14/07/2026
اگر کل صبح دنیا سے تمام کیڑے ختم ہو جائیں تو کیا ہوگا؟
زیادہ تر لوگ جب کسی کیڑے کو دیکھتے ہیں تو پہلا خیال یہی آتا ہے کہ اسے مار دینا چاہیے۔ ہمیں لگتا ہے کہ یہ صرف نقصان پہنچاتے ہیں۔ مگر ذرا ایک لمحے کے لیے تصور کریں کہ کل صبح آپ کی آنکھ کھلے اور زمین پر ایک بھی کیڑا موجود نہ ہو۔
شروع کے چند دن شاید آپ کو خوشی ہو۔ نہ مچھر، نہ مکھی، نہ چیونٹیاں۔ لیکن پھر خاموشی سے ایک ایسا سلسلہ شروع ہوگا جس کا انجام انسان کی اپنی بقا کے لیے خطرہ بن جائے گا۔
کھیتوں میں پھول تو کھلیں گے، مگر ان میں سے بے شمار پھل کبھی بن ہی نہیں پائیں گے، کیونکہ ان کی پولینیشن کرنے والے شہد کی مکھیاں، تتلیاں اور دوسرے حشرات موجود نہیں ہوں گے۔ فصلیں کم ہوں گی، پھلوں کی شدید قلت ہوگی اور بہت مہنگے ہوں گے اور خوراک کی قلت آہستہ آہستہ پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لینے لگے گی۔
جنگلات میں پرندوں کے گھونسلے خالی ہونے لگیں گے، کیونکہ ان کے بچوں کی پہلی خوراک ہی کیڑے ہوتے ہیں۔ مینڈک، چھپکلیاں، مچھلیاں اور بے شمار جانور بھوک سے مرنے لگیں گے۔ ایک چھوٹے سے جاندار کی غیر موجودگی پورے غذائی سلسلے کو توڑ دے گی۔
صرف یہی نہیں، مردہ پتے، جانوروں کی باقیات اور نامیاتی مادہ بھی پہلے کی طرح ختم نہیں ہوگا۔ بہت سے کیڑے قدرت کے صفائی کرنے والے ملازم ہیں۔ وہ زمین کو صاف رکھتے ہیں، غذائی اجزاء دوبارہ مٹی میں واپس پہنچاتے ہیں اور نئی زندگی کے لیے راستہ بناتے ہیں۔ ان کے بغیر زمین آہستہ آہستہ فضلے اور گلتے سڑتے مادوں کا ڈھیر بنتی جائے گی۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ دنیا میں جتنے بھی معلوم جاندار ہیں، ان میں نصف سے زیادہ صرف کیڑے ہیں۔ یعنی فطرت نے انہیں اتفاقاً نہیں بنایا، بلکہ زندگی کے پورے نظام میں ایک بنیادی کردار دیا ہے۔
اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ نقصان دہ کیڑوں کو کھلا چھوڑ دیا جائے۔ زرعی آفات، بیماری پھیلانے والے مچھر اور گھریلو نقصان دہ حشرات کا کنٹرول ضروری ہے۔ مگر ہر کیڑے کو دشمن سمجھ کر ختم کر دینا دانشمندی نہیں۔ قدرت کا ہر نظام توازن پر قائم ہے، اور جب انسان اس توازن کو سمجھے بغیر چھیڑتا ہے تو نقصان آخرکار اسی کو اٹھانا پڑتا ہے۔
اگلی بار جب آپ کسی چھوٹے سے کیڑے کو دیکھیں تو صرف یہ نہ سوچیں کہ یہ کتنا معمولی ہے۔ شاید وہ اس دنیا کے اس عظیم نظام کا ایک ایسا پرزہ ہو، جس کے بغیر انسان خود بھی زیادہ دیر تک قائم نہ رہ سکے۔
فطرت کی سب سے بڑی طاقت اکثر وہی ہوتی ہے، جسے ہم سب سے چھوٹا سمجھتے ہیں۔
تحریر: اعزاز احمد، المعروف پیر حشرات ،آستانہ عالیہ خیبر پختونخوا صوابی