18/11/2024
علاقہ،قوم و مذہب کی غیرت کا خیال نہ بھی آیا تو
کم از کم اپنا حسن کا تو خیال رکھتی:
آپ نے کتنا کمایا اور کتنی مشہور ہوگئی یہ کوئی معنی نہیں رکھتا کیونکہ آج آپ اپنے تمام جاننے والوں کے لیے مر چکی ہو۔ آپ قوم و مذہب کے لیے سیاہ دھبہ بن گئی ہو۔ آج پورے صوبے گلگت بلتستان کا سر شرم سے جھک گیا ہے۔ مذہب ، والدین ، رشتدار اہل علاقہ اور گلگت بلتستان کا خیال تک ذہن میں نہیں آیا تو کم از کم اپنا ہی خیال کرتی کہ اللّٰہ تعالیٰ نے اپنی تمام عنایتیں آپ پر کرم فرمایا تھا۔
ہم کیسے کہدیں کہ آپ کے ساتھ فراڈ ہوا یا پھر اس میں آپکی مرضی شامل نہیں چونکہ آپ زنی تو تھی ہی، ویڈیوز میں دیکھ رہا ہے۔ رہی بات سوشل میڈیا کی تو اللّٰہ تعالیٰ کی زات جتنی رحیم و کریم ہے اتنی ہی قہار بھی ہے۔
اب آپ زندگی بھر جیتے جی مرتی رہو گی اور مانگنے سے بھی موت نہیں آئیگی۔
یہ وہی آزادی ہے جو ہم سے عورت جدید دور کے نام پر لینا چاہتی ہے۔ عورت کو گھر تک محدود کرنے میں ہم سب ناکام ہو چکے ہیں اور بعض لوگ تین قدم آگے کے بغیرت بن گئے ہیں جو اس نہج تک عورت کو جانے سے روکنے میں ناکام ہوچکے ہیں۔ سکول،کالج اور یونیورسٹیوں میں کوہ ایجوکیشن سے لیکر ہاسٹل میں رہنے اور مختلف فنگشن میں ناچ گانے کے ماحول تک کا سفر آخر کار جہاں آکر اختتام پزیر ہوتا ہے۔
میرا ہر گز مطلب یہ نہیں کہ تمام لڑکیاں خراب ہوتی ہیں اور عصری تعلیم ہی نہیں دلوانا چاہیے میں تو بس یہ کہنا چاہتا ہوں اول عورت زات کو الگ سکول ،کالج اور یونیورسٹی میں پڑھانا چاہیے اگر سہولت موجود نہ ہو تو کم از کم مکمل نگرانی ہونی چاہیے اس کے ساتھ دینی تعلیم بھی ضروری ہے۔ وہ جو حقوق، اللّٰہ اور اللہ کے رسول نے عورت کے لیے مختص کیے ہیں اسی کے ہم جواب دا ہیں نا کہ دور جدید کے تقاضوں کے۔
میرے بھائیو ایک مخصوص دائرے میں رہ کر دور جدید کے تقاضوں کو لیکر نہیں چلیں گے تو معاشرے میں عزت اور غیرت کے معنی میں تبدیلی آ جائیگی اور ہم سب اللّٰہ نہ کرئے آہستہ آہستہ بہت ساری ماحولیاتی تبدیلیوں کے عادی ہو جائیں گے۔
اللّٰہ تعالیٰ ہم سب کو اور ہر ایک کی ماں،بہن بیٹیوں کو سراط مستقیم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے آمین یارب العالمین۔