Harf-e-Wasif

Directions

Harf-e-Wasif Wasif_Ali_wasif_sufi_poet_writer

دعا پر اعتماد ایمان کا اعلیٰ درجہ ہے۔ یہ بڑے نصیب کی بات ہے کہ انسان دعا کا سہارا ہاتھ سے نہ جانے دے۔ جب کسی قوم یا فرد ...
25/09/2026

دعا پر اعتماد ایمان کا اعلیٰ درجہ ہے۔ یہ بڑے نصیب کی بات ہے کہ انسان دعا کا سہارا ہاتھ سے نہ جانے دے۔ جب کسی قوم یا فرد کا دعا سے اعتماد اٹھ جائے تو آنے والا وقت مصیبت کا زمانہ ہوتا ہے۔ گناہ اور ظلم انسان سے دعا کا حق چھین لیتے ہیں۔
دعا مانگنا شرط ہے، منظوری شرط نہیں۔ اللہ کریم کے پاس مکمل اختیار ہے۔ چاہے تو گنہگار کی دعا منظور فرما لے، نہ چاہے تو پیغمبر کی دعا بھی منظور نہ فرمائے۔ نوح علیہ السلام سینکڑوں برس اللہ کے دین کی خدمت کرتے رہے۔ آخر ان کا بیٹا بھی طوفان کی نظر ہو گیا، لیکن ان کے ایمان میں فرق نہ آیا۔ دعا آخر سوال ہی تو ہے۔ ماننے والا مانے یا نہ مانے۔ صاحب دعا بھی ابتلا سے گزرتا ہے۔ یہ زندگی ہے۔ اس میں غم ضرور آئے گا، تکلیف ضرور آئے گی، بیماری ضرور آئے گی اور پھر موت بھی ضرور آئے گی۔

ان حالات میں دعا کا مقام کیا رہ گیا؟ دعا کا یہی مقام ہے کہ انسان تقرب الہیٰ کی خواہش کو کمزور نہ ہونے دے۔ دعا یہ ہے کہ اللہ ہمیں اپنی رحمت سے مایوس نہ ہونے دے۔ دعا یہ ہے کہ ہمارا دل نورِ ایمان سے روشن ہو۔ دعا یہ ہے کہ اتنا کرم نہ ہو کہ ہم اس کی یاد سے غافل ہو جائیں اور اتنا ستم نہ ہو کہ ہم اس کی رحمت سے مایوس ہو جائیں۔ دعا یہ ہے کہ اللہ ہمیں منظور ہونے والی دعاؤں کی آگہی عطا فرمائے اور وہ دعائیں جن پر بابِ قبول بند ہو، ان کی توفیق عطا نہ فرمائے۔

انسان اکثر ان چیزوں کو پسند کرتا ہے، جو اس کیلئے نقصان دہ ہیں اور اکثر ان چیزوں کو ناپسند کرتا ہے جو اس کیلئے مفید ہیں۔ ہم اپنی پسند کی چیزیں مانگتے ہیں اور جب وہ حاصل نہیں ہوتیں، تو ہم شور مچاتے ہیں۔ حالانکہ ان کا حاصل نہ ہونا ہی ہمارے لئے مفید ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ مسنون دعائیں مانگی جائیں۔ ہمیں دعاؤں کی تعلیم دی گئی ہے۔ بچے کے پیدا ہونے سے لے کر میت کے دفن کرنے تک ہر مقام پر دعا کا طریقہ کار بتایا گیا ہے۔ مثلاً معمولی سا واقعہ ہے آئینہ دیکھنا، اس کیلئے بھی دعا ہے کہ "اے اللہ! میرے چہرے کی طرح میرے کردار کو بھی خوبصورت بنا۔"
کتاب: دل دریا سمندر
مضمون: دعا
سرکار حضرت امام واصف علی واصف باصفا رح

ہر انسان کسی نہ کسی شئے کی تلاش میں سرگرداں ہے۔ کوئی کچھ چاہتا ہے، کوئی کچھ ڈھونڈ رہا ہے۔ انسانوں کے ہجوم میں آرزوؤں کا ...
18/09/2026

ہر انسان کسی نہ کسی شئے کی تلاش میں سرگرداں ہے۔ کوئی کچھ چاہتا ہے، کوئی کچھ ڈھونڈ رہا ہے۔ انسانوں کے ہجوم میں آرزوؤں کا بھی ہجوم ہے۔ دشمن، دشمن کی تلاش میں ہے اور دوست، دوست کی جستجو میں۔ کائنات کی تمام اشیاء کا ہمہ وقت مصروفِ سفر رہنا کسی انوکھی تلاش کا اظہار ہے۔ آرزو کا انجام شکستِ آرزو ہو، تو بھی یہ ہستی کی دلیل ہے۔ سورج تاریکی کے شکار کو نکلا ہے اور تاریکی سورج کے تعاقب میں ہے۔ دریا کو سمندر کی لگن ہے اور سمندر کو دریا بننے کی خواہش مضطرب کر رہی ہے۔ ہر چیز اپنے اپنے مدار میں اپنی خواہش اور تلاش کے حصار میں ہے۔
تلاش متحرک رکھتی ہے اور حرکت رازِ ہستی ہے۔ تلاش ہی انسان کی جبلت ہے۔ یہ اس کا اصل ہے۔ یہ اس کا خمیر ہے۔ یہ اس کی سرشت ہے۔ جسے اور کوئی تلاش نہ ہو، وہ اپنی تلاش کرتا رہتا ہے۔ وہ جاننا چاہتا ہے کہ وہ کون ہے؟ وہ کہاں سے آیا ہے؟ وہ کب سے ہے؟ اور وہ کب تک رہے گا؟ وہ معلوم کرنا چاہتا ہے کہ وہ کون سا جذبہ ہے جو اسے محرومیوں اور ناکامیوں کے باوجود زندہ رہنے پر مجبور کرتا ہے۔
انسان اس بات سے آگاہ ہونا چاہتا ہے کہ یہ کائنات اور نظامِ کائنات کس نے تخلیق فرمایا؟ تخلیقِ حسن میں کیا حسنِ تخلیق ہے؟ یہ سب جلوے کس کے ہیں؟ کون ہے اس پردۂ رعنائی کے اندر؟ اور کون ہے اس پردے سے باہر؟ اور یہ پردہ کیا ہے؟
تلاش کا سفر اتنا ہی قدیم ہے‘ جتنا ہستی کا سفر۔ ہر پیدا ہونے والے کے ساتھ اس کی تلاش بھی پیدا ہوتی ہے۔ انسان آگاہ ہو یا بے خبر‘ وہ ہمیشہ رہینِ آرزو رہتا ہے۔ زندگی کی آرزو دراصل کسی کی جستجو ہے۔ انسان کو ہمہ وقت ایسے احساس ہوتا ہے‘ جیسے وہ کچھ کھو چکا ہے۔ وہ کچھ بھول گیا ہے۔ اسے چھوڑی ہوئی منزل متلاش بناتی ہے۔ وہ محسوس کرتا ہے کہ اس کے پاس کوئی قدیم راز تھا‘ جو گم ہو گیا۔ اس کا بے ربط ماضی اسے کسی درخشندہ مستقبل سے محروم کر گیا۔ شاید وہ دنیا کے عوض آخرت کا سودا کر بیٹھا۔ انسان غور کرتا ہے اور جوں جوں غور کرتا ہے‘ ایک شدید پیاس کی طرح ایک نامعلوم تلاش اسے جکڑ لیتی ہے۔ اس تلاش سے مفر نہیں۔
کتاب: دل دریا سمندر
مضمون: تلاش
سرکار حضرت امام واصف علی واصف باصفا رح

مقدر بدل نہیں سکتا۔ ہمارے پروگرام بدل سکتے ہیں، لیکن امرِ الٰہی ٹل نہیں سکتا۔ بڑے بڑے کامیاب انسانوں کو ان کی اولاد نے ا...
17/09/2026

مقدر بدل نہیں سکتا۔ ہمارے پروگرام بدل سکتے ہیں، لیکن امرِ الٰہی ٹل نہیں سکتا۔ بڑے بڑے کامیاب انسانوں کو ان کی اولاد نے ایسی ناکامیاں عطا کی ہیں کہ بس خدا کی پناہ۔ اولاد کا عمل بھی والدین کے اعمال کی طرح انسان کی زندگی پر اثر انداز ہو کر اسے ایک مقدر کے حوالے کر دیتا ہے۔
انسان اپنے آپ کو کہاں تک محفوظ کرے گا۔ چراغ کو آندھی اور طوفان سے تو بچایا جا سکتا ہے، لیکن چراغ کے اندر ہی سے تیل ختم ہو جاتا ہے۔ اس چراغ کو کوئی نہیں بجھاتا۔ یہ خود ہی بجھتا ہے۔ زندگی کی دیوار اپنے بوجھ سے ہی گر جاتی ہے۔ یہی اس کا مقدر ہے۔
زندگی کو باہر سے خطرہ ہو تو اس کی حفاظت کی جا سکتی ہے۔ اگر خطرہ اندر ہی ہو تو کیا کیا جائے۔ سانس خود ہی رک جاتی ہے۔ دل خود ہی بند ہو جاتا ہے۔ بس یہی مقدر ہے۔ اسے بدلنے کی خواہش اور کوشش تو ضرور ہوتی ہے، لیکن اسے تبدیل کرنا ممکن نہیں ہوتا۔
جو ٹل جائے، وہ مقدر نہیں، اندیشہ ہے۔ جو بدل جائے، وہ صرف امکان ہے، مقدر نہیں۔ جو نہ بدلے، وہ مقدر ہے۔ جو اٹل ہو، وہی امرِ الٰہی ہے۔ وہی نصیب ہے۔ ہمارا نصیب، جو ہمارے عمل کے تعاون کا بھی محتاج نہیں، اس بارش کی طرح ہے، جو آسمانوں سے نازل ہوتی ہے اور اس زلزلے کی طرح جو زمین کے اندر سے ہی پیدا ہوتا ہے۔ اس میں کسی کا دخل نہیں۔ یہ فطرت کے فیصلے ہیں؛ اٹل اور نہ بدلنے والے۔
اشعار:
قیامت کس طرح آئی اسے کوئی نہیں سمجھا
شبِ تاریک رخصت ہو چکی، سورج نہیں نکلا
بڑی محرومیاں لکھی گئیں اس کے مقدر میں
وہ راہی جو درختوں سے چرا کر لے گیا سایا
تمہاری یاد میں قلمیں لگائیں ہیں گلابوں کی
تمہارے نام سے گھر میں لگایا سرو کا بوٹا
چلو اظہارِ غم پر تو ترے ماتھے پہ بل آئے
مگر ضبطِ فغاں پر کیوں تری آنکھوں میں خوں اترا
کتاب: دل دریا سمندر
مضمون: تقدیر بدل جائے تو۔۔
سرکار حضرت امام واصف علی واصف باصفا رح

میں گاڑی میں سوار ہونے سے پہلے کسی بھی ذریعہ سفر کا انتخاب کر سکتا ہوں۔ بڑے امکانات ہیں۔ سفر کیلئے بڑے ذرائع ہیں، لیکن ج...
16/09/2026

میں گاڑی میں سوار ہونے سے پہلے کسی بھی ذریعہ سفر کا انتخاب کر سکتا ہوں۔ بڑے امکانات ہیں۔ سفر کیلئے بڑے ذرائع ہیں، لیکن جب میں گاڑی میں سوار ہو جاتا ہوں، تو یہ مقدر ہے۔ میں اپنے لئے امکانات کے دستر خوان سے تقدیر کی ڈش منتخب کرتا ہوں۔ مجھے اپنے انتخاب پر گلہ نہیں، اس لئے میں تقدیر سے راضی ہوں۔ وہ انسان، جو اپنی زندگی سے مطمئن ہے، وہ ہر طرح کی تقدیر سے مطمئن ہے۔ جو خود اپنے سے راضی نہیں، وہ تقدیر سے کیوں راضی ہوگا۔۔۔۔۔۔؟
دنیا کے عظیم انسان صاحبِ مقدر تھے، صاحبان نصیب تھے۔ ان کا عمل تو واضح ہے۔ ایسا عمل کرنے سے تو اتنی عظمت پیدا نہیں ہو سکتی۔ پیغمبرﷺ کے دین پر چلنے والے ضرور فلاح پا سکتے ہیں، لیکن پیغمبروں کا مقدر دیکھیں کہ کس کے گھر میں پیدا ہو کر کیا بن گئے۔
اس کائنات کے اندر تقدیر نے عجیب تقسیم کی ہے۔ کہیں نغمہ ہے، کہیں رنگ، کہیں مور، کہیں کوا۔ پہاڑ کو میخوں کی طرح گاڑ دیا۔ دریا کو روانی ملی۔ مچھلی تیرتی ہے۔ پرندے اڑتے ہیں۔ سورج روشن ہے، رات تاریک۔ زندگی فانی ہے، زندگی عطا کرنے والا باقی ہے۔ اسی مقدر کی دلآویزیوں میں ہم نے چند روزہ زندگی صرف کرنی ہے۔ اپنے لطف میں سفر کریں۔ میرا مقدر میرے مالک نے میرے لئے بہتر مقرر فرمایا ہے۔ کوئی جھگڑے کی بات نہیں، میری تقدیر کی لکیر میرے ہاتھ میں بھی ہے اور اس کے ہاتھ میں بھی، جس سے میرا تعلق ہے۔ جہاز میری تدبیر ہے، بھنور یا کنارا میری تقدیر۔
مکان بنانا میری تدبیر ہے۔ اس میں سکون ملتا ہے یا اضطراب، میرا مقدر ہے۔ اگر انسان پیدائش میں اور موت میں آزاد نہیں، تو اس کی زندگی کیسے آزاد ہو۔ جس کو اپنے آپ پر اعتماد نہ ہو، کسی خوش فہمی پر کیسے اعتماد ہوگا۔ جو انسان اپنے قد سے باہر نہیں نکل سکتا، وہ تقدیر کی حد سے کیسے باہر نکل سکتا ہے۔
بہر حال تقدیر ماننے والوں کیلئے ایک نعمت ہے، نہ ماننے والوں کیلئے یہ آزمائش ہے۔ اگر یہ سوچ لیا جائے کہ ماضی میرا مقدر ہے، حال فیصلے کا لمحہ ہے، مستقبل امکانات کا خزانہ۔ فیصلے سے پہلے ہر راستہ منزل کا راستہ ہو سکتا ہے، لیکن فیصلے کے بعد مسافر کیلئے منزل تک پہنچنے کا راستہ صرف ایک ہی راستہ ہے اور وہی مقدر ہے۔
کتاب: دل دریا سمندر
مضمون: تقدیر بدل جائے تو ۔۔
سرکار حضرت امام واصف علی واصف باصفا رح

16/09/2026

تقدیر پر بحث کرنا مناسب نہیں ہے۔ جبر و قدر کے مسائل بحث سے حل نہیں ہوتے۔ جو کچھ ہو گیا، جو گزر گیا، اسے تقدیر کہہ لیا جائے اور جو ہونا ہے، آنے والا ہے، اسے امکان کہہ لیا جائے، تو بات سمجھ میں آ سکتی ہے۔ آنے والا بدل سکتا ہے، کیونکہ ابھی آیا نہیں، گزرا ہوا بدل نہیں سکتا، کیونکہ وقت کا پہیہ واپس نہیں ہو سکتا۔ یہی تقدیر ہے کہ جو گیا وہ واپس نہیں آیا۔ اگر واپس آیا تو وہ، وہ نہیں تھا، سب کچھ بدل گیا تھا۔۔۔۔۔
جب انسان کا شعور بیدار ہوتا ہے، وہ اس کائنات کی ہمہ رنگ نیرنگیوں کا جائزہ لیتا ہے۔ وہ اپنے لئے کچھ پسند کرتا ہے۔ کچھ انتخاب کرتا ہے۔ بس یہی لمحۂ انتخاب، لمحۂ تقدیر ہے۔ تقدیر ہمیں ہماری عاقبت کے سامنے لے جاتی ہے۔ یہ خوش نصیبی بھی ہے اور بد نصیبی بھی ہو سکتی ہے۔
موسیٰ علیہ السلام کو معلوم نہیں تھا کہ آگ کی تلاش ان کیلئے کون سا مقدر لانے والی ہے۔ ہم نہیں سمجھ سکتے کہ ہمارا انتخاب ہمارے لئے کیا دشواریاں اور کیا آسانیاں لائے گا۔ ایک غلط فیصلہ زندگی کو بہشت سے نکال کر دوزخ میں ڈال دیتا ہے اور اسی طرح ایک قدم خوش بختی کا قدم، دوزخ سے نکال کر ہمیں بہشت میں پہنچا سکتا ہے۔
اس کائنات میں ایسے ہوتا ہی رہتا ہے۔ معمولی واقعات بہت معمولی واقعات بڑے غیر معمولی نتائج کے ذمہ دار ہو سکتے ہیں۔ تقدیر صرف میرا عمل ہی نہیں۔ تقدیر میرے دوست کا عمل بھی ہے۔ دوست ناراض ہو جائے تو میری تقدیر بگڑ سکتی ہے‘ حالانکہ میری تقدیر کا میں ہی مالک ہوں۔ ہماری آدھی تقدیر ہمارے اعمال میں ہے اور آدھی ان کے اعمال میں‘ جو ہم سے وابستہ ہیں۔
انسان اپنی تقدیر آپ بنائے یا اسے بنی بنائی تقدیر مل جائے‘ فرق نہیں پڑتا۔ ہم ایک مقررہ مدت تک یہاں ہیں اور اس کے بعد ہمارا سفر ختم ہو جائے گا۔ اس کے بعد ہمارے ”فیصلے“ ہمارے اعمال یا ہمارے نتائج پر نہیں‘ بلکہ ہماری نیات پر ہوں گے۔ اچھی نیت ہی اچھا مقدر ہے۔ اس شخص کی تقدیر بگڑ جاتی ہے‘ جس کی نیت میں فتور ہو‘ نیت کا برا انسان مقدر کا برا ہوتا ہے۔
تقدیر کا تعلق منشائے الہی سے ہے اور تدبیر کا تعلق میری منشا سے ہے۔ جو کچھ اللہ نے میرے لیے مقرر کر رکھا ہے‘ وہ مجھے مل کر رہے گا۔ میری سعی‘ میری کوشش بغیر منشائے الہی کے مجھے کچھ نہیں دے سکتی۔ میں تقدیر کے حصار سے نہیں نکل سکتا‘ کیونکہ میں وجود سے باہر نہیں نکل سکتا۔ میں آسمانوں کی وسعتوں میں نہیں رہ سکتا۔ میرا ٹھکانہ زمین ہے۔ یہی میرا مقدر ہے۔
کتاب: دل دریا سمندر
مضمون: تقدیر بدل جائے تو۔۔
سرکار حضرت امام واصف علی واصف باصفا رح

بہشت میں انسان کو ہر طرح سے آزادی تھی، خوشی تھی، محنت کے بغیر خوراک میسر تھی۔ کیا نہیں تھا۔ صرف ایک پابندی تھی کہ اس درخ...
14/09/2026

بہشت میں انسان کو ہر طرح سے آزادی تھی، خوشی تھی، محنت کے بغیر خوراک میسر تھی۔ کیا نہیں تھا۔ صرف ایک پابندی تھی کہ اس درخت کے قریب نہیں جانا۔ انسان نے اپنا بہشت قربان کر کے یہ پابندی آخر توڑ ہی دی ۔ انسان آزادی چاہتا ہے، مقدر سے بھی آزادی۔
کوئی شخص پیدا نہیں ہوتا جب تک اس کے ہمراہ اس کا مقدر نہ پیدا ہو۔ اچھا یا برا۔ مقدر ضرور ہوتا ہے۔
اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں۔ انسان کے ماں باپ ہی اس کا مقدر ہیں۔ اب پیدا ہونے والا بچہ والدین کی صفات لے کر پیدا ہوا۔ اسے وہ ماحول ملا۔ وہ عقائد ملے۔ وہ مزاج ملا۔ وہ محبت، وہ شفقت، جو ملا سو ملا۔ نفرت ملی تو بھی مقدر ملا۔ بہرحال پیدا ہونے والے کے ساتھ تقدیر موجود ہے۔ اس مقدر سے مفر نہیں۔ انسان اپنے والدین کی تاثیر سے بچ نہیں سکتا۔ والدین کی فطرت ہر طرح سے اولاد پر اثر انداز ہوتی ہے۔ اثر بڑھتے بڑھتے تقدیر بن جاتا ہے۔
انسان کا اپنا چہرہ اس کی تقدیر ہے۔ عمل اور کردار کے اظہار سے پہلے انسان کا چہرہ اس کیلئے پسندیدگی اور ناپسندیدگی کے جذبات پیدا کر چکا ہوتا ہے۔
انسان کی تقدیر اس کے مزاج کی شکل میں اس کے اندر موجود رہتی ہے۔ یہ مزاج خواہش پیدا کرتا ہے۔ خواہش عمل پیدا کرتی ہے اور عمل ایک نتیجہ پیدا کرتا ہے۔ ہم نتیجہ کو مقدر کہہ لیں یا اس مزاج کو جس سے یہ نتیجہ نکلا، فرق نہیں پڑتا، مقدر بہرحال انسان کے ساتھ ہے۔
تقدیر کے مقابلے میں انسان نے تدبیر کا تصور رکھا ہوا ہے۔ تدبیر یا حسنِ تدبیر ہی دراصل تقدیر کی مہربانی ہے۔ ہماری تدبیریں تقدیر کی معاونت ہیں۔ تقدیر کے مقابل نہیں آ سکتیں۔ جب برے دن آتے ہیں 'تو انسان کی تدبیریں غلط ہو جاتی ہیں۔ ہمیں غلط یا صحیح مشورہ دینے والا دوست تقدیر کا قاصد ہوتا ہے۔
کیا تقدیر بدل سکتی ہے؟ اگر تقدیر بدل جائے تو بدلنے سے پہلے بھی تقدیر کا ہونا بے معنی سا ہے۔ تقدیر بدل جائے تو حاصل بھی ہے تقدیر! دراصل تقدیر نہیں بدلتی۔ جو بدل جائے وہ تقدیر نہیں۔
جب ہم کسی تکلیف میں ہوتے ہیں 'تو ہم سمجھ نہیں سکتے کہ تقدیر اب کیا ہے۔ اگر مقدر اچھا ہو' تو کہیں نہ کہیں سے کوئی نگاه مردِ مومن کی نگاہ بن کر تکلیف دور کر جاتی ہے۔ نگاہِ مردِ مومن ہی تقدیر ہے سب کیلئے نہیں ہے' جس کیلئے ہے اس کا مقدر!
کتاب: دل دریا سمندر
مضمون: تقدیر بدل جائے تو۔۔
سرکار حضرت امام واصف علی واصف باصفا رح

13/09/2026

تقدیر کو اگر ’وہ فطرت‘ کہہ دیا جائے، جس میں انسان پیدا ہوتا ہے تو تقدیر کا بدل جانا ایک ناممکن سی بات ہے۔ پہاڑ کا اپنی جگہ سے ٹل جانا ممکن ہے، لیکن فطرت کا بدل جانا ناممکن ہے۔ شیر بھوک سے مر جائے گا، لیکن گھاس نہیں کھائے گا، کیونکہ شیر کی فطرت میں ایسے نہیں—شیر کا مقدر گوشت ہے۔ شیر کی تقدیر اس کے مزاج کی شکل میں اس کے ساتھ ہے۔
شاہین کو شاید معلوم ہی نہ ہو کہ فطرت نے اس کی فطرت میں بلند نگاہی اور بلند پروازی اس طرح شامل کر دی ہے کہ اسے پرندوں کی دنیا کا بادشاہ کہا جاتا ہے۔ اس کے برعکس فطرت نے کرگس کو بلند پروازی تو دی ہے، لیکن پست نگاہی کا یہ عالم ہے کہ گدھ کی خوراک ہی مردار ہے۔ پرجا گدھ ہو یا راجہ گدھ، مردار کے بغیر نہیں رہ سکتا۔ مردار خوری اس کی تقدیر ہے، اس کا مقدر ہے۔ گدھ کی آنکھ مردار اجسام کے علاوہ کچھ اور دیکھنے سے قاصر ہے۔
کائنات کی ہر شے کو اپنے اپنے مقدر کے لیے مقرر کر دیا گیا ہے۔ کسی شے کو اپنے مدار اور اپنے حصار سے باہر نکلنا دشوار ہے۔ اجسام اور افراد اپنے مزاج سے نکل کر اپنے آپ کو قائم نہیں رکھ سکتے۔
ہر ذی جان اور بے جان شے کا اپنی تقدیر میں پابند رہنے کا عمل ہی اس کائنات کی استقامت اور اس کے حسن کا راز ہے۔
اگر ہوائیں چلنے سے انکار کر دیں، تو نظامِ ہستی ختم ہو جائے—سورج تپش سے باہر نکل جائے، تو کائنات درہم برہم ہو جائے—ہر شے اپنے مقدر میں رہن رکھی جا چکی ہے۔
انسان کو اکثر یہ بات ناگوار لگتی ہے کہ اس کے لیے ایک تقدیر بھی مقرر کر دی گئی ہے۔ پابندی اور جبر انسان کو کبھی پسند نہیں رہا۔ اسے آزادی اور آزاد خیالی سے محبت ہے۔ اگر انسان سے یہ کہہ دیا جائے کہ پستیوں میں رہ کر بلندیوں کی تمنا کرنا ہی اس کا مقدر ہے، تو شاید یہ بات اتنی واضح نہ ہو۔ پابندیوں میں آزادیوں کی تمنا انسان کی سرشت میں تو ہے، لیکن وہ آزادی کی خواہش کو مقدر کی مجبوری ماننے پر بھی تیار نہیں۔
کتاب: دل دریا سمندر
مضمون: تقدیر بدل جائے تو۔۔
سرکار حضرت امام واصف علی واصف باصفا رح

13/09/2026

ڈاکٹر مریض کی نبض پر ہاتھ رکھنے سے پہلے اس کی جیب پر ہاتھ رکھتا ہے۔ عجیب بے حسی کا دور ہے۔ رفاقت ختم ہو رہی ہے۔
ملتیں پائیدار رفاقتوں سے بنتی ہیں۔ رفاقت میسر نہ ہو تو عناصرِ ملت میں ظہورِ ترتیب ممکن ہی نہیں۔ اینٹ کا اینٹ سے ربط ختم ہو جائے تو دیواریں اپنے بوجھ سے گرنا شروع ہو جاتی ہیں۔ ملت کے تشخص کی تلاش دراصل اپنے رفیق کی تلاش کا نام ہے۔ دیارِ حبیب ہی محبوب ہو سکتا ہے۔ دوست ہی محبت و وفا کا سرچشمہ ہے اور یہ محبت و وفا ملک و ملت کا سرمایہ ہے۔ جس انسان کا ملک میں کوئی دوست نہیں، وہ ملک سے دوستی نہیں کر سکتا۔
ملک کی خاطر قربانیاں دینے والے دراصل اپنی وابستگی کیلئے قربانیاں دیتے ہیں۔ جس کی وابستگی ختم ہو جائے، اس کی حب الوطنی مشکوک ہو جاتی ہے۔ کارواں کو غبارِ راہ میں چھوڑ کر کسی نامعلوم منزل پر پہنچنے والا رہنما دراصل راہزن ہے۔ رہبر وہی ہے جو قافلے کو شادابیِ منزل سے آشنا کرے۔
زندگی کا خوبصورت میلہ سنگت کے دم سے ہے۔ سنگت نہ ہو تو اس میلے میں ہر انسان اکیلا ہے۔ یہ میلہ خوش نصیبوں کا میلہ ہے۔ خوش نصیب وہ ہے جو کسی انسان کی تلاش میں گرداں ہے۔ خوش نصیب وہ ہے جو کسی کا منتظر ہے۔ خوش نصیب وہ ہے جو رفیقِ طریق کے ہمراہ میلے پر نکلا ہے۔ دل میں رفاقت کی روشنی نہ ہو تو چراغوں کے میلے کس کام کے۔ بہرحال ہمارا رفیق ہی ہمارا میلہ ہے۔ وہی ہمیں زندگی اور موت کے جھمیلوں سے نجات دلاتا ہے۔
زقیدِ دو جہاں آزاد گشتم
اگر تو ہمنشینِ بندہ باشی
☆☆☆
تارا ٹوٹا دیکھ کے دل نے کی پکار
کوئی مجھے بھی دیکھتا میں ٹوٹا سو بار
☆☆☆
ہری ہری میں ہر گئی میں ہاری ہر بار
ہار ہی موری جیت ہے موہ سنگ کھیلے یار
☆☆☆
ہابل گھر کی راگنی ہوئی بدیش سوار
شہنشائی کی گونج میں سکھیاں کریں پکار
☆☆☆☆☆
کتاب: دل دریا سمندر
مضمون: رفاقت
سرکار حضرت امام واصف علی واصف باصفا رح

پیدا ہونے والا بچہ جب آنکھ کھولتا ہے تو سب سے پہلے اسے جو شئے نظر آتی ہے‘ وہ انسانی چہرہ ہے۔ شفیق چہرہ‘ نورانی چہرہ‘ محب...
11/09/2026

پیدا ہونے والا بچہ جب آنکھ کھولتا ہے تو سب سے پہلے اسے جو شئے نظر آتی ہے‘ وہ انسانی چہرہ ہے۔ شفیق چہرہ‘ نورانی چہرہ‘ محبت و مسرت سے سرشار ممتا کا مقدس چہرہ۔ اس کے بعد ساری زندگی چہروں کی رفاقت کا سفر ہے۔ ایک انسان کا تقرب ہی انسانیت کا تقرب ہے۔
نیکی‘ بدی‘ گناہ‘ ثواب‘ سب انسانوں سے وابستہ ہے۔ انسان سے آشنائی خدا شناسی کی کنہ ہے۔
رفاقت کا سرمایہ ہر سرمائے سے افضل ہے۔
انسان‘ انسان کی خاطر جان پر کھیل جاتا ہے۔ بادشاہ تخت چھوڑ دیتے ہیں‘ دوست کو نہیں چھوڑتے۔ رفاقتوں کے فیض اعتماد کے دم سے ہیں۔ بداعتماد انسان نہ کسی کا رفیق ہوتا ہے‘ نہ اس کا کوئی حبیب ہوتا ہے۔ بداعتمادی کی سب سے بڑی سزا یہ ہے کہ انسان کو ایسا کوئی انسان نظر نہیں آتا جس کے تقرب کی وہ خواہش کرے اور نہ وہ خود کو کسی کے تقرب کا اہل سمجھتا ہے۔ تنہائی کی مسافر بیمار روحیں اذیت کی منزلیں طے کرتی ہیں۔
رفاقت زندگی ہے‘ فرقت موت۔
آج کے مشینی دور نے انسان کو انسان سے دور کر دیا ہے۔ رفاقت بشری سے محروم انسان مال اور اشیاء کی محبت میں گرفتار ہے۔ وہ نظریات کا قائل ہے۔ انسان کا قائل نہیں۔ آج کا انسان انسانوں سے بیزار ہے۔ وہ خود سے بیزار ہے۔ وہ غیر فطری زندگی بسر کر رہا ہے۔ اس پر کرب ناک تنہائی کا عذاب نازل ہو چکا ہے۔ کوئی کسی سے ہمدردی نہیں رکھتا۔ کوئی کسی کو نہیں پہچانتا۔ کوئی کسی کا بوجھ اٹھانے کو تیار نہیں۔ آج انسانوں کی بھیڑ میں ہر انسان اکیلا ہے‘ ایسے ہی جیسے ایک وسیع سمندر میں بے شمار جزیرے‘ ایک دوسرے کے آس پاس‘ لیکن ایک دوسرے سے ناشناس۔
ناشناسی اور نا آشنائی کی وبا پھیل چکی ہے۔ کوئی کسی کا پرسانِ حال نہیں ہے۔ دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ سے بے خبر ہے۔ بھائی بھائی سے بیگانہ ہے۔ رشتوں کی تقدیس پامال ہو چکی ہے۔ افسر ماتحت کا خیال نہیں رکھتا‘ ماتحت افسر کا لحاظ نہیں رکھتا۔ استاد شاگردوں سے‘ شاگرد استادوں سے نالاں ہیں۔
کتاب: دل دریا سمندر
مضمون: رفاقت
سرکار حضرت امام واصف علی واصف باصفا رح

11/09/2026

دوست سے گفتگو حکمت و دانائی کے رموز آشکار کرتی ہے۔ ہمارے ظاہر و باطن کا نکھار جمالِ ہم نشیں سے متاثر ہوتا رہتا ہے۔ ہماری عبادت بھی رفاقت سے سعادت حاصل کرتی ہے۔ ہماری تمام دعائیں اجتماعی ہیں اور اجتماع کی بنیاد رفاقتوں کے فیض سے قائم ہے۔
وہ انسان جس نے رفیق سے وفا نہ کی‘ کسی سے وفا نہیں کر سکتا‘ نہ دین سے نہ خدا سے‘ نہ خود اپنے آپ سے۔ عظیم انسان اپنے حبیب پر غیر متزلزل اعتماد کے سہارے عظیم ہوتے ہیں۔
انتخابِ رفیق سے پہلے تحقیق کر لینا جائز ہے‘ لیکن کسی کو دوست کہہ لینے کے بعد اسے کسی آزمائش سے گزارنا بد دیانتی ہے۔ دوست کے ساتھ صرف ایک ہی سلوک روا ہے اور وہ وفا ہے۔ وفا کرنے والے کسی کی بے وفائی کا گلہ نہیں کرتے۔ اپنی وفا کا تذکرہ بھی وفا کے باب میں ابتدائے جفا ہے۔
رفاقت قائم رکھنے کیلئے انسان کو نہ ختم ہونے والا حوصلہ ملا ہے۔ رفاقتیں گردشِ حالات سے متاثر نہیں ہوتیں۔ رفاقت صعوبتوں کی گھاٹیوں سے گنگناتی ہوئی گزرتی ہے۔
کائنات کی ہر شے میں ہمہ وقت تغیر ہے‘ لیکن رفاقت کے خمیر و ضمیر میں استقامت کا جوہر ہے۔ رفاقتوں کا مفرور زندگی سے فرار کرتا ہے۔
جس کو زندگی میں کوئی سچا اور سُچا دوست نہ ملا ہو‘ اس جھوٹے انسان نے اپنی بدبختی کے بارے میں اور کیا کہنا ہے؟
انسانوں کا جہان رفاقتوں کا جہان ہے۔ یہ وفاؤں کی داستان ہے۔ رشتوں کی تقدیس ہے۔ سماجی اور دینی رابطوں کی تفسیر ہے۔ خوش نصیب ہے وہ انسان جس کا ہمسفر اس کا ہم خیال ہو۔
خدا سے لو لگانے والے مخلوقِ خدا سے الگ بیٹھ کر عبادات کے درجات حاصل کرنے کے بعد مخلوقِ خدا کے پاس واپس لوٹا دیئے جاتے ہیں تاکہ مخلوق کی رہنمائی کریں۔ تنہائیوں سے واپسی ہی رفاقت کی اہمیت کا ثبوت ہے۔ پیغمبروں نے پسندیدہ رفاقتوں کی دعائیں فرمائیں۔ کوئی عابد عبادت کی غرض سے جنگل میں تنہا بیٹھ جائے تو بھی تنہا نہ رہ سکے گا۔ کچھ ہی عرصہ بعد اس کے گرد انسانوں کا ہجوم اکٹھا ہو جائے گا۔ آستانہ بنے گا‘ عبادت گاہ بنے گی‘ لنگر خانے کھل جائیں گے اور طالبانِ حق و صداقت اس ویرانے میں بستی آباد کریں گے۔
کتاب: دل دریا سمندر
مضمون: رفاقت
سرکار حضرت امام واصف علی واصف باصفا رح

Address

Faisalabad

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Harf-e-Wasif posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category