17/07/2025
ظلم کی نئی مثال: چالان، IMF کی قسطیں اور غریب کی آہیں
گلبرگ کے انچارج سیکٹر عاکف رحمان بٹر نے ایک ہی دن میں 300 موٹرسائیکلوں کے چالان کرکے اپنی کارکردگی کا نیا ریکارڈ قائم کر لیا۔ حکومت کو آٹھ گھنٹے میں چھ لاکھ روپے کما کر دینے والے اس عمل پر سرکاری کاغذوں میں تو شاباش دی جائے گی، مگر سڑکوں پر پسنے والے عام آدمی کی آہیں کون سنے گا؟
ایک گھنٹے میں 38 چالان۔
آٹھ گھنٹے میں 300 چالان۔
چھ لاکھ روپے کا ریونیو۔
یہ اعداد و شمار دیکھ کر اگر کوئی خوش ہو رہا ہے تو اسے وہ باپ بھی نظر آنا چاہیے جس نے بچوں کے لیے دودھ خریدنا تھا، مگر چالان بھر کر واپس لوٹ گیا۔ وہ غریب رکشہ ڈرائیور بھی یاد رکھنا چاہیے جس کی دن بھر کی کمائی وارڈن کے ایک پرزے نے نگل لی۔ اور وہ گھریلو عورتیں بھی یاد رکھنی چاہئیں جو ہفتوں سے اپنی پسند کا کھانا پکانے کی خواہش دل میں دبائے بیٹھی ہیں۔
سوال یہ ہے:
کیا وارڈن پولیس کا مقصد ٹریفک کی روانی کو برقرار رکھنا ہے یا IMF کی اگلی قسط کی ادائیگی کے لیے غریب عوام کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالنا ہے؟
کبھی کسی فارچونر، وی 8، پراڈو یا بڑی گاڑی کا چالان بھی اسی تسلسل اور رفتار سے بنا؟ یا قانون صرف موٹرسائیکل سوار مزدور، طالب علم اور غریب کے لیے رہ گیا ہے؟
حکمرانوں کو یاد رکھنا چاہیے:
ظلم ہمیشہ اتنا ہی کریں جتنا انسان سہہ سکے، کیونکہ ہر عمل کا ایک ردعمل ہوتا ہے۔
غریب آدمی اب بجلی کا پنکھا بھی ڈر ڈر کے چلاتا ہے۔
ایک کلو دودھ بھی اب خواب بنتا جا رہا ہے۔
ایسی مہنگائی اور بے رحمی کے دور میں اگر ریاست خود لوگوں کے روزگار اور آمدنی پر حملے کرے گی تو اس سے زیادہ افسوس کی بات کیا ہو سکتی ہے؟