14/06/2026
تفصیل پڑھنا بھی اور آگے شیئر بھی صدقہ جاریہ سمجھ کر کرنا تاکہ کچھ بیٹے اور بچ جائیں ۔گجرانوالہ میں یہ ٹائنز کے نام کی کمپنی ھے یہ دور دراز کے علاقہ سے لوگ بلاتے ہیں لوکل کو جاب نہیں دیتے یہ سوشل میڈیا پر اشتہار دیتے جس میں یہ ڈیٹا انٹری کمپیوٹر آپریٹر اور منیجر جیسی لگزری پوسٹ دیتے 45 سے 50 ہزار سیلری کا لالچ ساتھ رہائش کھانا فری کی آفر دیتے جس کو دیکھ کر پڑھے لکھے نوجوان ان کے جال میں پھنستے کیوں کہ بیروزگاری کا راج ھے FA BA لوگ فارغ بیٹھے نہ نوکری اوپر سے گھر والوں کی باتیں وہ ان شکاریوں کے جال میں پھنس جاتے یہ جاتے ہی نوجوان سے 10 ہزار سیکورٹی فیس یا انٹری فیس لیتے پھر ان کی کچھ فیک دوائیاں اور سپلیمنٹ ہیں اور خریدنے کا کہتے اور ساتھ پوائنٹ اور پرموشن کا لالچ دیتے جس سے وہ نوجوان ادھر ادھر سے پیسے منگوا کر ایک ہفتے میں ہی انکو 50 سے ایک لاکھ تک دے دیتا پھر وہ کہتے اگر آپ چار اور دوست منگوائیں آپکو اتنے پیسے ملیں گے تو وہ پیچھے اپنے گاؤں سے چار اور بیروزگار دوست بلوا کر ان درندوں کا شکار بنا دیتا آخر میں وہ لڑکے وہاں جو ہوٹل یا دکانوں والے ہیں ان سے رو رو کر واپسی کا کرایہ یا کھانا کھانے کی بھیک مانگتا یعنی کہ اس کی یہ حالت کر دیتے کہ نہ واپسی کا کرایہ ہوتا نہ کھانے کے پیسے اور اگر وہ ان سے پیسوں کی ڈیمانڈ کرتا تو اسے اس جوان کی طرح موت ملتی اور میں خود ایسے کئی لڑکوں کو جانتا جو انکا شکار ھو چکے اس لیے گزارش ھے ایسے نوسربازوں سے بچیں اور دوسروں کو بھی بچائیں اللّٰہ آپ سب کا حامی و ناصر ھو ❤️