25/09/2026
دعا پر اعتماد ایمان کا اعلیٰ درجہ ہے۔ یہ بڑے نصیب کی بات ہے کہ انسان دعا کا سہارا ہاتھ سے نہ جانے دے۔ جب کسی قوم یا فرد کا دعا سے اعتماد اٹھ جائے تو آنے والا وقت مصیبت کا زمانہ ہوتا ہے۔ گناہ اور ظلم انسان سے دعا کا حق چھین لیتے ہیں۔
دعا مانگنا شرط ہے، منظوری شرط نہیں۔ اللہ کریم کے پاس مکمل اختیار ہے۔ چاہے تو گنہگار کی دعا منظور فرما لے، نہ چاہے تو پیغمبر کی دعا بھی منظور نہ فرمائے۔ نوح علیہ السلام سینکڑوں برس اللہ کے دین کی خدمت کرتے رہے۔ آخر ان کا بیٹا بھی طوفان کی نظر ہو گیا، لیکن ان کے ایمان میں فرق نہ آیا۔ دعا آخر سوال ہی تو ہے۔ ماننے والا مانے یا نہ مانے۔ صاحب دعا بھی ابتلا سے گزرتا ہے۔ یہ زندگی ہے۔ اس میں غم ضرور آئے گا، تکلیف ضرور آئے گی، بیماری ضرور آئے گی اور پھر موت بھی ضرور آئے گی۔
ان حالات میں دعا کا مقام کیا رہ گیا؟ دعا کا یہی مقام ہے کہ انسان تقرب الہیٰ کی خواہش کو کمزور نہ ہونے دے۔ دعا یہ ہے کہ اللہ ہمیں اپنی رحمت سے مایوس نہ ہونے دے۔ دعا یہ ہے کہ ہمارا دل نورِ ایمان سے روشن ہو۔ دعا یہ ہے کہ اتنا کرم نہ ہو کہ ہم اس کی یاد سے غافل ہو جائیں اور اتنا ستم نہ ہو کہ ہم اس کی رحمت سے مایوس ہو جائیں۔ دعا یہ ہے کہ اللہ ہمیں منظور ہونے والی دعاؤں کی آگہی عطا فرمائے اور وہ دعائیں جن پر بابِ قبول بند ہو، ان کی توفیق عطا نہ فرمائے۔
انسان اکثر ان چیزوں کو پسند کرتا ہے، جو اس کیلئے نقصان دہ ہیں اور اکثر ان چیزوں کو ناپسند کرتا ہے جو اس کیلئے مفید ہیں۔ ہم اپنی پسند کی چیزیں مانگتے ہیں اور جب وہ حاصل نہیں ہوتیں، تو ہم شور مچاتے ہیں۔ حالانکہ ان کا حاصل نہ ہونا ہی ہمارے لئے مفید ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ مسنون دعائیں مانگی جائیں۔ ہمیں دعاؤں کی تعلیم دی گئی ہے۔ بچے کے پیدا ہونے سے لے کر میت کے دفن کرنے تک ہر مقام پر دعا کا طریقہ کار بتایا گیا ہے۔ مثلاً معمولی سا واقعہ ہے آئینہ دیکھنا، اس کیلئے بھی دعا ہے کہ "اے اللہ! میرے چہرے کی طرح میرے کردار کو بھی خوبصورت بنا۔"
کتاب: دل دریا سمندر
مضمون: دعا
سرکار حضرت امام واصف علی واصف باصفا رح