15/02/2026
پاکستانی کرکٹ ٹیم نے جو کھیل پیش کیا،اس میں حیران ہونے والی کوئی بات نہیں ہے۔یہ ٹیم اسی معیار کی ہی کرکٹ کھیلتی آ رہی ہے لگاتار۔لیکن اس کے باوجود انڈیا سے میچ ہارنے کے بعد لوگ یوں حیران و پریشان ہو جاتے ہیں،جیسے پچھلے دس سال سے چیمپین تھے اور اب اچانک اندھے کنویں میں اوندھے منہ گِرے ہیں۔اس رویے کی وجوہات کافی ساری ہیں۔جن میں سے ایک ہمارے لوگوں کی Short memory،دوسری کرکٹ سینس کا نہ ہونا اور تیسرا دشمنی کی آگ میں جذبات کا ایندھن بننا ہے۔اس کی تازہ مثال دو ہزار پچیس کی چیمپینز ٹرافی کی ذلالت ہے۔جب سب نے کہہ دیا کہ اجی اس ٹیم کو اب طلاق ہے۔یہ کسی جوگے نہیں ہیں۔ہمیں اِن سے کوئی امید نہیں ہے۔یہی دعوی بالرتیب دو ہزار تئیس اور چوبیس میں بھی کیا گیا تھا۔پھر ایسا کیا ہوتا ہے کہ یہ لوگ دوبارہ توقعات پال لیتے ہیں؟اب یہاں یادداشت کی کمزوری کے ساتھ دوسرا عنصر یعنی کرکٹ سینس کی کمی اپنا کردار ادا کرتی ہے۔وہ یوں کہ دو ہزار انیس کے بعد سے ٹیمز نے وائٹ بال کرکٹ کی بائے لیٹرل سیریز میں پوری طاقت آزمانا چھوڑ دی ہے۔خاص کر پاکستان کے سامنے تو کم ہی فُل اسٹرینجتھ ٹیمز کھیلتی ہیں۔سارے تجربے انہیں سیریز میں کیے جاتے ہیں۔اس ماحول میں پاکستانی کھلاڑیوں کا Skill set ٹیسٹ ہی نہیں ہوتا۔اچانک سبھی کھلاڑیوں کے اعداد و شمار بہتر ہو جاتے ہیں اِکا دُکا کو چھوڑ کے،فینز کو لگتا ہے کہ اب اُن کی ٹیم بہتری کی طرف گامزن ہے۔کرکٹ سینس کی کمی کہیے،سطحی پن کہیے یا شخصیات کو پُوجنے کا مرض،کہ کسی کی ایک ہیٹرک،کسی کی ایک ففٹی،کسی کے کسی بڑے باولر کو لگائے گئے فقط دو چھکے کافی ہوتے ہیں پُرانے گُناہ دُھلوانے کے لیے۔جب یہ گناہ دُھل چُکے ہوتے ہیں تو ٹورنامنٹ آ جاتا ہے اور انڈیا کے میچ سے پہلے ہی میڈیا ہائپ بنانا شروع کر دیتا ہے۔فینز منہ سے آگ اُگلنا شروع کر دیتے ہیں اور باقاعدہ نفرت کے اظہار کے لیے میلہ سجا دیا جاتا ہے۔اب مائنڈ سیٹ اور Skill set سے اپاہج پاکستانی کھلاڑی جب نفرت کے اتنے بڑے میچ میں کھیلتا ہے تو دھوتی کُھل جاتی ہے۔عوام وقتی طور پر گالیاں دیتی ہے۔اور پھر سے وہی سائیکل ریپیٹ کرتی ہے۔
کھلاڑیوں کو گالیاں دینے سے بلڈپریشر تو شاید کنٹرول ہو جائے مگر مسلہ جُوں کا تُوں رہتا ہے۔کیوں کہ مرض صرف یہ کھلاڑی نہیں جن کا چہرہ ٹی وی پر نظر آتا ہے۔اصل مریض اِس مُلک کے کَرتا دَھرتا اور اس کرکٹ بورڈ کو چلانے والے ہیں۔
وسیم واصل