میں کیوں بولتا ہوں؟

میں کیوں بولتا ہوں؟ زندگی کے تلخ حقائق کو اس سرکس میں خوردبینی آ نکھ سے دیکھا جا سکتا ہے

علاقہ،قوم و مذہب کی غیرت کا خیال نہ بھی آیا توکم از کم اپنا حسن کا تو خیال رکھتی:      آپ نے کتنا کمایا اور کتنی مشہور ہ...
18/11/2024

علاقہ،قوم و مذہب کی غیرت کا خیال نہ بھی آیا تو
کم از کم اپنا حسن کا تو خیال رکھتی:

آپ نے کتنا کمایا اور کتنی مشہور ہوگئی یہ کوئی معنی نہیں رکھتا کیونکہ آج آپ اپنے تمام جاننے والوں کے لیے مر چکی ہو۔ آپ قوم و مذہب کے لیے سیاہ دھبہ بن گئی ہو۔ آج پورے صوبے گلگت بلتستان کا سر شرم سے جھک گیا ہے۔ مذہب ، والدین ، رشتدار اہل علاقہ اور گلگت بلتستان کا خیال تک ذہن میں نہیں آیا تو کم از کم اپنا ہی خیال کرتی کہ اللّٰہ تعالیٰ نے اپنی تمام عنایتیں آپ پر کرم فرمایا تھا۔
ہم کیسے کہدیں کہ آپ کے ساتھ فراڈ ہوا یا پھر اس میں آپکی مرضی شامل نہیں چونکہ آپ زنی تو تھی ہی، ویڈیوز میں دیکھ رہا ہے۔ رہی بات سوشل میڈیا کی تو اللّٰہ تعالیٰ کی زات جتنی رحیم و کریم ہے اتنی ہی قہار بھی ہے۔
اب آپ زندگی بھر جیتے جی مرتی رہو گی اور مانگنے سے بھی موت نہیں آئیگی۔
یہ وہی آزادی ہے جو ہم سے عورت جدید دور کے نام پر لینا چاہتی ہے۔ عورت کو گھر تک محدود کرنے میں ہم سب ناکام ہو چکے ہیں اور بعض لوگ تین قدم آگے کے بغیرت بن گئے ہیں جو اس نہج تک عورت کو جانے سے روکنے میں ناکام ہوچکے ہیں۔ سکول،کالج اور یونیورسٹیوں میں کوہ ایجوکیشن سے لیکر ہاسٹل میں رہنے اور مختلف فنگشن میں ناچ گانے کے ماحول تک کا سفر آخر کار جہاں آکر اختتام پزیر ہوتا ہے۔
میرا ہر گز مطلب یہ نہیں کہ تمام لڑکیاں خراب ہوتی ہیں اور عصری تعلیم ہی نہیں دلوانا چاہیے میں تو بس یہ کہنا چاہتا ہوں اول عورت زات کو الگ سکول ،کالج اور یونیورسٹی میں پڑھانا چاہیے اگر سہولت موجود نہ ہو تو کم از کم مکمل نگرانی ہونی چاہیے اس کے ساتھ دینی تعلیم بھی ضروری ہے۔ وہ جو حقوق، اللّٰہ اور اللہ کے رسول نے عورت کے لیے مختص کیے ہیں اسی کے ہم جواب دا ہیں نا کہ دور جدید کے تقاضوں کے۔
میرے بھائیو ایک مخصوص دائرے میں رہ کر دور جدید کے تقاضوں کو لیکر نہیں چلیں گے تو معاشرے میں عزت اور غیرت کے معنی میں تبدیلی آ جائیگی اور ہم سب اللّٰہ نہ کرئے آہستہ آہستہ بہت ساری ماحولیاتی تبدیلیوں کے عادی ہو جائیں گے۔
اللّٰہ تعالیٰ ہم سب کو اور ہر ایک کی ماں،بہن بیٹیوں کو سراط مستقیم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے آمین یارب العالمین۔

21/07/2024

بات اخلاقیات سے نکل گئی ہے
اللّٰہ تعالیٰ اس قوم اور ملک پر رحم فرمائے۔ اب ہر سو جبر ہی جبر نظر آرہا ہے۔

16/06/2024

درس ایثار و قربانی کا دن عید الاضحی بہت بہت مبارک

24/03/2024

ماہ رمضان اور سجدوں میں فلسطینی چیخ و پکار کے ساتھ بھوک و پیاس سے تڑپتے بچے دیکھائے دیں تو
کیا ایسی عبادات رب العالمین کے پاس قابل قبول ہونگی۔

09/01/2024

ریاست میں کم از کم تنخواہ 32 ہزار کو اگر عمل درآمد کروایا جائے تو گلی کوچوں کے پرائیویٹ سکول کم از کم بند ہو جائیں گے

17/10/2023

سب پوچھتے ہیں مجھ سے میرے آشیاں کا حال
میں سب سے پوچھتا ہوں میرے گلشن کا کیا ہوا

19/09/2023

مہنگائی ایک خود ساختہ آفت ہے اس کے نتائج بیانک ہو سکتے ہیں۔
حالیہ کچھ عرصے سے ملک عزیز میں مہنگائی کا نا رکنے والے طوفان نے غریب کی حالت اس زندہ لاش کی سی کر دی ہے جو جسم سے روح کا الگ نہ ہونے پر ایڑیاں رگڑ رہا ہے اور اس پر ترس کھانے والا کوئی نہیں چونکہ جہاں ہر طرف قیامت کا سما ہے اور ہر فرد یا نفسی
یا نفسی کے اعلان کے ساتھ ایک دوسرے سے نظریں چرائے بھاگ رہا ہے۔
جمہوری دعویٰ دار اقتدار کے متلاشی اپنی غلط پالسیز اور کرپشن کا ملبہ ایک دوسرے پر ڈال کر اگلی باری کے درپے ہیں، ریاستی اعلیٰ عہدوں پر فائز لوگ پوزیشن حاصل کر کے دولت بنانے کے لیے ایجنٹ بنے بیٹھے ہیں۔ ملک کے کاروبار پر قابض سرمایہ دار زخیرہ اندوزی کر کے زیادہ سے زیادہ منافع کمانے کے پیچھے لگے ہوئے ہیں۔
ملک کی 70 فیصد آبادی یہ سوچنے پر مجبور ہوگئ ہے کہ یہ ملک ان کے رہنے کی جگہ نہیں اور یہیں سوچ دن بدن ان کے دلوں سے محب الوطنی کا جذبہ کم کر رہی ہے جو ریاست مخالف ہر پروپگنڈے کا حصہ بننے کی راہیں ہموار کرنے کے ساتھ ساتھ بالآخر بغاوت تک کے اقدامات اٹھانے پر تیار کر رہی ہے۔ اس پاک سر زمین پر ہوس بختہ نظریں جمائے بیٹھے دشمنوں کے ناپاک عزائم کی تکمیل کے لیے ہر وہ مفلس اور بھوک کا ستایا تیار دیکھ رہا ہوں جس نے اپنے بچوں کو رات کی تاریخی میں دن کی روشنی کا دلاسہ دیکر بھوکا سلایا ہے میں اس جوان کے آنکھوں میں خون دیکھ رہا ہوں جو اپنے لخت جگر و بوڑھے ماں باپ کو ہسپتال کے بیڈ پر لیٹا کر دوائی کے پیسوں سے پریشان میڈیکل سٹور کے باہر اپنے ہی دانتوں سے اپنے ہونٹ کاٹ رہا ہے۔ میں اس ٹکسی والے کی ہارن کی گونج میں نفرت دیکھ رہا ہوں جو ایک مصروف ترین سڑک پر سواری ڈھونڈنے نکلا ہے جس کو 326 کا ایک لیٹر پٹرول ڈالنے کی فکر نے کھوکھلا کر دیا ہے۔میں اس باپ کو مایوسی میں روتے ہوئے دیکھ رہا ہوں جس کے بچے کبھی خود کو خوش قسمت سمجھتے سکول جائے کرتے تھے آج فیس ادا نہ کرنے کی وجہ سے بچوں کا سامنے کرنے سے کتراتا ہے۔ میں روڈ کے دونوں اطراف مزدوری کے اوزار لیے تپتی دھوپ میں خشک ہونٹ کے ساتھ غیب سے آواز کے منتظر مزدوروں کو خالی ہاتھ شام کو گھر جانے سے سہمے قسمت کو کوستے دیکھ رہا ہوں۔
میں رہزنوں کو عورت کو ماں،بیٹی اور بہن کے روپ میں دیکھنے کی پروا کیے بغیر لوٹتے اور مزمت پر مارتے دیکھ رہا ہوں۔
باوجود اس قدر مہنگائی اور معاشی بد حالی کے ریاست میں قانون کی بالادستی کا سوچنا اندھے سے آنکھوں کا مطالبہ کرنے کے مترادف ہے اور محب الوطنی کا جذبے کی امید رکھنا احمقانہ سوچ ہے۔ اسکی سب سے بڑی وجہ وہ کردار ہیں جن کی وجہ سے آج یہ دن دیکھنے کو ملے ہیں اور عوام کو اس قدر مجبور کیا گیا ہے کہ ان کے پاس نہ تو صبر رہا اور نہ ہی قبر ان کے ذہنوں میں جائز نا جائز زریعے معاش اور دلوں میں نفرت کے سوا کچھ نہیں۔
اللّٰہ تعالیٰ سے دعا گو ہوں اللّٰہ تعالیٰ ہم سب پر رحم فرمائے اور ملک عزیز کو ان خود ساختہ آفات اور ان کے ذمیداروں سے نجات فرمائے آمین یارب العالمین۔

27/08/2023

ہم سب کو آج کا نہیں کل کا سوچنا ہوگا۔
حکومتیں شیعہ و سنی اور اسماعیلی نہیں ہوتی اسکے ساتھ نہ ہی ہمیشہ کے لیے ہوتی ہیں اس لیے ہمیشہ وقتی اور آج کا سوچتی ہیں کیونکہ آج کے ساتھ ان کے مفادات جوڑے ہوتے ہیں اس لیے وہ اپنے حساب سے چلتی ہیں۔ ہمیں کیا ہوگیا ہے ہم کیوں وقتی فیصلے کریں ہم نے تو اپنا آج سے کل کو بہترین بنانا ہے ہم تو آج خواب دیکھ کے کل اس کی تعبیر چاہتے ہیں۔ ہم سب کو اپنی آنا،ذہنیت اور مسلکی اختلافات کو چھوڑ کر ایک دوسرے کے عقائد ونظریات کی قدر کر کے ایک مثالی اجتماعیت قائم کرنی ہوگی ہمیں غلط اور صحیح کی پہچان کر کے اجتماعی یک جان بن کر شر پسند کے خلاف نہ صرف بولنا ہوگا ہوگا بلکہ سزا و جزا بھی متعین کرنا ہوگا۔ مسلکی اختلافات اپنی جگہ حقوق العباد کے درس کو لیکر آگے بڑھنا ہوگا
انسانیت کی دامن کو تھامے آپس میں جوڑنا ہوگا
رسول اللہ کی وصیت پر عمل پیرا "تم ان کے جھوٹے خداؤں کو بھی کچھ بھی نہ کہو کہ وہ تیش میں آکر تمھارے سچے خدا کو برا بھلا کہے"ہمیں ایک دوسرے کو سہنا ہوگا۔ جس سے ہماری نسلوں کو ایک روشن کل کی امید ملے اور ایک پر امن گلگت بلتستان کی نوید ملے۔
آج ایک ہی فرد کی وجہ سے جو اپنے جذبات کا آلہ کار بنا یا پھر کسی اور کا آلہ کار بنا پورے گلگت بلتستان کے پر امن فضاء کو برباد کرنے کا سہولت کار بنا۔ ہم پھر بھی اس کی پشت پناہی میں وقتی مفادات والوں کی طرف دیکھ کے بیٹھ جائیں تو اس سے بڑی ہلاکت کی بات کیا ہو سکتی۔ آج سنیوں کے جزبات مجروح ہوئے ہیں شیعہ اسکی داد رسی کریں، ہمت کر کے غلط کو غلط کہکر غلطی کی سزا از خود دیں نہ کہ اسکی پشت پناہی کریں۔ آج اگر حکومت بغیر سزا و جزا کے اس مسلے کا وقتی حل نکال بھی دیتی ہے تو ہم سب باحثیت گلگت بلتستان کے باسی ظاہری جیت کے مستقبل کے رو سے ہار چکے ہونگے۔ آپ سب کا( شعیہ کمیونٹی) آج جاگ جانا ایسا ہی ہے جیسا کہ ریاضی کا ایک فارمولا جو تا قیامت اپلائی ہوگا اب آپ سب نے شیعہ بن کے نہیں بلکہ انسان اور گلگت بلتستان کے باسی بن کے سوچنا ہوگا۔ ایک دوسرے کے عقائد کا احترم کیا ہم سب کے مشترکہ دین میں نہیں ہے؟ کیا اس کی بے توقیری نہیں ہوئی ہے؟ باوجود باشعور اور صاحب علم باقر نامی شخص سزاوار نہیں ہوا ہے؟ کیا امن ہم سب کی ضرورت نہیں ہے؟
کیا ہم سب اپنے حقوق کے درپے نہیں ہیں؟ کیا ہم سب کو ماضی میں نہیں ڈھنسا گیا ہے اور خون کو بہتے نہیں دیکھا؟کیا گلگت بلتستان ہم سب کا نہیں ہے؟
اگر ہاں تو پھر یہیں وقت ہے ہم سب کو وقتی اور آج نہیں بلکہ مستقبل اور کل کا سوچنا ہوگا بالخصوص جوانوں کو سوچنا ہوگا، حق پہ بولنا ہوگا اور آگے بڑھنا ہوگا۔
اللّٰہ تعالیٰ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔امین

Address

Gilgit
15100

Telephone

+92 355 5440553

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when میں کیوں بولتا ہوں؟ posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Establishment

Send a message to میں کیوں بولتا ہوں؟:

Share

Category