22/08/2026
کل حاصل بزنجو صاحب کی برسی تھی ۔
عمران خان دور کے ۔ تین واقعات مجھے نہیں بھولتے ۔۔۔
جن میں سے اک ۔ ۔ چونسٹھ سنیٹر رکھنے والی اپوزیشن کا چھتیس سنیٹر رکھنے والی حکومت سے ہار جانا ہے ۔ ۔ ۔ ۔
حاصل بزنجو ۔ ۔ ۔ اپوزیشن کے امیدوار تھے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ان کی کنفرم جیت ہار میں بدلی ۔۔۔رزلٹ اناونس ہونے کے بعد جب ان سے سوال۔ ہوا ۔
کہ ان کو کس نے ہرایا ہے ۔ ۔ ۔
تو بہت ہی پیارے ۔۔بہت ہی دلیر ۔ حاصل بزنجو بس دو لفظ کہے ۔۔۔
فیض حمید نے ۔۔۔
پر یقین کیجیے ۔۔۔۔۔ان کے ان دو تین لفظوں میں جو درد تھا ۔ ۔ وہ کوئی درد دل ہی محسوس کر سکتا تھا ۔ ۔۔
بزنجو ذیادہ دیر نہ جی سکے ۔ ۔ اور دو ہزار بیس میں انتقال کر گئے
کل اسی وقت ۔ ملک بھر میں عمران خان کی اسپتال منتقلی ۔ کی خبریں چل رہی تھیں ۔۔۔اور مجھے ۔ ۔ ۔ ۔ صاحب ۔ ۔ ۔ بتا رہے تھے ۔۔۔۔۔تم یہ نہ دیکھو ۔۔وہ کس اسپتال میں کیسے جا رہا ہے ۔۔۔
بلکہ یہ دیکھو ۔۔۔ہو کیا رہا ہے ۔ ۔ تو تمہیں اک نئی چیز پتہ چلے گئی ۔۔۔
اور پھر اس تمام وقت میں ۔ کبھی فرعون کی بے بسی پہ مجھے حاصل بزنجو بہت یاد آئے ۔ ۔۔۔
کاش وہ زندہ ہوتے تو اپنی آنکھوں سے دیکھتے ۔ ۔ ۔
جو ان کے وقت فرعون بنا پھرتا تھا ۔
اس وقت اس کی بے بسی کی حالت یہ ہے ۔۔۔
کہ وہ اپنے چیک اپ کے لیے بھی ایڑیاں رگڑ رہا ہے ۔ ۔۔اس کی پارٹی ۔اس کے ورکر ۔ لکھ کر دینے کو تیار ہیں ۔اس کی فیملی لکھ کر دے چکی ہے ۔
کہ من پسند اسپتال میں علاج کراو ۔۔۔۔ہم کبھی میڈیا پر اس کا نام تک نہیں لیں گئے ۔۔۔۔
اور ۔۔اس سب کے باوجود ۔۔۔حکومتی حلقوں میں اسے ریلیف دینے کا کوئی پلان نہیں ۔۔
حکومتی حلقوں میں اک ہی پالیسی ہے ۔
یہ جو تیس مار خان بنے پھرتے ہیں ۔۔۔۔ان کو اس حد تک لایا جائے کہ یہ رو رو کے ایڑیاں رگڑ رگڑ کر اپنے لیڈر کے لیے ریلیف مانگیں ۔۔۔اور انہیں ملے کچھ بھی نہیں ۔۔۔
تاکہ فوج کی گود میں بیٹھ ۔ بزنجو جیسے حقیقی سیاستدانوں کو ہرانے والوں کو پتہ تو چلے ۔۔
سیاستدان سے پنگا لینے کا انجام کیا ہو تا ہے ۔ ۔
اللہ کریم آپ کے درجات بلند فرمائے ۔۔
آمین
طاہر محمود ریاض ۔