24/05/2026
اتوار بازار میں انسانیت کا ایک تلخ امتحان
آج حیات آباد کے اتوار بازار میں ایک چھوٹی سی بچی کو دیکھا جو ماسک فروخت کر رہی تھی، جبکہ اُس کا ننھا بھائی ساتھ میں شاپر اُٹھائے کھڑا تھا۔ دونوں کی معصومیت، خاموشی اور محنت دیکھ کر دل بھر آیا۔ مگر اس سے بھی زیادہ افسوس اُس وقت ہوا جب معلوم ہوا کہ کسی شخص نے اُن سے ٹوٹے ہوئے پیسوں کے بدلے 500 روپے کا ایک ایسا نوٹ دے دیا جو درمیان سے مکمل پھٹا ہوا تھا، ٹیپ کے ساتھ جوڑا گیا تھا، اور دونوں طرف کے نمبر بھی مختلف تھے۔
سوچنے کی بات یہ ہے کہ آخر کوئی انسان اتنے چھوٹے اور مجبور بچوں کے ساتھ بھی دھوکہ دہی کیسے کر سکتا ہے؟ یہ صرف ایک خراب نوٹ نہیں تھا، بلکہ انسانیت، ضمیر اور اخلاقیات کی شکست تھی۔ وہ بچے شاید اتنے چھوٹے تھے کہ انہیں اصلی اور جعلی یا قابلِ استعمال اور ناقابلِ استعمال نوٹ کا فرق بھی معلوم نہ ہو۔
افسوس اس معاشرے پر ہوتا ہے جہاں جس کا جتنا زور چلتا ہے، وہ اپنے سے کمزور انسان کا اتنا ہی زیادہ استحصال کرتا ہے۔ کہیں غریب مزدور لُٹ رہا ہے، کہیں یتیم بچہ، کہیں ریڑھی والا، اور کہیں محنت سے دو وقت کی روٹی کمانے والے ننھے بچے۔
ان بچوں کے چہروں پر موجود معصومیت شاید جلد بھلا دی جائے، مگر ایسے واقعات انسان کو اندر سے ہلا دیتے ہیں۔ معاشرے زندہ ضمیروں سے بنتے ہیں، کمزوروں کو دھوکہ دینے والوں سے نہیں۔