31/01/2024
یہ سولہویں صدی کی ایک پینٹنگ ہے جس میں 500 قبل مسیح میں ایک بدعنوان جج کے زندہ ہوتے ہوئے اس کی کھال اتاری جا رہی ہے۔
اس جج کا نام سیسمنس تھا۔ فارس میں بادشاہ کمبیسیس کے وقت ایک بدعنوان شاہی جج تھا۔ معلوم ہوا کہ اس نے عدالت میں رشوت لی اور غیر منصفانہ فیصلہ دیا۔ اس کے نتیجے میں بادشاہ نے حکم دیا کہ اسے اس کی بدعنوانی کے الزام میں گرفتار کیا جائے اور اسکی زندہ کھال اتارنے کا حکم دیا۔
فیصلہ سنانے سے پہلے بادشاہ نے سیسمنیس سے پوچھا کہ وہ کسے اپنا جانشین نامزد کرنا چاہتا ہے۔ سیسمنس نے اس کے لالچ میں، اپنے بیٹے، Otanes کو منتخب کیا. بادشاہ نے رضامندی ظاہر کی اور جج سیسمنس کی جگہ اس کے بیٹےاوتانیس کو مقرر کیا۔
اس کے بعد اس نے فیصلہ سنایا اور حکم دیا کہ جج سیسمنس کی کھال(جلد) ہٹائی جائے۔
اور اس کی جلد (کھال)کو جج کے بیٹھنے والی کرسی پہ چڑھا دیا گیا۔ جس پر نیا جج عدالت میں بیٹھ کر اسے بدعنوانی کے ممکنہ نتائج کی یاد دلائے گا۔ Otanes، اپنے غور و خوض میں، ہمیشہ یہ یاد رکھنے پر مجبور تھا کہ وہ ہمیشہ اپنے پھانسی پانے والے باپ کی جلد پر بیٹھا رہتا تھا۔ اس سے اس کی تمام سماعتوں، غور و فکر اور جملوں میں انصاف اور مساوات کو یقینی بنانے میں مدد ملی۔
اگر ہم اس تاریخی واقعے کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے ملک کے عدالتی نظام کو دیکھیں تو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا۔
ہمارا عدالتی نظام انتہائی کرپٹ اور غیر مؤثر ہے۔ لاکھوں کی تعداد میں مقدمے التواء کا شکار ہیں جن کا فیصلہ نہیں ہو رہا۔ بے گناہ لوگ جیلوں میں سڑ رہے ہیں۔ 25,25 سال ایک مقدمے کے فیصلے کو لگ جاتے ہیں، جبکہ یہی عدالتیں اشرافیہ کی خدمت کیلئے ہر وقت تیار ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ مغربی معاشرہ اور اُنکا عدالتی نظام ہم سے ہزاروں درجے بہتر ہے۔
منقول