Kashmir کے Rang

Kashmir کے  Rang Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Kashmir کے Rang, Arts and entertainment, Gam Kotli.

This page is solely to promote the beauty of kashmir weather its the food,mountains,farms,we aim to bring you the raw content to satisfy our wiewers hearts.join us in our journeys.

30/08/2023

بھارتی سپریم کورٹ میں جموں و کشمیر کی حیثیت سے متعلق جاری سماعت کی روداد

تحریر:افتخار گیلانی

وزیر اعظم نریندر مودی حکومت کی طرف سے اگست 2019میں جموں و کشمیر کی آئینی خود مختاری ختم کرنے اور ریاست کو تحلیل کرکے دو مرکزی زیر انتظام علاقے بنانے کے خلاف دائر کی گئی درخواستوں پر فی الوقت بھارتی سپریم کورٹ روزانہ سماعت کر رہی ہے۔

اس وقت تک آٹھ دنوں کی سماعت مکمل ہو چکی ہے۔ سوموار اور جمعہ کے بغیر بقیہ دن یعنی ہفتہ میں تین دن سپریم کورٹ کی پانچ رکنی آئینی بنچ صرف اسی مقدمہ کی اس وقت سماعت کر رہی ہے۔ 2اگست کو جب سماعت شروع ہوئی، تو چیف جسٹس، جسٹس دھننجے یشونت چندر چوڑ نے اعلان کیا کہ اس ایشو پر کل 60گھنٹے کی سماعت ہوگی۔ جس میں اب تقریباً45گھنٹے کی سماعت مکمل ہو چکی ہے۔ اس لیے بظاہر لگتا ہے کہ اگست کے آخر تک پوری سماعت مکمل ہونے کا امکان ہے۔

اس مقدمہ کا فیصلہ جو بھی ہو، مگر وکیلوں کے دلائل، ججوں کے سوالات اور کورٹ میں دائر کیا گیا تحریری مواد، کشمیر کے موضوع سے دلچسپی رکھنے والوں کے علاوہ قانون و سیاست کے کسی بھی طالبعلم کے لیے ایک بڑ ا خزانہ ہے۔

عدالت میں 13515صفحات پر مشتمل دستاویزات کے علاوہ 28جلدوں پر مشتمل 16111صفحات پر مشتمل کیس فائلز دائر کی گئی ہیں۔ کئی شہرہ آفاق کتابیں دی فیڈرل کانٹریکٹ: اے کانسٹی ٹیوشنل تھیوری آف فیڈرل ازم اوروی پی میمن کی کتاب دی ٹرانسفر آف پاور ان انڈیابھی کورٹ کے سپرد کر دی گئی ہیں اور وکلا دلائل کے دوران ان کو ریفر کر رہے ہیں۔ لیکن جس ایک کتاب کے حوالوں کو سب سے زیادہ عدالت اور وکلا ء نے سوالات یا دلائل کے دوران استعمال کیا ہے وہ شہرہ آفاق مصنف اے جی نورانی کی مدلل کتاب آرٹیکل 370: اے کانسٹی ٹیوشنل ہسٹری آف جموں اینڈ کشمیر ہے۔

نورانی صاحب اس وقت خاصے علیل ہیں۔ بطور ایک ریسرچر کے اس کتاب کے ساتھ منسلک ہونے کا مجھے اعزاز حاصل ہے۔ ابھی تک آٹھ نامور وکلا ء نے اپنے دلائل مکمل کر دیے ہیں۔ ان میں کپل سبل، گوپال سبرامنیم، راجیو دھون، دشانت دوئے، شیکھر ناپھاڈے، دیمشیش دیویدی، ظفر شاہ اور چندر ادھے سنگھ شامل ہیں۔ ابھی نو اور وکلاء اگلے چند روز میں دلائل پیش کریں گے۔ ان میں پرسانتو چندر سین، سنجے پاریکھ، گوپال کرشن نارائنن، مینیکا گوروسوامی، نتیا راما کرشنن، منیش تیواری، عرفان حفیظ لون، ظہور احمد بٹ، پی وی سریندر ناتھ ہیں۔

اس کے بعد سرکاری وکلاء جوابی دلائل پیش کر یں گے۔ اس طرح یہ سماعت اختتام کو پہنچ جائے گی۔ چیف جسٹس چندرچوڑ کے علاوہ پانچ رکنی بنچ میں جسٹس ایس کے کول، جسٹس سنجیو کھنہ، جسٹس بی آر گوئی اورجسٹس سوریہ کانت شامل ہیں۔

معروف وکیل کپل سبل نے 2اگست کو بحث کا آغاز کرتے ہوئے ججوں کو یاد دلایا کہ یہ ایک تاریخی لمحہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کیس کی سماعت میں عدالت کو پانچ سال لگے۔یہ اس لیے بھی تاریخی ہے کہ پچھلے پانچ سالوں میں، جموں و کشمیر میں کوئی نمائندہ حکومت نہیں ہے۔ اس کے بعد سبل نے تاریخوں کی ایک فہرست پڑھی، جس میں ان عوامل کی طرف نشاندہی کی گئی کہ جموں و کشمیر کو خصوصی درجہ کیوں دیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کے لیے ایک علیحدہ دستور ساز اسمبلی تشکیل دی تھی۔ انہوں نے کہا کہ پارلیامنٹ خود کو دستور سا ز اسمبلی میں تبدیل نہیں کرسکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب ایک بار جب آئین منظور ہو جاتا ہے، تو ہر ادارہ اس پر عمل کرنے کا پابند ہوتا ہے۔ انہوں نے 1846 کے معاہدہ امرتسر سے لےکر 1947 کی دستاویزالحاق کی شقوں کو بنیاد بنا کر تقریباً ڈھائی دن تک بحث کی۔ انہوں نے گورنر جنرل لارڈ ماؤنٹ بیٹن کا وہ خط بھی پڑھا، جس میں انہوں نے الحاق کے سوال کو عوامی رائے کے ذریعے طے کرنے کا وعدہ کیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ ان دستاویزات کے مطابق ہندوستان کی دیگر ریاستوں کے برعکس جن کے لیے ‘بقیہ اختیارات’ یونین یعنی وفاق کے پاس ہیں، جموں و کشمیر کے لیے بقایااختیارات ریاست کے پاس ہی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا؛’میرا نقطہ یہ ہے کہ حکومت ہند اور ریاست کے درمیان ایک مفاہمت تھی کہ ان کی ایک آئین ساز اسمبلی ہوگی جو مستقبل کے لائحہ عمل کا تعین کرے گی۔’

سبل نے کہا کہ آرٹیکل 370 ایک عارضی انتظام اس لیے تھا کیونکہ یہ جموں و کشمیر کی آئین ساز اسمبلی کو طے کرنا تھا کہ وہ اس کو مستقل بنیادوں پر رکھنا چاہتی ہے یا منسوخ کرنا چاہتی تھی۔ اس دوران چیف جسٹس نے بار بار پوچھا کہ آئین ساز اسمبلی تو سات سال کی مدت ختم کرنے کے بعد اس دفعہ پر کوئی فیصلہ کرنے سے قبل ہی تحلیل ہوگئی، تو ا ب اس دفعہ کی ترمیم وغیرہ کے لیے کیا طریقہ کار ہے؟

سبل نے استدلال پیش کیا کہ چونکہ جموں و کشمیر کی آئین ساز اسمبلی کا وجود ختم ہو گیا ہے، اس لیے آرٹیکل 370 کو منسوخ نہیں کیا جا سکتا۔ لہٰذا، آرٹیکل 370 کی شق (3) ناقابل اطلاق ہو جاتی ہے۔چیف جسٹس نے مزید کہا کہ اگر سبل کی طرف سے پیش کردہ استدلال کو مدنظر رکھا جائے تو آرٹیکل 370، جو کہ ایک ‘عبوری پروویژن’ہے، مستقل پوزیشن کا کردار ادا کرتا ہے کیونکہ اب کوئی آئین ساز اسمبلی موجود نہیں ہے۔

جسٹس کانت نے یہ بھی استفسار کیا کہ آرٹیکل 370 کو کیسے عارضی سمجھا جا سکتا ہے جب یہ دلیل دی جاتی ہے کہ اس دفعہ کو کبھی منسوخ نہیں کیا جا سکتا؟ جسٹس کھنہ کے مطابق جس مسئلے پر توجہ دینا باقی ہے وہ یہ ہے کہ کیا آرٹیکل 370 کی عارضی نوعیت جموں و کشمیر کی آئین ساز اسمبلی کی موروثی عارضی نوعیت سے ہم آہنگ ہے؟یعنی، ایک بار جب جموں و کشمیر کی آئین ساز اسمبلی کا وجود ختم ہو گیا، کیا آرٹیکل 370 کی شق (3)، جو آرٹیکل 370 کو منسوخ کرنے کی اجازت دیتی ہے، ناقابل عمل بن جاتی ہے۔

بحث کے دوسرے د ن سبل نے عدالت کو بتایا کہ آرٹیکل 370(1) کی شق (ون) (بی ) ہندوستانی پارلیامنٹ کے وفاق کے تحت جموں و کشمیر کے لیے قانون بنانے کے اختیارات کو محدود کرتی ہے اور ہندوستانی آئین کے ساتویں شیڈول کی کنکرنٹ لسٹوں میں الحاق کی دستاویز میں مذکور مضامین کے سلسلے میں جموں و کشمیر حکومت کی ‘مشاورت’ کا لفظ درج ہے۔ دوسری طرف، آرٹیکل 370(1) کی شق (ٹو) (بی)، پارلیامنٹ کو یونین کے تحت جموں و کشمیر کے لیے قانون بنانے کے اختیار میں توسیع کرتی ہے اور آئین کے ساتویں شیڈول کی ہم آہنگی فہرستیں معاملات کا احترام کرتی ہیں۔

اس سماعت کے آغاز میں، چیف جسٹس نے آرٹیکل 370 کی پر چند مشاہدات پیش کیے؛’آرٹیکل 370(ون) کی شق (بی) پارلیامنٹ کو ریاست جموں و کشمیر کے لیے قانون بنانے کا اختیار نہیں دیتی۔ یعنی قانون بنانے کااختیار آرٹیکل 370(ون)کے علاوہ کہیں اور ہے۔اس بحث میں حصہ لیتے ہوئے جسٹس کول نے کہا کہ آرٹیکل 370(ون) کی شق (بی) ایک محدود شق ہے۔

جسٹس کول نے مزید کہا کہ آرٹیکل 370(ون) کی شق (ون) (بی)کے تحت جموں و کشمیر کے لیے قانون بنانے کی ہندوستانی پارلیامنٹ کی طاقت دو چیزوں پر محدود ہے۔سب سے پہلے، پارلیامنٹ کا دائرہ جموں و کشمیر پر لاگو قوانین بنانے کا اختیار صرف ‘یونین اور کنکرنٹ لسٹ’ کے معاملات تک محدود ہے۔دوسرا، ‘حکومت جموں و کشمیرکے ساتھ مشاورت’ یونین اور کنکرنٹ لسٹوں میں ایک شرط ہے جو دستاویز الحاق کے ساتھ مطابقت رکھتا ہے۔ یعنی جموں و کشمیر سے متعلق کسی بھی معاملے میں ریاستی حکومت کی آمادگی اور رائے کی ضرورت ہے۔

دوسرا،یہاں تک کہ اگر صدر کوئی استثنیٰ اور ترمیم نہیں کر رہے ہیں، لیکن ہندوستانی آئین کی کچھ شقوں کو جموں و کشمیر پر لاگو کیا جا رہا ہے، تب بھی جموں و کشمیر حکومت کی ‘مشاورت’ یا ‘اتفاق رائے’ کی ضرورت ہے۔ جسٹس کول نے یہ مسئلہ بھی اٹھایا کہ اگر دفعہ 370 کا کوئی مستقل کردار نہیں ہے تو پھر، اس کو کس طریقے سے ختم کیا جا سکتا ہے اور کیا جو طریقہ کار اپنایا گیا، وہ درست تھا؟

سبل کی دلیل تھی کہ آرٹیکل 370 مختلف مراحل سے گزرا ہے۔ اس کا آغاز ایک عبوری انتظام کے طور پر ہوا، جس میں جموں و کشمیر میں ایک دستور ساز اسمبلی تشکیل کرنے کی سہولت فراہم کی گئی تھی۔ جب ایک بار جب جموں و کشمیر کی دستور ساز اسمبلی نے جموں و کشمیر کا ایک آئین بنا کر اپنا مقصد پورا کر لیا، جس میں ہندوستانی آئین کے آرٹیکل 370 کی توثیق کرنے والی مخصوص اور واضح دفعات موجود تھیں، اس کے تحلیل ہونے کے بعد آرٹیکل 370’منجمد’ ہو گیا۔اس طرح اس د فعہ کے مستقل کردار کو قبول کیا گیا۔

اس کے بعد،سبل نے عرض کیا کہ جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے پاس ہندوستانی آئین کے آرٹیکل 370 کی شق (3) کے تحت جموں و کشمیر کو دیے گئے اختیارات کو منسوخ کرنے کا اختیار نہیں ہے، کیونکہ اس طرح کے اختیارات کو منسوخ کرنے کا اختیار صرف آئین ساز اسمبلی کو دیا گیا تھا۔

جب جسٹس کول نے پوچھا کہ کیا ہندوستانی پارلیامنٹ کے پاس ایسا کرنے کا اختیار ہے، تو سبل نے جواب دیا کہ یہ طے شدہ قانون ہے کہ قانون ساز ادارہ کسی ایسے اختیارات پر استقامت نہیں کر سکتا جو پہلے اس کے پاس نہیں تھا، جیسا کہ سپریم کورٹ نے ایس آر بومئی بمقابلہ میں مشاہدہ کیا تھا۔اب سوال یہ تھا کہ کیا پارلیامنٹ آئین ساز اسمبلی کا کردار ادار کرسکتی ہے۔ اس پر چیف جسٹس نے خود ہی کہا کہ جب پارلیامنٹ آئین میں ترمیم کرتی ہے، تب بھی وہ آئین ساز اسمبلی کے اختیارات کا استعمال نہیں کر رہی ہے، بلکہ ایک جزوی طاقت کا استعمال کرتی ہے۔ جسٹس چندر چوڑ نے استدلال دیاکہ پارلیامنٹ اور آئین ساز اسمبلی دو الگ الگ ادارے ہیں اور پارلیامنٹ کے لیے خود کو آئین ساز اسمبلی میں تبدیل کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔

سماعت کے تیسرے دن سبل نے عدالت کو بتایا کہ جموں و کشمیر کے گورنر، جو خود ہی وفاق کا نمائندہ ہے کے ذریعے خصوصی حیثیت کو چھین لیا گیا اور بتایا گیا کہ ریاست کے ساتھ مشاورت کی گئی ہے۔ جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعظم شیخ عبداللہ کی تقریر کا حوالہ دیتے ہوئے، سبل نے نشاندہی کی کہ اگرچہ آرٹیکل 370 کو ایک عارضی شق قرار دیا جاتا ہے، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ دفعہ 370 کو ‘یکطرفہ طور پر منسوخ، ترمیم یا تبدیل کرنے’ کیا جاسکتا ہے۔ 11 اگست 1952 کی تقریر میں عبداللہ نے کہا تھا کہ آرٹیکل 370 کی عارضی نوعیت جموں و کشمیر اور یونین آف انڈیا کے درمیان آئینی تعلقات کو حتمی شکل دینے کے پہلو میں ہے، جس کا اختیار خاص طور پر جموں و کشمیر کی آئین ساز اسمبلی کے پاس ہے۔

عبداللہ نے کہا تھا، ‘ہندوستان کے آئین نے یونین کے اختیارات کے دائرہ کار اور دائرہ اختیار کو الحاق کی شرائط کے ذریعے محدود کر دیا ہے۔شیخ عبداللہ نے کہا کہ آرٹیکل 370 ہندوستان کے ساتھ ہمارے تعلقات کی بنیاد ہے۔ اس میں چھیڑ چھاڑ، ہماری ریاست کی ہندوستان کے ساتھ وابستگی پر اثر انداز ہو سکتی ہے اور اس کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ عبداللہ نے کہا یہ دو حکومتوں کے درمیان معاہدے کی طرح ہے۔

سبل نے دلیل دی کہ دونوں خودمختارریاستوں یا مملکتوں کے ذریعہ طے شدہ اور دستخط شدہ معاہدے کی ایک توقیر ہوتی ہے اور اس کو ختم نہیں کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 5اگست 2019کو جو کچھ ہوا، وہ ایک صدارتی حکم کے تحت کیا گیا۔ اس صدارتی آرڈکے جاری ہونے سے پہلے راجیہ سبھا میں ایک قرارداد پیش کی گئی تھی، جس کے ذریعے جموں و کشمیر کی تنظیم نو کرکے اس کو دولخت کردیا گیا۔جبکہ ضابطے میں یہ طے ہے کہ ریاست جموں و کشمیر کے نام یا حدود کو تبدیل کرنے والا کوئی بل ریاستی مقننہ کی رضامندی کے بغیر پارلیامنٹ میں پیش نہیں کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کہ گورنر ایک ‘مکمل’ اتھارٹی نہیں ہے بلکہ ایک ‘آئینی مندوب’ ہے۔

سبل نے سوال کیا؛ اگر صدر مرکزی کابینہ کی مدد اور مشورے کے بغیر پارلیامنٹ کو تحلیل نہیں کر سکتے تو گورنر اس اختیار کا استعمال کیسے کر سکتا ہے؟سبل نے اپنی گزارشات کو یہ کہتے ہوئے ختم کیا؛’جموں و کشمیر کے لوگوں کی آواز کہاں ہے؟ کہاں ہے نمائندہ جمہوریت کی آواز؟ پانچ سال گزر چکے ہیں۔’ انہوں نے دوبارہ کہا کہ عدالت اس وقت تاریخ کے ایک کٹہرے میں ہے۔ امید کی جا سکتی ہے کہ عدالت خاموش نہیں رہے گی۔

سبل کی تقریباً تین دن تک محیط اس بحث کے بعد سینئر وکیل گوپال سبرامنیم نے دلیلوں کا آغاز کیا۔ انہوں نے اس نقطہ سے بحث شروع کی کہ ہندوستانی آئین کی طرح جموں و کشمیر کا بھی اپنا آئین ہے، جو 1957میں آئین ساز اسمب.........

02/04/2023

Muslim or kafir mn farq

16/08/2022

beautifully view rajore sensha Azad kashmir

07/08/2022
29/07/2022

baruheia sehnsa Azad kashmir

22/07/2022

kotli city Azad kashmir

Address

Gam Kotli

Telephone

+923425890050

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Kashmir کے Rang posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Establishment

Send a message to Kashmir کے Rang:

Share