13/11/2020
---جا راضی آں تیرے تے---
کراچی سے ایک مجبور خاتون کو نوکری کا جھانسہ دیکر 4 سالہ بیٹی کے ہمراہ کشمور لے جایا گیا۔ وہاں پہلے 3 ملزمان نے عورت کا مسلسل ریپ کیا۔ پھر ملزمان نے بچی روک کر خاتون سے کہا کہ کراچی میں آپ کے ساتھ جو دوسری خاتون تھی، اس کو لاؤ تو بچی آپ کو واپس کریں گے۔
خاتون باہر نکل کر سوچ بچار کے بعد پولیس کے پاس چلی گئی۔ ڈیوٹی پر موجود اسسٹنٹ سب انسپکٹر محمد بخش نے اس کی روداد سنی اور گھر سے اپنی بیٹی کو بلایا۔ اس کو ’دوسری خاتون‘ بناکر متاثرہ خاتون کے ساتھ روانہ کردیا اور خود نفری لیکر پیچھے چل پڑا۔ جیسے ہی دونوں خواتین اندر گئیں، پیچھے سے پولیس بھی گھس گئی۔ ایک ملزم موقع سے گرفتار اور دو بعد میں گرفتار ہوگئے مگر درندے اس دوران 4 سالہ بچی کا بھی ریپ کرچکے تھے۔
محمد بخش نے کسی اور کی بیٹی بچانے کیلئے اپنی بیٹی کو خطرے میں ڈالا۔ میں بطور ایک ذمہ دار شہری محمد بخش کو سیلوٹ کرتا ہوں۔ ہمارے اداروں کو مزید محمد بخش کی ضرورت ھے۔
اللہ تعالیٰ محمد بخش کی بیٹی سمیت سب کی بیٹیاں درندوں سے محفوظ رکھے۔ آمین یا رب العالمـــین