21/09/2025
لہریں بناتی جا رہی ہیں دائرے تالاب میں
کوئی چھپاکا سا ہوا تھا دِیدہء بے خواب میں
کھوجیں گی کچھ دن دُھوپ کی کرنیں شناسا ریت کو
ڈوبا ہوا ہے صحرا کا چہرہ ابھی سیلاب میں
دیکھو وہی نہ پھر سے ہو، لگتا تھا جس کو دیکھ کر
دیکھا ہے منظر یہ کبھی پہلے بھی جیسے خواب میں
کچھ تو مسافر لے گیا زادِ سفر میں باندھ کر
ایسا تو خالی پن نہ تھا پہلے دلِ بےتاب میں
اِک درد جس نے بخش دی ہے مستقل سنجیدگی
اِک سایہ جو ٹھہرا رہے آنکھوں کی آب و تاب میں
پوری سنائیں داستاں یا مصلحت سے کام لیں!۔
کیسے ہٹے گا بارِ دل آخر ادب آداب میں
(عدنان ضیاء)