا ہی ہے، یہ دروازہ میرے لئے خیر کا دروازہ ثابت ہوا.

(ایک خراب کار والے کا بیان)

Address

Islamabad
44000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Chat Pati Baatein posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Establishment

Send a message to Chat Pati Baatein:

Share