Hayya ALal Aza

Hayya ALal Aza Nokar har matami k

ملے نہ تم کو کوئی غم غمِ حسین ؏ کے بعدکہ عید زہراء؁ مناؤ غمِ حسین ؏ کے بعدلے آئے کاٹ کر مختار سر لعینوں کےہے آج رُخ پہ ت...
22/08/2026

ملے نہ تم کو کوئی غم غمِ حسین ؏ کے بعد
کہ عید زہراء؁ مناؤ غمِ حسین ؏ کے بعد
لے آئے کاٹ کر مختار سر لعینوں کے
ہے آج رُخ پہ تبسم غمِ حسین ؏ بعد

بچے تو اگلے برس ہم ہیں اور یہ غم پھر ہے جو چل بسے تو یہ اپنا سلامِ آخر ہےسوگ کے دو ماہ آٹھ دن ختم ہو گۓ، مگر حسین؀ کا را...
22/08/2026

بچے تو اگلے برس ہم ہیں اور یہ غم پھر ہے
جو چل بسے تو یہ اپنا سلامِ آخر ہے
سوگ کے دو ماہ آٹھ دن ختم ہو گۓ، مگر حسین؀ کا راستہ ختم نہیں ہوا۔ باقی نو ماہ بائیس دن حسین؀ کا پیغام زندہ رکھیں۔لبیک یا حسین

22/08/2026

جو عزادار پیدا ہی عزاداری کے لئیے ہوئے ہیں
وہ کبھی غمء حسین ص کو الوداع نہیں کہتے۔

*شبِ شہادت شہنشاہِ معظم مولا امام حسن عسکری صلواۃ اللہ علیہ پُرسہ بخدمت مومنین و باالخصوص امام زمانہ عجل اللہ فرجہ الشری...
21/08/2026

*شبِ شہادت شہنشاہِ معظم مولا امام حسن عسکری صلواۃ اللہ علیہ پُرسہ بخدمت مومنین و باالخصوص امام زمانہ عجل اللہ فرجہ الشریف* 💔😭😭😭🙏😭

6 ربیع الاول شہادت بی بی رباب سلام اللہ علیھا پہ تعزیت پیش کرتے ہی
19/08/2026

6 ربیع الاول شہادت بی بی رباب سلام اللہ علیھا پہ تعزیت پیش کرتے ہی

3 ربیع الاول یزید ملعون کے حکم پر اس کے سپاہیوں نے خانہ کعبہ پر حملہ کیا اور  منجنیق سے پتھر برسائے اور نذر آتش کیا ۔ اِ...
17/08/2026

3 ربیع الاول یزید ملعون کے حکم پر اس کے سپاہیوں نے خانہ کعبہ پر حملہ کیا اور منجنیق سے پتھر برسائے اور نذر آتش کیا ۔

اِنَّ اَوَّلَ بَیتٍ وُّضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِی بِبَکَّۃَ مُبٰرَکًا وَّ ہُدًی لِّلعٰلَمِینَ

سب سے پہلا گھر جو لوگوں (کی عبادت) کے لیے بنایا گیا وہ وہی ہے جو مکہ میں ہے جو عالمین کے لیے بابرکت اور راہنما ہے۔

سورۃ آلِ عمران آیت 96

*مکہ مکرمہ پر لشکرِ یزید کا حملہ اور خانہ کعبہ کی بے حرمتی*64 ہجری — اسلامی تاریخ کا سیاہ ترین بابمعتبر اہلِ سنت مصادر ک...
17/08/2026

*مکہ مکرمہ پر لشکرِ یزید کا حملہ اور خانہ کعبہ کی بے حرمتی*

64 ہجری — اسلامی تاریخ کا سیاہ ترین باب
معتبر اہلِ سنت مصادر کی روشنی میں
تعارف
اللہ تبارک و تعالیٰ نے مکہ مکرمہ کو تمام عالم کے لیے امن کا گہوارہ بنایا اور خانہ کعبہ کو قبلۂ عالم قرار دیا۔ جس شہر کو خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے "اللہ کا حرم" فرمایا، جس کی حرمت کا اعلان قرآنِ کریم نے فرمایا — اُسی مقدس شہر پر ۶۴ ہجری میں یزید بن معاویہ کے لشکر نے منجنیقوں سے پتھر اور آگ کے گولے برسائے اور خانہ کعبہ کو نذرِ آتش کر دیا۔
یہ واقعہ سانحۂ کربلا اور واقعۂ حَرَّہ کے بعد یزیدی دور کا تیسرا اور شاید سب سے بڑا المیہ تھا — کہ پہلے نواسۂ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو شہید کیا گیا، پھر مدینۃ النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تاراج کیا گیا، اور اب بیتِ اللہ کو آگ لگا دی گئی۔
"یزید کے دور میں تین بڑے واقعات رونما ہوئے جنہوں نے اس کی سیرت و کردار کو مسخ کر کے رکھ دیا: اوّل — حسینؓ بن علیؓ اور ان کے اہلِ بیت کا قتلِ عام۔ دوم — واقعۂ حرہ۔ سوم — خانہ کعبہ پر حملہ جس سے اس کی بنیادیں ہل گئیں اور اسے آگ لگ گئی۔"
— محدث فورم، بحوالہ: البدایۃ والنہایۃ، امام ابنِ کثیر
پسِ منظر — حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کا موقف
حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ صحابیِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کے فرزند، اور خلیفۂ اوّل حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے نواسے تھے۔ وہ مہاجرین میں مدینہ منورہ میں پیدا ہونے والے پہلے بچے تھے اور اپنے زمانے کے بہادر ترین سورماؤں میں شمار ہوتے تھے۔
جب یزید نے بیعت کا مطالبہ کیا تو حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے — سانحۂ کربلا سے بھی پہلے — یزید کی بیعت سے انکار کر دیا اور مکہ مکرمہ میں خانہ کعبہ کی پناہ میں آ گئے۔
امام طبری، تاریخ الطبری، ج ۵، ص ۴۹۷–۴۹۹
امام ابنِ اثیر، الکامل فی التاریخ، ج ۴، ص ۱۱۱
سانحۂ کربلا اور واقعۂ حَرَّہ کے بعد اہلِ مکہ نے بڑی تعداد میں حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کا ساتھ دیا اور انہیں اپنا امیر تسلیم کر لیا۔
لشکر کی روانگی — مدینہ سے مکہ تک
واقعۂ حَرَّہ میں مدینہ کو تاراج کرنے کے بعد لشکرِ شام کو یزید نے حکم دیا کہ مکہ کا رخ کرے اور حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کا قلع قمع کرے۔ لشکر کا سربراہ مسلم بن عقبہ تھا، مگر وہ راستے ہی میں بیمار پڑ گیا اور اس نے مرتے وقت حُصَین بن نُمَیر سکونی کو لشکر کی کمان سونپی۔
امام ابنِ اثیر، الکامل فی التاریخ، ج ۴، ص ۱۲۰
حُصَین بن نُمَیر نے لشکر کو آگے بڑھایا اور ۲۶ محرم ۶۴ ہجری کو مکہ پہنچ کر شہر کا محاصرہ کر لیا۔
امام طبری، تاریخ الطبری، ج ۵، ص ۴۹۷
عبداللہ بن زبیر — اردو انسائیکلوپیڈیا، بحوالہ ابنِ سعد
محاصرۂ مکہ
حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے مسجدِ حرام میں قیام کیا اور خانہ کعبہ کی پناہ میں رہ کر دفاع کیا۔ لشکرِ شام نے دو مشہور پہاڑوں کوہ ابی قبیس اور جبل قعیقعان پر منجنیقیں نصب کر دیں اور مسجدِ حرام اور خانہ کعبہ کی جانب پتھر برسانے شروع کر دیے۔
امام ابنِ قتیبہ، الامامۃ والسیاسۃ، ج ۲، ص ۱۵
روزنامہ الفضل، بحوالہ: سیرت ابنِ ہشام و الکامل
محاصرے کے دوران حُصَین بن نُمَیر نے حکم دیا کہ ہر روز ہزار بڑے بڑے پتھر مسجدِ حرام کی جانب پھینکے جائیں۔ اس کے علاوہ روئی اور کتان کے کپڑوں کو تیل میں بھگو کر آگ لگائی جاتی اور انہیں خانہ کعبہ کی طرف پھینکا جاتا تھا۔
امام طبری، تاریخ الطبری، ج ۵، ص ۴۹۸–۴۹۹
خانہ کعبہ میں آگ
۳ ربیع الاول ۶۴ ہجری کو منجنیقوں سے جاری پتھراؤ اور آتشیں گولوں کی بمباری کے نتیجے میں خانہ کعبہ کا غلاف آگ سے جل گیا، اندر اور باہر کی لکڑیاں جل کر راکھ ہو گئیں اور دیواریں کمزور پڑ گئیں۔
حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی کی یاد میں صدیوں سے کعبہ کی چھت پر آویزاں سینگ بھی جل کر خاکستر ہو گئے۔ حجرِ اسود بھی اس حملے کے نتیجے میں ٹوٹ گیا اور بعد میں حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے اس پر چاندی کا حلقہ چڑھایا۔
امام طبری، تاریخ الطبری، ج ۵، ص ۴۹۷–۴۹۹
امام ابنِ کثیر، البدایۃ والنہایۃ، ج ۸، ص ۲۳۸
صحیح مسلم میں حضرت عطاء رحمہ اللہ سے روایت ہے:
"یزید بن معاویہ کے دور میں جب اہلِ شام — یعنی یزیدی لشکر — نے مکہ پر حملہ کیا تو اس دوران کعبہ جل گیا۔ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے اسے اسی حالت میں چھوڑے رکھا یہاں تک کہ لوگ حج کے لیے آنے لگے، تاکہ وہ لوگوں کو اہلِ شام کے خلاف ابھاریں۔"
— صحیح مسلم، کتاب الحج، ح ۱۳۳۳
یہ حدیث اس بات کا قطعی ثبوت ہے کہ کعبہ کو آگ لگانے کا واقعہ یزیدی دور میں ہوا اور یہ لشکرِ شام کا فعل تھا — اور یہ بات صرف تاریخی کتابوں میں نہیں بلکہ صحیح مسلم جیسے معتبر ترین مجموعۂ حدیث میں بھی محفوظ ہے۔
محاصرے کا خاتمہ — یزید کی موت
یہ خونیں محاصرہ پورے ۶۴ دن جاری رہا۔ پھر ۱۴ ربیع الاول ۶۴ ہجری کو یزید کی موت کی خبر لشکرِ شام تک پہنچی۔ خبر سنتے ہی لشکر میں انتشار پھیل گیا اور حُصَین بن نُمَیر نے جنگ بند کر کے فوج سمیت شام کی طرف واپسی اختیار کی۔
امام طبری، تاریخ الطبری، ج ۵، ص ۴۹۹
امام ابنِ اثیر، الکامل، ج ۴، ص ۱۲۱
محاصرے کے خاتمے پر حُصَین بن نُمَیر نے حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو پیشکش کی کہ اگر وہ ان کے ساتھ شام چلیں تو وہ ان کے ہاتھ پر بیعت کریں گے — مگر حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے انکار کر دیا کیونکہ وہ اپنے مقتولین کو اس طرح چھوڑ کر جانے پر رضامند نہ تھے۔
امام ابنِ سعد، الطبقاتِ الکبریٰ
خانہ کعبہ کی تعمیرِ نو
کعبہ کو جو نقصان پہنچا تھا وہ اس قدر شدید تھا کہ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے علماء سے مشورہ کیا۔ انہوں نے تین دن استخارہ کیا اور پھر کعبہ کو اس کی بنیادوں تک گرا کر از سرِ نو تعمیر کیا اور اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی منشاء کے مطابق حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اصل بنیادوں پر بنایا۔
انہوں نے حطیم کو کعبہ میں شامل کیا، دو دروازے بنائے اور کعبہ کی اونچائی ۱۷ ہاتھ سے بڑھا کر ۲۷ ہاتھ کر دی اور دیواروں کو مشک سے معطر کیا۔ اس تعمیر کی بنیاد حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی اُس حدیث پر تھی جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا:
"اگر تمہاری قوم ابھی تازہ تازہ کفر سے نہ نکلی ہوتی تو میں کعبہ کو ابراہیم علیہ السلام کی بنیادوں پر دوبارہ تعمیر کرتا اور اس میں حطیم کو بھی شامل کرتا۔"
— صحیح بخاری، ح ۱۵۸۶؛ صحیح مسلم، ح ۱۳۳۳
امام ابنِ سعد، الطبقاتِ الکبریٰ
امام طبری، تاریخ الطبری، ج ۵
قرآنِ کریم اور احادیثِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی روشنی میں
اللہ تبارک و تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
﴿وَمَن يُرِدْ فِيهِ بِإِلْحَادٍ بِظُلْمٍ نُذِقْهُ مِنْ عَذَابٍ أَلِيمٍ﴾
"اور جو اس (مسجدِ حرام) میں ظلم سے الحاد کا ارادہ کرے ہم اسے دردناک عذاب چکھائیں گے۔"
— سورۃ الحج: ۲۵
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مکہ مکرمہ کی حرمت بیان کرتے ہوئے فرمایا:
«إنَّ هَذَا الْبَلَدَ حَرَّمَهُ اللَّهُ يَوْمَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضَ، فَهُوَ حَرَامٌ بِحُرْمَةِ اللَّهِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ»
"بے شک اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کی تخلیق کے دن ہی سے اس شہر کو حرام قرار دے دیا تھا، پس یہ اللہ کی حرمت کی بنا پر قیامت تک حرام رہے گا۔"
— صحیح بخاری، ح ۳۱۸۹؛ صحیح مسلم، ح ۱۳۵۳
ان نصوص کی روشنی میں اس شہر اور اس گھر پر حملہ کرنا اور اسے آگ لگانا کس درجے کا جرم تھا — اس کا اندازہ ہر صاحبِ ایمان بخوبی کر سکتا ہے۔
اہلِ سنت کے اکابر علماء کا موقف
امام ابنِ کثیر رحمہ اللہ نے اس پورے واقعے کو تفصیل سے بیان کر کے یزید کے دور کا سیاہ ترین باب قرار دیا۔
— البدایۃ والنہایۃ، ج ۸، ص ۲۲۱–۲۳۸
امام ذہبی رحمہ اللہ نے یزید کے دورِ خلافت کا ذکر کرتے ہوئے ان تینوں واقعات — کربلا، حَرَّہ اور مکہ — کو یزید کے کردار کی سب سے بڑی دلیل قرار دیا۔
— سیر اعلام النبلاء، ج ۴
امام طبری رحمہ اللہ نے تاریخ الطبری میں اس واقعے کی مفصل روایات درج کی ہیں۔
— تاریخ الطبری، ج ۵، ص ۴۹۷–۴۹۹
امام ابنِ اثیر رحمہ اللہ نے الکامل میں یزید کے ان تمام جرائم کو یکجا بیان کیا ہے۔
— الکامل فی التاریخ، ج ۴
معتبر اہلِ سنت مآخذ
کتاب
مصنف
وفات
تاریخ الطبری، ج ۵
امام محمد بن جریر الطبری
۳۱۰ ھ
الکامل فی التاریخ، ج ۴
امام عزالدین ابنِ اثیر
۶۳۰ ھ
البدایۃ والنہایۃ، ج ۸
حافظ ابنِ کثیر دمشقی
۷۷۴ ھ
الامامۃ والسیاسۃ، ج ۲
امام ابنِ قتیبہ دینوری
۲۷۶ ھ
الطبقاتِ الکبریٰ
امام محمد بن سعد
۲۳۰ ھ
سیر اعلام النبلاء، ج ۴
امام شمس الدین ذہبی
۷۴۸ ھ
صحیح بخاری، ح ۱۵۸۶، ۳۱۸۹
امام محمد بن اسماعیل البخاری
۲۵۶ ھ
صحیح مسلم، ح ۱۳۳۳، ۱۳۵۳
امام مسلم بن حجاج
۲۶۱ ھ
خاتمہ
یزید بن معاویہ کے تین سال اور کچھ ماہ کے مختصر دورِ خلافت میں تین ایسے واقعات رونما ہوئے جن کی نظیر اسلامی تاریخ میں نہیں ملتی۔ نواسۂ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شہادت، مدینۃ النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تاراجی، اور پھر بیتِ اللہ میں آگ — یہ تین سانحے تاریخِ اسلام کے وہ ناسور ہیں جو کبھی نہ بھرے۔
امام ذہبی رحمہ اللہ نے سیر اعلام النبلاء میں لکھا کہ یزید کے پہلے سال میں حسین رضی اللہ عنہ کو قتل کیا گیا، دوسرے سال مدینہ کو پامال کیا گیا اور تیسرے سال کعبہ کو نذرِ آتش کیا گیا — اور پھر اللہ نے اسی سال اسے موت دے دی۔
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے حرمِ پاک کو ہر ظالم اور دشمنِ اسلام سے محفوظ رکھے اور ہمیں اپنے دونوں مقدس گھروں کی صحیح قدر و منزلت کا ادراک عطا فرمائے۔ آمین۔

گھبرائی ہے زینبؑ آیا ہے مدینہ😭لبریز ہے غم سے ہر بی بیؑ کا سینہاک سال گزارا ہے زندانِ ستم میںدن باقی گزارے گی زینبؑ اسی غ...
16/08/2026

گھبرائی ہے زینبؑ آیا ہے مدینہ😭
لبریز ہے غم سے ہر بی بیؑ کا سینہ
اک سال گزارا ہے زندانِ ستم میں
دن باقی گزارے گی زینبؑ اسی غم میں
مقتل میں ہے اصغرؑ زنداں میں سکینہؑ💔

#اہلِ_حرم_کی_مدینہ_واپسی

16/08/2026

Address

Vip Conley
Faisalabad
38000

Telephone

03326614758

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Hayya ALal Aza posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share