09/05/2026
ایک وقت اور زمانہ وہ بھی تھا جب وکٹ جیسی بھی ہے وہ سپن ہو یا فاسٹ گھاس والی وکٹ ہو یا بالکل فلیٹ وکٹ ہو دنیا کے سارے بیٹسمین پاکستانی فاسٹ بولر سے ڈرتے تھے کیونکہ پاکستان کو فاسٹ بولروں کی زمین کہا جاتا تھا چائے عمران خان ہو وسیم اکرم ہو وقار یونس شعیب اختر محمد زاہد محمد سمی یا اس طرح کے کئی ایسے فاسٹ بولر پاکستان کی دھرتییں پیدا کیے ہیں جنہوں نے دنیا میں اپنے تیز پیر سے ایک اعلی مقام بنایا اور ملک اور قوم کا نام روشن کیا اور اب اگر اپ دیکھیں تو ہمارے ایک فاسٹ بولروں کا معیار یہ ہے کہ بنگلہ دیش کے فاسٹ بولروں کی ایوریج سپیڈ بلکہ دنیا کے الموسٹ زمبابوے کے فاسٹ بولر بھی ہمارے پریمیم نام نہاد فاسٹ بولروں سے زیادہ تیز بالنگ کرتے ہیں ہمارا کرکٹ کارڈ ڈومیسٹک سٹرکچر ہو یا اپ نے پی ایس ایل ہی دیکھا ہو کوئی بھی تیز اور اچھا فاسٹ بولر ابھر کر سامنے نہیں ایا کوئی ایسا بولر سامنے نہیں ہے جو 140 یا 150 پہ بال کرتا ہو اور سمجھ نہیں ارہی کہ بنگلہ دیش کا ٹور تھا جہاں نئے بولروں کو موقع دیتے وہاں پھر یہی گھسا پٹا تجربہ شاہین شاہ افریدی حسن علی اور عباس افریدی کو ان وکٹس پہ کھلانے کی کیا ضرورت ہے جن کی ٹیم میں جگہ ہی نہیں بنتی ان کو اپ نے پریمیم فاسٹ بولر صاحب اور باقی سارے فاسٹ بولر جو ٹیم میں رکھے ہوئے ہیں ان کا کوئی فائدہ ہی نہیں Undoubtedly, Mohammad Abbas has bowled well and has also promoted five players, but how many more years can Mohammad Abbas play for Pakistan at his age? Should young players not have been given a chance in such a tour, there are many such questions, this is the reason why we and our cricket have lagged behind all the countries in the world, be it Bangladesh, Zimbabwe or any other country. In this matter, the whole world is producing good fast bowlers, while the quality of our fast bowling, which was the best in the world, is declining. اپ لوگ اس بارے میں کیا کہتے ہیں کمنٹس میں ضرور بتائیں