Syèd wrîtés

Syèd wrîtés سب کا اچار :اچھی پوسٹ اچھی باتیں مزاق مستی دکھ سب ملے گا یہاں Zamindar College

یکم محرم الحرام وصالِ حضرت عمر فاروق
18/07/2023

یکم محرم الحرام وصالِ حضرت عمر فاروق

06/01/2023

انور مسعود کی کہانی ان کی بیٹی کی زبانی

لینہ حاشر

برسوں پہلے بھی قلم نے ہمت کرنے کی سوچی تھی۔ کانپتے ہاتھوں سے مدد مانگی تھی۔ سال ہا سال حروف سے بنائے گئے گھنے جنگلوں میں پھرتی رہی پر سب کچھ لا حاصل رہا ۔ جب یہ بات سمجھ میں آ گئی کہ ایسے کوئی اچھوتے الفاظ جن کی مجھے تلاش تھی بنے ہی نہیں، جن سے اپنے والد کے بارے میں لکھ سکوں تو پھر اپنے ہی سیدھے سادھے انداز میں کچھ لکھنے کی جرات کر رہی ہوں۔ پہلے کچھ ان کے کلام کے بارے میں پھر ان کی زندگی کے بارے میں لکھنے کی کوشش کروں گی۔
یہ ہنسنے ہنسانے والے انور مسعود اپنے دل میں بہت دکھ سمیٹے ہوئے ہیں۔ ان گنت دکھ تھے جن سے ان کا وجود سلگتا تھا اور یہ غم ان کی ذات تک محدود نہ تھے۔ انہوں نے زمانے کے دکھوں کو بھی اپنے اندر ہی سمیٹا۔ انہی غموں نے ان کے دل کو جلا کر راکھ کیا۔ پھر اسی راکھ میں اپنے آنسو ٹپکا کر قلم کی نوک سے انہوں نے مزاح لکھنے کا آغاز کیا۔
وہ زمانے کی ناہمواریوں کو اس انداز سے اپنے شعروں میں پروتے ہیں جیسے سوئی سے موتی کو لباس میں پرویا جاتا ہے۔ نشان کسی کو نظر نہیں آتے صرف خوبصورتی دکھائی دیتی ہے۔ لوگوں کے چہروں پر مسکراہٹ لانے کے لیے اکثر اپنے دل کو زخمی کر جاتے ہیں۔ ان کے قہقہوں کی گونج میں مجھے اکثر دکھوں کی سرگوشیاں سنائی دیتی ہیں۔
بات اگر شاعری کی کی جائے تو یہ کہنا بجا ہو گا کہ انور مسعود الفاظ کی سلطنت پر راج کرتے ہیں وہ ان کا استعمال اس انداز سے کرتے ہیں کہ الفاظ بھی ان کی رعایا ہونے پر نازاں رہتے ہیں ۔ اپنی نظموں کو تخلیق کرتے ہوئے اپنے خیالات کے سمندر میں اتر جاتے ہیں اور سوچ کی گہرائی سے نکالے گئے سچے موتیوں کو نظموں میں سجا دیتے ہیں۔
میرے نزدیک والد محترم شاعری کے آل راؤنڈر ہیں۔ وہ جانتے ہیں لوگوں کے دلوں کو کس طرح دھڑکانا ہے۔ سامعین کی آنکھوں سے برسات کی جھڑی کو باندھنا ہے تو کس نظم کا انتخاب کرنا ہے۔ طنز کے تیر چلانے ہیں تو کون سے شعروں کی کمان استعمال ہو گی اور قہقہوں کی گونج سے محفل میں رنگ بھرنا ہے تو کون سا قطعہ نذر کرنا ہے۔
ان کی شاعری سراپا محبت ہے۔ وہ محبت کا رنگ اس انداز سے اپنے اشعار میں بکھیر دیتے ہیں کہ قوس قزح کے سات رنگ آنکھوں میں ڈھل جاتے ہیں۔ ماں کی محبت کا اظہار ہو تو اسی طرح بیان کرتے ہیں کہ کسی بھی سنگ دل کو موم کر جاتے ہیں۔ اس کی ایک خوبصورت ترین مثال امبڑی ہے۔ جس کو لکھنے میں ان کی دس سال کی محنت کار فرما تھی۔ میں اکثر اپنے والد سے کہتی ہوں کہ” ابو ترازو کے ایک پلڑے میں آپ کا سارا کلام اور دوسری طرف امبڑی رکھ دی جائے تو میرے نزدیک امبڑی کا پلڑا ہی بھاری رہے”۔
خوشی اور غم ان کے اندر بیٹھے وہ بچے ہیں جو ان کے جذبات کو اس ڈھنگ سے بیان کرتے ہیں کہ جب بھی بزم میں ان کو دعوت کلام دی جاتی ہے تو لوگ اس ہی شش و پنج میں رہتے ہیں۔ کہ اب ان کے چہروں پر مسکراہٹ کا رنگ بکھرے گا یا پھر وہ غموں کی چادر اوڑھے اپنے گھروں کو لوٹیں گے۔
ان کی زندگی صبر، محنت، مشقت اور قناعت کی ایک ناقابل یقین داستان ہے۔ والد صاحب بہت ہی حساس طبیعت کے مالک ہیں۔ وہ اس کیفیت سے واقف ہیں جب بھوک کی شدت آپ کو بے قابو کر رہی ہو اور صبر سے پیٹ بھرنا پڑے تو آپ پر کیا گزرتی ہے۔ وہ مشکل سے مشکل وقت میں بھی چیزوں کے انتخاب میں مثالی رہے ہیں۔ کمائی کے چار سو روپے ہو اور گھر کا چلانے کا خرچہ، ماں کی دوائیاں یا پھر اپنے چھالے بھرے پیروں کے لیے چپل میں انتخاب تو سب سے پہلے ماں کی دوائیاں لانے کو فوقیت دینا جانتے تھے۔
آج کے آسودہ انور مسعود نے وہ دور بھی دیکھا ہے جب وہ اپنی بھوک کو ایک دودھ کی کٹوری سے مات دینے کی کوشش میں ساری رات کروٹیں بدلتے رہتے تھے۔ مال روڈ کی سڑکوں سے بلاناغہ میلوں پیدل چلتے تھے۔ آبلے پڑے پیروں میں ٹوٹی ہوئی چپل کو سڑک پر گھسیٹنے کی صاف آواز شاید اب بھی ان کو سنائی دیتی ہے۔
عام طور پر ہمارے معاشرے میں گھروں میں والد کا نام بچوں کو ڈرانے کے لیے مائیں استعمال کرتی۔ہیں مگر ہم سب بچے اپنی امی سے ڈرتے ہیں۔ ابو کے احترام کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے ان سے ہنسی مذاق اور لاڈ پیار کرتے رہتے ہیں ۔
سنا ہے کہ ادیبوں کو اپنی تحریر اپنی اولاد کی طرح عزیز ہوتی ہیں بچپن میں ابو اپنے خیالات کو نظم کی شکل دینے میں مصروف تھے انہوں نے مجھے پانی کا گلاس لانے کو کہا اور میں کھیلتی کودتی پانی لیے والد کے پاس پہنچی۔ مجھ سے ان کے صفحات پر پانی سے بھرا گلاس گر گیا۔ میں سہمی ہوئی کھڑی تھی۔ ابو نے میری طرف دیکھا اور مسکراتے ہوئے بس اتنا کہا کہ” بیٹا تم نے میری محنت پر پانی پھیر دیا ہے”
نہایت ہی شفیق باپ ہونے کے ساتھ ساتھ بہت ہی تابع فرمان شوہر بھی ہیں والدہ کی بے پناہ عزت کرتے ہیں یہ عزت صرف اس لیے نہیں کی جاتی کہ ہر شوہر پر لازم ہوتی ہے بلکہ یہ محبت، خلوص، وفاداری اور عقیدت بےسبب نہیں۔ اصل میں امی ان کی استاد بھی رہ چکی ہیں ابو نے قرآن پاک اور اس کی تفسیر امی سے ہی پڑھی ہے اور استاد کا احترام کرنا کوئی والد محترم سے سیکھے۔ ایک دن امی اپنی چپل تلاش کر رہی تھیں کہ کیا دیکھتی ہیں کہ ابو امی کی چپل اٹھا کر لا رہے ہیں امی نے نہایت ہی حیرت اور پریشانی کے عالم میں ابو سے کہا کہ انور صاحب آپ یہ کیا کر رہیں ہیں؟ تو بڑی ہی عقیدت سے بولے کہ” میں اپنے استاد محترم کی چپل لا رہا ہوں” یہ محبت دیکھ کر امی کی آنکھیں چھلک گئی تھیں۔ وہ منظر قابل دید ہوتا تھا جب ابو سبق سے ایک دن کی چھٹی مانگتے تھے اور انکار پر ہمارے سے شکایت لگائی جاتی تھی کہ” صدیقہ اتوار کی چھٹی بھی نہیں دیتی”
ابو نے امی کا ہر قدم پر ساتھ دیا ایک دن امی کالج سے گھر لوٹیں تو آتے ہی گھر کے کاموں میں مصروف ہو گئیں۔ ایک طرف کھانا پکانے رکھا۔ دوسری طرف بچوں کے یونیفارم تبدل کرنے میں لگ گئیں۔ صفائی کے لیے جھاڑو چھت پر تھا ۔ امی نے ابو سے درخواست کی کہ چھت سے جھاڑو دے دیجئے ذرا۔ والدہ پھر کاموں میں لگ گئیں آدھا گھنٹہ ہو گیا والد محترم چھت سے نیچے نہ آئے۔ کچھ دیر کے بعد جب تشریف لائے تو مٹی سے اٹے ہوئے تھے۔ والدہ نے جب پوچھا کہ آپ کو جھاڑو دینے کو کہا تھا ذرا۔ تو بڑے ہی بھول پن سے بولے وہ ہی تو دے رہا تھا۔
نہایت ہی سادہ طبعیت کے مالک ہیں۔ راہ چلتے ہوئے اگر کوئی فین مل جائے تو اس قدر پیار سے ملیں گے کہ سمجھ نہیں آتی کہ کون کس کا فین ہے۔ عاجزی اور انکساری طبعیت میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے اگر کبھی موچی کے پاس جانے کا اتفاق ہوتا تھا تو اس کے ساتھ فرش پر ہی بیٹھ جاتے تھے۔ چھوٹے بھائی کے مطابق کہ اگر لوگ ابو کو نہ پہچانیں تو لوگ ابو کو ہی موچی سمجھ لیں۔
چھوٹا سا قصہ یاد آ گیا ایک دن میں، ابو، امی اور میرے بچے اپنی پھپھو کے گھر جانے کے لیے گیٹ سے نکلنے لگے تھے ۔بچے چھوٹے تھے اس لیے والدہ نے جانے سے پہلے پوچھ لیا کہ باتھ روم وغیرہ ہو لیے ہو۔ تو سب سے بلند آواز ابو کی آئی۔۔۔۔۔۔۔ “آہو”۔
میں نے ابو کو بہت دفعہ روتے دیکھا ہے بہت چھوٹی تھی تب یہ معمہ میرے لیے باعث تکلیف ہوتا تھا کہ آخر ابو کیوں روتے ہیں وہ بھی دن میں کئی بار؟ پھر بڑی ہوئی تو سمجھ آئی وہ تو اپنے رب کے آگے شکرانے کے آنسوؤں سے اپنا دامن بھگوتے تھے تب بھی جب ایک چھوٹے سے کمرے میں جس کی لمبائی ساڑھے سات فٹ اور چوڑائی چار فٹ تھی۔ کتابوں کے انبار اپنے ارد گرد سجائے لکھنے میں مگن رہتے تھے۔ اور اب بھی جب اللہ کا دیا سب کچھ ہے۔ ان کے رب نے ان کے تکلیف دہ دن ان آنسوؤں کے بدلے دھو دیئے ہیں اور اب ان ہی آنسوؤں کی بدولت ان کا رب بن مانگے وہ کچھ دیئے چلا جا رہا ہے کہ جس کے بارے میں انہوں نے سوچا بھی نہ تھا۔
اپنی اولاد سے بہت خوش ہیں۔ اکثر ہم سب بہن بھائی مع اہل وعیال ان کے گھر چلے جاتے ہیں۔ گھر میں ماشاءاللہ ہر عمر کا بچہ پایا جاتا ہے۔ ہم سب کو دیکھ کر وہ امی سے ہر بار یہ ضرور کہتے ہیں صدیقہ 1965ء میں ہم دو تھے۔ امی بہت ہی پیار سے ہر بار یہی فرماتی ہیں کہ انور صاحب جب شادی ہوتی ہے تو دو ہی ہوتے ہیں۔
اپنے والدین کے نہایت ہی خدمت گزار تھے اس کے باوجود بھی ان سے پوچھا جائے کہ کس چیز کا دکھ یا تکلیف ان کو بے چین کرتی ہے تو بس یہ ہی کہتے ہیں کہ میں اپنے والدین کی وہ خدمت نہ کر سکا جس کے وہ حقدار تھے ۔ میں نے خود اپنے والد کو دیکھا ہے کہ کس طرح انہوں نے اپنے بیٹے ہونے کا حق ادا کیا ہے۔ مجھے نہیں پتہ کہ اس سے زیادہ کوئی کیسے حق ادا کر سکتا ہے۔
اپنی زندگی کے وہ دن جن میں وہ مسکرانا چاہتے تھے پر حالات نے ان کو اجازت نہیں دی وہ اب لوگوں کو ہنسا کر اس کمی کو پورا کرنے کی خواہش میں دنیا میں قہقہے اور مسکراہٹیں ایک مشن کی طرح بکھیر رہے ہیں۔ میں اور کیا کہوں کہ میں چاہتی ہوں کہ یہ سلسلہ بھی جاودانی ہو جائے اور میرے سر پر ان کی چھاؤں بھی ہمیشہ قائم رہے۔ اس کے علاوہ زندگی سے اور کچھ نہیں چاہیے۔

01/01/2023

باتیں انشاء جی کی # #

یہ پہلی بار نہیں ہوا ہے کہ شاعری سے ہمارے مُلک میں تعمیری کام لیا گیا ہے !
ہمارے ہاں تو صابن ،تیل ،جوتا ،جٹی ،دھاگا تک لوگ اس وقت تک نہیں خریدتے جب تک گا گاکر نہ بیچا جاۓ فیملی پلاننگ والوں نے تو اکا دُکا شعر کہلوانے کے بجاۓ مشاعرے تک کراۓ جس میں ہر شاعر نے بچوں کو یہ مشورہ دیا کہ وہ پیدا نہ ہوں ، ورنہ ہماری حالت سے عبرت پکڑیں

@سجاد
07/10/2022

@سجاد

29/09/2022

29/09/2022

السلام علیکم
عنوان:ہوس کے پجاری استاد
یہ پوسٹ کرتے ہوۓ دل خون کے آنسو رو رہا ہے استاد بچوں کا مستقبل سنوارتے ہیں لیکن یہاں اپنی ہوس کیلیے 😭💔
میں کوئ ایسا نا زیبا الفاظ استعمال نہیں کرنا چاہتا لیکن یہ شخص خود ہی اپنے نام پہ دھبہ ہے گورنمنٹ ڈگری کالج چوک اعظم ملتان کے قریب کا یہ استاد لڑکیوں کو ہراساں کرتا ہے آڈیو پوسٹ کرنے کا مقصد یہی ہے کہ سکرین شاٹ کوئ بھی بنا سکتا ہے سکرین شاٹ دیکھ کے خون کھولتا ہے کچھ ایسا ویسا اگر لکھ دیا تو یہ پوسٹ بھی شاید بلاک ہو جائے یاں شاید یہ پیج بھی آپ سب سے گزارش ہے زیادہ سے زیادہ شیئر کریں تاکہ ایسے استادوں کو سخت سے سخت سزا مل سکے کچھ لڑکیاں تو ڈر کے کچھ بھی فیصلہ کر جاتی ہیں اور یہ صرف یہاں ہی نہیں ہر کالج یونیورسٹی سکول کے احوال ہیں پچھلے دنوں یونیورسٹی آف گجرات کے ایک استاد کے بارے میں سنا اور آج یہاں
ذرا سوچیے

*امام الانبیاءﷺ، حبیبِ کبریاﷺ، وجہِ تخلیقِ دو جہاں، وجہِ قرارِ جان و جہاںﷺ،  راحت العاشقینﷺ، محبوب رب العالمینﷺ، شفیع ال...
27/09/2022

*امام الانبیاءﷺ، حبیبِ کبریاﷺ، وجہِ تخلیقِ دو جہاں، وجہِ قرارِ جان و جہاںﷺ، راحت العاشقینﷺ، محبوب رب العالمینﷺ، شفیع المذنبینﷺ، خاتم الانبیاءﷺ حضرت محمد مصطفیٰﷺ* کی ولادت باسعادت کا ماہِ مقدس ربیع النور بہت بہت مبارک ہو
اللہ کریم اس ماہِ مبارک کے صدقے آپ کو صحت، تندرستی، عافیت سے نوازے، والدین کا سایہ سلامت رکھے عمر خضر عطا فرمائے اور تمام نیک خواہشات پوری فرمائے
آمین بجاہِ سید المرسلینﷺ

 #اجنبی
25/09/2022

#اجنبی

25/09/2022
اشفاق احمد لکھتے ہیں کہ:ایک دن بے بے نے بیسن کی روٹی پکا کے دی۔ میں نے دو روٹیاں کھائیں اور ساتھ لسّی پی۔ پھر بے بے کو خ...
25/09/2022

اشفاق احمد لکھتے ہیں کہ:
ایک دن بے بے نے بیسن کی روٹی پکا کے دی۔ میں نے دو روٹیاں کھائیں اور ساتھ لسّی پی۔ پھر بے بے کو خوش کرنے کیلئے زوردار آواز میں اللّٰہ کا شُکر ادا کیا۔
بے بے نے میری طرف دیکھا
اور پُوچھا: اے کی کیتا ای؟
میں نے کہا:
بے بے! شُکر ادا کیتا اے اللّٰہ دا۔
کہنے لگی:
اے کیسا شُکر اے؟
دو روٹیاں تُجھے دیں... تُو کھا گیا...نہ تُو باہر جھانکا، نہ ہی پاس پڑوس کی خبر لی کہ کہیں کوئی بُھوکا تو نہیں... ایسے کیسا شُکر؟
پُترا! روٹی کھا کے لفظوں والا شُکر تو سب کرتے ہیں... اپنی روٹی کسی کے ساتھ بانٹ کر شُکر نصیب والے کرتے ہیں۔
اللّٰہ کو لفظوں سے خوش کرنا چھوڑ دے۔
پُتر! عمل پکڑ عمل! اللّٰہ جس چیز سے نواز دے... اُس کو خوشی سے استعمال کر اور کسی کے ساتھ بانٹ لیا کر کہ یہ عملی شُکر ہے
نعمتِ خداوندی کا عملی شُکر تو اُس نعمت کو بانٹ کے کھانے میں ہی ہے اور وہ بھی عزیز رشتہ داروں اور اڑوس پڑوس کے لوگوں کے ساتھ۔
اللہ آپ کو آسانیاں عطا فرمائے اور آسانیاں تقسیم کرنے کا شرف عطا فرمائے آمین....
Copied
#اجنبی

ثمرقند سے طویل سفر طے کر کے آنے والا قاصد ، سلطنت اسلامیہ کےحکمران سے ملنا چاہتا تھا۔اسکے پاس ایک خط تھا جس میں غیر مسل...
24/09/2022

ثمرقند سے طویل سفر طے کر کے آنے والا قاصد ، سلطنت اسلامیہ کےحکمران سے ملنا چاہتا تھا۔
اسکے پاس ایک خط تھا جس میں غیر مسلم پادری نے مسلمان سپہ سالار قتیبہ بن مسلم کی شکایت کی تھی۔
پادری نے لکھا !
"ہم نے سنا تھا کہ مسلمان جنگ اور حملے سے پہلے قبول اسلام کی دعوت دیتے ہیں۔اگر دعوت قبول نہ کی جائے تو جزیہ دینے کا مطالبہ کرتے ہیں اور اگر کوئی ان دونوں شرائط کو قبول کرنے سے انکار کرے تو جنگ کے لئے تیار ہو جاتے ہیں۔
مگر ہمارے ساتھ ایسا نہیں کیا گیا اور اچانک حملہ کر کے ہمیں مفتوح کر لیا گیا ہے۔
یہ خط ثمر قند کے سب سے بڑے پادری نے اسلامی سلطنت کے فرماں روا عمر بن عبد العزیز کے نام لکھا تھا۔
دمشق کے لوگوں سے شہنشاہ وقت کی قیام گاہ کا معلوم کرتے کرتے وہ قاصد ایک ایسے گھر جا پہنچا کہ جو انتہائی معمولی اور خستہ حالت میں تھا۔ ایک شخص دیوار سے لگی سیڑھی پر چڑھ کر چھت کی لپائی کر رہا تھا اور نیچے کھڑی ایک عورت گارا اُٹھا کر اُسے دے رہی تھی۔
جس راستے سے آیا تھا واپس اُسی راستے سے اُن لوگوں کے پاس جا پہنچا جنہوں نے اُسے راستہ بتایا تھا۔
اُس نے لوگوں سے کہا میں نے تم سے اسلامی سلطنت کے بادشاہ کا پتہ پوچھا تھا نہ کہ اِس مفلوک الحال شخص کا جس کے گھر کی چھت بھی ٹوٹی ہوئی ہے۔
لوگوں نے کہا، ہم نے تجھے پتہ ٹھیک ہی بتایا تھا، وہی حاکم وقت عمر بن عبد العزیز کا گھر ہے ۔
قاصد پر مایوسی چھا گئی اور بے دلی سے دوبارہ اُسی گھرپر جا کر دستک دی،جو شخص کچھ دیر پہلے تک لپائی کر رہا تھا وہی اند ر سے نمودار ہوا۔
قاصدنے اپنا تعارف کرایا اور خط عمر بن عبدالعزیز کو دے دیا۔
عمر بن عبدالعزیز نے خط پڑھ کر اُسی خط کی پشت پر لکھا :
عمر بن عبدالعزیز کی طرف سے سمرقند میں تعینات اپنے عامل کے نام؛ ایک قاضی کا تقرر کرو جو پادری کی شکایت سنے۔مہر لگا کر خط واپس قاصدکو دیدیا۔
سمرقند لوٹ کر قاصدنے خط کا جواب اور ملاقات کا احوال جب پادری کو سنایا ،توپادری پر بھی مایوسی چھا گئی۔
اس نے سوچا کیا یہ وہ خط ہے جو مسلمانوں کے اُس عظیم لشکر کو ہمارے شہر سے نکالے گا ؟اُنہیں یقین تھا کاغذ کا یہ ٹکڑا اُنہیں کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکے گا۔
مگر کوئی اور راستہ بھی نہ تھا چنانچہ خط لیکر ڈرتے ڈرتے امیر لشکر اور حاکم ثمرقند قتیبہ بن مسلم کے پاس پہنچے ۔
قتیبہ نے خط پڑھتے ہی فورا ایک قاضی کا تعین کردیا جو اسکے اپنے خلاف سمرقندیوں کی شکایت سن سکے۔
قاضی نے پادری سے پوچھا، کیا دعویٰ ہے تمہارا ؟
پادری نے کہا : قتیبہ نے بغیر کسی پیشگی اطلاع کے ہم پر حملہ کیا، نہ تو اِس نے ہمیں اسلام قبول کرنے کی دعوت دی تھی اور نہ ہی ہمیں کسی سوچ و بچار کا موقع دیا تھا۔
قاضی نے قتیبہ کو دیکھکر پوچھا، کیا کہتے ہو تم اس دعویٰ کے جواب میں ؟
قتیبہ نے کہا : قاضی صاحب، جنگ تو ہوتی ہی فریب اور دھوکہ ہے۔
سمرقند ایک عظیم ملک تھا، اسکے قرب و جوار کے کمتر ملکوں نے نہ تو ہماری کسی دعوت کو مان کر اسلام قبول کیا تھا اور نہ ہی جزیہ دینے پر تیار ہوئے تھے، بلکہ ہمارے مقابلے میں جنگ کو ترجیح دی تھی۔
سمرقند کی زمینیں تو اور بھی سر سبز و شاداب اور زور آور تھیں، ہمیں پورا یقین تھا کہ یہ لوگ بھی لڑنے کو ہی ترجیح دیں گے، ہم نے موقع سے فائدہ اُٹھایا اور سمرقند پر قبضہ کر لیا۔
قاضی نے قتیبہ کی بات کو نظر انداز کرتے ہوئے دوبارہ پوچھا : قتیبہ میری بات کا جواب دو، تم نے ان لوگوں کو اسلام قبول کرنے کی دعوت، جزیہ یا پھر جنگ کی خبر دی تھی ؟
قتیبہ نے کہا : نہیں قاضی صاحب، میں نے جس طرح پہلے ہی عرض کر دیا ہے کہ ہم نے موقع سے فائدہ اُٹھایا تھا۔
قاضی نے کہا :میں دیکھ رہا ہوں کہ تم اپنی غلطی کا اقرار کر رہے ہو، اس کے بعد تو عدالت کا کوئی اور کام رہ ہی نہیں جاتا۔
اللہ نے اس دین کو فتح اور عظمت تو دی ہی عدل و انصاف کی وجہ سے ہے نہ کہ دھوکہ دہی اور موقع پرستی سے۔
میری عدالت یہ فیصلہ سناتی ہے کہ تمام مسلمان فوجی اور انکے عہدہ داران بمع اپنے بیوی بچوں کے، اپنی ہر قسم کی املاک اور مال غنیمت چھوڑ کر سمرقند کی حدوں سے باہر نکل جائیں اور سمر قند میں کوئی مسلمان باقی نہ رہنے پائے۔
اگر ادھر دوبارہ آنا بھی ہو تو بغیر کسی پیشگی اطلاع و دعوت کے اور تین دن کی سوچ و بچار کی مہلت دیئے بغیر نہ آیا جائے۔
پادری جو کچھ دیکھ اور سن رہا تھا وہ ناقابل یقین تھا۔ چند گھنٹوں کے اندر ہی مسلمانوں کا عظیم لشکر قافلہ در قافلہ شہر کو چھوڑ کے جا چکا تھا۔
ثمر قندیوں نے اپنی تاریخ میں ایسا کبھی نہیں دیکھا تھا کہ جب طاقتور فاتح قوم کمزور مفتوح قوم کو یوں دوبارہ آزادی بخش دے۔
ڈھلتے سورج کی روشنی میں لوگ ایک دوسرے سے سرگوشیاں کرنے لگے کہ یہ کیسا مذہب اور کیسے پیروکار ہیں ۔ عدل کا یہ معیار کہ اپنوں کے خلاف ہی فیصلہ دے دیں۔ اور طاقتور سپہ سالار اس فیصلہ پہ سر جھکا کر عمل بھی کر دے۔
تاریخ گواہ ہے کہ تھوڑی ہی دیر میں پادری کی قیادت میں تمام شہر کے لوگ گھروں سے نکل کر لشکر کے پیچھے سرحدوں کی طرف دوڑے اور لا الٰہ الاّ اللہ محمّد الرّسول اللہ کا اقرار کرتے ہوئے اُنکو واپس لے آئے کہ یہ آپکی سلطنت ہے اور ہم آپکی رعایا بن کر رہنا اپنے لئے ٖفخر سمجھیں گے۔
دینِ رحمت نے وہاں ایسے نقوش چھوڑے کہ سمرقند عرصہ تک مسلمانوں کا دارالخلافہ بنا رہا۔
*کبھی رہبر دو عالم حضرت محمد ﷺ کی امت ایسی ہوا کرتی تھی....*

Address

Gujrat

Telephone

+923024950293

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Syèd wrîtés posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Establishment

Send a message to Syèd wrîtés:

Share