Verse & View

Verse & View Tourist, Mountaineer & Showing the beauty of nature🥀♥️💕 ��

12/08/2025

❤🖇😋

29/07/2025

بھارت کے ہندو سرائیکی شاعر کی بہترین شاعری ♥️🥀


29/07/2025

حبیب جالب — حق گو ، بہادر اور بے باک شاعر ۔

حبیب جالب پاکستان کے اُن عظیم شعرا میں سے تھے جو ہمیشہ سچ بولنے سے نہیں گھبرائے۔انہوں نے اپنی شاعری میں ہمیشہ جبر، ظالم اور بے زار حکمرانوں کے لیے ایسی باتیں کہیں جو شاید ہی کسی شاعر نے کہیں ہوں۔ وہ ایک بہادر، صاف گو اور عوامی شاعر تھے جنہوں نے ہر دور کے ظلم، آمریت اور ناانصافی کے خلاف آواز بلند کی۔ وہ ہمیشہ مظلوموں کا ساتھ دیتے رہے اور طاقتوروں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرتے تھے۔انہوں نے اپنی شاعری میں ہمیشہ سچ بولا جسے سن کر حکمرانوں کے کان کھڑے ہو جاتے ۔ جس کی وجہ سے انہیں کئی بار تشدد کا نشانہ بنایا گیا مگر انہوں نے اپنے ارادے کبھی نہیں بدلے۔

ان کے اشعار میں سچائی اور دلیری جھلکتی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ انہیں کئی بار جیل جانا پڑا، لیکن وہ کبھی اپنے نظریے سے پیچھے نہیں ہٹے۔ انہوں نے ایوب خان، ضیاء الحق اور دیگر کئی آمرانہ حکومتوں کے خلاف کھل کر بات کی۔ وہ جانتے تھے کہ سچ بولنے کی قیمت چکانی پڑتی ہے، مگر پھر بھی وہ خاموش نہ رہے۔ نہوں نے کوئی ایک نظم نہیں بلکہ کئ ایسی نظمیں لکھ ڈالیں جو آج بھی عوام کو بیدار کرتی ہیں جنہیں سن کر ظالم آج بھی کانپ جاتا ہے ۔

حبیب جالب کے اشعار عوام کی آواز تھے۔ وہ کہتے تھے:

"میں نہیں مانتا، میں نہیں جانتا!"

یہ صرف ایک شعر نہیں بلکہ ایک اعلان تھا کہ وہ ظلم کو کبھی قبول نہیں کریں گے۔

ان کی بہادری اور استقامت آج بھی ہمیں سکھاتی ہے کہ سچ کہنا کبھی نہ چھوڑیں، چاہے اس کے لیے جیل جانا پڑے یا قربانی دینی پڑے۔ حبیب جالب کا نام ہمیشہ زندہ رہے گا کیونکہ وہ حق اور سچ کے شاعر تھے۔ ان کی ایک کمال کی نظم پیشِ خدمت ہے جسے سن کر آپ کو لگے گا کہ جالب آج بھی زندہ ہیں اپنے الفاظوں میں اور عوام کے دلوں میں ۔🥀
✒️ BY MYSELF

خطرہ ہے زرداروں کو
گرتی ہوئی دیواروں کو

صدیوں کے بیماروں کو
خطرے میں اسلام نہیں

ساری زمیں کو گھیرے ہوئے ہیں
آخر چند گھرانے کیوں

نام نبی کا لینے والے
الفت سے بیگانے کیوں

خطرہ ہے خوں خواروں کو
رنگ برنگی کاروں کو

امریکہ کے پیاروں کو
خطرے میں اسلام نہیں

آج ہمارے نعروں سے
لرزا ہے بپا ایوانوں میں

بک نہ سکیں گے حسرت و ارماں
اونچی سجی دکانوں میں

خطرہ ہے بٹ ماروں کو
مغرب کے بازاروں کو

چوروں کو مکاروں کو
خطرے میں اسلام نہیں

امن کا پرچم لے کر اٹھو
ہر انسان سے پیار کرو

اپنا تو منشور ہے جالبؔ
سارے جہاں سے پیار کرو

خطرہ ہے درباروں کو
شاہوں کے غم خواروں کو

نوابوں غداروں کو
خطرے میں اسلام نہیں

میرے رشک قمر تو نے پہلی نظر جب نظر سے ملائی مزا آ گیابرق سی گر گئی کام ہی کر گئی آگ ایسی لگائی مزا آ گیاجام میں گھول ک...
28/07/2025

میرے رشک قمر تو نے پہلی نظر جب نظر سے ملائی مزا آ گیا
برق سی گر گئی کام ہی کر گئی آگ ایسی لگائی مزا آ گیا

جام میں گھول کر حسن کی مستیاں چاندنی مسکرائی مزا آ گیا
چاند کے سائے میں اے مرے ساقیا تو نے ایسی پلائی مزا آ گیا

نشہ شیشے میں انگڑائی لینے لگا بزم رنداں میں ساغر کھنکنے لگا
میکدے پہ برسنے لگیں مستیاں جب گھٹا گھر کے آئی مزا آ گیا

بے حجابانہ وہ سامنے آ گئے اور جوانی جوانی سے ٹکرا گئی
آنکھ ان کی لڑی یوں مری آنکھ سے دیکھ کر یہ لڑائی مزا آ گیا

آنکھ میں تھی حیا ہر ملاقات پر سرخ عارض ہوئے وصل کی بات پر
اس نے شرما کے میرے سوالات پہ ایسے گردن جھکائی مزا آ گیا

شیخ‌ صاحب کا ایمان بک ہی گیا دیکھ کر حسن ساقی پگھل ہی گیا
آج سے پہلے یہ کتنے مغرور تھے لٹ گئی پارسائی مزا آ گیا

اے فناؔ شکر ہے آج بعد فنا اس نے رکھ لی مرے پیار کی آبرو
اپنے ہاتھوں سے اس نے مری قبر پہ چادر گل چڑھائی مزا آ گیا

فنا بلند شہری ♥️🥀

28/07/2025

ساقی امروہوی 💔

Address

Dera Ismail Khan

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Verse & View posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Establishment

Send a message to Verse & View:

Share

Category