14/02/2026
حضرت نوحؑ کا طوفان — جب پوری دنیا پانی میں ڈوب گئی
کبھی سوچا ہے…
کیا واقعی ایسا وقت بھی آیا تھا جب زمین پر پانی ہی پانی تھا؟
جب پہاڑ ڈوب گئے تھے…
جب انسان اپنی طاقت، اپنی اولاد، اپنے غرور کے باوجود بے بس ہو گیا تھا؟
یہ کوئی کہانی نہیں…
یہ حقیقت ہے۔
یہ واقعہ ہے حضرت نوحؑ کے زمانے کا۔
حضرت نوحؑ کو اللہ تعالیٰ نے اپنی قوم کی طرف نبی بنا کر بھیجا۔
انہوں نے اپنی قوم کو دن رات سمجھایا…
نرمی سے بھی، سختی سے بھی، اکیلے میں بھی، سب کے سامنے بھی۔
وہ کہتے تھے:
“صرف ایک اللہ کی عبادت کرو، اسی کی طرف لوٹ آؤ، وہی تمہیں بچانے والا ہے۔”
مگر قوم نے کیا کیا؟
انہوں نے مذاق اڑایا۔
انہیں پاگل کہا۔
انہیں جھٹلایا۔
اور کہا:
“اگر تم سچے ہو تو عذاب لے آؤ!”
یہ وہ لمحہ تھا…
جب زمین والوں نے آسمان کی بات ماننے سے انکار کر دیا۔
پھر اللہ کا حکم آیا…
اللہ نے حضرت نوحؑ سے فرمایا:
ایک کشتی بناؤ۔
سوچیں…
خشک زمین پر کشتی؟
لوگ ہنستے تھے…
طنز کرتے تھے…
کہتے تھے:
“نوحؑ! کیا اب تم دریا بھی لے آؤ گے یہاں؟”
مگر نوحؑ جانتے تھے…
یہ اللہ کا حکم ہے۔
انہوں نے کشتی بنائی…
اور انتظار کیا۔
پھر ایک دن…
آسمان نے اپنے دروازے کھول دیے۔
بارش شروع ہوئی…
ایسی بارش جو کبھی نہیں دیکھی گئی تھی۔
اور صرف آسمان سے ہی نہیں…
زمین سے بھی پانی ابل پڑا۔
ہر طرف پانی…
ہر طرف خوف…
ہر طرف چیخیں…
وہ لوگ جو کل تک ہنستے تھے…
آج بھاگ رہے تھے۔
حضرت نوحؑ نے ایمان والوں کو کشتی میں سوار کیا۔
ہر جانور کا ایک جوڑا لیا…
اور کشتی چل پڑی۔
پانی اتنا بڑھا کہ پہاڑ بھی ڈوب گئے۔
اور پھر وہ لمحہ آیا…
جو ہر دل کو ہلا دیتا ہے۔
حضرت نوحؑ کا اپنا بیٹا…
جو ایمان نہیں لایا تھا…
پہاڑ پر کھڑا تھا۔
نوحؑ نے پکارا:
“بیٹا! ہمارے ساتھ آ جاؤ، کافروں کے ساتھ نہ رہو!”
مگر اس نے کہا:
“میں پہاڑ پر چڑھ جاؤں گا، یہ مجھے بچا لے گا!”
یہ غرور تھا…
یہ اللہ پر بھروسہ نہ کرنے کا انجام تھا۔
ایک لہر آئی…
اور سب ختم ہو گیا۔
نہ پہاڑ بچا…
نہ غرور…
نہ انکار…
صرف وہی بچے…
جو اللہ پر ایمان لائے تھے۔
پھر اللہ کا حکم آیا:
“اے زمین! اپنا پانی نگل لے۔
اور اے آسمان! رک جا۔”
پانی اتر گیا…
کشتی رک گئی…
اور ایک نئی زندگی کا آغاز ہوا۔
یہ واقعہ صرف ایک طوفان کی کہانی نہیں…
یہ ایک پیغام ہے۔
جب انسان حد سے بڑھ جاتا ہے…
جب وہ حق کو جھٹلاتا ہے…
جب وہ غرور میں آ جاتا ہے…
تو پھر اس کی طاقت، اس کی دولت، اس کی اولاد…
کچھ بھی اسے نہیں بچا سکتی۔
اور یہ بھی سبق ہے…
نجات صرف کشتی میں نہیں تھی…
نجات ایمان میں تھی۔
آج بھی ہم اپنی اپنی کشتیوں میں کھڑے ہیں…
کسی کو اپنی دولت پر غرور ہے…
کسی کو اپنی طاقت پر…
کسی کو اپنے علم پر…
مگر یاد رکھیں…
اصل حفاظت صرف اللہ کی اطاعت میں ہے۔
اللہ ہمیں نوحؑ والوں میں شامل کرے…
نہ کہ نوحؑ کی قوم والوں میں۔
آمین 🤲