Memory Lanes of Pakistan

Directions

Memory Lanes of Pakistan Welcome to our historical & vintage page. You'll find here reflection of people & places from past.

23/09/2026

دل ہجر کے درد سے بوجھل ہے
ابنِ انشاء کی خوبصورت غزل
کلاسیکی اردو شاعری

21/09/2026

"سیّو نی میرا ماہی میرے بھاگ جگاون آ گیا"
ملکہ ترنم نور جہاں کا انتہائی مقبول پنجابی گیت جو 1971 کی فلم "مستانہ ماہی" میں شامل تھا۔
شاعر: خزین
اسکرین پر اداکار: وحید مراد اور آسیہ

راجہ بازار، راولپنڈیتصویر کی درست تاریخ تو معلوم نہیں ہو سکی لیکن غالباً 1920 کے آس پاس کا دور ممکن ہے۔ڈی سی مہرہ کی تصو...
20/09/2026

راجہ بازار، راولپنڈی
تصویر کی درست تاریخ تو معلوم نہیں ہو سکی لیکن غالباً 1920 کے آس پاس کا دور ممکن ہے۔
ڈی سی مہرہ کی تصویر کشی

The Raja Bazaar (Main Street) of Rawalpindi City
ؑExact period of capture is not known but could be around 1920
by D. C. Mehra & Sons

سعودی فرماں روا شاہ خالد بن عبدالعزیز حجرِ اسود کے نئے چاندی کے حلقے کا معائنہ کرتے ہوئے -  1979حجرِ اسود محض ایک سیاہ پ...
17/09/2026

سعودی فرماں روا شاہ خالد بن عبدالعزیز حجرِ اسود کے نئے چاندی کے حلقے کا معائنہ کرتے ہوئے - 1979

حجرِ اسود محض ایک سیاہ پتھر کی داستان نہیں؛ یہ حضرت ابراہیمؑ کی تعمیر، رسول اللہ ﷺ کی حکمت، خانۂ کعبہ پر برسنے والی منجنیقوں اور اسلامی تاریخ کی ایک نہایت دردناک واردات کا خاموش گواہ ہے۔
اسلامی روایت کے مطابق جب حضرت ابراہیمؑ اور حضرت اسماعیلؑ خانۂ کعبہ تعمیر کررہے تھے تو حضرت جبرائیلؑ حجرِ اسود لے کر آئے اور حضرت ابراہیمؑ نے اسے کعبہ کے مشرقی گوشے میں نصب فرمایا۔ رسول اللہ ﷺ نے اس کی اصل کے متعلق فرمایا:
نَزَلَ الْحَجَرُ الأَسْوَدُ مِنَ الْجَنَّةِ وَهُوَ أَشَدُّ بَيَاضًا مِنَ اللَّبَنِ فَسَوَّدَتْهُ خَطَايَا بَنِي آدَمَ
ترجمہ: حجرِ اسود جنت سے اترا تو دودھ سے بھی زیادہ سفید تھا، پھر بنی آدم کے گناہوں نے اسے سیاہ کردیا۔
یہ حدیث حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے جامع ترمذی، حدیث 877 میں مروی ہے اور امام ترمذی نے اسے حسن صحیح قرار دیا ہے۔

بعثتِ نبوی سے تقریباً پانچ سال پہلے، جب رسول اللہ ﷺ کی عمر مبارک تقریباً 35 برس تھی، قریش نے سیلاب اور عمارت کی کمزوری کے باعث خانۂ کعبہ کو گرا کر دوبارہ تعمیر کیا۔ تعمیر مکمل ہونے لگی تو سب سے بڑا سوال سامنے آیا: **حجرِ اسود کو اس کی جگہ کون نصب کرے گا؟
ہر قبیلہ یہ اعزاز اپنے لیے چاہتا تھا۔ تلخ کلامی بڑھی، تلواریں نکلنے کے قریب پہنچ گئیں اور بعض قبائل نے خون سے بھرے برتن میں ہاتھ ڈال کر آخری دم تک لڑنے کا عہد بھی کرلیا۔
بالآخر طے پایا کہ مسجدِ حرام کے دروازے سے سب سے پہلے داخل ہونے والا شخص فیصلہ کرے گا۔ قدرت کا فیصلہ دیکھیے کہ سب سے پہلے حضرت محمد ﷺ داخل ہوئے۔ انہیں دیکھتے ہی سب پکار اٹھے:
’’یہ امین ہیں، ہم ان کے فیصلے پر راضی ہیں!‘‘
آپ ﷺ نے ایک چادر منگوائی، حجرِ اسود کو اپنے ہاتھوں سے اس کے درمیان رکھا اور ہر بڑے قبیلے کے سردار کو چادر کا ایک کنارہ پکڑنے کا حکم دیا۔ سب نے مل کر اسے اٹھایا؛ جب وہ مطلوبہ بلندی تک پہنچا تو رسول اللہ ﷺ نے اپنے مبارک ہاتھوں سے اسے کعبہ کی دیوار میں نصب کردیا۔
یوں جس پتھر پر خون بہنے والا تھا، وہی پتھر رسول اللہ ﷺ کی حکمت سے قبائل کے درمیان اتحاد کی علامت بن گیا۔

سنہ 64 ہجری/683ء میں حضرت عبداللہ بن زبیرؓ مکہ میں موجود تھے اور یزید بن معاویہ کی طرف سے حصین بن نمیر کی فوج نے شہر کا محاصرہ کررکھا تھا۔ مکہ پر منجنیقوں سے پتھر برسائے جارہے تھے۔ اسی دوران خانۂ کعبہ کے گرد موجود لکڑی کے حفاظتی ڈھانچے اور غلاف میں آگ لگ گئی۔
شدید حرارت اور ہنگامے کے نتیجے میں حجرِ اسود چٹخ کر تین حصوں میں تقسیم ہوگیا۔ بعض مؤرخین کے مطابق اسے منجنیق کا پتھر لگا، جبکہ بعض قدیم روایات آگ لگنے کی وجہ حضرت عبداللہ بن زبیرؓ کے ایک ساتھی کی مشعل بتاتی ہیں جو ہوا سے اڑ کر غلافِ کعبہ پر جاگری تھی۔تاہم اصل پس منظر محاصرہ اور جنگ ہی تھے۔
حضرت عبداللہ بن زبیرؓ نے کعبہ دوبارہ تعمیر کرایا، حجرِ اسود کے ٹکڑوں کو جمع کیا اور پہلی مرتبہ انہیں چاندی کے مضبوط حلقے میں جڑوا کر دوبارہ نصب کردیا۔

سنہ 317 ہجری/930ء میں حج جاری تھا۔ آٹھ ذوالحجہ، یعنی یوم الترویہ کے موقع پر، قرامطہ کے سردار ابو طاہر سلیمان الجنابی نے اپنے مسلح ساتھیوں کے ساتھ مکہ پر حملہ کردیا۔
قرامطہ مشرقی عرب میں قائم ایک مسلح اور انقلابی مذہبی گروہ تھا جو عباسی خلافت کا شدید مخالف تھا۔ حملہ آوروں نے حرم کی حرمت پامال کی، حاجیوں کو قتل کیا، کعبہ کا دروازہ اور قیمتی اشیاء اتاریں، پھر لوہے کے اوزاروں سے حجرِ اسود کو ضربیں مار کر اس کی جگہ سے اکھاڑ لیا۔ اس پُرتشدد انداز سے نکالے جانے کے دوران اس میں مزید دراڑیں پڑیں اور اس کے کئی ٹکڑے ہوگئے۔
وہ اسے مکہ سے اپنے دارالحکومت ہَجَر، موجودہ الاحساء لے گئے۔ اس کارروائی کا مقصد محض قیمتی پتھر حاصل کرنا نہیں تھا۔ قرامطہ حج اور خانۂ کعبہ کی مرکزیت کو چیلنج، اسلامی دنیا کو خوف زدہ اور عباسی خلافت کی بے بسی ظاہر کرنا چاہتے تھے۔ ایک معتبر علمی تحقیق کے مطابق حجرِ اسود لے جانا ان کے نزدیک پرانے مذہبی دور کے خاتمے کی علامت بھی ہوسکتا تھا۔
مگر حجرِ اسود کے بغیر بھی مسلمان طواف کرتے رہے۔ وہ اس خالی مقام کے سامنے پہنچتے تو اسی طرف اشارہ کرکے اللہ اکبر کہتے۔ طاقت کے زور پر پتھر تو لے جایا گیا، لیکن مسلمانوں کے دلوں سے خانۂ کعبہ کی محبت نہ نکالی جاسکی۔

ابو طاہر قرمطی نے عباسیوں اور فاطمیوں کے مطالبات کے باوجود حجرِ اسود واپس نہ کیا۔ تاریخی روایات کے مطابق ایک موقع پر اسے واپس لینے کے لیے 50 ہزار دینار تک پیش کیے گئے، مگر قرامطہ نے انکار کردیا۔
ابو طاہر کی وفات کے بعد حالات تبدیل ہوئے۔ سنہ 339 ہجری/951ء میں، پورے بائیس سال بعد، قرامطہ نے حجرِ اسود واپس کرنے کا فیصلہ کیا۔ پہلے اسے کوفہ لایا گیا اور جامع مسجد کے ایک ستون پر رکھا گیا تاکہ لوگ اسے دیکھ سکیں۔ پھر اسے مکہ روانہ کردیا گیا۔ قرامطہ کا دعویٰ تھا:
’’ہم اسے ایک حکم سے لے گئے تھے اور ایک حکم ہی سے واپس لائے ہیں۔‘‘
رقم کی ادائیگی کے بارے میں مؤرخین متفق نہیں۔ ابن اثیر کی روایت کے مطابق قرامطہ نے پہلے پیش کی گئی رقم قبول نہیں کی اور بالآخر اسے بغیر معاوضے کے واپس کیا، جبکہ بعض جدید تحقیقات عباسی حکومت کی طرف سے بڑی رقم کی ادائیگی کا ذکر کرتی ہیں۔

مشہور روایت کے مطابق سنبر بن حسن نامی قرمطی نمائندہ حجرِ اسود کو ایک صندوق میں رکھ کر مکہ لایا۔ اس پر چاندی کی پٹیاں لگی ہوئی تھیں جو اکھاڑے جانے کے دوران پیدا ہونے والی دراڑوں کو تھامے ہوئے تھیں۔ سنبر نے اسے کعبہ کے گوشے میں رکھا اور ایک ماہر کاریگر نے مخصوص گارے سے اسے مضبوطی سے جما دیا۔ بعد میں آلِ شیبہ نے اسے مزید محفوظ کرکے اس کے گرد نیا چاندی کا حلقہ نصب کیا۔

آج حجرِ اسود ایک مکمل سالم پتھر کی صورت میں نظر نہیں آتا۔ اس کے آٹھ چھوٹے نمایاں ٹکڑے خوشبودار سیاہی مائل مادے میں جڑے ہوئے ہیں اور ان کے گرد خالص چاندی کا بیضوی حلقہ ہے، جبکہ اس کا باقی حصہ دیوارِ کعبہ کے اندر محفوظ ہے۔

صدیاں گزر گئیں۔ اسے آگ نے جھلسایا، منجنیقوں نے کعبہ کو لرزایا، حملہ آوروں نے اسے توڑا اور بائیس برس تک مکہ سے دور رکھا، مگر بالآخر حجرِ اسود پھر اسی مقام پر لوٹ آیا جہاں حضرت ابراہیمؑ نے اسے نصب کیا تھا۔
اور حضرت عمرؓ کے تاریخی الفاظ آج بھی اس کی عقیدتی حقیقت واضح کرتے ہیں:
’’میں جانتا ہوں کہ تو صرف ایک پتھر ہے، نہ نقصان پہنچا سکتا ہے نہ فائدہ؛ اگر میں نے رسول اللہ ﷺ کو تجھے چومتے نہ دیکھا ہوتا تو میں تجھے کبھی نہ چومتا۔‘‘
یعنی مسلمان حجرِ اسود کی عبادت نہیں کرتے؛ اسے صرف اس لیے بوسہ دیتے ہیں کہ یہ رسول اللہ ﷺ کی سنت اور حضرت ابراہیمؑ کی تعمیر کی ایک زندہ نشانی ہے۔

ماضی کے راولپنڈی صدر چلیئےمشہورِ عام احمد دین بلڈنگ کی ایک انتہائی نایاب تصویر - 1920A walk into memory lanes of Saddar ...
17/09/2026

ماضی کے راولپنڈی صدر چلیئے
مشہورِ عام احمد دین بلڈنگ کی ایک انتہائی نایاب تصویر - 1920

A walk into memory lanes of Saddar Rawalpindi
A very rare picture of famous Ahmed Din Building - ca 1928

بسوں کا اڈہ، مری - 1928The Motor Stand, Murree Hill - 1928
15/09/2026

بسوں کا اڈہ، مری - 1928

The Motor Stand, Murree Hill - 1928

لیاقت علی خانؒ کے آخری لمحات — ایک عینی شاہد کی زبانیشریف المجاہد نے اپنی کتاب ’’اِن کویسٹ آف جناح: ڈائری، نوٹس اینڈ کرس...
15/09/2026

لیاقت علی خانؒ کے آخری لمحات — ایک عینی شاہد کی زبانی

شریف المجاہد نے اپنی کتاب ’’اِن کویسٹ آف جناح: ڈائری، نوٹس اینڈ کرسپونڈنس آف ہیکٹر بولیتھو‘‘ کے صفحات 51 اور 52 پر قائداعظمؒ کے پہلے سوانح نگار ہیکٹر بولیتھو کی کئی غیر مطبوعہ تحریریں یکجا کی ہیں۔ ان میں 11 اپریل 1952ء کی تاریخ سے یہ اقتباس بھی شامل ہے:

’’جیمز ہارڈی، اسسٹنٹ ڈسٹرکٹ کمشنر پولیس، کے ہمراہ لیاقت گارڈنز راولپنڈی کا دورہ کیا۔ وہ اس وقت موقع پر موجود تھے جب لیاقت علی خان کو راولپنڈی میں قتل کیا گیا۔
ہارڈی نے اس منظر کو یوں بیان کیا:
ہم زمین کے ایک کھلے اور ویران سے قطعے کی طرف گئے، جہاں چند سوکھے سے درخت اور ٹین کے ڈبوں میں لگے پھول دار پودے موجود تھے۔ اس جگہ کو اب ’لیاقت گارڈنز‘ کہا جاتا ہے۔
ہارڈی نے بتایا کہ لیاقت علی خان کی تقریر سننے کے لیے تقریباً پچاس ہزار افراد وہاں جمع تھے، جبکہ پولیس کے تین سو اہلکار تعینات تھے۔ لیاقت علی خان پچاس مسلمان محافظوں کے تھامے ہوئے نیزوں کی محراب کے نیچے سے گزرتے ہوئے سٹیج کی طرف بڑھے۔
اپنی ہی ہدایت پر وہ سٹیج پر اکیلے بیٹھے تھے، جبکہ ان کے ملٹری [پولیٹیکل] سیکرٹری ان کے پیچھے موجود تھے۔ انہیں کوئی اہم اعلان کرنا تھا، جس کا غالباً تعلق کشمیر سے تھا۔
استقبالیہ خطبہ پڑھا گیا اور پھر انہیں پیش کر دیا گیا۔ اسے ان کے سامنے میز پر رکھ دیا گیا۔ اس کے بعد مسلم لیگ کی مقامی شاخ کے صدر سٹیج پر آئے اور اعلان کیا کہ اب لیاقت علی خان اجتماع سے خطاب کریں گے۔ مجمعے نے پُرجوش نعرے لگائے اور صدر دوبارہ سٹیج سے نیچے اتر گئے۔
ہارڈی نے بتایا:
’’لیاقت علی خان کھڑے ہوئے اور تین قدم آگے بڑھے۔ انہوں نے اردو میں صرف اتنا ہی کہا تھا، ’برادرانِ ملت!‘ کہ دو گولیاں چلنے کی آواز آئی۔ وہ گرتے ہوئے تقریر کا اسٹینڈ بھی اپنے ساتھ کھینچ لائے۔ ہر طرف افراتفری مچ گئی۔
میں زمین کی سطح پر بیٹھا ہوا تھا۔ جیسے ہی اچھل کر سٹیج پر پہنچا، ایک اور گولی چلی۔ میں گھٹنوں کے بل ان کے قریب جھک گیا اور پوچھا، ’آپ کو کہاں چوٹ لگی ہے؟‘
انہوں نے جواب دیا، ’مجھے کمر میں بائیں طرف درد محسوس ہو رہا ہے۔‘
میں نے کہا، ’کیا آپ پانی پینا چاہیں گے؟ میں ڈاکٹر کو بلاتا ہوں۔‘
اسی دوران پولیس کی طرف سے گولیوں کی ایک اور بوچھاڑ ہوئی، جو کسی واضح سمت کے بغیر اندھا دھند چلائی گئی تھی۔ میں اپنے ہاتھوں کے سہارے جھک کر لیاقت علی خان کے جسم کو ڈھانپنے کی کوشش کرنے لگا۔ میں انہیں کلمہ پڑھتے ہوئے سن سکتا تھا۔ میں نے ان کے کوٹ کے بٹن کھولنے شروع کیے اور چوتھے بٹن تک پہنچتے پہنچتے مجھے خون دکھائی دیا۔
صادق علی خان، جو ان کے ملٹری [پولیٹیکل] سیکرٹری تھے، نے لیاقت علی خان کو گرتے ہوئے تھام لیا۔ ایک ڈاکٹر وہاں پہنچ گیا اور میں گاڑی یا ایمبولینس تلاش کرنے کے لیے ہجوم میں سے راستہ بناتا ہوا باہر نکلا۔
لیاقت علی خان بے ہوش ہو چکے تھے۔ ان کی آنکھوں کی پتلیاں اوپر چڑھ گئی تھیں اور منہ کھلا رہ گیا تھا۔
چھوٹے قد اور گوری رنگت والے افغان شخص نے، جس نے اعشاریہ 38 بور کے پستول سے گولیاں چلائی تھیں، بے قابو ہجوم کے ہاتھوں شدید تشدد کا سامنا کیا۔ لوگوں نے بھاری ڈنڈوں سے اسے بری طرح مارا، جس سے اس کی پسلیاں ٹوٹ گئیں۔ اس کے جسم پر نیزوں کے زخم اور ریوالور کی چار گولیوں کے نشان بھی موجود تھے۔
لیاقت گارڈنز سے میں براڈکاسٹنگ اسٹوڈیو گیا۔ سٹیج پر آواز ریکارڈ کرنے والی مشین اور مائیکروفون نصب تھا۔ غالباً لیاقت علی خان گرتے ہوئے مائیکروفون بھی اپنے ساتھ کھینچ لائے تھے۔
اسٹوڈیو میں مجھے وہ دردناک ریکارڈنگ سنائی گئی: گولیوں کی آوازیں، لوگوں کی آہ و بکا، ایک آخری سی ہچکی اور پھر بہت مدھم آواز میں پڑھی جانے والی دعا…‘‘

مکہ میں عظیم حرمِ پاک کی تصویر - 1907ءعکاس: ایچ اے مرزا اینڈ سنز، چاندنی چوک دہلیPicture of the Sanctuary of Mecca the G...
15/09/2026

مکہ میں عظیم حرمِ پاک کی تصویر - 1907ء
عکاس: ایچ اے مرزا اینڈ سنز، چاندنی چوک دہلی

Picture of the Sanctuary of Mecca the Great' - 1907
Photographer: H. A. Mirza & Sons

06/09/2026

راولپنڈی - چالیس سال قبل
1987 کے راجہ بازار کے مناظر
مٹر ڈیڑھ روپیا کلو، آلو ایک روپے کلو

Address

Islamabad

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Memory Lanes of Pakistan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share