14/07/2020
کم ازکم تین عشروں سے یہی بتایا جا رہا ہے کہ یہ کائنات صرف مسلمانوں کے لیے بنی ہے اور اس کی تمام نعمتوں پر پہلا حق انھی کا ہے۔باقی سب ہیچ یا ہیچمداں ہیں۔جب میں نے تین برس پہلے ایم اے کے بچوں کو رواداری کے باب میں بتانے کی کوشش کی کہ جب اسلام مستحکم ہونے لگا تو رسول اکرم کے پاس عرب کے کونے کونے سے طرح طرح کے وفود آنے لگے تاکہ مکہ اور پھر مدینہ سے اٹھنے والی نئی انقلابی تحریک (اسلام) کے بارے میں اپنے تجسس کی تسکین کر سکیں۔
ایک بار نجران سے عیسائیوں کا وفد آیا۔رسول اللہ نے ان کا استقبال کیا۔اور جب تک وہ مدینہ میں قیام پذیر رہے۔مثالی مہمان نوازی کے تقاضے نبھاتے ہوئے کمال کشادہ دلی کے ساتھ مسجدِ نبوی کے ایک گوشے میں انھیں عبادت کی اجازت بھی دی۔
کتنی بار علما کے منہ سے ایسے واقعات سننے کو ملتے ہیں کہ جب خلیفہِ راشد دوم حضرت عمر ابنِ خطاب کی افواج نے بازنطینیوں سے یروشلم چھین لیا تو اس کے بعد آپ اس حالت میں شہر میں داخل ہوئے کہ اونٹ پر غلام بیٹھا تھا اور آپ نے مہار پکڑی ہوئی تھی۔عیسائی راہبوں نے آپ کا استقبال کیا۔ نماز کا وقت ہوا تو پیش کش کے باوجود گرجے کے اندر داخل نہیں ہوئے بلکہ سیڑھیوں پر نماز پڑھی تاکہ دیکھنے والوں اور آیندہ کے مسلمانوں کو تعلیم ہو کہ غیر مسلم عبادت گاہوں کی بھی اتنی ہی حرمت ہے جتنی کسی مسجد کی۔
ایک روایت ہے کہ راستے میں حضرت عمر کی نظر پتھروں کے ایک ڈھیر پر پڑی جو کسی عمارت کے کھنڈرات کا حصہ معلوم ہوتے تھے۔آپ کو بتایا گیا کہ پانچ سو برس سے یہودیوں کو یروشلم شہر میں عبادت کی اجازت نہیں ہے اور یہ کھنڈر یہودی معبد کا ہے۔آپ پر جانے کیا کیفیت طاری ہوئی کہ روتے جاتے اور گرد میں اٹے پتھر ہٹاتے جاتے۔آپ نے حکم دیاکہ اس معبد کو استوار کیا جائے اور مزید حکم دیاکہ یہودیوں کی عبادت پر عائد پابندی ہٹائی جاتی ہے۔
یہ واقعہ سن کر طلبا کے منہ کھلے رہ گئے۔گویا ایسا کیسے ممکن ہے۔ان بچوں کا بھی کیا قصور۔انھوں نے تو کسی بریلوی مسجد میں کسی دیوبندی یا کسی دیوبندی مسجد میں کسی شیعہ کو گھستے نہیں دیکھا چے جائیکہ کسی غیر مسلم کو مسجد میں دیکھنے کا تصور کر سکیں۔
مجھے ان بچوں کی حیرت پر یوں حیرت نہیں کہ انھیں گھر میں یا مسجد کے منبر یا دینی اجتماعات کے اسٹیج سے چند مخصوص واقعات کے سوا ایسے واقعات بتائے کب جاتے ہیں جن سے دیگر مذاہب کے پیرو کاروں سے حسن ِ سلوک، انھیں برابری کا درجہ دینے اور اپنے جیسا ہی انسان سمجھنے کی بابت نئی نسل کی تربیت ہو سکے اور ان کے ازہان کھل سکیں۔
وسعت اللہ خان