BANNU TOWN SHIP

BANNU TOWN SHIP BANNU TOWN SHIP is a useful source for General knowledge Entertainment,events and trying to provide a platform to raise issues and problems of Bannu.
(1)

⚠️ گمشدہ بچے کی تلاش ⚠️یہ بچہ مغاز ولد ابرار ہے، جس کا تعلق خوجڑی جانہ سے ہے۔آج صبح یہ نیو سبزی منڈی میں اپنی خالہ کے گھ...
27/04/2026

⚠️ گمشدہ بچے کی تلاش ⚠️
یہ بچہ مغاز ولد ابرار ہے، جس کا تعلق خوجڑی جانہ سے ہے۔
آج صبح یہ نیو سبزی منڈی میں اپنی خالہ کے گھر سے نکلا تھا اور تاحال واپس نہیں آیا۔
اگر کسی کو یہ بچہ کہیں نظر آئے تو خدارا فوراً اس نمبر پر رابطہ کریں:
📞 0332-5405000

لقمان حکیم نے اپنے بیٹے سے فرمایا fans
27/04/2026

لقمان حکیم نے اپنے بیٹے سے فرمایا
fans

 fans
26/04/2026

fans

26/04/2026

اور اس کھیل کی قیمت ہمیشہ عوام ہی ادا کرتی ہے یہ ریلیف نہیں، بس اعداد و شمار کا کھیل ہے…
شہباز شریف کا وژن کچھ یوں نظر آتا ہے:
پہلے پیٹرول 137 روپے مہنگا کیا، پھر 80 روپے سستا کیا، پھر مزید 12 روپے کمی… اور اب دوبارہ 26 روپے اضافہ!
یعنی آخرکار عوام وہیں کھڑے ہیں جہاں سے چلے تھے—قیمت پھر تقریباً 397 روپے کے آس پاس۔۔۔

25/04/2026

تاریخ دانوں نے روایت کیا ہے کہ عمر بن خطابؓ، جنہیں ان کی سختی اور قوت کے لیے جانا جاتا ہے، ایک دن مدینہ میں لوگوں کے لیے کھانے کے دسترخوان لگا رہے تھے۔ انہوں نے ایک شخص کو بائیں ہاتھ سے کھاتے ہوئے دیکھا، تو پیچھے سے آ کر کہا:
"اے عبداللہ! دائیں ہاتھ سے کھاؤ۔"
اس شخص نے جواب دیا: "اے عبداللہ! میرا دایاں ہاتھ مصروف ہے۔"
عمرؓ نے دوبارہ یہی بات کہی۔
شخص نے پھر وہی جواب دیا۔
عمرؓ نے پوچھا: "اسے کیا مصروفیت ہے؟"
تو اس نے جواب دیا: "یہ ہاتھ غزوۂ مؤتہ میں زخمی ہوا تھا، اب حرکت نہیں کرتا۔"
یہ سن کر عمرؓ اس کے پاس بیٹھ گئے اور رونے لگے، اور سوالات کرنے لگے:
"تجھے وضو کون کراتا ہے؟
تیرے کپڑے کون دھوتا ہے؟
تیرا سر کون دھوتا ہے؟
اور۔۔۔ اور۔۔۔ اور۔۔۔؟"
اور ہر سوال کے ساتھ ان کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔
پھر انہوں نے اس کے لیے ایک خادم، ایک سواری اور کھانے کا بندوبست کیا، اور اس سے معذرت کرنے لگے کہ انہوں نے نادانستہ طور پر ایسی بات کہہ دی جو اسے تکلیف دے گئی۔
اسی طرح قوانین بنتے ہیں...
عمرؓ رات کو مدینے کی گلیوں میں گشت کرتے تھے، نہ کہ رعایا پر نظر رکھنے کے لیے، بلکہ ان کے حالات جاننے کے لیے۔
ایک رات انہوں نے ایک دیہاتی عورت کو اپنے شوہر کی یاد میں اشعار پڑھتے سنا:
"طویل ہو گیا ہے یہ رات، اور اس کا اندھیرا بڑھ گیا ہے
مجھے نیند نہیں آتی کہ میرا محبوب میرے ساتھ نہیں
اگر نہ ہوتی وہ ذات جس کا عرش آسمانوں پر ہے
تو یہ بستر میرے ہجر کی شدت سے ہل گیا ہوتا"
امیر المؤمنین قریب آئے، سنا، اور پھر دروازے کے پیچھے سے پوچھا:
"اے بہن! کیا ہوا؟"
عورت نے جواب دیا:
"میرے شوہر کئی مہینوں سے جہاد کے لیے گئے ہوئے ہیں، میں انہیں یاد کرتی ہوں۔"
عمرؓ فوراً اپنی بیٹی حفصہؓ کے پاس گئے اور پوچھا:
"عورت اپنے شوہر کی جدائی کتنے عرصے برداشت کر سکتی ہے؟"
بیٹی شرما گئی اور سر جھکا لیا، تو عمرؓ نے عاجزی سے کہا:
"اللہ حق کہنے سے نہیں شرماتا، اگر یہ سوال رعایا کے معاملے کے لیے نہ ہوتا تو میں نہ پوچھتا۔"
حفصہؓ نے جواب دیا:
"چار، پانچ یا چھ مہینے۔"
عمرؓ واپس گئے اور تمام فوجی کمانڈروں کو لکھا:
"فوجوں کو چار ماہ سے زیادہ نہ روکا جائے۔"
یوں عورت کے ایک فطری حق کی بنیاد پر ایک قانون بنا۔
یہ قانون ریاست نے نہیں، بلکہ معاشرے (ایک دیہاتی عورت اور حفصہؓ) نے تشکیل دیا۔ ریاست نے صرف اسے نافذ کیا۔
اسی طرح عورت کا قانون تشکیل پایا۔
ایک رات عمرؓ گشت پر تھے تو ایک بچے کی رونے کی آواز سنی۔ قریب گئے اور پوچھا:
"کیا ہوا بچے کو؟"
ماں نے کہا:
"میں اسے دودھ چھڑوا رہی ہوں، اس لیے رو رہا ہے۔"
ظاہر ہے، یہ عام بات تھی۔ لیکن عمرؓ نے اس سے بات چیت کی تو معلوم ہوا کہ وہ عورت صرف اس لیے بچے کو وقت سے پہلے دودھ چھڑا رہی ہے تاکہ بیت المال سے ملنے والے سو درہم حاصل کر سکے، جو صرف دودھ چھڑانے کے بعد دیے جاتے تھے۔
عمرؓ گھر واپس گئے، مگر نیند نہ آئی۔ اس بچے کی سسکیوں نے دل کو جھنجھوڑ دیا تھا۔
انہوں نے فوراً حکم جاری کیا:
"بچے کو پیدائش کے وقت ہی سے سو درہم دیے جائیں، نہ کہ دودھ چھڑانے کے بعد۔"
یوں بچوں کے لیے قانون بنا جو ان کی مناسب غذا اور صحت کا ضامن بن گیا۔
اگر عمرؓ اس عورت سے گفتگو نہ کرتے تو یہ قانون نہ بنتا۔
یوں بچے کا قانون بھی تشکیل پایا۔
عمرؓ کو اپنے بھائی زید سے محبت تھی، جو حروبِ ارتداد میں شہید ہو گئے تھے۔
ایک دن بازار میں عمرؓ کی ملاقات زید کے قاتل سے ہوئی، جو اب مسلمان ہو چکا تھا۔
عمرؓ نے غصے سے کہا:
"اللہ کی قسم! میں تجھ سے اتنی نفرت کرتا ہوں جتنا زمین بہتے ہوئے خون سے کرتی ہے!"
اعرابی نے پوچھا:
"کیا اس نفرت سے میرے حقوق متاثر ہوں گے، اے امیر المؤمنین؟"
عمرؓ نے کہا:
"نہیں۔"
تو اعرابی نے بے پروائی سے کہا:
"محبت کا غم تو عورتیں کرتی ہیں۔"
(یعنی مجھے تمہاری محبت کی پروا نہیں، میرے اور تمہارے درمیان صرف حقوق اور فرائض کا رشتہ ہے)
عمرؓ نے غصے کے باوجود نہ اسے جیل بھیجا، نہ سزا دی۔
اس کی آزادی رائے کا احترام کیا۔
یوں معاشرے میں آزادیِ اظہار کا قانون بنا۔
ایک عورت نے ایک جمعے کے خطبے کے دوران کہا:
"اے عمر! تم غلطی پر ہو۔"
یہ اس وقت ہوا جب عمرؓ نے مہر کی حد مقرر کرنے کا قانون تجویز کیا۔
وہ عورت عام تھی، مگر اس کی دلیل درست تھی۔
عمرؓ نے نہ اسے گرفتار کیا، نہ سزا دی، نہ شرمندہ کیا، بلکہ علی الاعلان کہا:
"عمر غلطی پر تھا، اور عورت نے درست کہا۔"
اور اس قانون کو واپس لے لیا۔
یوں مہر کی مقدار کا فیصلہ معاشرے پر چھوڑ دیا گیا۔
یوں قوانین بنتے ہیں۔۔۔ معاشرے کی ضرورت، خواہش، روایت، اور فطری تقاضوں سے۔
قانون نہ ایوان اقتدار میں بنتے ہیں، نہ محلات میں، بلکہ لوگوں کی نبض پر ہاتھ رکھ کر، ان کی حالت سن کر، ان سے سیکھ کر۔
اصل قانون ساز معاشرہ ہے،؛ اقتدار
نہیں۔\

فاطمہ۔ قمر۔ کے قلم سے
#بنوں
fans

24/04/2026

چھت میری… دیواریں میری… محنت کی کمائی میری…
اور سورج؟ وہ تو اللہ کا دیا ہوا ہے، سب کے لیے برابر۔
آخر کیوں میں اپنی ہی چھت پر، اپنی ہی کمائی سے لگائے گئے سولر کے لیے کسی سے اجازت مانگوں؟

اپنے آس پاس گاؤں، پڑوسی میں رہنےو الے معزور افراد کیلئے آن لائن اپلائی کرے تاکہ انکو الیکٹرک ویل چیئر، ٹرائی سائیکل یا د...
24/04/2026

اپنے آس پاس گاؤں، پڑوسی میں رہنےو الے معزور افراد کیلئے آن لائن اپلائی کرے تاکہ انکو الیکٹرک ویل چیئر، ٹرائی سائیکل یا دیگر سامان مل سکے، معزور افراد سے درخواستیں مطلوب ہیں، آن لائن اپلائی کیلئے درج لنک پر کلک کرے۔

http://mis.swkpk.gov.pk/swkpk/dist_assist_disable
#بنوں

اہم اطلاع برائے مسافرانِ عادل کوچزتمام معزز مسافروں کو مطلع کیا جاتا ہے کہ منڈی موڑ 26 نمبر سمیت تمام ٹرمینلز عارضی طور ...
23/04/2026

اہم اطلاع برائے مسافرانِ عادل کوچز
تمام معزز مسافروں کو مطلع کیا جاتا ہے کہ منڈی موڑ 26 نمبر سمیت تمام ٹرمینلز عارضی طور پر بند کر دیے گئے ہیں۔
اب عادل کوچز کی تمام گاڑیاں اور متعلقہ عملہ ترنول (Tarnol) ملنگ جان ریسٹورنٹ میں موجود ہوں گے۔ لہٰذا تمام مسافروں سے گزارش ہے کہ اپنی روانگی کے لیے مذکورہ مقام پر تشریف لائیں۔
📞 مزید معلومات کے لیے رابطہ کریں:
0306-5906003
0308-5777695
آپ کے تعاون کا شکریہ۔
عادل کوچز انتظامیہ
#بنوں

23/04/2026
بنوں ڈیویلپمنٹ اتھارٹی کی جانب سے جاری اشتہار اپنی جگہ، مگر زمینی حقائق اس کے برعکس نظر آتے ہیں۔ خاص طور پر سیورج کے نظا...
21/04/2026

بنوں ڈیویلپمنٹ اتھارٹی کی جانب سے جاری اشتہار اپنی جگہ، مگر زمینی حقائق اس کے برعکس نظر آتے ہیں۔ خاص طور پر سیورج کے نظام کی حالت انتہائی تشویشناک ہے، جو مکمل توجہ اور فوری اصلاح کا تقاضا کرتی ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ صرف اشتہارات تک محدود رہنے کے بجائے عملی اقدامات کیے جائیں، تاکہ عوام کو حقیقی سہولیات میسر آ سکیں۔ امید ہے متعلقہ ادارہ عوامی مسائل کو سنجیدگی سے لے گا اور بہتری کے لیے مؤثر اقدامات کرے گا۔
بنوں ڈیویلپمنٹ اتھارٹی نےجو فوائد بیان کیے ہیں وہ کمنٹ میں دیکھ لیں

21/04/2026

الحمدللہ اندرونِ شہر کی سڑکیں کھل گئی ہیں۔ دعا ہے کہ باقی تمام راستے بھی جلد کھل جائیں اور ہمارے شہر و اطراف میں ہر طرف امن و امان قائم ہو، تاکہ عوام سکون اور اطمینان کے ساتھ اپنی زندگی گزار سکیں۔
fans

20/04/2026

#بنوں امن پاسون کے مشرپروفیسرابراہیم کیساتھ اہم انٹریو
کیا پرآمن احتجاج سے آمن اور روڈ کھول دئیے جائینگے؟
کیا بنوں کے عوام اب بھی آمن کی امید رکھے؟
سول انتظامیہ کے ساتھ جو روڈز تھے وہ انہوں نے کھول دیے ہیں کوٹ بارڑا کوٹ عادل کوٹ دائم اور امندی کے روڈز ارمی کے ساتھ بات چیت کر کے کھول دیے جائیں گے۔۔۔
#بنوں

Address

@townbannu
Gulzar
28020

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when BANNU TOWN SHIP posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share