29/07/2025
حبیب جالب — حق گو ، بہادر اور بے باک شاعر ۔
حبیب جالب پاکستان کے اُن عظیم شعرا میں سے تھے جو ہمیشہ سچ بولنے سے نہیں گھبرائے۔انہوں نے اپنی شاعری میں ہمیشہ جبر، ظالم اور بے زار حکمرانوں کے لیے ایسی باتیں کہیں جو شاید ہی کسی شاعر نے کہیں ہوں۔ وہ ایک بہادر، صاف گو اور عوامی شاعر تھے جنہوں نے ہر دور کے ظلم، آمریت اور ناانصافی کے خلاف آواز بلند کی۔ وہ ہمیشہ مظلوموں کا ساتھ دیتے رہے اور طاقتوروں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرتے تھے۔انہوں نے اپنی شاعری میں ہمیشہ سچ بولا جسے سن کر حکمرانوں کے کان کھڑے ہو جاتے ۔ جس کی وجہ سے انہیں کئی بار تشدد کا نشانہ بنایا گیا مگر انہوں نے اپنے ارادے کبھی نہیں بدلے۔
ان کے اشعار میں سچائی اور دلیری جھلکتی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ انہیں کئی بار جیل جانا پڑا، لیکن وہ کبھی اپنے نظریے سے پیچھے نہیں ہٹے۔ انہوں نے ایوب خان، ضیاء الحق اور دیگر کئی آمرانہ حکومتوں کے خلاف کھل کر بات کی۔ وہ جانتے تھے کہ سچ بولنے کی قیمت چکانی پڑتی ہے، مگر پھر بھی وہ خاموش نہ رہے۔ نہوں نے کوئی ایک نظم نہیں بلکہ کئ ایسی نظمیں لکھ ڈالیں جو آج بھی عوام کو بیدار کرتی ہیں جنہیں سن کر ظالم آج بھی کانپ جاتا ہے ۔
حبیب جالب کے اشعار عوام کی آواز تھے۔ وہ کہتے تھے:
"میں نہیں مانتا، میں نہیں جانتا!"
یہ صرف ایک شعر نہیں بلکہ ایک اعلان تھا کہ وہ ظلم کو کبھی قبول نہیں کریں گے۔
ان کی بہادری اور استقامت آج بھی ہمیں سکھاتی ہے کہ سچ کہنا کبھی نہ چھوڑیں، چاہے اس کے لیے جیل جانا پڑے یا قربانی دینی پڑے۔ حبیب جالب کا نام ہمیشہ زندہ رہے گا کیونکہ وہ حق اور سچ کے شاعر تھے۔ ان کی ایک کمال کی نظم پیشِ خدمت ہے جسے سن کر آپ کو لگے گا کہ جالب آج بھی زندہ ہیں اپنے الفاظوں میں اور عوام کے دلوں میں ۔🥀
✒️ BY MYSELF
خطرہ ہے زرداروں کو
گرتی ہوئی دیواروں کو
صدیوں کے بیماروں کو
خطرے میں اسلام نہیں
ساری زمیں کو گھیرے ہوئے ہیں
آخر چند گھرانے کیوں
نام نبی کا لینے والے
الفت سے بیگانے کیوں
خطرہ ہے خوں خواروں کو
رنگ برنگی کاروں کو
امریکہ کے پیاروں کو
خطرے میں اسلام نہیں
آج ہمارے نعروں سے
لرزا ہے بپا ایوانوں میں
بک نہ سکیں گے حسرت و ارماں
اونچی سجی دکانوں میں
خطرہ ہے بٹ ماروں کو
مغرب کے بازاروں کو
چوروں کو مکاروں کو
خطرے میں اسلام نہیں
امن کا پرچم لے کر اٹھو
ہر انسان سے پیار کرو
اپنا تو منشور ہے جالبؔ
سارے جہاں سے پیار کرو
خطرہ ہے درباروں کو
شاہوں کے غم خواروں کو
نوابوں غداروں کو
خطرے میں اسلام نہیں