04/11/2025
دل اداس ہے، پریشاں ہے، بہت مغضوب ہے
عدل رُسوا، حق ستم دیدہ، پاسِ عصمت مفقود ہے
جان سے بڑھ کر ہے ناموسِ پیمبر ﷺ ہم کو
چین تب آئے، قرار آئے، یہی مشہود ہے
اڑتی خاک جو مدینے کی، یہی مشروب ہے
دل کے زخموں کی دوا، یادِ رسولِ محبوب ہے
کوئی رُتبہ نہیں اُس عشق سے بڑھ کر دنیا میں
جان قربان ہو اُس پر، یہی مقصود ہے
نور پھیلا ہے جہاں بھر میں، یہی مقصود ہے
جن کی خاطر یہ جہاں قائم، وہی منسوب ہے
اُن کی مدحت ہی ہماری زندگی کا حاصل ہے
لب پہ صلِّ علیٰ ہو ہر دم، یہی مطلوب ہے
صلی اللہ علیہ وسلم
صلی اللہ علیہ وسلم
ہدیہ عقیدت مآب رسالت محمد کریم صلی اللہ علیہ وسلم
احمد نصیر