Adnan Zia's Poetry

Adnan Zia's Poetry Poetry by Adnan Zia

21/09/2025

لہریں بناتی جا رہی ہیں دائرے تالاب میں
کوئی چھپاکا سا ہوا تھا دِیدہء بے خواب میں

کھوجیں گی کچھ دن دُھوپ کی کرنیں شناسا ریت کو
ڈوبا ہوا ہے صحرا کا چہرہ ابھی سیلاب میں

دیکھو وہی نہ پھر سے ہو، لگتا تھا جس کو دیکھ کر
دیکھا ہے منظر یہ کبھی پہلے بھی جیسے خواب میں

کچھ تو مسافر لے گیا زادِ سفر میں باندھ کر
ایسا تو خالی پن نہ تھا پہلے دلِ بےتاب میں

اِک درد جس نے بخش دی ہے مستقل سنجیدگی
اِک سایہ جو ٹھہرا رہے آنکھوں کی آب و تاب میں

پوری سنائیں داستاں یا مصلحت سے کام لیں!۔
کیسے ہٹے گا بارِ دل آخر ادب آداب میں

(عدنان ضیاء)

29/07/2023

کرب و بلا کے پار تھا کُوئے بقا کا راستہ
حُر کے علاوہ لشکری مغرُور ہی بیٹھے رہے

(عدنان ضیاء)

28/07/2023

سِتم کی شَبوں میں چراغوں کا جلنا روایت ہے گرچہ
محرّم کی دَس کو الگ روشنی تھی، یہ صحرا نے دیکھا
(عدنان ضیاء)

22/07/2023

مکاں تو الگ ہے چراغوں سے روشن
دریچے میں لَو دوسری ہے نمایاں
(عدنان ضیاء)

22/07/2023

چلو دیکھتے ہیں کہ اپنوں کے آگے
رہے گا کہاں تک یہ دم خم برابر
(عدنان ضیاء)

22/07/2023

ہجر چلنے کی ہمّت نہیں چھوڑتا
وہ کہیں پاس ہی بیٹھا مل جائے گا
(عدنان ضیاء)

22/07/2023

کاٹ کھانے کو دوڑا ہے گھر بعد میں
کر رہی ہے جدائی اثر بعد میں
(عدنان ضیاء)

22/07/2023

اپنے مکانوں سے خفا رہنے لگے
ہم حبس کے مارے، ہوا کے منتظِر
(عدنان ضیاء)

19/02/2023

توجّہ سے کہاں سنتے تھے ہم باتیں بزرگوں کی
ہلاتے ہیں یہ بچّے بھی یُونہی سر بے دھیانی میں
(عدنان ضیاء)

19/02/2023

شروعاتِ تعلّق سے نہیں دلکش سماں کوئی
دئیے جھلمل سے آنکھوں میں، سجاوٹ سے بھرا لہجہ
(عدنان ضیاء)

19/02/2023

جُدا، بولی مرے آباء کی تھی مُجھ سے
مرے بچّے الگ کوئی زُباں بولیں
(عدنان ضیاء)

19/02/2023

ضروری ہے عدالت کی نظر میں سب برابر ہوں
نہیں کافی کتابوں میں سزاؤں کی فراوانی
(عدنان ضیاء)

Address

Islamabad

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Adnan Zia's Poetry posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Establishment

Send a message to Adnan Zia's Poetry:

Share

Category