Creator

Creator Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Creator, Art, Hazro.

14/07/2020

کم ازکم تین عشروں سے یہی بتایا جا رہا ہے کہ یہ کائنات صرف مسلمانوں کے لیے بنی ہے اور اس کی تمام نعمتوں پر پہلا حق انھی کا ہے۔باقی سب ہیچ یا ہیچمداں ہیں۔جب میں نے تین برس پہلے ایم اے کے بچوں کو رواداری کے باب میں بتانے کی کوشش کی کہ جب اسلام مستحکم ہونے لگا تو رسول اکرم کے پاس عرب کے کونے کونے سے طرح طرح کے وفود آنے لگے تاکہ مکہ اور پھر مدینہ سے اٹھنے والی نئی انقلابی تحریک (اسلام) کے بارے میں اپنے تجسس کی تسکین کر سکیں۔

ایک بار نجران سے عیسائیوں کا وفد آیا۔رسول اللہ نے ان کا استقبال کیا۔اور جب تک وہ مدینہ میں قیام پذیر رہے۔مثالی مہمان نوازی کے تقاضے نبھاتے ہوئے کمال کشادہ دلی کے ساتھ مسجدِ نبوی کے ایک گوشے میں انھیں عبادت کی اجازت بھی دی۔

کتنی بار علما کے منہ سے ایسے واقعات سننے کو ملتے ہیں کہ جب خلیفہِ راشد دوم حضرت عمر ابنِ خطاب کی افواج نے بازنطینیوں سے یروشلم چھین لیا تو اس کے بعد آپ اس حالت میں شہر میں داخل ہوئے کہ اونٹ پر غلام بیٹھا تھا اور آپ نے مہار پکڑی ہوئی تھی۔عیسائی راہبوں نے آپ کا استقبال کیا۔ نماز کا وقت ہوا تو پیش کش کے باوجود گرجے کے اندر داخل نہیں ہوئے بلکہ سیڑھیوں پر نماز پڑھی تاکہ دیکھنے والوں اور آیندہ کے مسلمانوں کو تعلیم ہو کہ غیر مسلم عبادت گاہوں کی بھی اتنی ہی حرمت ہے جتنی کسی مسجد کی۔

ایک روایت ہے کہ راستے میں حضرت عمر کی نظر پتھروں کے ایک ڈھیر پر پڑی جو کسی عمارت کے کھنڈرات کا حصہ معلوم ہوتے تھے۔آپ کو بتایا گیا کہ پانچ سو برس سے یہودیوں کو یروشلم شہر میں عبادت کی اجازت نہیں ہے اور یہ کھنڈر یہودی معبد کا ہے۔آپ پر جانے کیا کیفیت طاری ہوئی کہ روتے جاتے اور گرد میں اٹے پتھر ہٹاتے جاتے۔آپ نے حکم دیاکہ اس معبد کو استوار کیا جائے اور مزید حکم دیاکہ یہودیوں کی عبادت پر عائد پابندی ہٹائی جاتی ہے۔

یہ واقعہ سن کر طلبا کے منہ کھلے رہ گئے۔گویا ایسا کیسے ممکن ہے۔ان بچوں کا بھی کیا قصور۔انھوں نے تو کسی بریلوی مسجد میں کسی دیوبندی یا کسی دیوبندی مسجد میں کسی شیعہ کو گھستے نہیں دیکھا چے جائیکہ کسی غیر مسلم کو مسجد میں دیکھنے کا تصور کر سکیں۔

مجھے ان بچوں کی حیرت پر یوں حیرت نہیں کہ انھیں گھر میں یا مسجد کے منبر یا دینی اجتماعات کے اسٹیج سے چند مخصوص واقعات کے سوا ایسے واقعات بتائے کب جاتے ہیں جن سے دیگر مذاہب کے پیرو کاروں سے حسن ِ سلوک، انھیں برابری کا درجہ دینے اور اپنے جیسا ہی انسان سمجھنے کی بابت نئی نسل کی تربیت ہو سکے اور ان کے ازہان کھل سکیں۔

وسعت اللہ خان

دل کی سرجری: ڈاکٹروں نے دھڑکتے دل کا آپریشن کرنا کیسے سیکھادو ستمبر 1952۔ یہ امریکہ کی ریاست مینیسوٹا کا یونیورسٹی ہاسپٹ...
11/07/2020

دل کی سرجری: ڈاکٹروں نے دھڑکتے دل کا آپریشن کرنا کیسے سیکھا

دو ستمبر 1952۔ یہ امریکہ کی ریاست مینیسوٹا کا یونیورسٹی ہاسپٹل مینی ایپولس ہے۔ ایک کمزور اور دبلی پتلی پانچ سالہ لڑکی جیکلین جانسن کو ویل چیئر پر آپریشن تھیٹر میں لایا جاتا ہے۔

اس کے دل میں سوراخ ہے اور ان کے والدین کو بتا دیا گیا ہے کہ ان کی بیٹی کے پاس جینے کے لیے صرف چند ماہ ہیں۔

جیکلین کے والدین اس کے علاج کے لیے ایک تجرباتی سرجری پر راضی ہوگئے ہیں اور انھیں معلوم ہے کہ جیکلین شاید آپریشن تھیٹر سے زندہ واپس نہ آئیں۔

بچی کو سُلا کر سرجیکل ٹیم نے انھیں بحفاظت کمبلوں میں لپیٹا جن میں بہت سی نالیاں لگی تھیں۔ انھوں نے کمبلوں کو ٹھنڈے پانی کے بہاؤ سے جوڑ دیا اور جیکلین کے جسم کے درجہ حرارت کو 28 ڈگری سینٹی گریڈ یعنی معمول سے نو درجے نیچے جاتے ہوئے اور ان کے دل کی دھڑکن کو سست ہوتے ہوئے دیکھا۔

جانوروں پر کیے گئے تجربات کی بنیاد پر بنی تھیوری کے تحت درجہ حرارت میں اس کمی سے اُن کے جسم کی آکسیجن کی ضرورت میں کمی واقع ہوگی۔ اس کی وجہ سے سرجن جان لوئیس کو اتنا وقت مل جائے گا کہ وہ ان کا دل نکال کر، اس میں کٹ لگا کر دل کے سوراخ کو ٹھیک کرنے کے بعد سی سکیں اور سینے کو واپس بند کر سکیں۔

ان کے پاس اس کام کے لیے صرف چھ منٹ ہوں گے۔ یعنی معمول کے درجہ حرارت پر کام کرنے کے دوران میسر وقت سے صرف دو منٹ زیادہ۔ اگر ذرا سی بھی تاخیر ہوئی تو جیکلین کا دماغ اور ان کے اہم اعضا آکسیجن کی کمی کے شکار ہوجائیں گے اور انھیں ممکنہ طور پر شدید دماغی نقصان پہنچے گا یا وہ ہلاک ہوجائیں گی۔

یونیورسٹی آف مینیسوٹا میں سرجری کے پروفیسر پال آئیزو کہتے ہیں کہ 'یہ اس وقت کا جدید ترین کام تھا۔'

دل پر تحقیق کی جس عالمی شہرت یافتہ لیبارٹری کے وہ نگراں ہیں، وہ اس آپریشن تھیٹر سے صرف تین منزل نیچے ہے جہاں جیکلین کی سرجری کی گئی تھی۔

وہ کہتے ہیں: ’تاریخ میں ایسے لوگوں کی کہانیاں ملتی ہیں جو ٹھنڈے پانی میں ڈوبے اور گھنٹوں بعد انھیں واپس زندہ کیا جا سکا، چنانچہ انھیں معلوم تھا کہ جسمانی درجہ حرارت میں انتہائی کمی (ڈیپ ہائیپوتھرمیا) حفاظت کر سکتا ہے۔‘

جیکلین کا سینہ کھول کر لوئیس ان کے دل کے ساتھ لپٹی ہوئی رگوں کو الگ کرتے ہیں۔ گھڑی چلا دی جاتی ہے۔ لوئیس پہلا کٹ لگاتے ہیں۔ جیکلین کا دل دھڑکتا رہتا ہے۔ خون نہ ہو تو دل میں موجود سوراخ کو دیکھنا آسان ہوجاتا ہے۔ لوئیس اسے سی کر بند کر دیتے ہیں اور ایک نمکین محلول کی دھار سے یہ یقین کر لیتے ہیں کہ سوراخ بند ہو چکا ہے۔ اس کے بعد وہ دل کی دیوار میں بنائے گئے کٹ کو سی دیتے ہیں اور سرجری مکمل کر دیتے ہیں۔ جیکلین کا دل دھڑکتا رہتا ہے۔

بچی کو اٹھا کر گرم پانی میں ڈالا جاتا ہے۔ اصل میں یہ جانوروں کے پانی پینے کا ایک برتن تھا جسے باڑوں کا سامان فروخت کرنے والی ایک دکان سے خریدا گیا تھا۔

ان کے جسم کا درجہ حرارت واپس بحال ہونا شروع ہو جاتا ہے اور 11 دن بعد وہ نئی زندگی کے ساتھ ہسپتال سے گھر چلی جاتی ہیں۔

اس سے قبل دل میں سوراخ کو سزائے موت سمجھا جاتا تھا۔ درحقیقت کئی سرجنز کے لیے دل کی سرجری کرنا ممنوع تھا۔

1950 کی دہائی سے پہلے تک دل کی کامیاب سرجری صرف چاقو یا گولی کے ذریعے پیدا ہونے والے زخم کو ٹانکے لگانا یا چھرّوں کے ذرات کو باہر نکالنے تک ہی محدود تھی۔

دوسری عالمی جنگ کے دوران میدانِ جنگ کے سرجنز نے کئی نئی تکنیکیں ایجاد کیں تاہم پھر بھی انھیں ایسے دھڑکتے دلوں پر کام کرنا پڑتا جن میں خون دوڑ رہا ہوتا تھا۔ اس سے ممکنات کا دائرہ محدود ہوجاتا، خون بہت زیادہ نکلتا، اسے دیکھنا تکلیف دہ ہوتا اور بسا اوقات زیادہ خون بہہ جاتا۔

ہائیپوتھرمیا میں ہزاروں نوجوان زندگیاں بچانے کی صلاحیت تھی مگر آپریشن کے لیے دستیاب محدود وقت کا مطلب تھا کہ یہ صرف نسبتاً سیدھے سادے آپریشنز کے لیے ہی استعمال کیا جا سکتا تھا۔ سرجنز کو دل علیحدہ کرنے اور اسی دوران آکسیجن سے بھرپور خون کی فراہمی جاری رکھنے کا طریقہ چاہیے تھا تاکہ وہ مزید وقت حاصل کر سکیں۔

سرجری کی تاریخ کا سب سے ’خطرناک آپریشن‘

اس کا جواب لوئیس کی معاونت کرنے والے ایک جونیئر سرجن والٹن للی ہائے کی جانب سے ایک اور ایسے آپریشن کے ذریعے آیا جسے سرجری کی تاریخ کے سب سے غیر معمولی اور ممکنہ طور پر خطرناک ترین آپریشنز میں شمار کیا جاتا ہے۔

للی ہائے نے تجویز دی کہ مریض کو سرجری کے دوران زندہ رکھنے کے لیے کسی عطیہ کنندہ کا استعمال کیا جائے۔ خیال یہ تھا کہ مریض جیسے بلڈ گروپ کے حامل ایک صحت مند شخص سے آکسیجن سے بھرپور خون حاصل کیا جائے، مریض کے جسم میں داخل کیا جائے، اور آکسیجن سے عاری خون عطیہ کنندہ کے جسم میں شامل کیا جائے۔ انھوں نے اس عمل کو ’کراس سرکولیشن‘ کا نام دیا۔

پر سرجیکل حلقوں میں اسے پذیرائی نہیں ملی کیونکہ یہ خدشہ پیدا ہوا کہ اگر کوئی غلطی ہوگئی مثلاً اس نظام میں ہوا کا کوئی بلبلہ داخل ہوگیا تو اس سے مریض اور عطیہ کنندہ دونوں ہلاک ہوسکتے ہیں۔

آئیزو کہتے ہیں کہ ’اس حوالے سے متعدد اخلاقی خدشات تھے۔ یہ واحد سرجری تھی جس میں آپ کے پاس شرحِ اموات 200 فیصد تک ہوسکتا تھا اور اس کے علاوہ کئی حوصلہ شکن لوگ تھے جن کا خیال تھا کہ للی ہائے پاگل ہوگئے ہیں۔ سرجنز کی جانب سے یہ کرنے کی ہمت پیدا کرنا اور مریضوں کا اس پر متفق ہونا نہایت حیرت انگیز ہے۔‘

للی ہائے کے شعبے کے سربراہ اوون وینگنسٹین نے ہری جھنڈی دکھائی اور 26 مارچ 1954 کو صبح چھ بجے ایک والد اور ان کے ایک سالہ بچے کو آپریشن تھیٹر میں لایا گیا۔ دونوں کو بے ہوشی کی دوا دی گئی اور والد کی ٹانگ سے ایک پلاسٹک کی نالی منسلک کی گئی اور دوسری جانب سے اسے بچے کے سینے سے منسلک کر دیا گیا۔ یہ نالی ویسی ہی تھی جیسی خوراک تیار کرنے والی فیکٹریوں میں مایونیز وغیرہ کی منتقلی کے لیے استعمال ہوتی ہے۔

یہ آپریشن کامیاب رہا۔ تاہم وہ بچہ چند دن بعد نمونیا کی وجہ سے مر گیا لیکن اگلا تین سالہ مریض زندہ رہا اور 67 سال کی عمر تک جیا۔

اپنی وفات پر انھوں نے اپنا جسم واپس یونیورسٹی آف مینیسوٹا کو عطیہ کر دیا اور آئیزو ان کے دل کا مطالعہ کرنے، یہاں تک کہ للی ہائے کے لگائے گئے ٹانکوں کو دیکھنے، کے بھی قابل ہوئے ہیں۔

للی ہائے نے اس کے بعد 45 کراس سرکولیشن آپریشن کیے۔ ان میں سے 28 بچے زندہ بچ پائے۔ خراب شرح نے سرجیکل ٹیم کو جذباتی طور پر بہت متاثر کیا مگر سرجری کے بغیر تمام ہی مریض تقریباً یقینی طور پر مر جاتے۔

دل کی کنسلٹنٹ سرجن اور رائل کالج آف سرجنز آف انگلینڈ کی کونسل رکن فرح بھٹی کا کہنا ہے کہ ’ان کے سامنے ایسی صورتحال تھی جس میں وہ جیت نہیں سکتے تھے۔ بچے ہلاک ہو رہے تھے۔ یہ کسی کے بھی کندھوں پر بہت بڑی ذمہ داری تھی۔‘

عطیہ کنندگان کی حفاظت کے بارے میں بڑھتے ہوئے خدشات کی وجہ سے خون میں آکسیجن شامل کرنے اور جسم میں دورانِ خون جاری رکھنے کے ایک کم خطرناک طریقے کی ضرورت تھی۔

سنہ 1930 کی دہائی سے سرجن جان گبن ایک ہارٹ لنگ مشین بنانے کی کوششوں کی سربراہی کر رہے تھے۔ یہ ایک ایسی مشین ہوتی ہے جو سرجری کے دوران دل اور پھیپھڑوں کی ذمہ داری سنبھال لیتی ہے تاکہ جسم کو آکسیجن سے بھرپور خون کی فراہمی جاری رکھی جا سکے
ڈاکٹر بھٹی کہتی ہیں کہ ’اگر ہارٹ لنگ مشین نہ ہوتی تو جدید دور کی دل کی سرجری بھی نہ ہو پاتی۔ یہ ہمارے آپریشنز کا بنیادی جزو ہے۔‘

مئی 1953 میں گبن نے ایک 18 سالہ خاتون کے دل میں موجود سوراخ کو بند کیا جبکہ مشین نے ان کی مریض کو کُل 26 منٹ تک زندہ رکھا۔ مگر خون سے بھری ہوئی یہ ڈیپ فریزر جتنی مشین آپریشن کے دوران پھٹ گئی۔ گبن کے اگلے تین آپریشن ناکام رہے اور انھوں نے کام روک دینے کا فیصلہ کیا۔

للی ہائے سمیت دیگر لوگوں نے ہارٹ لنگ مشینوں کی تیاری پر کام جاری رکھا اور انجینیئرز کے ساتھ مل کر اس ٹیکنالوجی کو بتدریج محفوظ تر اور قابلِ اعتبار بناتے رہے۔

للی ہائے نے اولین پیس میکرز کی تیاری میں بھی مدد کی تھی۔ انھوں نے میٹرونوم کی تیاری کی ہدایات ’پریکٹیکل الیکٹرانکس‘ نامی رسالے میں سے اپنائیں۔ میٹرونوم کو موسیقی میں دہرائی جانے والی دھن بنانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

پیس میکرز کو اکثر سرجری کے بعد نوجوان لوگوں کے دلوں میں نصب کر دیا جاتا تاکہ ان کی دھڑکنوں میں ربط رہے (تاہم ردوبدل کرنے والے ڈائل کے اوپر ٹیپ لگا دی جاتی تاکہ بچے اس سے کھیل نہ سکیں۔)

سنہ 1955 میں کامیاب سرجری کے راستے میں حائل ایک اور رکاوٹ اس وقت دور ہوئی جب برطانوی سرجن ڈینس میلروز نے دل کو عارضی طور پر بند کر دینے کا طریقہ ڈھونڈ نکالا۔ انھوں نے پوٹاشیم کلورائیڈ کی ایک خوراک استعمال کی اور دل کو بجلی کے ذریعے دوبارہ حرکت میں لے آئے۔ اب پہلی مرتبہ سرجن ایک رُکے ہوئے دل پر سرجری کر سکتے تھے۔

ان اختراعات نے مل کر دل کی سرجری کے شعبے میں انقلاب برپا کر دیا۔ اس دہائی کے آخر تک دنیا بھر کے مختلف ہسپتالوں میں مریضوں کی وسیع اکثریت دل کے بڑے آپریشنز میں زندہ رہنے میں کامیاب رہی۔

ڈاکٹر بھٹی جو عموماً ایک ہفتے میں دل کے چار آپریشن کرتی ہیں، دل کی سرجری کو ایک بیلے رقص سے تشبیہ دیتی ہیں جس میں درجنوں لوگ بشمول سرجن، نرسیں، بے ہوشی کی دوا دینے والے یعنی انیستھیسسٹ اور ہارٹ لنگ مشین چلانے والے یعنی پرفیوژنسٹ شامل ہوتے ہیں۔

مگر کچھ آپریشن اب بھی حیران کن حد تک اُس آپریشن جیسے ہیں جس نے جیکلین جانسن کی زندگی بچائی تھی۔

دل سے نکلنے والی مرکزی نالی کو ٹھیک کرنے کے آپریشن کے دوران سرجن اب بھی ہائیپوتھرمیا کی تکنیک کا استعمال کرتے ہیں۔

ڈاکٹر بھٹی بتاتی ہیں: 'آپ کے سر اور دل پر برف کے پیکٹ رکھے جاتے ہیں اور آپ کے جسم سے خون نکال لیا جاتا ہے مگر خون واپس نہیں لوٹایا جاتا چنانچہ آپ میں خون کی گردش باقی نہیں رہتی۔ اگر آپ ایسی حالت میں مریض کو دیکھیں تو ایسا لگے گا جیسے وہ زندہ نہیں ہیں۔'

اس تکنیک سے سرجنز کو 30 منٹ مل جاتے ہیں جس کے بعد انھیں خون کی گردش بحال کرنے کی ضرورت پیش آ جاتی ہے۔

ڈاکٹر بھٹی کہتی ہیں: 'آپ کو بہت تیزی سے مگر نہایت عرق ریزی سے کام کرنا پڑتا ہے کیونکہ ایک مرتبہ ہارٹ لنگ مشین دوبارہ چل پڑے تو آپ اس حصے تک دوبارہ نہیں پہنچ سکتے۔ یہ وہ موقع ہوتا ہے جب تھیٹر میں خاموشی ہوتی ہے، کوئی بات نہیں کر رہا ہوتا، اور آپ کو اپنی توجہ برقرار رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے، تاکہ ہر کسی کو معلوم رہے کہ وہ کیا کر رہے ہیں۔'

گذشتہ 70 برسوں میں سرجری کے شعبے میں ترقی کے باوجود یہ ممکن نہیں کہ اوپن ہارٹ سرجری کبھی بھی ایک معمول کا آپریشن بن پائے گی۔ ڈاکٹر بھٹی کے مطابق وہ اب بھی دل کو دیکھ کر اور اسے ہاتھ میں لے کر پرجوش ہوجاتی ہیں۔ 'یہ ایک بہت بڑا اعزاز ہے۔'

'جب سرجری ختم ہوجانے کے بعد کسی مریض کا دل دوبارہ دھڑکنے لگتا ہے تو یہ احساس بہت خوشگوار ہوتا ہے۔'

رچرڈ ہولنگھم
بی بی سی اردو

اونچے پائیدان پر براجمان رہنماؤں کا ایک بنیادی المیہ یہ بھی ہوتا ہے کہ انھیں ہمیشہ وقت کی کمی کا وہم رہتا ہے لہذا وہ عج...
23/06/2020

اونچے پائیدان پر براجمان رہنماؤں کا ایک بنیادی المیہ یہ بھی ہوتا ہے کہ انھیں ہمیشہ وقت کی کمی کا وہم رہتا ہے لہذا وہ عجلت میں بڑے بڑے کام انجام دینا چاہتے ہیں۔چنانچہ ٹھوکر لگنے اور منہ سے بڑا نوالہ ٹھونس لینے کا امکان بڑھتا جاتا ہے۔دوم یہ کہ عجلت پسند رہنمااوپر یا آگے تو دیکھ لیتے ہیں البتہ عقب یا پاؤں تلے دیکھنے کی فرصت نہیں ہوتی۔

جواہر لال نہرو کے ساتھ بھی یہی المیہ تھا۔ایفرو ایشیائی قائد بننے کے شوق میں وہ بھول گئے کہ پہلے محلے والوں سے خود کو منوا لیں تب آگے بڑھیں۔نہرو نے خود کو محلے میں منوانے کی کوشش تو کی مگر اتفاقِ رائے کے بجائے زور زبردستی کے ذریعے۔یعنی بین الاقوامی تاریخ کے عالم ہوتے ہوئے بھی اس علم کا خود پر انطباق نہ سیکھ پائے۔( بھٹو کا بھی شاید یہی المیہ تھا)۔
انیس سو باسٹھ کی چین بھارت جنگ سے چودہ برس پہلے نہرو نے کشمیر کے الحاق میں زور زبردستی کے ذریعے علاقائی ہیت کو اپنی مرضی سے بدلنے کی کوشش کی حالانکہ بطور مورخ انھیں علم ہونا چاہیے تھاکہ تاریخ سے زور زبردستی کسی قابلِ علاج جغرافیائی زخم کو بھی ناسور بنا دیتی ہے۔
پھر نہرو جی نے اپنے تئیں اندازہ لگایا کہ چین کیمونسٹ انقلاب کے بعد اندرونی اتھل پتھل کا شکار ہے اور پرانے اداروں کی شکست و ریخت کے بعد نئے ادارے بنانے اور مستحکم ہونے میں ابھی خاصا وقت درکار ہے۔

نیز چین کی پیپلز لبریشن آرمی نہ صرفڈھائی عشروں سے قوم پرستوں سے لڑ لڑ کر پیشہ ورانہ تھکن کا شکار ہو چکی ہے بلکہ اس کا اسلحہ خانہ بھی بھارت کو ورثے میں ملنے والے جدید نوآبادیاتی اسلحہ خانے کے مقابلے میں کہیں کمزور ہے۔بھارتی فوج کو دو عالمی جنگوں میں بھانت بھانت کے بین الاقوامی محاذوں پر لڑائی کا بیش بہا تجربہ بھی ہے لہذا یہی موقع ہے کہ چین کے اپنے پاؤں پر اٹھ کھڑے ہونے سے پہلے پہلے جارحانہ فارورڈ پالیسی کے تحت نئی فوجی چوکیاں تعمیر کر کے سرحدی حد بندی کو ہمیشہ کے لیے اپنے حق میں کر لیا جائے۔

بھارتی خفیہ اداروں کی بھی یہی رپورٹ تھی کہ چین فی الحال طاقت کے بھرپور استعمال کی سکت نہیں رکھتا۔ لداخ میں رہے ایک جنرل نے رائے دی کہ چینی ہمارے سامنے نہیں ٹھہر سکتے۔ہم ایک راؤنڈ فائر کرتے تھے تو وہ غائب ہو جاتے تھے۔صرف ایک الگ آواز ویسٹرن کمانڈ کے سربراہ لیفٹننٹ جنرل دولت سنگھ کی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمارے دستے پوری ساڑھے تین ہزار کلو میٹر کی ہمالیائی سرحد پر بکھرے پڑے ہیں۔جب کہ سرحد پار چینوں کا کیل کانٹے سے لیس پندرہ ہزار فوجیوں پر مشتمل ایک پورا ڈویڑن پیش قدمی کے لیے تیار کیا جا رہا ہے۔ ہمیں کم ازکم چار اضافی پہاڑی بریگیڈز کی ضرورت ہے اور اس کے لیے وقت درکار ہے۔

مگر اکثریت نے کہا کہ چین صرف ایک مسلح ڈویڑن کے بل پر کوئی بڑی حماقت نہیں کرے گا۔ اور اب تو سوویت یونین بھی اس کے ساتھ نہیں جو جنگ کی صورت میں اسے رسد بھیجتا رہے۔لہذا بھگوان کا نام لے کر شروع کرو۔یوں بھارت نے لداخ سے آسام تک فارورڈ پالیسی کے تحت یکطرفہ سرحدی حد بندی اور فارورڈ چوکیوں کی تعمیر شروع کر دی۔ حسبِ توقع فریقین کے درمیان ہلکی پھلکی مسلح چھیڑ چھاڑ معمول ہوتی گئی۔

مگر بھارت کے علم میں شائد یہ نہیں تھا کہ چین سو سنار کی ایک لوہار کی، کی فوجی حکمتِ عملی کا سرپرائز بھی دے سکتا ہے۔حملے سے ایک ہفتے قبل ماؤزے تنگ نے سینٹرل ملٹری کمیشن کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اپنی روائتی بذلہ سنجی کو برقرار رکھا ’’ اب جب کہ نہرو نے سینگ پھنسا لیے ہیں اور ہمیں لڑنے پر مجبورکر ہی دیا ہے تو مروت کا تقاضا بھی یہی ہے کہ ہم ترکی بہ ترکی جواب دیں تاکہ نہرو کی دل شکنی نہ ہو‘‘۔

اور پھر بیس اکتوبر انیس سو باسٹھ کو چین نے دو محاذ کھول دیے۔ ایک شمال مشرق میں آسام کی جانب اور دوسرا وسط میں لداخ کی جانب۔بیس سے پچاس کلو میٹر تک تیزی سے پیش قدمی کی۔آسام کی سرحد کے اندر تینتالیس کلومیٹر پرے تیز پور قصبے پر قبضہ کر لیا۔اس کے بعد شمال مشرقی بھارت کا سارا میدانی علاقہ کھلا تھا مگر چینی رک گئے۔اسی طرح لداخ کے محاذ پر ڈیمچوک کے علاقے پر بھی چین نے قبضہ کر لیا اورکشمیرو شن جیانگ کے درمیان واقع اقصائے چن پر قبضہ مزید پکا کر لیا۔

اکیس نومبر کو چین نے یکطرفہ جنگ بندی کا اعلان کرتے ہوئے اپنی فوجیں رضاکارانہ طور پر بیس کلو میٹر پیچھے تک ہٹا لیں اور بھارت کو پیش کش کی کہ وہ بھی فوجیں پیچھے ہٹا کر باضابطہ سرحدی حد بندی کے لیے بات چیت شروع کرے۔

اس ایک ماہ کی لڑائی میں چین کے سات سو بائیس جوان کام آئے اور ایک ہزار بیالیس زخمی ہوئے۔ بھارت کے تیرہ سو سینتیس فوجی جان سے گئے اور ایک ہزار چالیس زخمی ہوئے ، سولہ سو چھیانوے بھارتی فوجی لاپتہ ہو گئے اور لگ بھگ چار ہزار قیدی بن گئے۔

اس جنگ نے خطے پر جو دورس اثرات مرتب کیے وہ آج تک غالب ہیں۔پہلی بار بھارت کو اندازہ ہوا کہ اونٹ پہاڑ تلے بھی آ سکتا ہے۔پہلی بار چین کو اندازہ ہوا کہ اندرونی ٹوٹ پھوٹ کے باوجود اس کے اندر ایک بڑی طاقت بننے کا کس بل باقی ہے۔ چین نے بین الاقوامی اسٹیج پر آمدِ نو کا اعلان اکتوبر انیس سو چونسٹھ میں پہلے ایٹمی دھماکے سے کیا۔ بھارت اس ایٹمی منزل سے ابھی دس برس پیچھے تھا۔ چین کا یہ ایٹمی دھماکہ مغرب کو خبردار کرنے سے زیادہ سوویت یونین کو کرارا جواب تھا جس نے عین اس وقت چین کا ساتھ چھوڑا جب چین عالمی طور پر تنہا اور عسکری ٹیکنالوجی کے میدان میں پسماندہ تھا۔

باسٹھ کی چین بھارت لڑائی کے سبب پاکستان کو پہلی اور آخری بار قدرت نے موقع دیا کہ جب بھارت نے وادیِ کشمیر سے اپنا واحد ماؤنٹین ڈویژن لداخ کی سرحد پرمنتقل کیا تو پاکستان دوسرا محاذ کھول کر جنگ بندی لائن پار کر کے جموں و سری نگر پر قبضہ کر لے۔

جب چینی سفیر نے ایوب خان کے سامنے یہ آئیڈیا رکھا تو سادہ دل ایوب خان نے اسے اپنے پیٹ میں رکھنے کے بجائے امریکا اور برطانیہ کے سفارت کاروں سے فوراً بانٹ لیا۔بات واشنگٹن اور لندن تک پہنچ گئی اور ایوب خِان کو فوری طور اعلی ترین سطح پر یقین دہانی کرائی گئی کہ اگر اس وقت پاکستان غیر جانبدار رہے تو جنگ کے بعد ہم کشمیر کا تنازعہ حل کرانے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیں گے۔معصوم ایوب خان مان گئے اور پرامید تماشائی بن کے رہ گئے۔

اور جب حسبِ فطرت مغربی ممالک وعدے سے پھر گئے تو تین برس بعد ایوب خان نے اپنے تئیں طارق بن زیاد بن کر کشمیر آزاد کرانے کی ٹھانی۔تب تک بھارت چین سے لڑائی کے زخم چاٹ چکا تھا اور چینی بدمعاشی کے مقابلے کا واویلا مچا مچا کر جدید امریکی و برطانوی اسلحے کی مدد سے چار نئے ڈویژن کھڑے کر چکا تھا۔

بھارت کو چین کے مقابلے میں اٹھا رکھنے کے لیے نہ صرف امریکا اور برطانیہ کی بھرپور فوجی، اقتصادی و سفارتی امداد ملی بلکہ چین کے نظریاتی دشمن سوویت یونین نے بھی مگ لڑاکا طیاروں کی پہلی کھیپ دان کر دی اور یوں بھارت سوویت اسٹریٹیجک پارٹنر شپ کی طویل اننگز شروع ہوئی۔

دوسری جانب جب پاکستان نے پینسٹھ کی یکطرفہ مہم جوئی کے دوران یہاں وہاں دیکھا تو سیٹو اور سینٹو کے پیارے اتحادی، اور انیس سو انسٹھ کے فوجی معاہدے کا فریق امریکا چمپت ہو گئے۔ بلکہ امریکا اور برطانیہ نے تو کمال انصاف سے کام لیتے ہوئے بھارت اور پاکستان کو اسلحے کی فروخت پر ہی عارضی پابندی لگا دی کیونکہ لڑائی بھڑائی اچھی بات نہیں ہوتی۔ اب پاکستان کے سامنے بس ایک چین ہی کھڑا تھا کہ جس کے کندھے پر پاکستان اپنا سر رکھ سکے۔ یوں ایک تاریخی بندھن کی تاریخ شروع ہوئی۔

اپنے اپنے بے وفاؤں نے ہمیں یکجا کیا

ورنہ میں تیرا نہیں تھا اور تو میرا نہ تھا (فراز)

(آگے کیا ہوا۔اگلی قسط میں دیکھیں گے

وسعت اللہ خان صاحب

20/06/2020

پاکستان کی سیاست ہمیشہ ریاستی اداروں کے آگے بے بس رہی۔
اسکی وجہ ہے پاکستان کا سیاسی نظام مخصوص خاندانوں کے مفادات کے تحفظ کے گرد گھومتا ہے اس کی صورت بادشاہی نظام کی صورت میں بنتی ہے۔
جبکہ پاکستان کے ریاستی اداروں کی پالیسیاں درست رہی ہوں یا غلط یہ الگ بحث ہے۔
لیکن انکی پالیسی کبھی بھی مخصوص خاندانوں کے مفادات کے تحفظ کے لیے نہیں بنی بلکہ انکی پالیسی ادارے کو طاقتور بنانے کے لیے بنائی جاتی ہے۔
جبکہ پاکستان کا سیاسی نظام سیاسی سٹرکچر کو مضبوط کرنے کی بجائے جو کہ لوکل گورنمنٹ سسٹم کو مضبوط کرنے سے بنتا ہے جہاں سے نئی عوامی لیڈر شپ نے آنا ہے اس کا گلہ گھونٹ کر مخصوص خاندانوں کی اولادوں کو لیڈر بنا کر عوام پر مسلط کر دیا جاتا جو عوام کے مفادات کی بجائے خاندانوں کے مفادات کا تحفظ کرتے ہیں۔
عوام کا اس سیاسی سٹرکچر سے کوئی مفاد نہیں جڑا اسکے ہونے یا نہ ہونے سے عام آدمی کے مفاد پر کوئی فرق نہیں پڑتا عام آدمی کا اس سیاسی نظام سے مفاد نہیں جڑتا یہ جمہوری نظام مضبوط نہیں ہو سکتا۔
ان سیاسی خاندانوں کو خوف ہے اگر لوکل گورنمنٹ سسٹم کو مضبوط کیا گیا تو وہاں سے true لیڈر شپ آئے گی جو انکے بچوں کی جگہ لے گی یہ بات انکو منظور نہیں۔۔
رہی بات عوام کے ووٹ کی تو وہ چاہے شیر کو دیں یا گدھے کو حکومت ڈنگروں کے ہی ہاتھوں میں رہے گی اور ریاستی اداروں کے ہاتھ میں چابک۔

کورونا اور سناء مکیایلوپیتھک علاج کے ساتھ ساتھ کورونا وائرس کے علاج کے لیے عوام الناس کی جانب سے دیسی ٹوٹکے آزمانے کے مش...
09/06/2020

کورونا اور سناء مکی

ایلوپیتھک علاج کے ساتھ ساتھ کورونا وائرس کے علاج کے لیے عوام الناس کی جانب سے دیسی ٹوٹکے آزمانے کے مشوروں میں بھی کمی نہیں اور آج کل ان مشوروں میں سرفہرست سنا مکی کے قہوے کا استعمال ہے۔
سنا مکی یا سنا کے پتوں کا استعمال طویل عرصے سے حکیم اور طبیب پیٹ کے امراض خصوصاً قبض کی دوری کے لیے تجویز کرتے آئے ہیں۔
سنا مکی کے استعمال کی افادیت اور نقصانات کے بارے میں بات کرتے ہوئے ماہر غذائیت نیلم اعجاز کا کہنا تھا کہ لوگ سوچے سمجھے بغیر سوشل میڈیا پر ٹوٹکا شیئر کر رہے ہیں کہ سنا مکی سے کورونا وائرس کا علاج کیا جا سکتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہربل ادویات اور جڑی بوٹیوں میں انسانی جسم میں سوزش کم کرنے کی خصوصیات ضرور موجود ہوتی ہیں جیسے کہ سادہ لیمن گراس کا قہوہ بھی استعمال کریں تو وہ بھی کانسی اور گلے کی سوزش میں آرام دیتا ہے۔
تاہم ان کا کہنا تھا کہ ’سنا مکی کے قہوے کی تاثیر گرم ہوتی ہے اس لیے جب اسے استعمال کیا جاتا ہے تو مریض کا پیٹ خراب ہو جاتا ہے جس سے اس کے جسم میں نمکیات کی کمی واقع ہو جاتی ہے جو کورونا کے مریض کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ خصوصی طور پر بلڈ پریشر ، گردے اور جگر کے مریضوں کے لیے سنا مکی کا استعمال زیادہ نقصان دہ ہو سکتا ہے۔
’اگر کوئی شخص اس جڑی بوٹی کا استعمال زیادہ کرے گا تو یہ اس شخص کے معدے کے کچھ حصے کو مستقل طور پر نقصان بھی پہنچا سکتی ہے‘۔

'سنا مکی کا قہوہ پینے کے بعد مریضوں کی حالت مزید بگڑی'

لاہور کے میو ہسپتال میں زیر علاج کورونا وائرس کے مریضوں کا علاج کرنے والے پھیپھڑوں کے ماہر ڈاکٹر سلمان ایاز کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس بہت سے ایسے مریض آئے جنھوں نے سنا مکی کے قہوے کا استعمال کیا اور اس کے بعد ان کی حالت مزید خراب ہو گئی۔
انھوں نے بھی اس بات کی تصدیق کی کہ یہ قہوہ پینے سے پیٹ خراب ہو جاتا ہے اور دست آنے لگتے ہیں جس کی وجہ سے وہ مریض جسے پہلے ہی وٹامن اور اپنے جسم میں نمکیات بہتر کرنے کی ضرورت ہوتی ہے، وہ اسہال کی وجہ سے مزید بیمار ہو جاتا ہے۔
انھوں نے مزيد بتایا کہ کورونا کے وہ مریض جنہیں معمولی علامات ہیں، اگر وہ ایسے ٹوٹکے استعمال کرتے ہیں تو خطرہ بڑھ جاتا ہے کہ اس کی علامات شدید ہو سکتی ہیں۔
’اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہر انسان کی قوت مدافعت اور اس کا جسم مختلف انداز میں ہر دوائی یا ہربل علاج پر ردعمل ظاہر کرتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ کورونا کے مریض خصوصا طبیعت خراب ہونے کی صورت میں فوراً ڈاکٹر سے رجوع کریں اور ایسے ٹوٹکے آزمانے سے بھی گریز کریں۔‘
بی بی سی اردو

کہانی انسانی تاریخ کو کیسے بدلتی ہے؟یونانی بادشاہ الیگزینڈر یا سکندر کو دنیا 'سکندر اعظم' کہتی ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ اس...
22/05/2020

کہانی انسانی تاریخ کو کیسے بدلتی ہے؟

یونانی بادشاہ الیگزینڈر یا سکندر کو دنیا 'سکندر اعظم' کہتی ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ اس نے بہت ہی کم عمر میں یورپ سے ایشیا تک اپنی سلطنت قائم کر لی تھی۔
محض 32 سال کی عمر میں مرنے سے پہلے سکندر نے یونان کے صدیوں پرانے دشمن فارس کو گھٹنے ٹیکنے کے لیے مجبور کر دیا تھا اور تہذیبوں کا مرکز کہلائے جانے والے مشرق وسطیٰ پر حکومت قائم کر لی تھی۔
سکندر کے عظیم بننے اور کامیابی حاصل کرنے میں ان کے استاد ارسطو کی تعلیم کو کلیدی حیثیت حاصل رہی ہے۔

کیا آپ جانتے ہیں کہ ارسطو نے سکندر کو کیا سکھایا؟
ارسطو نے سکندر کو ایک کہانی سنائی تھی اور یہ کہانی حقیقت اور فسانے کے امتزاج سے بنی تھی۔

یہ کہانی ٹرائے کی جنگ کی کہانی تھی جس کا یونانی شاعر ہومر نے اپنی رزمیہ الیڈ میں مفصل ذکر کیا ہے۔
یہ کہانی انسانی جذبات کا نچوڑ ہے۔ اس میں عشق و محبت ہے، نفرت ہے، یہ رزم کی داستان بھی ہے اور بزم کی بھی۔ اس میں انسانوں کے کارناموں کا بیان بھی ہے اور ان کی ناکامیوں کا ماجرا بھی۔
ایلیڈ ایک ایسا رزمیہ ہے جس نے سکندر کو جیت کے جذبے سے سرشار کر دیا۔ انھوں نے ٹرائے کی جنگ سے یونانی بادشاہوں کی یک جہتی اور جنگی حکمت عملی سیکھی اور پھر دنیا پر فتح حاصل کی۔

کہانیاں ہماری تہذیب و ثقافت میں پیوست ہوتی ہیں۔ مشرق سے مغرب تک اور شمال سے جنوب تک دنیا کے ہر گوشے میں اور انسانی تہذیب کی ترقی کے ہر دور میں قصہ گوئی موجود رہی ہے۔

بچپن میں ہم نے اپنی دادی نانی سے کہانیاں سنی ہیں۔ بادشاہ اور ملکاؤں کی کہانی، الف لیلہ کی کہانیاں، سات بہنوں کی کہانی، علی بابا چالیس چور کی کہانی، سندباد کی کہانی اور پنچ تنتر یا کلیلہ و دمنہ کی کہانیاں وغیرہ۔

ہر کہانی سے ہمیں ایک سبق ملتا ہے۔ اس کے علاوہ الفاظ کے ذریعہ اس دور کا خاکہ کھینچا جاتا ہے تاکہ اس دور کے رسم و رواج، عادات و اطوار اور ديگر چیزوں کی معلومات ملے۔

قصہ گوئی کا رواج ہر دور میں رہا ہے۔ عرب ممالک میں الف لیلہ کی کہانیاں رہی ہیں تو انڈیا میں پنچ تنتر اور بھی مہا بھارت اور راماین جیسی رزمیہ داستانیں ہیں۔

کہانیاں صرف کتابوں کی زینت نہیں بلکہ ان کی انسانی زندگی میں بھی قدر و قیمت رہی ہے۔

ارسطو کا کہنا تھا کہ ادب اور کہانیاں صرف انسانوں کی تفریح کے لیے نہیں بلکہ انسانیت کا سبق سکھانے اور قا‏‏عدے قانون بنانے میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

ان کے علاوہ شاعری انسانی جذبات کی عکاسی کرتی ہے اور ہمیں بہتر انسان بنانے میں کردار ادا کرتی ہے۔

یہ نہیں ہے کہ دنیا بھر میں ادب کی ابتدا رزمیہ سے یا اس دور کے بادشاہوں کی شکست و فتح کی کہانیوں سے ہوئی ہے۔ بہت سی جگہوں پر ادب کا آغاز نظم و شعر سے ہوا۔
مثلاً چین میں ادب کی ابتدا میں شعر کہنے کا کام صرف شاعروں تک ہی محدود نہیں تھا بلکہ اعلیٰ عہدوں کے لیے شعر گوئی کا امتحان دینا ہوتا تھا، اور تمام بڑے حکومتی عہدیداروں کے لیے شعر کہنے اور شعر فہمی کی صلاحیت لازمی تصور کی جاتی تھی۔

چین سے متاثر ہو کر جاپان میں بھی شاعری کو خوب عروج حاصل ہوا۔

قدیم زمانے میں جاپان میں خواتین کو ادب پڑھنے کی اجازت نہیں تھی۔ لیکن یہاں 'جہاں چاہ وہاں راہ' کے مصداق پابندی کے باوجود دنیا کا سب سے پہلا ناول 'ٹیل آف گینجی' وہیں لکھا گیا اور اس کی ناول نگار مراساکی شیکیبو ایک خاتون تھیں۔
اس خاتون نے اپنے بھائی کو پڑھتے دیکھ کر لکھنا سیکھا تھا، پھر انھوں نے تقریباً ایک ہزار صفحات کا شاہکار ناول لکھا۔ اسے کلاسیکی ادب بنانے کے لیے انھوں نے اپنے ناول میں 800 کے لگ بھگ نظمیں بھی شامل کیں۔

ادب یا قصے کہانیوں کی دنیا میں انقلاب لانے کا سہرا عرب ممالک کو جاتا ہے جنھوں نے چین سے کاغذ بنانے کی تکنیک سیکھ کر اسے ایک بہت کامیاب کاروبار کے طور پر آگے بڑھایا۔

کاغذ کی ایجاد سے پہلے کہانیاں نسل در نسل زبانی ادب کے روپ میں پہنچ رہی تھی۔

جب انسان نے لکھنا شروع کیا تو اس نے اپنے خیالات درختوں کی چھالوں اور پتوں پر درج کرنے شروع کیے، پتھروں پر کندہ کیے۔ کاغذ کی دریافت کے بعد سارا منظر ہی بدل گيا اور عرب میں الف لیلہ کی کہانیاں اسی طرح یکجا کی گئيں۔

کہانیاں ہوں یا نظمیں یا پھر رزمیہ داستان یہ سب انسانی تاریخ کا اہم حصہ ہیں۔ بہشت اور جہنم کا تصور بالکل مذہبی ہے۔ لیکن اطالوی شاعر دانتے نے اسے بہت ہی خوبصورت انداز میں اپنی تصنیف 'ڈیوائن کامیڈی' میں پیش کیا ہے۔

کاغذ کی ایجاد نے ادب کو تحفظ فراہم کیا اور اسے یکجا کرنے کا کام کیا۔ پرنٹنگ کی ایجاد اسے گھر گھر پہنچایا۔ پرنٹنگ کے بعد ناول لکھنے کا رواج پروان چڑھا۔

خاص طور پر خواتین کے لیے ناول بڑے پیمانے پر لکھے جانے لگے۔

نئے ابھرتے ہوئے ممالک نے اپنی آزادی کے لیے جدید ناول کا استعمال کیا۔ دراصل سیاسی آزادی کے لیے ثقافتی آزادی بہت اہم ہے اور ناول اس کی مکمل آزادی دیتا ہے۔

جوں جوں ٹیکنالوجی میں ترقی ہوئی، لوگوں تک ادب تک رسائی بھی بڑھ گئی۔ اس میں تعلیم کی بڑھتی ہوئی سطح نے بھی اہم کردار ادا کیا۔ زیادہ قارئین پیدا ہونے لگے تو زیادہ کہانیاں لکھنے والے بھی آنے لگے۔ آج مختلف قسم کی کہانیاں لکھنے اور پڑھنے والے موجود ہیں۔

آج ہم انٹرنیٹ دور میں رہ رہے ہیں۔ ایک کلک پر دنیا بھر کا ادب ہمارے سامنے آ جاتا ہے۔ اگرچہ تمام چیزوں کی آن لائن دستیابی کا کتابوں کی اشاعت پر برا اثر پڑا ہے لیکن اس سے کہانیاں سننے اور سنانے والوں کے جنون میں کوئی کمی نہیں آئی۔

خواہ کوئی ہاتھ میں کتاب لیے پڑھتا نظر نہ آتا ہو لیکن سب کے پاس ایسے گیجٹس ہیں جس کے ذریعے جب چاہے پڑھ سن سکتا ہے۔ لہٰذا ہم کہہ سکتے ہیں کہ ڈیجیٹل ورلڈ میں ہم ادب لکھنے کا ایک نئی آغاز کر رہے ہیں۔

زمانہ خواہ کتنا ہی کیوں نہ بدل گیا ہو، راجہ رانی تبدیل ہو گئے ہوں لیکن قصے کہانی کا دور جاری ہے اور کہانی کی حکومت ہمارے دلوں پر قائم ہے۔

بی بی سی اردو

انگریزوں نے چین سے چائے کی کاشت کا صدیوں پرانا راز کیسے چرایا؟لمبے تڑنگے رابرٹ فارچیون نے قلی کے آگے سر جھکا دیا۔ اس نے ...
20/05/2020

انگریزوں نے چین سے چائے کی کاشت کا صدیوں پرانا راز کیسے چرایا؟

لمبے تڑنگے رابرٹ فارچیون نے قلی کے آگے سر جھکا دیا۔ اس نے ایک زنگ آلود استرا نکالا اور فارچیون کے سر کا ابتدائی حصہ مونڈنے لگا۔ یا تو استرا اتنا کند تھا یا پھر قلی ہی ایسا اناڑی تھا کہ فارچیون کو لگا کہ ’جیسے وہ میرا سر مونڈ نہیں رہا بلکہ کھرچ رہا ہے۔‘ اس کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو کر گالوں پر ڈھلکنے لگے۔

یہ ستمبر 1848 میں چینی شہر شنگھائی سے کچھ دور واقع ایک علاقے کا واقعہ ہے۔ فارچیون ایسٹ انڈیا کمپنی کا جاسوس ہے جو چین کے اندر ممنوعہ علاقے میں جا کر وہاں سے چائے کی پتیاں چرانے کی مہم پر آیا ہوا ہے۔ لیکن اس مقصد کے لیے اسے سب سے پہلے بھیس بدلنا ہے جس کی پہلی شرط یہ ہے کہ وہ چین کے رواج کے مطابق ماتھے کے اوپری حصے سے بال منڈوا دے۔ اس کربناک عمل سے گزرنے کے بعد فارچیون کے مترجم اور رہنما نے اس کے بالوں میں ایک لمبی مینڈھی گوندھ کر اسے چینی لبادہ پہنا دیا اور اسے تنبیہ کی کہ وہ اپنا منھ بند رکھے۔
ایک مسئلہ اب بھی باقی تھا جسے چھپانا آسان نہیں تھا۔ فارچیون کا قد عام چینیوں کے مقابلے پر ایک فٹ سے بھی لمبا تھا۔ اس کا حل اس نے کچھ یوں نکالا کہ لوگوں سے کہہ دیا جائے کہ وہ دیوارِ چین کے دوسری طرف سے آیا ہے جہاں کے لوگ طویل قامت ہوتے ہیں۔
اس مہم میں بہت کچھ داؤ پر لگا ہوا تھا۔ اگر فارچیون کامیاب ہو جاتا تو چائے پر چین کی ہزاروں سالہ اجارہ داری ختم ہو جاتی اور ایسٹ انڈیا کمپنی ہندوستان میں چائے اگا کر ساری دنیا میں فراہم کرنا شروع کر دیتی۔ لیکن دوسری طرف اگر وہ پکڑا جاتا تو اس کی صرف ایک ہی سزا تھی۔ موت! اس کی وجہ یہ تھی کہ چائے کی پیداوار چین کا قومی راز تھی اور اس کے حکمران صدیوں سے اس راز کی حفاظت کی سرتوڑ کوششیں کرتے آئے تھے۔

دو ارب پیالیاں روزانہ
ایک تحقیق کے مطابق پانی کے بعد چائے دنیا کا مقبول ترین مشروب ہے اور دنیا میں روزانہ دو ارب لوگ اپنے دن کا آغاز چائے کی گرماگرم پیالی سے کرتے ہیں۔ یہ الگ بات کہ اس دوران کم ہی لوگوں کے دماغ میں یہ خیال آتا ہو گا کہ یہ مشروب جو ان کے مزاج کو فرحت اور دماغ کو چستی بخشتا ہے، ان تک کیسے پہنچا۔

چائے کی یہ کہانی کسی سنسنی خیز ناول سے کم نہیں۔ یہ ایسی کہانی ہے جس میں حیرت انگیز اتفاقات بھی ہیں، پرفریب جاسوسی مہم جوئیاں بھی، سامراجی ریشہ دوانیاں بھی، خوش قسمتی کے لمحات بھی اور بدقسمتی کے واقعات بھی۔

ہوا میں اڑتی پتیاں

چائے کا آغاز کیسے ہوا، اس کے بارے میں کئی کہانیاں مشہور ہیں۔ ایک کے مطابق قدیم چینی دیومالائی بادشاہ شینونگ کو صفائی کا اس قدر خیال تھا کہ اس نے تمام رعایا کو حکم دیا کہ وہ پانی ابال کر پیا کریں۔ ایک دن کسی جنگل میں بادشاہ کا پانی ابل رہا تھا کہ چند پتیاں ہوا سے اڑ کر دیگچی میں جا گریں۔ شینونگ نے جب یہ پانی پیا تو نہ صرف اسے ذائقہ پسند آیا بلکہ اسے پینے سے اس کے بدن میں چستی بھی آ گئی۔
یہ چائے کی پتیاں تھیں اور ان کے فوائد کے تجربے کے بعد بادشاہ نے عوام کو حکم دیا کہ وہ بھی اسے آزمائیں۔ یوں یہ مشروب چین کے کونے کونے تک پھیل گیا۔

یورپ سب سے پہلے 16ویں صدی کی ابتدا میں چائے سے آشنا ہوا جب پرتگالیوں نے اس کی پتی کی تجارت شروع کر دی۔ ایک صدی کے اندر اندر چائے دنیا کے مختلف علاقوں میں پی جانے لگی۔ لیکن خاص طور پر یہ انگریزوں کو اتنی پسند آئی کہ گھر گھر پی جانے لگی۔

ایسٹ انڈیا کمپنی مشرق سے ہر قسم کی اجناس کی تجارت کی ذمہ داری تھی۔ اسے چائے کی پتی مہنگے داموں چین سے خریدنا پڑتی تھی اور وہاں سے لمبے سمندری راستے سے دنیا کے باقی حصوں کی ترسیل چائے کی قیمت میں مزید اضافہ کر دیتی تھی (اس وقت سی پیک والا راستہ دریافت نہیں ہوا تھا!)۔ یہی وجہ تھی کہ انگریز شدت سے چاہتے تھے کہ خود اپنی نوآبادی ہندوستان میں چائے اگانا شروع کر دیں تاکہ چین کا پتہ ہی کٹ جائے۔

اس منصوبے میں سب سے بڑی رکاوٹ یہ تھی کہ چائے کا پودا کیسے اگتا ہے اور اس سے چائے کیسے حاصل ہوتی ہے، سرتوڑ کوششوں کے باوجود اس راز سے پردہ نہ اٹھ سکا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ اب کمپنی نے رابرٹ فارچیون کو اس پرخطر جاسوسی مہم پر بھیجا تھا۔

اس مقصد کے لیے اسے چین کے ان علاقوں تک جانا تھا جہاں شاید مارکوپولو کے بعد کسی یورپی نے قدم نہیں رکھا تھا۔ اسے معلوم ہوا تھا کہ فوجیان صوبے کے پہاڑوں میں سب سے عمدہ کالی چائے اگتی ہے اس لیے اس نے اپنے رہبر کو وہیں کا رخ کرنے کا حکم دیا۔

سر منڈوانے، بالوں میں نقلی مینڈھی گوندھنے اور چینی تاجروں جیسا روپ دھارنے کے علاوہ فارچیون نے اپنا ایک چینی نام بھی رکھ لیا، سِنگ ہُوا۔ یعنی ’شوخ پھول۔‘

ایسٹ انڈیا کمپنی نے اسے خاص طور پر ہدایات دے رکھی تھیں کہ ’بہترین چائے کے پودے اور بیج ہندوستان منتقل کرنے کے علاوہ آپ پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ آپ اس پودے کی کاشت اور چائے کی پتی کی تیاری کے بارے میں ہر ممکن معلومات حاصل کر کے لائیں تاکہ انھیں بروئے کار لا کر ہندوستان میں چائے کی نرسریاں قائم کرنے میں ہر ممکن مل سکے۔‘

اس کام کا معاوضہ اسے پانچ سو پاؤنڈ سالانہ ادا کیا جانا تھا۔

فارچیون کا کام آسان نہیں تھا۔ اسے چین سے چائے کی پیداوار کے طریقے ہی نہیں سیکھنا تھے بلکہ وہاں سے اس نایاب جنس کے پودے چوری کر کے لانے تھے۔ فارچیون تربیت یافتہ ماہرِ نباتیات تھا اور اس کے تجربے نے اسے بتا دیا تھا کہ چند پودوں سے کام نہیں چلے گا، بلکہ پودے اور ان کے بیج بڑے پیمانے پر سمگل کر کے ہندوستان لانا پڑیں گے تاکہ وہاں چائے کی پیداوار بڑے پیمانے پر شروع ہو سکے۔

یہی نہیں، اسے چینی مزدوروں کی بھی ضرورت تھی تاکہ وہ ہندوستان میں چائے کی صنعتی بنیادوں پر کاشت اور پیداوار میں مدد دے سکیں۔
اس دوران اسے خود چائے کے پودوں کی تمام اقسام، اگنے کے موسم، کاشت، پتی کی پیداوار، سکھانے کے طریقوں وغیرہ کے بارے میں تمام علم حاصل کرنا تھا، چاہے وہ سبز چائے ہو یا کالی، سفید ہو یا سرخ چائے۔

فارچیون کا مقصد عام چائے کے پودے حاصل کرنا نہیں تھا بلکہ وہ عمدہ ترین چائے حاصل کرنا چاہتا تھا تاکہ ہندوستان میں بڑے پیمانے پر چائے کا بین الاقوامی کاروبار عمدہ ترین چائے سے کیا جائے۔

آخر کشتیوں، پالکیوں، گھوڑوں اور دشوار گزار راستوں پر پیدل چل کر تین ماہ کے دشوار گزار سفر کے بعد فارچیون کوہِ وویی کی ایک وادی میں قائم چائے کے ایک بڑے کارخانے تک پہنچنے میں کامیاب ہو گیا۔ یہاں چائے کی تیز مہک کے علاوہ دروازے پر لگے لکڑی کے ایک تختے نے فارچیون کا استقبال کیا۔ اس پر چائے کی تعریف میں ایک قدیم نظم کندہ تھی:

اعلیٰ چائے کی پتی میں

شکنیں ہونی چاہییں

جیسے کسی تارتار کے چمڑے کے جوتے

لہریں ہوں

جیسے کسی توانا بیل کی گردن کا لٹکتا گوشت

یہ یوں کھِلتی ہو

جیسے کسی وادی میں دھند اٹھتی ہے

یہ یوں چمکتی ہو

جیسے کسی جھیل پر صبا کا جھونکا

یہ ایسی ملائم اور نم ہو

جیسے تازہ بارش کے بعد زمین

اس سے قبل یورپ میں سمجھا جاتا تھا کہ سبز چائے اور کالی چائے کے پودے الگ الگ ہوتے ہیں۔ لیکن یہ دیکھ کر فارچیون کی حیرت کی انتہا نہ رہی کہ دونوں اقسام کی چائے ایک ہی پودے سے حاصل کی جاتی ہے۔ اصل فرق دونوں کے سکھانے اور پکانے کے طریقوں میں ہے۔

فارچیون یہاں چائے بننے کے ہر مرحلے کا گہرا مگر خاموش مشاہدہ کرتا رہا اور نوٹس لیتا رہا۔ اگر اسے کسی بات کی سمجھ نہیں آتی تھی تو وہ اپنے رہبر کی وساطت سے پوچھ لیتا تھا۔

سنگین غلطی جو خوش قسمتی میں بدل گئی
فارچیون کی محنت رنگ لائی اور بالآخر وہ حکام کی آنکھ بچا کر چائے کے پودے، بیج اور چند مزدور بھی ہندوستان سمگل کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ ایسٹ انڈیا کمپنی نے اس کی نگرانی میں آسام کے علاقے میں یہ پودے اگانا شروع کر دیے۔

لیکن انھوں نے اس معاملے میں ایک سنگین غلطی کر دی تھی۔

فارچیون جو پودے لے کر آیا تھا وہ چین کے بلند و بالا پہاڑی سلسلوں کے ٹھنڈے موسموں کے عادی تھے۔ آسام کی گرم موطوب ہوا انھیں راس نہیں آئی اور وہ ایک کے بعد ایک کر کے سوکھتے چلے گئے۔

اس سے قبل کہ یہ تمام مشقت بےسود چلی جاتی، اسی دوران ایک عجیب و غریب اتفاق ہوا۔

اسے ایسٹ انڈیا کمپنی کی خوش قسمتی کہیے یا چین کی بدقسمتی کہ اسی دوران اس کے سامنے آسام میں اگنے والے ایک پودے کا معاملہ سامنے آیا۔

اس پودے کو ایک سکاٹش سیاح رابرٹ بروس نے 1823 میں دریافت کیا تھا۔ چائے سے ملتا جلتا مقامی پودا آسام کے پہاڑی علاقوں میں جنگلی جھاڑی کی حیثیت سے اگتا تھا۔ تاہم زیادہ تر ماہرین کے مطابق اس سے بننے والا مشروب چائے سے کمتر تھا۔

فارچیون کے پودوں کی ناکامی کے بعد کمپنی نے اپنی توجہ آسام کے اس پودے پر مرکوز کر دی۔ فارچیون نے جب اس پر تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ یہ چینی چائے کے پودے سے بےحد قریب ہے، بلکہ ان کی نسل ایک ہی ہے
چین سے سمگل شدہ چائے کی پیداوار اور پتی کی تیاری کی ٹیکنالوجی اور تربیت یافتہ کارکن بے حد کارآمد ثابت ہوئے۔ جب ان طریقوں کے مطابق پتی تیار کی گئی تو تجربات کے دوران لوگوں نے اسے خاصا پسند کرنا شروع کر دیا۔

اور یوں کارپوریٹ دنیا کی تاریخ میں انٹیلیکچوئل پراپرٹی کی سب سے بڑی چوری ناکام ہوتے ہوتے بھی کامیاب ہو گئی۔

دیسی چائے کی کامیابی کے بعد کمپنی نے آسام کا بڑا علاقہ اس ہندوستانی پودے کی کاشت کے لیے مختص کر کے اس کی تجارت کا آغاز کر دیا اور ایک عشرے کے اندر یہاں کی پیداوار نے چین کو مقدار، معیار اور قیمت تینوں معاملات میں پیچھے چھوڑ دیا۔

برآمد میں کمی کے باعث چین کے چائے کے باغات خشک ہونے لگے اور وہ ملک جو چائے کے لیے مشہور تھا، ایک کونے میں سمٹ کر رہ گیا۔

اصل چائے کی بجائے ’سیال حلوہ‘

انگریزوں نے چائے بنانے میں ایک ’بدعت‘ متعارف کروا دی۔ چینی تو ہزاروں برس سے کھولتے پانی میں پتی ڈال کر پیا کرتے تھے، انگریزوں نے اس مشروب میں پہلے چینی اور بعد میں دودھ ڈالنا شروع کر دیا۔

سچ تو یہ ہے کہ آج بھی چینیوں کو یہ بات عجیب لگتی ہے کہ چائے میں کسی اور چیز کی آمیزش کی جائے۔ جہاں ہندوستانیوں نے انگریزوں کی دوسری بہت سی عادات اپنا لیں، وہیں وہ اپنے حکمرانوں کی دیکھا دیکھی چائے میں بھی یہ ملاوٹیں کرنے لگے۔

اردو کے صاحبِ طرز ادیب و دانشور مولانا ابوالکلام آزاد اپنی کتاب ’غبارِ خاطر‘ میں اس بارے میں لکھتے ہیں:

’چائے چینیوں کی پیداوار ہے اور چینیوں کی تصریح کے مطابق پندرہ سو برس سے استعمال کی جا رہی ہے لیکن وہاں کسی کے خواب و خیال میں بھی یہ بات نہیں گزری کہ اس جوہرِ لطیف کو دودھ کی کثافت سے آلودہ کیا جا سکتا ہے۔۔۔ مگر سترھویں صدی میں جب انگریز اس سے آشنا ہوئے تو نہیں معلوم ان لوگوں کو کیا سوجھی کہ انھوں نے دودھ ملانے کی بدعت ایجاد کی۔ اور چونکہ ہندوستان میں چائے کا رواج انھی کے ذریعے ہوا، اس لیے یہ بدعتِ سیئہ یہاں بھی پھیل گئی، رفتہ رفتہ معاملہ یہاں تک پہنچا کہ لوگ چائے میں دودھ ڈالنے کی بجائے دودھ میں چائے ڈال کر پینے لگے۔۔۔

’لوگ چائے کی جگہ ایک طرح کا سیال حلوہ بناتے ہیں، کھانے کی جگہ پیتے ہیں اور خوش ہوتے ہیں کہ ہم نے چائے پی لی۔ ان نادانوں سے کون کہے

ہائے کم بخت تم نے پی ہی نہیں!‘

ظفر سید
بی بی سی اردو

Address

Hazro

Telephone

+923025560190

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Creator posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Establishment

Send a message to Creator:

Share

Category