13/10/2025
افغانستان کی طرف سے بلا اشتعال فائرنگ، پوسٹ پر حملے اور پاکستان کی جوابی کارروائی کے بعد چمن بارڈر ہر قسم کی آمد و رفت کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔ سرحدی علاقے میں سیکیورٹی کے انتظامات مزید سخت کر دیے گئے ہیں۔
11 اور 12 اکتوبر کی درمیانی شب پاک افغان سرحد کے قریب افغان طالبان اور بھارتی اسپانسرڈ فتنہ الخوارج کی جانب سے پاک فوج کی چیک پوسٹوں پر بزدلانہ حملے کیے گئے۔
پاک فوج کے جوانوں نے بھرپور اور مؤثر جوابی کارروائی کرتے ہوئے دشمن کے عزائم کو ناکام بنایا۔ جوابی کارروائی کے دوران 21 افغان پوزیشنز پر عارضی طور پر کنٹرول حاصل کر لیا گیا جبکہ دہشت گردوں کے تربیتی و منصوبہ بندی مراکز کو مکمل طور پر ناکارہ بنا دیا گیا۔
فائرنگ کے تبادلے میں وطن کے 23 بہادر سپوت جامِ شہادت نوش کر گئے جبکہ 29 جوان زخمی ہوئے۔ پاک فوج کی مؤثر جوابی کارروائی کے نتیجے میں 200 سے زائد دہشت گرد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔
افغان عبوری حکومت اپنی سرزمین سے سرگرم دہشت گرد گروہوں کا خاتمہ کرے اور دہشت گرد تنظیموں کی پشت پناہی بند کرے۔ پاکستان اپنے عوام کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اور فیصلہ کن کارروائی جاری رکھے گا۔ اگر طالبان حکومت نے اپنی روش نہ بدلی تو پاکستان اپنے دفاع اور عوام کی سلامتی کے لیے مزید مؤثر اقدام