Urdu khani&

Urdu khani& Malomat k liye page like karny ka shukria.

20/01/2026

مکافاتِ عمل کے 15 اٹل اصول
دنیا کا سب سے بڑا اور اٹل قانون ”مکافاتِ عمل“ ہے، جسے انگریزی میں Karma کہا جاتا ہے۔ یہ قدرت کا وہ خودکار نظام ہے جس میں ”عدالت“ نہیں لگتی، بلکہ فیصلے خود بخود نافذ ہوتے ہیں۔ آپ جو بیج بوتے ہیں، فصل وہی کاٹنی پڑتی ہے، چاہے وہ گندم ہو یا کانٹے۔
1-گھوم کر آنے والا تیر (The Boomerang Effect)
آپ فضا میں جو پتھر پھینکتے ہیں، وہ کششِ ثقل کی وجہ سے زمین پر واپس آتا ہے۔ بالکل اسی طرح، آپ کا کیا ہوا ظلم یا نیکی گھوم کر واپس آپ ہی کی طرف آتی ہے۔ یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ آپ کسی کا راستہ روکیں اور قدرت آپ کا راستہ نہ روکے۔
2-سود سمیت واپسی (Compound Interest)
قدرت صرف حساب برابر نہیں کرتی، بلکہ ”سود“ سمیت واپس کرتی ہے۔ اگر آپ نے کسی کو ایک تھپڑ مارا ہے، تو حالات آپ کو دس تھپڑ ماریں گے۔ مکافاتِ عمل میں واپسی ہمیشہ اصل سے زیادہ ہوتی ہے، چاہے وہ اچھائی ہو یا برائی۔
3-مظلوم کی خاموشی (The Silence of the Victim)
ظالم کے لیے سب سے خطرناک چیز مظلوم کی ”خاموشی“ ہے۔ جب مظلوم بدلہ نہیں لیتا اور معاملہ آسمان والے پر چھوڑ دیتا ہے، تو پھر اس کا کیس قدرت لڑتی ہے، اور قدرت کی پکڑ میں کوئی ضمانت (Bail) نہیں ہوتی۔
4-ڈھیل، معافی نہیں (Delay is not Denial)
قدرت کی لاٹھی بے آواز ہے لیکن بے اثر نہیں۔ کبھی کبھی ظالم کو لمبی رسی دی جاتی ہے، لیکن یہ ڈھیل اس لیے ہوتی ہے تاکہ جب وہ اپنی طاقت کے عروج پر ہو، تب اسے نیچے گرایا جائے تاکہ تکلیف زیادہ ہو۔
5-اولاد کے روپ میں امتحان (Trials through Offspring)
مکافاتِ عمل کا سب سے تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ اکثر باپ کا کیا دھرا اولاد کے سامنے آتا ہے۔ جو دُکھ آپ نے کسی کے والدین کو دیے ہوتے ہیں، قدرت وہی دُکھ آپ کی اولاد کے ذریعے آپ کو لوٹاتی ہے۔ یہ ”نسلوں کا قرض“ ہوتا ہے۔
6-جنس کا بدلہ جنس (Currency of Pain)
قدرت اسی ”کرنسی“ میں بدلہ دیتی ہے جس میں آپ نے جرم کیا ہوتا ہے۔ اگر آپ نے کسی کی عزت اچھالی، تو آپ کی دولت نہیں جائے گی بلکہ عزت ہی جائے گی۔ اگر آپ نے کسی کا گھر توڑا، تو آپ کا گھر ہی ٹوٹے گا۔ حساب ”آئٹم ٹو آئٹم“ ہوتا ہے۔
7-سکون کی موت (Death of Inner Peace)
مکافاتِ عمل کا پہلا وار ”ذہن“ پر ہوتا ہے۔ ظالم کے پاس نرم بستر تو ہوتا ہے لیکن نیند چھین لی جاتی ہے۔ اس کے دل میں ایک انجانا خوف بیٹھ جاتا ہے، اور وہ اپنے ہی سائے سے ڈرنے لگتا ہے۔
8-غیر متوقع وار (Blindside Hit)
ظالم ہمیشہ سامنے سے حملے کے لیے تیار رہتا ہے، لیکن قدرت کا وار وہاں سے ہوتا ہے جہاں سے گمان بھی نہیں ہوتا۔ کوئی قریبی دوست دھوکا دے جاتا ہے یا کوئی چھوٹی سی بیماری جان لیوا بن جاتی ہے۔
9-بے بسی کا تماشا (Public Humiliation)
مکافاتِ عمل انسان کو تنہائی میں نہیں مارتی، بلکہ چوراہے پر لا کر عبرت کا نشان بناتی ہے۔ جو شخص لوگوں کو ذلیل کرتا تھا، حالات اسے لوگوں کے سامنے محتاج کر دیتے ہیں تاکہ دنیا دیکھے۔
10-وقت کا پہیہ (The Wheel of Time)
وقت کبھی ایک جیسا نہیں رہتا۔ اگر آج آپ طاقتور ہیں اور کمزور کو دبا رہے ہیں، تو یاد رکھیں کل وقت بدلے گا اور کمزور طاقتور ہو جائے گا۔ فرعون بھی ڈوب گیا تھا، وقت کسی کا سگا نہیں ہوتا۔
11-اسباب کا کٹ جانا (Cutting off the Means)
جب پکڑ کا وقت آتا ہے، تو ظالم کی عقل کام کرنا چھوڑ دیتی ہے۔ اس کے طاقتور تعلقات، پیسہ اور سفارشیں سب دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں۔ اسے بچانے والا کوئی نہیں ہوتا۔
12-اپنے ہی خلاف گواہی
مکافاتِ عمل میں انسان خود اپنے خلاف گواہ بن جاتا ہے۔ وہ اپنے ہی بچھائے ہوئے جال میں پھنس جاتا ہے۔ اس کے اپنے الفاظ اور اپنی چالیں اس کے گلے کا پھندا بن جاتی ہیں۔
13-جسمانی سزائیں (Physical Toll)
نفسیات اور روحانیت کہتی ہے کہ ظلم اور منفی سوچیں انسان کے جسم کو اندر سے کھا جاتی ہیں۔ لاعلاج بیماریاں اکثر مکافاتِ عمل کی شکل میں ظاہر ہوتی ہیں، جن کا میڈیکل سائنس میں کوئی شافی علاج نہیں ملتا۔
14-تنہائی کا عذاب (Loneliness)
جس نے اپنی طاقت کے نشے میں لوگوں کو دور کیا ہوتا ہے، بڑھاپے میں وہ بدترین تنہائی کا شکار ہوتا ہے۔ اس کے اپنے اسے چھوڑ جاتے ہیں، اور وہ بھری دنیا میں اکیلا رہ جاتا ہے۔
15-ضمیر کا بوجھ (The Guilt)
سب سے بڑی سزا ”ضمیر کی خلش“ ہے۔ ظالم دنیا کو دھوکا دے سکتا ہے، لیکن آئینے میں خود سے آنکھ نہیں ملا سکتا۔ وہ زندہ لاش بن کر رہ جاتا ہے جو صرف سانس لے رہی ہوتی ہے، جی نہیں رہی ہوتی۔
اس سے پہلے کہ مکافاتِ عمل کا چکر پورا ہو اور تیر واپس آپ کی طرف آئے، معافی مانگ لیں اور تلافی کر لیں۔
قدرت کا اصول سادہ ہے،جو بانٹو گے، وہی (کئی گنا ہو کر) واپس ملے گا۔
Be'shak ❤️❤️❤️

09/01/2026

ایک *انگریز* کو بچپن سے ہی یہ خوف تھا کہ جب وہ سوتا ہے تو اس کے بیڈ کے نیچے کوئی ہوتا ہے لیکن بڑا ہونے کے بعد اس کا یہ خوف دور نہ ہوا.
بڑی سوچ بچار کے بعد وہ ایک *ماہر نفسیات* کے پاس گیا اور اسے اپنا مسئلہ بتایا کہ کوئی حل بتائیں نہیں تو میں اس خوف سے پاگل ہو جاؤنگا.
*ماہر نفسیات* نے اسے کہا کہ مجھ سے علاج کروا لو. ایک سال میں تمہارا یہ مسئلہ گارنٹی کے ساتھ حل ہو جائے گا. بس ہفتے میں تین دن تمہیں آنا ہو گا میرے پاس.

*انگریز* نے پوچھا اور آپ کی فیس کتنی ہو گی.
200 ڈالر فی وزٹ، *ماہر نفسیات* نے بتایا.

ہمممممم، چلیں میں سوچ کر بتاتا ہوں، *انگریز* بولا.

پھر کوئی ایک سال بعد اس *گورے* اور *ماہر نفسیات* کی کسی فنگشن پر ملاقات ہوئی تو *ماہر نفسیات* نے پوچھا کہ تم آئے نہیں میرے پاس.
*گورے* نے جواب دیا کہ میرا وہ مسئلہ میرے ایک *پاکستانی دوست* نے صرف "ایک بریانی کی پلیٹ اور ایک بوتل" پر دور کروا دیا اور آپ کی فیس کے پیسے بچا کر میں نے گاڑی بھی خرید لی ہے

*ماہر نفسیات* نے بڑی حیرانی سے پوچھا: بھئی اس نے ایسا کیا علاج بتایا مجھے بھی بتاؤ پلیز
*گورا* : *پاکستانی دوست* نے مشورہ دیا کہ بیڈ بیچ دو اور فرش پر گدا ڈال کر سویا کرو۔۔

09/01/2026

...... وقت کی قدر کریں
وقت کسی کے لیے نہیں رکتا،
جو وقت کو ضائع کرتے ہیں، #وقت اُنہیں ضائع کر دیتا ہے۔
جسے تم آج ٹال رہے ہو، وہی کل حسرت بن جائے گا۔
وقت پر محنت کرو، تاکہ کل شرمندگی نہ ہو۔
کامیاب وہی ہوتا ہے جو وقت کی قیمت جانتا ہے۔

09/01/2026

*خاموش رہ کر برداشت کر لینا*
*سب سے بڑی عظمت کی نشانی ہے*

09/01/2026

*ہاتھ کی لکیروں پر نہیں، بلکہ ہاتھ بنانے والے رب پر یقین رکھنا چاہیے
* ❤*

09/01/2026
09/01/2026
23/12/2025

جج صاحب : میں 12 سال سے چر۔س پی رہا ہوں ،آپ نے مجھے جیل بھیج دیا تو میں مر جاؤں گا ۔۔۔ انتقال سے ایک روز قبل ساغر اپنے بھائی کے گھر گیا تو دیکھنے والوں نے کیا ماجرا دیکھا ۔۔۔۔ساغر صدیقی کی زندگی کے آخری چند ہفتوں کا افسوسناک احوال ۔۔۔۔ مصدقہ ذرائع بتاتے ہیں کہ مشہور زمانہ شاعر ساغر صدیقی کے زندگی کے آخری ایام انتہائی خراب حال میں گزرے ، زندگی کے غموں نے انہیں بیمار کر ڈالا اور شاعر دوستوں کی محفل نے انہیں نشئیی بنایا ، پھر نشا میں زیادہ سے زیادہ لطف کے چکر میں وہ مار۔فیا کے ٹیکوں کے عادی ہو گئے ایک دو بار انہوں نے طے کر لیا کہ وہ یہ لت چھوڑ دینگے اور ایک خوبصورت زندگی بسر کریں گے ، اس کے لیے انہوں نے ایک چھوٹا سا گھر بھی بنایا مگر انکی قسمت میں اچھی زندگی اور اچھی موت شاید نہیں لکھی تھی ۔۔۔ ایک بار پولیس دیگر نشیئیوں کے ساتھ انہیں گرفتار کرکے لے گئی اسکی گرفتاری کی خبر اخباروں میں چھپی مگر پورے لاہور سے کوئی اسکی ضمانت دینے اور رہا کروانے نہ آیا۔اسے عدالت میں پیش کیا گیا تو ساغر صدیقی نے جج سے کہا جناب والا میں نشئیی آدمی ہوں جیل میں مر جاؤں گا آپ کو اپنے بچوں کا واسطہ مجھے رہا کردیں ، ساغر صدیقی کے ایک دوست وکیل نے کوشش کی کہ ساغر صدیقی کو جیل میں رکھا جائے یا پاگل خانے بھجوایا جائے تاکہ وہ کچھ عرصہ نشا سے دور رہے اور نارمل زندگی کی طرف لوٹ آئے تو اسے رہا کروایا جائے ، مگر ساغر صدیقی سے جب جج صاحب نے پوچھا تو اس نے چیخ چیخ کر رہائی کی درخواست کی جس پر انہیں رہا کردیا گیا اور وہ دوبارہ نشا کی طرف واپس لوٹ آئے ۔ اس لت نے ساغر صدیقی کو اس حد تک نقصان پہنچایا کہ انکاجسم انتہائی کمزور ہو گیا انہیں فالج کا اٹیک بھی ہوا دایاں ہاتھ کام کرنا چھوڑ گیا تھا اور انکی بینائی بھی شدید متاثر ہوئی تھی ۔ساغر صدیقی کو ابتدائی ایام میں جب نشا کرتے کچھ ہی ماہ ہویئے تھے انور کمال پاشا نے اپنی ایک فلم میں گانے لکھنے کو کہا ، ساغر صدیقی کو ایڈوانس معاوضہ 500 روپے دیا گیا ، پاشا صاحب کے کہنے پر ایک دوست انہیں بازار لے گئے ، جوتی کپڑے لے دیے اور باقی رقم انکی جیب میں ڈالی مگر ساغر بجائے گھر جانے کے نشا کے اڈے پر چلے گئے خود بھی جی بھر کے کیا اور وہاں موجود سب لوگوں کو بھی کروایا اور خالی ہاتھ گھر لوٹ آئے ، ان دنوں وہ لاہور میں سرکلر روڈ کے ایک فٹ پاتھ پر رہتا تھا جب ساغر کی غزل چراغ طور جلاؤ بڑا اندھیرا ہے مشہور ہوئی تو مہدی حسن لاہور کے ایک بڑے پبلشر کے ساتھ ساغر صدیقی کو ملنے انکے فٹ پاتھ والے غریب خانے پر آئے ، مہدی حسن 1000 روپے ساتھ لائے تھے تاکہ ساغر کو پیش کریں مگر جس وقت وہ آئے ساغر دھت تھا اور اس نے کسی کو نہ پہچانا ، چنانچہ یہ لوگ مایوس واپس لوٹ گئے ، جب ساغر کو ہوش آئی تو یہ جان کر وہ پریشان ہوا کہ اسے ملنے اتنی بڑی ہستیاں آئی تھیں اور وہ ان سے ملاقات سے محروم رہا ، وہ اسی روز اس پبلشر کی دکان پر گیا اور ان سے پانچ روپے ادھار لے آیا تاکہ اگلے رات دن کا سامان ہو ۔۔۔۔ساغر اپنے ان حالات سے نکلنا چاہتا تھا اس نے کئی بار ایک کمرہ کرائےپر لیا مگر نشا اور نشئیی دوستوں نے ساتھ نہ چھوڑا وہ اکثر کرایہ نہ دے پاتا اور اسے کمرے سےنکال دیا جاتا ، پھر شاید اسے فٹ پاتھ پر رہنے کی عادت پڑ گئی ۔۔ یہ واقعہ صرف ایک فسانہ ہےکہ ساغر صدیقی جس لڑکی سے عشق کرتے تھے وہ ایک معمولی شخص کی بیٹی تھی ساغر نے جب رشتے کے لیے اپنے گھر والوں کو کہا تو انکا جواب تھا ، ہم خاندانی لوگ ہیں ایک معمولی تنور والے کی بیٹی سے تمہاری شادی ہرگز نہیں ہو سکتی ۔یہ تو درست ہے کہ زیادہ تر پبلشرز انکی شاعری خرید کر اور کتابیں چھاپ کر لاکھ پتی بنے لیکن ساغر صدیقی کی 100 ، 50 کے علاوہ عملی مدد کسی نے نہیں کی کہ اسے کسی طرح نارمل زندگی کی طرف لائیں مگر یہ بھی درست ہے کہ زندگی کے آخری دنوں میں چند صحافیوں نے انکی حالت بہتر بنانے کے لیے اخبار میں امداد کی اپیل کی ، کچھ رقم احمد ندیم قاسمی کے پاس جمع ہو گئی مگر افسوس یہ رقم بھی ساغر کے علاج پر نہیں بلکہ لت پر لگی ، ایک آخری امید لیے کچھ مخلص دوستوں نے ساغر کو فٹ پاتھ سے ہسپتال منتقل کرنا چاہا تو ساغر صدیقی بولے ہسپتال نہیں جاؤ گا ڈاکٹر مجھے مار ڈالیں گے ۔۔۔ پھر انہیں جب بھی ہسپتال لے جانے کا کہا جاتا تو وہ غائب ہو جاتے اور گھنٹوں اپنے ٹھکانے پر نظر نہ آتے۔۔، وفات سے ایک روز قبل جب کھانستے ہوئے منہ سے خون آنے لگا تو وہ آخری امید کے طور پر اپنے بھائی کے گھر گئے شاید اسے یقین تھا کہ اب اسکی زندگی کی شمع بجھنے کو ہے یا ہو سکتا ہے وہ چاہتا ہو کہ کم از کم لاوارث نہ مرے ۔وہ بھائی جو اگر چاہتا تو ساغر کو راہ راست پر لا سکتا تھا مگر برسوں اس نے ساغر صدیقی کی خبر نہ لی تھی ، ساغر صدیقی کے بھائی نے اسے گھر میں بٹھایا ، کچھ کھلانے پلانے کی کوشش کی مگر اب ساغر کا جسم کھانا پینا قبول نہیں کررہا تھا ، رات ہوئی جو جانے کیسے گزر گئی اور اس رات کی صبح ساغر صدیقی اپنے بھائی کے گھر میں مردہ پائے گئے ۔۔۔ حالانکہ یہ واقعہ زیادہ مشہور ہے کہ ساغر کی موت سڑک کنارے فٹ پاتھ پر ہی ہوئی تھی ۔۔۔ بہرحال ساغر صدیقی کی آخری رسومات ادا کرکے انہیں قبرستان میانی صاحب میں سپردخاک کردیا گیا ۔۔۔ اللہ کریم ساغر صدیقی کے درجات بلند فرمائے ۔۔۔۔
آمین

22/12/2025




💯💯💯

Address

Faisalabad

Telephone

+923037277265

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Urdu khani& posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share