Naeem Writes

Naeem Writes ہر قسم کی اردو شاعری ، اقوال کے لئے ہمارا فیس بک پیج اور

پنڈی بھٹیاں:پنڈی بھٹیاں ضلع حافظ آباد کا دوسرا بڑا قصبہ اور تحصیل کا صدر مقام ہے۔ یہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور سے مغرب ک...
08/12/2025

پنڈی بھٹیاں:

پنڈی بھٹیاں ضلع حافظ آباد کا دوسرا بڑا قصبہ اور تحصیل کا صدر مقام ہے۔ یہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور سے مغرب کی طرف سرگودھا روڈا اور جدید موٹر وے پر ے۔ اکلو میٹر کے فاصلے پر دریائے چناب کے قریب واقع ہے۔ یہ چاروں طرف سے شیخو پورہ، چنیوٹ، فیصل آبا د ننکانہ صاحب اور سرگودھا کے اضلاع میں گھر اہوا ہے۔ جبکہ خود اس کا ضلعی صدر مقام حافظ آباد اس کے شمال مشرق میں ۵۹ کلومیٹر کے فاصلے پر ہے ۔

جہاں تک اس قصبہ کی تاریخ کا تعلق ہے تو یہ قصبہ تقریبا آٹھ صدیاں قبل تغلق دور میں وجود میں آیا۔ جب جیسلمیر کے علاقے بھانیر سے اُٹھ کر آنے والے بھٹی قبیلہ کے افراد نے اس کی آباد کاری شروع کی۔ شروع شروع میں جو بھٹی افراد یہاں آئے وہ ادونامی شخص کے بیٹے تھے اور دادی لکھا اوریکول اور تاجو کے نام نامی سے پہچانے جاتے تھے۔ پہلے پہل یہ پنڈی بھٹیاں کے نواحی گاؤں باغ کہنہ میں بنجرا قبیلہ کے پاس آکر پناہ گزین ہوئے۔ پھر رفتہ رفتہ موجودہ مقام پنڈی بھٹیاں آ کر اپنے قبیلہ کے نام سے بستی قائم کر کے اس کی آباد کاری شروع کر دی اور رفتہ رفتہ اپنی تعداد اور قوت میں اس طرح اضافہ کرتے گئے کہ بالآخر علاقے میں اپنی عملداری قائم کر لی۔ حتی کہ مغل بادشاہ

۲۹۶

نگر نگر پنجاب

اکبر کے عہد میں یہاں کا دُلا بھٹی باغی ہو کر مغل صوبے دار کے مد مقابل آکھڑا ہوا ۔ والا بھٹی کی بہادری اور جرات سے متعلق کئی لوگ داستانیں اس سے منسوب کی جاتی ہیں اور انہی داستانوں کے سبب آج بھی مقامی تاریخ و ثقافت میں اس کا نام ایک بہادر اور نڈر ہیرو کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ بالآخر ۱۵۸۹ء میں مغلوں نے اسے گرفتار کر کے لاہور کے محلہ تنخاس میں تختہ دار پر لٹکادیا تھا۔

دلا بھٹی کی اکبر بادشاہ اور لاہور کے مغل صوبے دار کے ساتھ لڑائیوں سے قطع نظر سندرمندریے کی داستان کی وجہ ہ سے دُلا ڈلا بھٹی ہندوؤں میں بھی ایک مقبول کردار کے طور پر پہچانا جاتا ہے۔ یہ داستان مختصرا کچھ یوں ہے کہ پنڈی بھٹیاں کے قریبی گاؤں کوٹ نکہ میں ایک بڑا زمیندار جو نس پرست تھا۔ تمام لوگ اُس کے ڈر سے کا نہتے تھے۔ ایک دفعہ وہ ایک غریب ہندو مول چند کی خوبصورت لڑ کی سندر نہ کرسکتا تھا مگر غیر مذہب میں والڑ کی دینے کے لیے تیار نہ تھا۔ مندر ہے پر عاشق ہو گیا اور اُس کا رشتہ مانگا۔ مول چا چنانچہ وہ بھاگ کر پنڈی بھٹیاں ڈلا بھٹی ۔ بندی کے تحت دلا بھٹی نے مول چند کو کہا کہ وہ زمیندار کو بیٹی کے رشتہ کے لئے ہاں کر دے اور اس کی تاریخ مقرر کر دے۔ مول چند نے ایسا ہی کیا۔ دوسری طرف دلا بھٹی نے سانگلہ میں اپنے ایک ہندو دوست کے لڑکے سے سید رمندر ہے کار اسے شادی کی وہی تاریخ دی جو مول چند نے کوٹ تکہ کے زمیندار کو دی تھی۔ زمیندار کی بارات حج و ھیج کر مول چند کے دروازے تک کہ اُدھر والا بھٹی دوسری بارات بھی لے کر آ گیا۔ ڈلا بھٹی کے شیر جوانوں نے زمیندار کو بڑی مضبوطی سے پکڑ کر نیچے گر الیا اور اوپر سے جوتے برسانے شروع کر دیے اور وہ بھی ایسے پڑتے جیسے بادلوں میں بھی کڑکتی ہے۔ زمیندار کی جان کی خلاصی معانی ، تلنے پر ہوئی اور سندرمندریے کو اپنی بیٹی کہا۔ اس کے بعد سند رمند ریلے کی شادی ہندولڑ کے سے کر دی گئی اور شادی کی رسم میں ڈلا بھٹی خود سید رمندر ہے ۔ شریک ہوا۔ اس واقعہ کی نسبت سے لومڑی کے گیت

بنے اور تہوار منایا جانے لگا۔ یہ تہوار مشرقی پنجاب بھارت میں آج بھی بڑے جوش و خروش سے منا یا جاتا ہے "

انتظامی طور پر اکبر بادشاہ کے دور میں پنڈی بھٹیاں حافظ آباد پرگنہ میں شامل تھا۔ مغلوں کی حکمرانی کے آخری دور میں جب سکھوں نے پنجاب میں طاقت پکڑنی شروع کر دی اور ان کی کئی جنا جو شکلیں وجود میں آچکی تھیں تو پنڈی بھٹیاں کے بھٹی کسی حد تک بھنگی مثل کے زیر اثر آچکے تھے۔ یہاں کے بھٹی جھنگ کے سیالوں کے ماتحت بھی رہے۔ بعد ازاں راجہ رنجیت سنگھ ( جس کے متعلق ایک روایت یہ بھی بیان کی جاتی ہے کہ اس کا جدا مسجد کا لو پنڈی بھٹیاں کا رہنے والا تھا ) ۱۸۰۲ء میں پنڈی بھٹیاں پر حملہ آور ہوا ۔ اس وقت قصبہ چاروں طرف سے بلند فصیل کے اندر گھر اہوا تھا اور اندر داخل ہونے کے لیے چاروں طرف بڑے بڑے دروازے لگے ہوئے تھے۔ قصبہ کی آبادی رنجیت سنگھ کی فوجوں کے محاصرے اور توپوں کے خوف کی وجہ سے فصیل کے اندر محصور ہو کر روئی تھی جسے بالا خرسکھ فوجوں نے بغیر کسی قتل و غارت گری کے مطبع کر لیا۔ بھٹی قبیلہ کے افراد بھاگ کر جھنگ کے سیالوں کے ہاں پناہ گزین ہو گئے ۔ قبضے کے فورا بعد سکھوں نے مسلمانوں کے مذہبی مقامات کو شدید نقصان پہنچایا۔ بالخصوص قصبے کی شاہی مسجد کے صحن کو اسطبل میں بدل دیا گیا تھا ۔ انتظامی طور پر پنڈی بھٹیاں کے پورے علاقے کو کار دارد یوان ساون مل کے حوالے کر دیا گیا، کچھ سالوں بعد یعنی ۱۸۱۱ء میں رنجیت سنگھ نے جھنگ کے سیالوں کو شکست دے کر اس خال سیال کے ساتھ سکھوں نے نرمی اور ہمدردی کا سلوک کیا تو اس کی وساطت سے بھٹی سردار جلال خاں بھٹی کو بھی رنجیت سنگھ کی ہمدردی حاصل کرنے کا موقع مل گیا۔ چنانچہ وہ اور اس کا بینا رحمت خان وقتی طور پر رنجیت سنگھ کی ملازمت میں آگئے ۔ بعد ازاں جب انگریزوں نے

۲۹۷

نگر نگر پنجاب

پنجاب پر قبضے کے لیے سکھوں کے ساتھ لڑائیاں لڑیں تو بھٹی قبیلہ نے اپنے مقبوضات کی بحالی کے لیے انگریزوں کا بھر پور ساتھ دیا اور نجاب پر انگریزوں کی فتح کے ساتھ ہی یہ پنڈی بھٹیاں قصبہ کو دو بار اپنی دسترس میں لینے میں کامیاب ہو گئے۔

انگریزوں نے انتظامی طور پر پنڈی بھٹیاں کو تحصیل حافظ آباد اور ضلع گوجرانوالہ میں شامل کیا۔ اس عرصے کے دوران علاقے میں ریلوے، مواصلات تعلیم اور نہری نظام کو مربوط اور منظم کرنے کے لیے اقدامات اٹھائے گئے ۔ لاہور سے سرگودھا براستہ پنڈی بھلیاں پانی سڑک تعمیر ہوئی۔ پنڈی بھٹیاں میں تھانہ مدرسہ اور شفاخانہ قائم ہوئے۔ مدرسہ ۱۸۶۸ء میں جبکہ شفاخانہ ۱۸۸۳ء میں بنائ سیکس کی وصولی کے لیے بیدار مقرر ہوئے ۔ ان اقتصادی اور سماجی اصلاحات کا قصبہ کی زندگی پر خاطر خواہ اثر پڑا اور یہ لیسی تھی کی فروخت کا ایک بڑا مرکز بن گیا۔ ۱۸۷۷ ء میں برانڈ رتھ نج کے نام سے غلہ منڈی تعمیر کی گئی ۔ یہ منڈی آج کل سبزی وفروٹ منڈی کے طور پر کام کر رہی ہے۔

اس کے علاوہ چمڑے کی کا تھیوں اور جوتیوں کی تیاری کا کام بھی یہاں تیزی سے پھیلتا چلا گیا۔

۱۸۸۱ ء میں یہاں میونسپل کمیٹی قائم کی گئی ۔ دو سال بعد اسے ختم کر دیا گیا۔ پھر انیسویں صدی کے شروع میں اسے سمال ٹاؤن کمیٹی

بنایا گیا ۔ ۱۹۳۵ میں یہ ٹاؤن کمیٹی ۱۹۷۵ میں میونسپل کمیٹی اور ۱۹۷۹ء میں پھر ٹاؤن کمیٹی بنی ۲۰۰۰، میں نے ضلعی نظام کے نفاذ کے بعد قصبہ کو یو نین کونسل اور پوری تحصیل کے لیے تحصیل میونسپل ایڈ منسٹریشن کی حیثیت دی گئی ۔ ۲۰۱۵، میں اسے میونسپل کمیٹی بنادیا گیا۔ ٹاؤن کمیٹی کی انی عمارت انتہائی دکش اور قدیم تھی۔ یہ شیر شاہ سوری کے زمانے میں ایک سرائے تھی جسے انگریزی دور میں سرکاری افسران کے قیام کے لیے استعمال کیا جاتا رہا۔ یہاں کا تھانہ ۱۸۸۰ ء سے پہلے قائم ہوا جبکہ اس کی عمارت ۱۸۹۲ء میں تعمیر کی گئی۔ ۱۸۸۳ء میں شہر کے جنوبی طرف ایک یادگاری گیت تعمیر ہوا جسے انجینر کنہیالال نے بنوایا تھی جو ۲۰۱۵ء کے بارے میں خطرناک ہونے کی وجہ سے مسمار کر دیا گیا ہے۔ یہاں کا ہائی سکول نمبر اسب سے قدیم تعلیمی ادارہ ہے۔ ۱۸۶۸ء میں پرائمری سکول تھا۔ ۱۹۰۴ء میں ندل کا درجہ اور پھر ۱۹۲۶ء میں ہائی سکول بنا۔ ۱۹۴۰ء میں سکول کی موجود و عمارت مکمل ہوئی ۔ ۷ ۱۹۸ میں ہائر سیکنڈری کا درجہ حاصل ہوا۔ ڈگری کالج کے قیام کے بعد ۱۹۹۸ء میں ہائر حصہ ختم کر دیا گیا۔ گرلز پرائمری سکول ۱۹۳۰ء میں قائم ہوا۔ ۱۹۳۲ء میں اسے بدل ۱۹۶۰ء میں ہائی اور ۱۹۸۷ء میں ہائر سیکنڈری کا درجہ حاصل ہوا۔ لڑکوں کا ڈگری کالج ۱۹۹۶ء میں جبکہ لڑکیوں کا ۲۰۰۵ء میں قائم ہوا۔ ادارہ تحقیقات شور زدہ اراضیات ۱۹۸۲ء میں قائم ہوا۔ یہاں دو بڑے بازار ہیں ۔ ایک مین بازار اور دوسرا عاقل ( ڈاکخانہ بازار ) بازار کہلاتا ہے۔ صرافہ بازار بھی ہے۔ ان کے ساتھ کئی ملحقہ مارکیٹیں بھی ہیں۔ یہاں سبزی منڈی، غلہ منڈی ، ایڈیشنل سیشن رسول عدالتوں کے علاوہ تحصیل کونسل محکمہ مال اور تحصیل سطح کے کئی سرکاری دفاتر موجود ہیں ۔ یہاں چاول چھڑنے کے و سوت بنانے کے ۲ اور برف بنانے کے ۵ کارخانے ، ۵ سرکاری بنک ، ایک انشورنش کمپنی اور شور زدہ زمینوں کی تحقیقات کا ایک بڑا ادارہ بھی ہے۔ طلبا و طالبات کے الگ الگ ڈگری کالج ، ایک ٹیکنیکل کالج لڑکوں کے دو ہائی لڑکیوں کا ایک ہائیر سیکنڈری ، معذور بچوں کا سکول اور متعدد سرکاری وغیر سرکاری پرائمری و ندل سکول بھی قائم ہیں۔ میاں خیر محمد نون کی خانقاہ بھی ہے جس پر ہر سال ۲۱ بیساکھ کو میلہ لگتا ہے۔ ایک بزرگ میاں مردان شاہ نام کے بھی مدفون ہیں۔ پنڈی بھٹیاں میں ایک بڑا سنگ میلہ بنی سرور ہر سال مارچ کے پہلے ہفتے ( ۲۲۰ ۲۲ پھاگن ) ہوتا ہے۔ حضرت سخی سرور آٹھ سو سال قبل ایک تبلیغی سفر کے دوران پنڈی بھٹیاں میں قیام فرما ہوئے

تھے۔ انہی کی یاد میں یہ میلہ لگتا ہے۔ ۱۸۶۸ء میں پنڈی بھٹیاں شہر کی آبادی ۳۲۸۱ افراد تھی ۔ ۱۸۸۱ء میں یہ آبادی ۱۹۳۱،۳۵۲۸ء میں ۴۳۷۸ اور ۱۹۹۸ ء میں ۲۹۹۱۷ نفوس پر مشتمل تھی۔ یہاں ایک فلاحی ادارے انجمن اصلاح المسلمین کی قائم کردہ لائبریری بھی ہے۔ جس میں پانچ ہزار کتب کا ذخیرہ موجود ہے۔ بعض نادر قلمی نسخے اور قدیم سکے بھی ہیں۔ اس ادارے کے تحت ایک سکول اور بخت بھری ہسپتال بھی کام کر رہا ہے۔ یہاں کی شاہی جامع مسجد سب سے قدیم مسجد ہے جو عہد شاہجہاں میں تعمیر ہوئی ۔ آج کل تعمیر نو کے مراحل میں ہے۔ ہندوؤں کی عبادت گا اورگھوناتھ مندر کی تعمیر ۱۹۰۰ء میں ہوئی تھی۔ اب پیشکستگی کی حالت میں ہے۔ سناتن دھرم اور آریہ سماج کے مندر بھی تھے۔ ان کی جگہ اب لڑکیوں کے سکول قائم ہو چکے ہیں۔

محلہ کمر کوند، مروان شاد محله عالی، جہانگیر پورہ، غریب پورہ، محلہ سرا جاں، نواب پوره محله غربی علی ٹاؤن، حمزہ ٹاؤن، حسن پوره حسین پورہ محلہ فاروق اعظم تقبل گڑ ھا و غیرہ یہاں کی رہائشی بستیاں ہیں جبکہ مین بازار، عاقل بازار صرافہ بازار، چوک سرا جاں سیبزی منڈی، محلہ منڈی، لاہور ، چنیوٹ ، حافظ آباد اور تین روڈ اہم تجارتی مراکز ہیں۔ کاٹھیوں اور چھڑے کا کام ماضی کی طرح اب بھی ہوتا ہے۔ ماضی میں یہاں کی چھڑے کی کاٹھیاں اور تمدے بہت مشہور رہے ہیں۔ سکھ اور انگریزی دور میں فوج کے گھوڑوں کے لیے بھی کاٹھیاں فراہم کی جاتی تھیں۔ گندم، چاول اور گنا یہاں کی اہم فلمیں ہیں۔ یہاں کا چاول بہترین کوالٹی کا حامل ہوتا ہے اور بیرون ملک بھی سپلائی کیا جاتا ہے۔ چنڈی بھٹیاں کو ڈلے دی بار کے مرکزی مقام کی حیثیت حاصل ہے۔

شعر وادب کے حوالے سے یہاں سے تعلق رکھنے والی نمایاں شخصیات میں میاں محمد دین، حکیم میاں عمرالدین، جیون پر کاش جیون ، ڈکی سرور کوئی ، برکت رام مباشہ، پروفیسر شفقت حسین شفقت ، دوست محمد عاصی، میله رام محمد اصغر منشا، مک محمد خان وٹو ، ہرکشن سید یو، رائے محمد کمال احمد سبحانی آکاش بینی صفدر از رقا تبسم تنویر لا ریب ، وحید شیخ ، اسد سلیم شیخ، بابر مراز محمد بشیر دیوانده، رفیق شاکر صفدر ساقی اور معین عباس شاہ کے نام قابل ذکر ہیں ۔ ان میں سے میاں محمد دین پنڈی بھٹیاں کے قریبی گاؤں کوٹ بدر دین المعروف بھیجنے میں ۱۸۵۰ء میں پیدا ہوئے ۔ وہ عالم دین اور پنجابی کے بہترین شاعر تھے۔ آپ کی تصانیف میں مرزا صاحباں، سورۃ مزمل کا پنجابی منظوم ترجمہ "نور مکمل شرح دیوان ہا ہو، نکتہ وحدت ، پانچ منج محمدی اور چرمہ حقانی وغیرہ شامل ہیں ۔ اس صوفی شاعر کا انتقال ۱۹۲۵ء میں ہوا اور اپنے گاؤں میں مدفون ہوئے۔ حکیم میاں عمرالدین ۱۸۲۰ ء کے لگ ؟ با پیدا ہوئے ۔ ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی کے بعد پنڈی بھٹیاں آگئے اور درس و تدریس کے شعبے سے وابستہ ہوئے۔ آپ شخص تھے۔ آپ نے صوبہ شمال مغربی کے لیفٹیننٹ گورنر جیمز تھامسن کے کہنے پر اردو انشا پردازی کی کتاب لکھی۔ اس کے علا و و آ. لب علم رمل اور علم نجوم پر بھی کتب لکھیں۔ ان کے خاندان سے دوست محمد عاصمی اور ان کے بیٹے محمد صدر ساتی بھی انہی کے نقش قدم پر چلے۔ جیون پر کاش جیون جو سو کے لگ بھگ کتب کے مصنف ہیں آج کل دہلی میں مقیم ہیں ۔ وہ ۱۹۱۸ء میں پنڈی بھٹیاں میں پیدا ہوئے ۔ بڑے انقلابی خیالات کے مالک ہیں۔ تقسیم ملک کے وقت بھارت چلے گئے تھے۔ ویر درشن ، جیون پھلواری، رون پر ویپ ، قومی گیت گرانتی کاری ، دیانند، ولیش گیت ، برفانی آگ، جی چاہتا ہے، پرزہ پرز دکٹ، اب منزل قریب ہے ، امرتسر دے لوک، انمول ہندی اور انمول پنجابی وغیرہ آپ کی اہم تصانیف ہیں۔ پروفیسر شفقت حسین شفقت پنڈی بھٹیاں کے قریبی موضع عطارانوالہ میں پیدا ہوئے۔ مختلف کالجز میں پڑھاتے رہے اور ۲۰۰۷ء میں فیصل آباد میں وفات پائی۔ لوں لوں جگہ سے دیوے ان کا پنجابی جبکہ " ساکت روشنیاں اردو شعری مجموعہ شائع ہوا۔ پروفیسر وحید شیخ کا شعری مجموعہ برگ وفا، شاعر اپنی صفدر کے شعری مجموعے ” تمہیں تو میرا ہونا تھا ، یہ ہجر ہے یا وصال ہے اور محبت آئینہ کرلو، زرقا تقیسم کا شعری مجموعہ " فاصلے تو میرے اپنے ہیں شائع ہوا۔ رفعت حمید بھی اس علاقے کی شاعرہ میں ان کا تعلق قریبی گاؤں " و دروڑ سے ہے۔ رائے محمد کمال درس و تدریس کے شعبے سے وابستہ رہے آج کل وکالت کے پیشے سے مسلک ہیں۔ کئی کتا بیں تحریر کیں۔ ان میں غازی علم الدین شہید، گلاب ہونٹوں کے دائرے ، ناوک فکر ، مقرر بنئے سازشوں کا دیباچہ ، لاز وال لوگ ، با کمال تقریر میں اور ناموس رسالت کے سات شہید شامل ہیں۔ نوجوان شاعر احمد سبحانی آکاش جن کا تعلق پنڈی بھٹیاں سے ہے اور آج کل لاہور میں مقیم ہیں ان کے تین شعری مجموعے سرمژگاں ، عرض تمنا اور ” پس گماں“ شائع ہو چکے ہیں۔ اُردو اور پنجابی کے شاعر محمد بشیر دیوانہ کا پنجابی منظوم کلام پچھوکڑ دی لاٹ کے نام سے شائع ہوا جبکہ انہوں نے دیوان حضرت علیؓ کا منظوم ترجمہ بھی کیا ہے۔ پروفیسر اسد سلیم شیخ (راقم الحروف ) درس و تدریس کے شعبے سے وابستہ ہیں اور آج کل گورنمنٹ ڈگری کالج پنڈی بھٹیاں میں بطور پرنسپل تعینات ہیں۔ ان کی متعدد کتب شائع ہوئیں۔ ان میں افغان مہاجرین، رسول اللہ کی خارجہ پالیسی، انسائیکلو پیڈیا تحریک پاکستان، پاکستان جمہوریت اور انتخابات، اسلامک ورلڈ آرڈر، ڈتے دی بار، وسیب ، حاکمان پنجاب، نواب سعد اللہ خاں ( تاریخ کا پہلا پنجابی وزیر اعظم ) ، گھوم لیا پاکستان ( سفرنامہ ) ٹھنڈی سڑک ( مال روڈ لاہور ) ، کچھ سفر بھولتے نہیں ، نگر نگر پنجاب ، شجر کہانی ، عہد مغلیہ کا پنجاب، پنجاب کا علمی وادبی ورثہ اور ہماری دستوری تاریخ شامل ہیں۔ معین عباس احمد عباس طور، ساجد حسین امیر بھی یہاں کے نو جوان شاعر ہیں۔ جماعت احمد یہ کے نامور مبلغ دوست محمد شاہد کا تعلق بھی پنڈی بھٹیاں سے تھا۔ وہ کئی کتب کے مصنف تھے۔

پنڈی بھٹیاں کی آبادی ۱۹۸۱ء میں ۱۶۸۱۹ جبکہ ۱۹۹۸ ء کی مردم شماری کے مطابق ۲۹۹۱۷ نفوس پر مشتمل تھی ۔ ۲۰۱۷ ء کی مردم شماری کے مطابق اس کی آبادی ۵۵۵۱۵ نفوس پر مشتمل ہے۔
Pindi Bhattian

03/11/2025

تحریر: "توقعات اور حقیقت"انسان جب تک دوسروں کی مرضی کے مطابق چلتا ہے، تب تک "اچھا"، "سمجھدار" اور "محترم" کہلاتا ہے، لیک...
19/06/2025

تحریر: "توقعات اور حقیقت"

انسان جب تک دوسروں کی مرضی کے مطابق چلتا ہے، تب تک "اچھا"، "سمجھدار" اور "محترم" کہلاتا ہے، لیکن جیسے ہی وہ اپنی رائے، اپنی ترجیح یا سچائی بیان کرتا ہے، تو اکثر یہی لوگ اسے "بدتمیز"، "خود غرض" یا "بدگمان" کہنے لگتے ہیں۔
اصل میں یہ مسئلہ آپ میں نہیں، اُن کی سوچ میں ہوتا ہے جو دوسروں سے وہی کچھ سننا چاہتے ہیں جو اُنہیں پسند ہو۔
لوگ اپنی غلطیوں کو بھی دوسروں پر ڈالنے میں دیر نہیں لگاتے۔
اسی لیے زندگی میں سکون چاہتے ہو تو لوگوں سے کم توقع رکھو، کیونکہ توقعات ہمیشہ درد دیتی ہیں۔
اپنی ذات کو پہچانو، سچ پر قائم رہو، اور دل کو اللہ کے سپرد کرو۔
یاد رکھو! جو تم سے واقعی محبت کرے گا، وہ تمہیں تمہاری سچائی سمیت قبول کرے گا۔

14/05/2025

نہیں دبانا تھا ۔۔۔۔۔۔۔🤣
🇵🇰

ہر تعلق کہیں نہ کہیں مان توڑ دیتا ہے ۔۔۔ نعیم رائٹس
22/04/2025

ہر تعلق کہیں نہ کہیں مان توڑ دیتا ہے ۔۔۔ نعیم رائٹس

04/12/2024

سنا ہے جنگلوں کا بھی کوئی دستور ہوتا ہے 😞
Naeem Writes

نعیم رائٹس  🔥
10/10/2024

نعیم رائٹس 🔥

نعیم رائٹس 🖋
03/11/2023

نعیم رائٹس 🖋

Address

Hafizabad

Telephone

+923017970655

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Naeem Writes posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share