Aoun Khalid

Aoun Khalid Like and follow

06/01/2026

سلطان محمود غزنوی کے دربار میں بڑے بڑے صاحبِ علم وزیر اور مشیر موجود تھے، لیکن سلطان سب سے زیادہ بھروسہ ایاز پر کرتے تھے۔ ایاز کوئی شہزادہ نہیں تھا بلکہ ایک معمولی غلام تھا، جسے سلطان نے اس کی ذہانت اور وفاداری کی وجہ سے اپنا سب سے قریبی ساتھی بنا لیا تھا۔

درباری وزیر اس بات سے بہت جلتے تھے۔ انہیں لگتا تھا کہ ایک غلام کو اتنی عزت کیوں دی جا رہی ہے۔ انہوں نے سلطان کے کان بھرنا شروع کیے: "ظِلِ الٰہی! ایاز ہر روز شام کو ایک مخصوص کمرے میں جاتا ہے جسے وہ ہمیشہ تالا لگا کر رکھتا ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ اس نے وہاں سلطنت کا خزانہ چھپا رکھا ہے۔"

تلاشی کا دن
سلطان کو اپنے دوست پر پورا بھروسہ تھا، لیکن وزیروں کا منہ بند کرنے کے لیے انہوں نے فیصلہ کیا کہ اس کمرے کی تلاشی لی جائے۔ ایک دن جب ایاز دربار میں مصروف تھا، سلطان اپنے سپاہیوں اور وزیروں کے ساتھ اس کمرے کے باہر پہنچے۔

وزیر خوشی سے پھولے نہیں سما رہے تھے، انہیں لگا کہ آج ایاز کی چوری پکڑی جائے گی۔ جب تالا توڑا گیا اور دروازہ کھلا، تو سب دنگ رہ گئے۔

کمرے میں کیا تھا؟ وہاں نہ سونا تھا، نہ چاندی اور نہ ہی کوئی جواہرات۔ پورا کمرہ خالی تھا، سوائے ایک دیوار کے جہاں ایک پرانا، پھٹا ہوا کرتا اور چمڑے کے ٹوٹے ہوئے جوتے لٹک رہے تھے۔

اصل حقیقت
سلطان نے حیرت سے پوچھا، "ایاز! تم روز یہاں آکر ان پرانی چیزوں کو کیوں دیکھتے ہو؟"

ایاز نے سر جھکا کر بڑے ادب سے جواب دیا:

"آقا! جب میں آپ کی خدمت میں آیا تھا، تو میرے پاس صرف یہی پھٹا ہوا کرتا اور یہی جوتے تھے۔ آج آپ نے مجھے اقتدار دیا، عزت دی اور دولت دی۔ میں روز یہاں آکر اپنے ان پرانے کپڑوں کو دیکھتا ہوں تاکہ مجھے یاد رہے کہ میری اصل اوقات کیا ہے۔ میں کہیں تکبر (Ego) میں آ کر یہ نہ بھول جاؤں کہ میں ایک غلام تھا۔ یہ کپڑے مجھے عاجزی سکھاتے ہیں۔"

سلطان کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور انہوں نے وزیروں کی طرف دیکھ کر کہا، "تم سب خزانہ ڈھونڈ رہے تھے، لیکن ایاز نے وہ خزانہ پا لیا ہے جو تمہارے پاس کبھی نہیں ہو سکتا: اپنی حقیقت کی پہچان۔"

اس کہانی سے ملنے والے سبق
عاجزی (Humility): انسان چاہے جتنی بھی بلندی پر پہنچ جائے، اسے اپنے ماضی اور اپنی حقیقت کو نہیں بھولنا چاہیے۔

تکبر کا خاتمہ: غرور ہمیشہ انسان کو اندھا کر دیتا ہے۔ اپنی اصل کو یاد رکھنا ہی انسان کو زمین سے جوڑے رکھتا ہے۔

وفاداری اور سچائی: جو شخص اپنے آپ سے سچا ہوتا ہے، وہی دوسروں کا بھی وفادار ہو سکتا ہے۔

حسد کا انجام: دوسروں کی ترقی سے جلنے والے لوگ ہمیشہ شرمندہ ہوتے ہیں، جبکہ محنت اور سادگی کرنے والے سرخرو ہوتے ہیں۔

کیا آپ اسی طرح کی کوئی اور سبق آموز کہانی سننا چاہیں گے، یا میں اس کہانی کے بارے میں مزید تفصیل بتاؤں؟

Address

Gujranwala Jhugain Street No 4
Gujranwala
50250

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Aoun Khalid posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category