10/03/2023
سامان سے لدا ہوا ایک بحری جہاز محو سفر تھا کہ تیز ہواوں کی وجہ سے وہ الٹنے لگا ۔
قریب تھا کہ جہاز ڈوب جاتا ،
اس میں موجود تاجروں نے کہا کہ بوجھ ہلکا کرنے کیلئے کچھ سامان سمندر برد کرتے ہیں ۔
تاجروں نے مشورہ کرکے طے کیا کہ سب سے زیادہ سامان جس کا ہو ، وہی پھینک دیں گے ۔
جہاز کا زیادہ تر لوڈ ایک ہی تاجر کا تھا ۔
اس نے اعتراض کیا کہ صرف میرا سامان کیوں ؟
سب کے مال میں سے تھوڑا تھوڑ پھینک دیتے ہیں ۔
انہوں نے زبردستی اس نئے تاجر کو سامان سمیت سمندر میں پھینک دیا ۔
قدرت کی شان کہ سمندر کی موجیں اس کے ساتھ کھیلنے لگیں ۔
اسے اپنی ہلاکت کا یقین ہوگیا ، جب ہوش آیا تو کیا دیکھتا ہے کہ لہروں نے اسے ساحل پر پھینک دیا ہے ۔
یہ ایک غیر آباد جزیرہ تھا ۔
جان بچنے پر اس نے رب کا شکر ادا کیا ۔
اپنی سانسیں بحال کیں .
وہاں پڑی لکڑیوں کو جمع کرکے سر چھپانے کیلئے ایک جھونپڑی سی بنائی .
اگلے روز اسے کچھ خرگوش بھی نظر آئے ۔
ان کا شکار کرکے گزر بسر کرتا رہا ۔
ایک دن ایسا ہوا کہ وہ کھانا پکا رہا تھا کہ اس کی جھونپڑی کو آگ لگ گئی ۔
اس نے بہت کوشش کی ، مگر آگ پر قابو نہ پا سکا ۔اس نے زور سے پکارنا شروع کیا ،
تو نے مجھے سمندر میں پھینک دیا ۔
میرا سارا سامان غرق ہوگیا ۔
اب یہی جھونپڑی تھی میری کل کائنات ، اسے بھی جلا کر راکھ کر دیا ۔
اب میں کیا کروں؟
یہ شکوہ کرکے وہ خالی پیٹ سو گیا ۔
صبح جاگا تو عجیب منظر تھا ۔
دیکھا کہ ایک کشتی ساحل پر لگی ہے اور ملاح اسے لینے آئے ہیں ۔
اس نے ملاحوں سے پوچھا کہ تمہیں میرے بارے میں کیسے پتہ چلا ؟
انہوں نے جو جواب دیا ، اس سے تاجر حیران رہ گیا۔
ملاحوں نے کہا کہ
ہمیں پتہ تھا کہ یہ جزیرہ غیر آباد ہے ، لیکن دور سے دھواں اٹھتا ہوا نظر آیا تو سمجھے شاید کوئی یہاں پھنسا ہوا ہے ، جسے بچانا چاہئے ۔
اس لئے ہم تمہارے پاس آئے ۔
پھر تاجر نے اپنے پورا قصہ سنایا تو ملاحوں نے یہ کہہ کر اسے مزید حیران کر دیا کہ جس جہاز سے تمہیں سمندر میں پھینکا گیا ، وہ آگے جا کر غرق ہوگیا تھا ۔ ۔ ۔ ۔
کچھ انہونیوں کے لئے دل میں جگہ رکھنی چاہئے ، ورنہ سوائے گلے شکوے کے کچھ باقی نہیں رہتا