20/04/2026
🇮🇱👁 غزہ میں “اسمارٹ وارفیئر” کے نام پر اسرائیلی اے آئی کا استعمال — دعوے اور انکشافات
👉 رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج نے مصنوعی ذہانت (AI) کو ایسے نظام میں بدل دیا ہے جہاں ایک کمپیوٹر کسی شخص کا صرف تقریباً 20 سیکنڈ میں جائزہ لے کر اسے “ہدف” قرار دے دیتا ہے—اور اس کے بعد پورا خاندان اپنے ہی گھر کے ملبے تلے دب سکتا ہے۔
👉 کہا جا رہا ہے کہ اس عمل میں انسانی کردار محض رسمی رہ گیا ہے، جہاں افسران صرف الگورتھم کے فیصلوں پر مہر ثبت کرتے ہیں۔
👉 ایک سسٹم “Lavender” کے نام سے بتایا گیا ہے، جس نے مبینہ طور پر غزہ کی تقریباً 23 لاکھ آبادی کے ڈیٹا کا تجزیہ کر کے 37,000 افراد کی فہرست تیار کی، جنہیں “مشکوک وابستگی اسکور” کے تحت درجہ بندی کیا گیا۔
👉 انٹیلی جنس افسران ہر ہدف پر صرف 20 سیکنڈ خرچ کرتے تھے اور روزانہ درجنوں نام پراسیس کرتے تھے۔ ایک اہلکار کے مطابق:
“میں ہر ہدف پر صرف 20 سیکنڈ دیتا تھا اور روزانہ درجنوں کیس دیکھتا تھا۔ بطور انسان میری اہمیت تقریباً صفر تھی—میں صرف منظوری کی مہر تھا۔”
‼️ ایک اور نظام “Where’s Daddy?” کے نام سے بیان کیا گیا، جو افراد کو ٹریک کر کے اس وقت نشانہ بناتا تھا جب وہ اپنے گھروں کو واپس آتے۔
👉 ایک ذریعے کے مطابق، سسٹم خاص طور پر ایسے مواقع تلاش کرتا تھا، اور اس بات کی پروا نہیں کی جاتی تھی کہ ہدف اکیلا ہے یا بچوں اور خاندان کے درمیان موجود ہے۔
📊 رپورٹ کے مطابق Lavender سسٹم میں تقریباً 10٪ تک غلطی کی شرح موجود ہے، جسے اس کے بنانے والوں نے بھی تسلیم کیا ہے۔
👉 اس کا مطلب یہ ہے کہ ہزاروں افراد ممکنہ طور پر صرف الگورتھم کی غلطی یا ڈیٹا کی غلط تشریح کی وجہ سے نشانہ بنے، حالانکہ ان کا مسلح گروہوں سے کوئی حقیقی تعلق نہیں تھا۔
👉 مزید دعویٰ کیا گیا ہے کہ فوجی کوٹہ مقرر تھا:
نچلے درجے کے ہدف کے لیے 15–20 شہری ہلاکتیں
جبکہ کسی کمانڈر کے لیے یہ تعداد 100 تک ہو سکتی تھی
👉 بتایا جاتا ہے کہ الگورتھمز کو اسی حساب سے ترتیب دیا گیا تھا، جس میں خواتین، بچے اور بزرگ بھی “قابلِ قبول نقصان” میں شامل سمجھے جاتے تھے۔