Ali Flix

Ali Flix Informative videos

01/07/2025

01/08/2024

بیٹوں کی اقسام۔

بیٹے پانچ قسموں کے ہوتے ہیں:

۱: پہلے وہ جنہیں والدین کسی کام کو کرنے کا حُکم دیں تو کہنا نہیں مانتے، یہ عاق ہیں۔

۲: دوسرے وہ ہیں جنہیں والدین کسی کام کو کرنے کا کہہ دیں تو کر تو دیتے ہیں مگر بے دلی اور کراہت کے ساتھ، یہ کسی قسم کے اجر سے محروم رہتے ہیں۔

۳: تیسری قسم کے بیٹے وہ ہیں جنہیں والدین کوئی کام کرنے کا کہہ دیں تو کر تو دیتے ہیں مگر بڑبڑاتے ہوئے، سُنا سُنا کر، احسان جتلا کر، بکواس بازی کر کر کے۔ یہ کام کر کے بھی گھاٹے میں ہیں اور گناہ کما رہے ہیں۔

۴: چوتھی قسم کے وہ بیٹے ہیں جنہیں والدین کوئی کام بتا دیں تو خوش دلی سے کرتے ہیں، یہ اجر کماتے ہیں اور ایسے بیٹے بہت کم ہوتے ہیں۔

۵: پانچویں قسم کے وہ بیٹے ہیں جو والدین کی ضرورتوں کے کام اُن کے کہنے سے پہلے کر دیتے ہیں، یہ خوش بخت بیٹوں کی نادر قسم ہیں۔

آخری دو قسم کے بیٹے؛ ان کی عمر میں برکت، رزق میں وسعت، ان کے معاملات کی آسانی اور ان کے سینوں میں پڑی راحت اور وسعت کے بارے میں کچھ نا پوچھیئے، یہ تو بس اللہ “اپنی رحمت کے لیے جس کو چاہتا ہے مخصوص کر لیتا ہے اور اس کا فضل بہت بڑا ہے”۔

ایک چھوٹا سا سوال ہے ہر اُس کرم فرما کیلئے جو اس وقت یہ پڑھ رہا ہے: آپ اوپر بیان کیئے گئے بیٹوں کی قسموں میں سے کون سی قسم کے بیٹے ہیں؟

(بھاگ کر اپنی ماں کے سر پر بوسہ دینے سے پہلے) اپنے آپ سے یہ پوچھ کر دیکھیئے کہ والدین کے ساتھ “بِر” یا حُسن سلوک یا راستبازی ہوتی کیا ہے؟

یہ حُسن سلوک؛ ماں یا باپ کے سر پر ایک بوسہ لے لینے کا نام نہیں ہے، ناں ہی ان کے ہاتھوں پر یا حتی کہ اُن کے پاؤں پر بوسہ لینے کا نام ہے۔ کہیں یہ کر کے تو اس گمان میں میں ناں پڑ جائے کہ تو نے ان کی رضا کو پا لیا ہے۔

حُسن سلوک یہ ہے کہ تو اُن کے دل میں آئی ہوئی خواہش کو محسوس کرے اور پھر اُن کے حُکم کا انتظار کیئے بغیر اس خواہش کو پورا کر دے۔

حُسن سلوک یہ ہے کہ تو یہ جاننے کی کوشش میں لگا رہے کہ انہیں کونسی بات خوشی دیتی ہے اور پھر اُس کام کو جلدی سے کر ڈالے۔ اور تو یہ جاننے کی کوشش کرے کہ انہیں کس بات سے دُکھ پہنچتا ہے اور پھر اس کوشش میں رہے کہ وہ تجھ سے ایسی کوئی چیز کبھی بھی نا دیکھ پائیں۔

اُن سے حسن سلوک یہ ہے کہ تجھے ان کا احساس ہو، تو ان کیلیئے بات چیت کا وقت نکالتا ہو، انہیں کسی چیز کے کھانے پینے کی طلب ہو تو حاضر کر دیتا ہو بھلے یہ ایک چائے کا کپ ہی کیوں ناں ہو۔

حسن سلوک یہ بھی ہے کہ تو اُن کے آرام اور راحت کا خیال رکھے بھلے اس کیلیئے اپنی راحت کو ہی کیوں نا تیاگنا پڑے۔ اگر تیری دوستوں میں شب بیداری انہیں شاق گزرتی ہے تو تیرا جلدی سو جانا بھی ان کے ساتھ ایک حسن سلوک کی ہی ایک مثال ہے۔

حسن سلوک یہ بھی ہے کہ ان کی خاطر اپنی دعوتیں ضیافتیں چھوڑ دے اگر اس سے تیرا اُن کے ساتھ میل جول متاثر ہوتا ہے تو۔

ایک مناسب ریسٹورنٹ پر ان کے ساتھ کھانا، حج و عمرہ میں ان کی راحت کے پیش نظر اچھے ہوٹل میں ان کے قیام کا بندوبست، حتی کہ کہیں چھوٹی موٹی تفریح اور پکنک جو تیرے والدین کے دل کو سرور دے اور وہ اپنی اس عمر میں بھی خوشی کا احساس پائیں۔

حسن سلوک یہ بھی ہے کہ تیرے والدین تیرے مال سے مستفیض ہو رہے ہوں بھلے وہ خود کیوں ناں مالدار ہوں۔ اور تیرا یہ جانے بغیر کہ ان کے پاس اب کتنے پیسے ہیں اور انہیں ضرورت ہے بھی یا کہ نہیں تو ان پر خرچ کرتا رہے۔

حس سلوک یہ بھی ہے کہ تو ان کی حتی المقدور راحت تلاش کرتا رہے اور انہوں نے تیری ولادت سے اب تک جو کچھ خدمت کر دی ہے کو کافی سمجھے اور اب ان کے احسانات کے بدلے میں کچھ نا کچھ کرتا رہے۔

حس سلوک یہ بھی ہے کہ تو ان کے لبوں پر کسی طرح ہنسی لاتا رہے بھلے تو اپنے نظروں میں کیوں ناں مسخرہ ہی لگ رہا ہو،

*آخری بات: والدین سے حسن سلوک تیرے اور تیرے بھائیوں بہنوں کے درمیان "باری بندی" کا نام نہیں۔ یہ تو ایک دوڑ کا نام ہے جو جنت کے دروازوں کی طرف جاری ہے اور پتہ نہیں کون پہلے پہنچ جائے۔ اور یہ بھی یاد رکھو کہ جنت کو بہت سے راستے جاتے ہیں اور ان میں سے کئی راستے تیرے والدین سے ہو کر جاتے ہیں۔*

17/02/2024
*دونوں کے درمیان ایک گز اور ستر سال کا فاصلہ ہے مگر طبیعت اور مزاج میں دونوں یکساں ہیں اور مجھے اِن دونوں سے بہت گہری مح...
02/02/2024

*دونوں کے درمیان ایک گز اور ستر سال کا فاصلہ ہے مگر طبیعت اور مزاج میں دونوں یکساں ہیں اور مجھے اِن دونوں سے بہت گہری محبت ہے❤️*

13سال بعد مقدمہ جیتنے پر بزرگ کو جج نے مبارکباد دی تو بزرگ نے جج کو دعا دی**اللہ تجھے ترقی دے اور تھانیدار بناۓ**۔جج بزر...
31/01/2024

13سال بعد مقدمہ جیتنے پر بزرگ کو جج نے مبارکباد دی تو بزرگ نے جج کو دعا دی
**اللہ تجھے ترقی دے اور تھانیدار بناۓ**
۔جج بزرگ کی سادگی پر مسکرا دیا اور کہا :
جج تھانیدار سے بڑا ہوتا ہے
بزرگ بولے نہیں بیٹا تھانیدار بڑا ہوتا ہے
جج نے پوچھا کیسے ؟
‏تو بزرگ بولے آپکو کیس ختم کرنے میں 13سال لگ گئے تھانیدار شروع سے بول رہا تھا 5000 دے دو اور میں معاملہ ادھر ہی رفع دفع کردیتا ہوں

یہ سولہویں صدی کی ایک پینٹنگ  ہے جس میں 500 قبل مسیح میں ایک بدعنوان جج کے زندہ ہوتے ہوئے اس کی کھال اتاری جا رہی ہے۔ اس...
31/01/2024

یہ سولہویں صدی کی ایک پینٹنگ ہے جس میں 500 قبل مسیح میں ایک بدعنوان جج کے زندہ ہوتے ہوئے اس کی کھال اتاری جا رہی ہے۔
اس جج کا نام سیسمنس تھا۔ فارس میں بادشاہ کمبیسیس کے وقت ایک بدعنوان شاہی جج تھا۔ معلوم ہوا کہ اس نے عدالت میں رشوت لی اور غیر منصفانہ فیصلہ دیا۔ اس کے نتیجے میں بادشاہ نے حکم دیا کہ اسے اس کی بدعنوانی کے الزام میں گرفتار کیا جائے اور اسکی زندہ کھال اتارنے کا حکم دیا۔
فیصلہ سنانے سے پہلے بادشاہ نے سیسمنیس سے پوچھا کہ وہ کسے اپنا جانشین نامزد کرنا چاہتا ہے۔ سیسمنس نے اس کے لالچ میں، اپنے بیٹے، Otanes کو منتخب کیا. بادشاہ نے رضامندی ظاہر کی اور جج سیسمنس کی جگہ اس کے بیٹےاوتانیس کو مقرر کیا۔
اس کے بعد اس نے فیصلہ سنایا اور حکم دیا کہ جج سیسمنس کی کھال(جلد) ہٹائی جائے۔
اور اس کی جلد (کھال)کو جج کے بیٹھنے والی کرسی پہ چڑھا دیا گیا۔ جس پر نیا جج عدالت میں بیٹھ کر اسے بدعنوانی کے ممکنہ نتائج کی یاد دلائے گا۔ Otanes، اپنے غور و خوض میں، ہمیشہ یہ یاد رکھنے پر مجبور تھا کہ وہ ہمیشہ اپنے پھانسی پانے والے باپ کی جلد پر بیٹھا رہتا تھا۔ اس سے اس کی تمام سماعتوں، غور و فکر اور جملوں میں انصاف اور مساوات کو یقینی بنانے میں مدد ملی۔
اگر ہم اس تاریخی واقعے کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے ملک کے عدالتی نظام کو دیکھیں تو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا۔

ہمارا عدالتی نظام انتہائی کرپٹ اور غیر مؤثر ہے۔ لاکھوں کی تعداد میں مقدمے التواء کا شکار ہیں جن کا فیصلہ نہیں ہو رہا۔ بے گناہ لوگ جیلوں میں سڑ رہے ہیں۔ 25,25 سال ایک مقدمے کے فیصلے کو لگ جاتے ہیں، جبکہ یہی عدالتیں اشرافیہ کی خدمت کیلئے ہر وقت تیار ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ مغربی معاشرہ اور اُنکا عدالتی نظام ہم سے ہزاروں درجے بہتر ہے۔
منقول

31/01/2024

لکھتا ہے وہی ہر بشر کی تقدیر
وَاللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْــرٌ🖤🥀

جس کے تابع ہیں جنّات و انسان
فَبِأَيِّ آلَاء رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ🖤🌺

ابتدا ہے وہی اور وہی انتہا
وَتُعِزُّ من تشاء وَتُذِلُّ من تشاء🖤✨

‏ تنہائی میں بھی رہو گناہ سے دور
ﻭَﺍﻟﻠَّﻪُ ﻋَﻠِﻴﻢٌ ﺑِﺬَﺍﺕِ ﺍﻟﺼُّﺪُﻭﺭِ🖤🍁

ہے تجھکو بس طلب کی جوت
کُلُّ نَفْسٍ ذَائقة الْمَوْتِ 🖤🍂

انساں کو ہے لاحاصل کا جنون
قَدۡ أَفۡلَحَ ٱلۡمُؤۡمِنُونَ🖤🦋

غیب سے نکال دیتا ہے وہ سبیل
حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ🖤🫀

ہر ایک کو دیتا ہے صلہ بہترین
إِنَّ اللَّهَ مَعَ الصَّابِرِينَ🖤🕊️

اس سے مانگو وہ ہے بڑا کریم
فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ🖤🌹

تخلیقِ انسانی کا ہے مقصد
قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌ🖤💐

تیری رضا میں ہی ہے سکون
فَإِنَّمَا يَقُولُ لَهُ كُن فَيَكُونُ🖤🪷🌷

28/02/2023

*زبان کے 36 گناہ*

1. *جھوٹ بولنا*
2. *غیبت کرنا*
3. *جهوٹا وعدہ کرنا*
4. *زیادہ مذاق کرنا*
5. *بداخلاقی*
6- *دل توڑنا*
7. *دوسروں کی بےعزتی کرنا*
8. *تہمت لگانا*
9- *طعنہ زنی*
10 *ناحق حکم دینا*
11. *بےجا ملامت کرنا*
12-. *مذاق اڑانا*
13. *ناامیدکرنا*
14. *گفتار میں ریاکاری*
15. *قرآنی اوامر کا منکر*
16. *نواہی از معروف*
17. *زخم زبان لگانا*
18. *ناحق گواہی دینا*
19. *گفتار میں تکبر*
20- *افواہ پهیلانا*
21. *مؤمن کو رنجیدہ کرنا*
22. *دین میں بدعت سیّہ داخل کرنا*
23. *گالم گلوج کرنا*
24. *دوسروں کو برے نام سے پکارنا*
25. *نامحرم سے مذاق کرنا*
26. *چاپلوسی کرنا*
27. *بلاوجہ چیخ و پکار کرنا*
28. *لوگوں پر لعنت کرنا*
29. *حسد و بخل کا اظہار*
30. *مکروحیلہ سے گفتگو کرنا*
31. *مسائل دینی میں تحریف کرنا*
32. *لوگوں کے راز فاش کرنا*
33. *جھوٹی خبر دینا*
34. *دوسروں کی عیب جوئی*
35. *کسی کی آواز کی نقل اتارنا*
36. *قسم کهانا*

*نوٹ؛ مذکورہ بالا گناہوں سے دورى اختيار کریں اور اپنی زبان کا درست استعمال کریں اسی میں بہتری ہے سب کیلئے۔*

*❣ﺧَﻴﺮُﺍﻟﻨَّﺎﺱِ ﻣَﻦ ﻳًﻨﻔَﻊُ ﺍﻟﻨَّﺎﺱ❣*

17/02/2023

🆁🅴🅼🅸🅽🅳🅴🆁
17 February | ٢٥ رجب المرجب

جب جب تکالیف آپ کو مایوس کرتی ہیں اور غم آپ کو رُلاتے ہیں، تب تب آپ اپنے رب سے سےجڑے رہنے کی زیادہ کوشش کریں کیونکہ یہی تو ویک پوائنٹس ہیں، یہی توجال ہیں ابلیس کے، یاد رکھئے اللہ کی محبت ٹوٹے ہوئے دلوں کے لیے شفاء ہے...!!

📜🪶

Address

Faisalabad
Faisalabad

Telephone

+923497754054

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Ali Flix posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Establishment

Send a message to Ali Flix:

Share

Category