Kawish

Kawish اردوکی خوبصورتی،چاشنی اورادبیت کوآپ تک پہنچانےکیلئےمیری چھوٹی سی کاوش!!!
یقیناًآپ کوپسندآئےگی اوراساتذہ کرام سےراہنمائی کےطلبگارہیں ہم۔۔

میں نفرتوں کے جہاں میں رہ کرجُدا رھُوں گا تو کیا کروں گا ؟؟یہ ٹھِیک کَہتے ھو ، بے وفا ھُوںوَفا کروں گا ، تو کیا کروں گا ...
23/11/2022

میں نفرتوں کے جہاں میں رہ کر
جُدا رھُوں گا تو کیا کروں گا ؟؟
یہ ٹھِیک کَہتے ھو ، بے وفا ھُوں
وَفا کروں گا ، تو کیا کروں گا ؟؟

بس اَیک تُو ھی تو رہ گَیا ھے
جہاں سارا تو کھو چکا ھُوں
تُجھے بھی اپنی اَنا میں آ کر
خفا کرُوں گا ، تو کیا کروں گا ؟؟

ھزار سجدے تو کر چُکا ھُوں
قَضا تُمہاری محبتوں میں
مَیں اَب دِکھاوے کا کوئی سَجدہ
اَدا کَرُوں گا ، تو کیا کروں گا ؟؟

بغیر پانی بھی کوئی مَچھلی
بھلا کبھی رہ سَکی ھے زندہ ؟؟
مَیں تُجھ کو کھو کر، کِسی کا ھو کر
بتا کروں گا ، تو کیا کروں گا ؟؟۔

کلام: مُحسن نقوی
انتخاب و پیشکش: کاوش

22/11/2022

اے جذبۂ دل گر میں چاہوں ہر چیز مقابل آ جائے
منزل کے لیے دو گام چلوں اور سامنے منزل آ جائے

اے دل کی لگی چل یوں ہی سہی چلتا تو ہوں ان کی محفل میں
اس وقت مجھے چونکا دینا جب رنگ پہ محفل آ جائے

شاعر: بہزاد لکھنوی
آواز: شانزے بشارت

لگتا نہیں ہے دل مرا اجڑے دیار میں کس کی بنی ہے عالم ناپائیدار میں ان حسرتوں سے کہہ دو کہیں اور جا بسیں اتنی جگہ کہاں ہے ...
21/11/2022

لگتا نہیں ہے دل مرا اجڑے دیار میں
کس کی بنی ہے عالم ناپائیدار میں

ان حسرتوں سے کہہ دو کہیں اور جا بسیں
اتنی جگہ کہاں ہے دل داغدار میں

کانٹوں کو مت نکال چمن سے او باغباں
یہ بھی گلوں کے ساتھ پلے ہیں بہار میں

بلبل کو باغباں سے نہ صیاد سے گلہ
قسمت میں قید لکھی تھی فصل بہار میں

کتنا ہے بد نصیب ظفرؔ دفن کے لیے
دو گز زمین بھی نہ ملی کوئے یار میں

شاعر: بہادر شاہ ظفر

ہم پر تمہاری چاہ کا الزام ہی تو ہے دشنام تو نہیں ہے یہ اکرام ہی تو ہے کرتے ہیں جس پہ طعن کوئی جرم تو نہیں شوق فضول و الف...
20/11/2022

ہم پر تمہاری چاہ کا الزام ہی تو ہے
دشنام تو نہیں ہے یہ اکرام ہی تو ہے

کرتے ہیں جس پہ طعن کوئی جرم تو نہیں
شوق فضول و الفت ناکام ہی تو ہے

دل مدعی کے حرف ملامت سے شاد ہے
اے جان جاں یہ حرف ترا نام ہی تو ہے

دل ناامید تو نہیں ناکام ہی تو ہے
لمبی ہے غم کی شام مگر شام ہی تو ہے

دست فلک میں گردش تقدیر تو نہیں
دست فلک میں گردش ایام ہی تو ہے

آخر تو ایک روز کرے گی نظر وفا
وہ یار خوش خصال سر بام ہی تو ہے

بھیگی ہے رات فیضؔ غزل ابتدا کرو
وقت سرود درد کا ہنگام ہی تو ہے

شاعر: فیض احمد فیض

ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں تہی زندگی سے نہیں یہ فضائیں یہاں سیکڑوں کارواں اور بھی ہیں...
09/11/2022

ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں

تہی زندگی سے نہیں یہ فضائیں
یہاں سیکڑوں کارواں اور بھی ہیں

قناعت نہ کر عالم رنگ و بو پر
چمن اور بھی آشیاں اور بھی ہیں

اگر کھو گیا اک نشیمن تو کیا غم
مقامات آہ و فغاں اور بھی ہیں

تو شاہیں ہے پرواز ہے کام تیرا
ترے سامنے آسماں اور بھی ہیں

اسی روز و شب میں الجھ کر نہ رہ جا
کہ تیرے زمان و مکاں اور بھی ہیں

شاعر: علامہ محمداقبال
انتخاب و پیشکش: کاوش

#اردو #اقبال #اردوادب #کاوش

‏حاکم مرے خلاف، سپاہی مرے خلافملتی نہیں ہے پھر بھی گواہی مرے خلافدو چار نام ہوں تو کسی کا میں نام لوںاک سلسلہ ہے لا متنا...
18/06/2022

‏حاکم مرے خلاف، سپاہی مرے خلاف
ملتی نہیں ہے پھر بھی گواہی مرے خلاف

دو چار نام ہوں تو کسی کا میں نام لوں
اک سلسلہ ہے لا متناہی مرے خلاف

ٹوٹا جو قربتوں کا تسلسل تو یہ کھلا
جیسے وہ ایک عمر سے تھا ہی مرے خلاف

کلام: خواجہ رضی حیدر
انتخاب و پیشکش: کاوش

#اردو #اردوشاعری #کاوش

نہ ہارا ہے عشق اور نہ دنیا تھکی ہے دیا جل رہا ہے ہوا چل رہی ہے سکوں ہی سکوں ہے خوشی ہی خوشی ہے ترا غم سلامت مجھے کیا کمی...
10/01/2022

نہ ہارا ہے عشق اور نہ دنیا تھکی ہے
دیا جل رہا ہے ہوا چل رہی ہے

سکوں ہی سکوں ہے خوشی ہی خوشی ہے
ترا غم سلامت مجھے کیا کمی ہے

کھٹک گدگدی کا مزا دے رہی ہے
جسے عشق کہتے ہیں شاید یہی ہے

وہ موجود ہیں اور ان کی کمی ہے
محبت بھی تنہائی دائمی ہے

چراغوں کے بدلے مکاں جل رہے ہیں
نیا ہے زمانہ نئی روشنی ہے

ارے او جفاؤں پہ چپ رہنے والو
خموشی جفاؤں کی تائید بھی ہے

مرے راہبر مجھ کو گمراہ کر دے
سنا ہے کہ منزل قریب آ گئی ہے

خمارؔ بلا نوش تو اور توبہ
تجھے زاہدوں کی نظر لگ گئی ہے

کلام: خمارؔ بارہ بنکوی
انتخاب و پیشکش: کاوش

#اردو #شاعری #کاوش

دشت میں پیاس بجھاتے ہوئے مر جاتے ہیںہم پرندے کہیں جاتے ہوئے مر جاتے ہیںہم ہیں سوکھے ہوئے تالاب پہ بیٹھے ہوئے ہنسجو تعلق ...
29/12/2021

دشت میں پیاس بجھاتے ہوئے مر جاتے ہیں
ہم پرندے کہیں جاتے ہوئے مر جاتے ہیں

ہم ہیں سوکھے ہوئے تالاب پہ بیٹھے ہوئے ہنس
جو تعلق کو نبھاتے ہوئے مر جاتے ہیں

گھر پہنچتا ہے کوئی اور ہمارے جیسا
ہم تیرے شہر سے جاتے ہوئے مر جاتے ہیں

کس طرح لوگ چلے جاتے ہیں اٹھ کر چپ چاپ
ہم تو یہ دھیان میں لاتے ہوئے مر جاتے ہیں

ان کے بھی قتل کا الزام ہمارے سر ہے
جو ہمیں زہر پلاتے ہوئے مر جاتے ہیں

یہ محبت کی کہانی نہیں مرتی لیکن
لوگ کردار نبھاتے ہوئے مر جاتے ہیں

ہم ہیں وہ ٹوٹی ہوئی کشتیوں والے تابشٓ
جو کناروں کو ملاتے ہوئے مر جاتے ہیں

کلام: عباس تابش
انتخاب و پیشکش: کاوش
#اردوشاعری #اردو #کاوش

‏یہ کیا کم ہے مرے منصف کہ ہم شہرِ زلیخا سے پیمبر بھی نہیں تھے اور دامن بھی بچا لائے‎ #نازمظفرآبادی‎   #اردو  #اردوشاعری ...
28/12/2021

‏یہ کیا کم ہے مرے منصف کہ ہم شہرِ زلیخا سے
پیمبر بھی نہیں تھے اور دامن بھی بچا لائے
‎ #نازمظفرآبادی

#اردو #اردوشاعری #کاوش

نہ کسی پہ زخم عیاں کوئی نہ کسی کو فکر رفو کی ہےنہ کرم ہے ہم پہ حبیب کا نہ نگاہ ہم پہ عدو کی ہےصف زاہداں ہے تو بے یقیں صف...
20/11/2021

نہ کسی پہ زخم عیاں کوئی نہ کسی کو فکر رفو کی ہے
نہ کرم ہے ہم پہ حبیب کا نہ نگاہ ہم پہ عدو کی ہے

صف زاہداں ہے تو بے یقیں صف مے کشاں ہے تو بے طلب
نہ وہ صبح ورد و وضو کی ہے نہ وہ شام جام و سبو کی ہے

نہ یہ غم نیا نہ ستم نیا کہ تری جفا کا گلا کریں
یہ نظر تھی پہلے بھی مضطرب یہ کسک تو دل میں کبھو کی ہے

کف باغباں پہ بہار گل کا ہے قرض پہلے سے بیشتر
کہ ہر ایک پھول کے پیرہن میں نمود میرے لہو کی ہے

نہیں خوف روز سیہ ہمیں کہ ہے فیضؔ ظرف نگاہ میں
ابھی گوشہ گیر وہ اک کرن جو لگن اس آئینہ رو کی ہے

کلام: فیض احمد فیضؔ
انتخاب و پیشکش: کاوش

#اردو #فیض #کاوش

کیوں دل شکستہ ہو کیونکر شرمسار ہو تمیار ہمارا فخر ہو بے مثال ہو شاندار ہو تمکلام: زاہد ندیمانتخاب و پیشکش: کاوش         ...
12/11/2021

کیوں دل شکستہ ہو کیونکر شرمسار ہو تم
یار ہمارا فخر ہو بے مثال ہو شاندار ہو تم
کلام: زاہد ندیم
انتخاب و پیشکش: کاوش

#اردو #شاعری #زاہد #ندیم #پاکستان #کرکٹ #کاوش

حسن مہ گرچہ بہ ہنگام کمال اچھا ہےاس سے میرا مہہ خورشید جمال اچھا ہےبوسہ دیتے نہیں اور دل پہ ہے ہر لحظہ نگاہجی میں کہتے ہ...
30/10/2021

حسن مہ گرچہ بہ ہنگام کمال اچھا ہے
اس سے میرا مہہ خورشید جمال اچھا ہے

بوسہ دیتے نہیں اور دل پہ ہے ہر لحظہ نگاہ
جی میں کہتے ہیں کہ مفت آئے تو مال اچھا ہے

اور بازار سے لے آئے اگر ٹوٹ گیا
ساغر جم سے مرا جام سفال اچھا ہے

بے طلب دیں تو مزا اس میں سوا ملتا ہے
وہ گدا جس کو نہ ہو خوئے سوال اچھا ہے

ان کے دیکھے سے جو آ جاتی ہے منہ پر رونق
وہ سمجھتے ہیں کہ بیمار کا حال اچھا ہے

دیکھیے پاتے ہیں عشاق بتوں سے کیا فیض
اک برہمن نے کہا ہے کہ یہ سال اچھا ہے

ہم سخن تیشہ نے فرہاد کو شیریں سے کیا
جس طرح کا کہ کسی میں ہو کمال اچھا ہے

قطرہ دریا میں جو مل جاے تو دریا ہو جائے
کام اچھا ہے وہ جس کا کہ مآل اچھا ہے

خضر سلطاں کو رکھے خالق اکبر سرسبز
شاہ کے باغ میں یہ تازہ نہال اچھا ہے

ہم کو معلوم ہے جنت کی حقیقت لیکن
دل کے خوش رکھنے کو غالبؔ یہ خیال اچھا ہے

کلام : مرزا اسداللہ خاں غالب
انتخاب و ہیشکش: کاوش

#اردوشاعری #غالب #کاوش

Address

Islamabad
44100

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Kawish posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Establishment

Send a message to Kawish:

Share

Category