بے مثال واقعات

بے مثال واقعات This page is made for information about world, islam and personalities.

13/05/2026

حضرت بلالؓ جب حضرت عمرؓ کے دروازے پر تشریف لائے تو وہ منظر بڑا عجیب تھا۔

جیسے ہی بلالؓ اندر داخل ہوئے، امیرالمومنین حضرت عمر فاروقؓ فوراً اپنی کرسی سے اٹھ گئے اور ادب میں ہاتھ باندھ کر ایک طرف کھڑے ہو گئے۔

وہی عمرؓ جن کے نام سے قیصر و کسریٰ کانپتے تھے، آج ایک سیاہ فام غلام کے سامنے یوں مؤدب کھڑے تھے۔

لوگ حیران رہ گئے اور کہنے لگے کہ آخر یہ کون آ رہا ہے جس کے لیے امیرالمومنین نے یہ خاص انداز اختیار کیا ہے؟

حضرت بلالؓ اندر آئے تو گھبرا گئے اور عرض کرنے لگے: “امیرالمومنین! آپ یہ کیا کر رہے ہیں؟”

حضرت عمرؓ نے فوراً ان کا بازو پکڑا اور اپنی جگہ پر بٹھانے کی کوشش کی۔

حضرت بلالؓ نے کہا: “میں تو ایک غلام ہوں، مجھے تو ان آداب کا بھی پتا نہیں۔ میں ایک غریب ماں کا بیٹا اور غلام باپ کی اولاد ہوں…”

حضرت عمرؓ نے جواب دیا: “بلال! تم پہلے غلام تھے، لیکن جب سے تم نے مصطفیٰ ﷺ کی غلامی اختیار کی ہے، تم ہمارے لیے عزت کا معیار بن گئے ہو۔ آج تم اس امت کے امام ہو۔”

پھر حضرت عمرؓ نے فرمایا: “مجھے وہ دن کبھی نہیں بھولتا جب مکہ فتح ہوا تھا، بت ٹوٹ رہے تھے، بڑے بڑے سردار خاموش تھے، اور میرے نبی ﷺ نے فرمایا تھا: بلال کو بلاؤ!”

“پھر بلالؓ نے کعبہ کی چھت پر چڑھ کر اذان دی۔ کچھ لوگوں نے اعتراض کیا کہ کسی اور کو موقع دیا جائے، مگر میرے نبی ﷺ نے فرمایا: خاموش رہو!”

“وہ بلال جو بدر میں ماریں کھا کر بھی اذان دیتا رہا، احد میں پتھر سہہ کر بھی اذان دیتا رہا، اور تپتے صحراؤں میں اذان کی صدا بلند کرتا رہا، آج وہ کعبہ کی چھت پر کھڑا ہوگا۔”

حضرت عمرؓ نے فرمایا: “آج اگر اللہ نے ہمیں عزت دی ہے تو میں دنیا کو دکھانا چاہتا ہوں کہ اصل عزت کس کے پاس ہے۔”

اور پھر حکم دیا: “آج کعبہ کی چھت پر صرف بلالؓ چڑھیں گے۔”

حضرت ابو بکرؓ بھی نیچے رہے، حضرت عمرؓ بھی نیچے رہے، حضرت عثمانؓ، حضرت علیؓ، طلحہؓ اور زبیرؓ سب نیچے کھڑے تھے۔

آج ایک حبشی غلام کعبہ کی چھت پر اذان دے گا اور دنیا دیکھے گی کہ عزت رنگ، نسل یا مال سے نہیں بلکہ رسول اللّٰہ ﷺ کی غلامی سے ملتی ہے۔

16/02/2026

ہمارے محلے میں ایک عورت آکر رہنے لگی۔ اس کے دو بچے بھی تھے۔ ہم نے محسوس کیا کہ ایک عجیب و غریب کردار آ کر ہمارے درمیان آباد ہو گیا ہے۔ ایک تو وہ انتہائی اعلیٰ درجے کے خوبصّورت اور باریک کپڑے پہنتی تھی، پھر اس کی یہ خرابی تھی کہ وہ بہت زیادہ خوبصّورت تھی۔ تیسری خرابی یہ تھی کہ اس کے گھر کے آگے سے گزرو تو خوشبو کی لپٹیں آتیں تھیں۔ اس خاتون کو کچھ عجیب و غریب قسم کے مرد بھی ملنے آتے تھے۔ گھر کی گاڑی کا نمبر تو روز دیکھ دیکھ کر آپ جان جاتے ہیں، لیکن اس کے گھر آئے روز مختلف نمبروں والی گاڑیاں آتیں تھیں۔
ایک دن جب میں گھر آیا تو محلے کے نکڑ پر حسبِ معمول کچھ بزرگ بیٹھے ہوئے تھے۔ موضوعِ گفتگو پھر وہی خاتون تھی۔ کوئی کہہ رہا تھا کہ “زمانہ ہی خراب ہے”، کوئی اسے بچوں کے لیے برا اثر قرار دے رہا تھا۔ میں خاموشی سے سب سنتا رہا، لیکن دل میں ایک انجانا سا تجسس بھی تھا۔
میرا گھر اس کے گھر کے بالکل سامنے نہیں تھا مگر اتنا قریب ضرور تھا کہ اس کے دروازے پر ہونے والی ہلچل نظر آ جاتی۔ اس کے بچے اکثر شام کو گلی میں کھیلتے تھے۔ حیرت کی بات یہ تھی کہ وہ دونوں نہایت شائستہ اور باادب تھے۔ کسی سے اونچی آواز میں بات نہ کرتے، نہ لڑائی جھگڑا، نہ شور شرابا۔ کئی بار میرا دل چاہا کہ ان سے پوچھوں کہ تمہاری امی کیا کرتی ہیں، مگر میں نے کبھی ہمت نہ کی۔
ایک شام بجلی چلی گئی۔ گرمی کا موسم تھا، سب لوگ گھروں سے باہر نکل آئے۔ اچانک دیکھا کہ وہ خاتون بھی اپنے گھر کے باہر آ گئی۔ اس نے سادہ سا سوٹ پہن رکھا تھا، بال کھلے تھے مگر چہرے پر کوئی بناوٹ نہیں تھی۔ بچوں کے ساتھ فرش پر بیٹھ کر انہیں پنکھا جھل رہی تھی۔ پہلی بار میں نے اسے قریب سے دیکھا۔ اس کے چہرے پر ایک عجیب سی سنجیدگی اور تھکن تھی، جیسے مسکراہٹ بھی کسی بوجھ تلے دبی ہو۔
اتنے میں ایک گاڑی آ کر رکی۔ محلے والوں کی نظریں فوراً ادھر اٹھ گئیں۔ گاڑی سے ایک درمیانی عمر کا شخص نکلا۔ اس کے ہاتھ میں فائل تھی۔ وہ سیدھا دروازے کی طرف بڑھا۔ خاتون نے اٹھ کر دروازہ کھولا اور اسے اندر لے گئی۔ سرگوشیاں شروع ہو گئیں۔ “دیکھا؟ پھر کوئی نیا آیا ہے!”
میرا دل نہ جانے کیوں بے چین ہو گیا۔ میں نے خود سے سوال کیا کہ آخر ہمیں اس کی زندگی میں اتنی دلچسپی کیوں ہے؟ کیا صرف اس لیے کہ وہ خوبصّورت ہے؟ یا اس لیے کہ وہ اکیلی ہے؟
چند دن بعد ایک واقعہ پیش آیا جس نے میری سوچ بدل دی۔
رات کے تقریباً دس بجے تھے کہ اچانک گلی میں شور مچ گیا۔ میں باہر نکلا تو دیکھا کہ اس کے گھر کے باہر دو آدمی جھگڑ رہے تھے۔ وہی آدمی جو اکثر اس کے پاس آتے تھے۔ بات بڑھتے بڑھتے ہاتھا پائی تک پہنچ گئی۔ خاتون بھی باہر آ گئی۔ اس کی آواز کانپ رہی تھی مگر وہ دونوں کو روکنے کی کوشش کر رہی تھی۔
محلے کے کچھ لوگ بھی جمع ہو گئے۔ کسی نے پولیس کو فون کر دیا۔ پولیس آئی تو معلوم ہوا کہ وہ دونوں آدمی ایک این جی او کے کارکن تھے اور کسی پراجیکٹ کے سلسلے میں اختلاف ہو گیا تھا۔ خاتون بھی اسی ادارے کے ساتھ کام کرتی تھی۔ وہ بیوہ تھی اور اپنے شوہر کی وفات کے بعد اس نے ایک فلاحی تنظیم کے ساتھ کام شروع کیا تھا تاکہ اپنے بچوں کی کفالت کر سکے۔
اگلے دن میں نے پہلی بار اس کے بارے میں تحقیق کی۔ معلوم ہوا کہ وہ ایک تعلیم یافتہ خاتون ہے، اس کا شوہر ایک حادثے میں وفات پا گیا تھا۔ سسرال والوں نے ساتھ نہ دیا تو وہ بچوں کو لے کر اس محلے میں آ بسی۔ وہ عورتوں کے حقوق اور یتیم بچوں کی تعلیم کے لیے کام کرتی تھی۔ جو گاڑیاں آتی تھیں وہ دراصل مختلف ڈونرز اور ٹیم ممبرز کی ہوتی تھیں۔
مجھے شرمندگی محسوس ہوئی۔ ہم نے اس کے کردار پر شک کیا، صرف اس کی ظاہری شکل اور طرزِ زندگی دیکھ کر۔ ہم نے یہ نہ سوچا کہ ایک اکیلی عورت کے لیے زندگی کتنی مشکل ہو سکتی ہے۔
چند دن بعد اس کے بیٹے کو تیز بخار ہو گیا۔ آدھی رات کو وہ بچے کو لے کر باہر نکلی مگر کوئی سواری نہیں مل رہی تھی۔ اتفاق سے میں جاگ رہا تھا۔ میں نے گاڑی نکالی اور انہیں اسپتال لے گیا۔ راستے میں وہ خاموش بیٹھی رہی۔ اسپتال پہنچ کر جب ڈاکٹر نے کہا کہ خطرے کی کوئی بات نہیں تو اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔
واپسی پر اس نے پہلی بار مجھ سے بات کی۔ “لوگ میرے بارے میں کیا کیا سوچتے ہیں، میں جانتی ہوں۔ مگر میں نے کبھی کسی کو صفائی دینا ضروری نہیں سمجھا۔ میں صرف اپنے بچوں کے لیے جیتی ہوں۔”
اس کی آواز میں نہ شکوہ تھا نہ غصّہ، صرف تھکن تھی۔
اس رات مجھے نیند نہیں آئی۔ میں سوچتا رہا کہ ہم کیسے لوگ ہیں؟ ایک عورت اگر مضبوطی سے جینے کی کوشش کرے تو ہمیں وہ کھٹکتی ہے۔ اگر وہ خوبصّورت ہو تو ہمیں اس کی خوبصورتی میں عیب نظر آتا ہے۔ اگر وہ خوشبو لگائے تو ہمیں اس میں خرابی دکھائی دیتی ہے۔
آہستہ آہستہ محلے کے لوگوں کا رویہ بھی بدلنے لگا۔ شاید اس رات کے واقعے کے بعد سب کو حقیقت کا اندازہ ہو گیا تھا۔ اب جب اس کے گھر گاڑی آتی تو لوگ خاموش رہتے۔ اس کے بچے محلے کے دوسرے بچوں کے ساتھ کھیلنے لگے۔ عید پر اس نے سب کے گھروں میں مٹھائی بھیجی۔
ایک دن اس نے خواتین کے لیے محلے کی مسجد کے ہال میں ایک مفت سلائی کلاس شروع کی۔ کئی غریب عورتیں وہاں آنے لگیں۔ رفتہ رفتہ وہی عورت جو کبھی “عجیب و غریب کردار” سمجھی جاتی تھی، محلے کی عزت دار اور مددگار خاتون بن گئی۔
میں نے سیکھا کہ کردار کا اندازہ خوشبو، کپڑوں یا گاڑیوں کے نمبروں سے نہیں لگایا جا سکتا۔ بعض اوقات ہماری آنکھیں صرف وہی دیکھتی ہیں جو ہمارا ذہن دیکھنا چاہتا ہے، حقیقت کچھ اور ہوتی ہے۔
آج جب میں اس کے گھر کے سامنے سے گزرتا ہوں تو مجھے خوشبو کی لپٹوں میں کوئی خرابی محسوس نہیں ہوتی۔ وہ خوشبو مجھے اس عورت کی محنت، حوصلے اور خودداری کی یاد دلاتی ہے۔ اور میں دل ہی دل میں سوچتا ہوں کہ اصل عجیب و غریب کردار شاید وہ نہیں تھی… بلکہ ہم تھے، جو بغیر جانے پرکھے فیصّلے سنا دیتے ہیں۔

16/02/2026

فائیو اسٹار ہوٹل کے وسیع و عریض ہال میں روشنیوں کی چمک دمک پھیلی ہوئی تھی۔ قیمتی فانوسوں کی روشنی سنگِ مرمر کے فرش پر ایسے بکھر رہی تھی جیسے چاندنی زمین پر اتر آئی ہو۔ مہمان قہقہے لگا رہے تھے، پلیٹوں کی کھنک اور ہلکی موسیقی فضا میں گھلی ہوئی تھی۔ اسی شور میں اچانک ایک زور دار آواز گونجی—ایک پلیٹ ویٹر کے ہاتھ سے چھوٹ کر زمین پر گر گئی تھی۔
ہال میں سناٹا چھا گیا۔
مالک، جو اپنے سخت مزاج اور غرور کے لیے مشہور تھا، تیزی سے آگے بڑھا۔ اس کا چہرہ غصے سے سرخ تھا۔ اس نے بغیر کچھ سوچے سمجھے ویٹر کے گال پر زور دار تھپڑ مار دیا۔ آواز اتنی تیز تھی کہ قریبی میزوں پر بیٹھے مہمان چونک اٹھے۔
ویٹر کے ہاتھ کانپنے لگے۔ اس کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔ وہ جھک کر ٹوٹے ہوئے برتن سمیٹنے لگا اور روتے ہوئے بولا،
“صاحب… میری تنخواہ سے کاٹ لینا… مگر مجھے نوکری سے نہ نکالیں۔ میرے گھر میں صرف میں ہی کمانے والا ہوں۔”
مالک نے حقارت سے اسے دھکا دیا۔
“نکلو یہاں سے! تم جیسے نااہل لوگوں کی مجھے ضرورت نہیں!”
دھکے کی شدت سے ویٹر پیچھے لڑکھڑایا۔ اسی لمحے اس کی جیب سے ایک پرانی سی بلیک اینڈ وائٹ تصویر زمین پر گر گئی۔ تصویر اتنی پرانی تھی کہ کنارے مڑے ہوئے تھے اور کاغذ زرد پڑ چکا تھا۔
مالک نے غصے میں ہی وہ تصویر اٹھائی۔ جیسے ہی اس کی نظر تصویر پر پڑی، اس کا رنگ یکدم فق ہو گیا۔ اس کے ہاتھ کانپنے لگے۔ تصویر میں ایک جوان آدمی مسکرا رہا تھا، اس کے ساتھ ایک چھوٹا سا لڑکا کھڑا تھا۔ جوان آدمی کے کندھے پر ہاتھ رکھے وہ لڑکا ہنس رہا تھا۔ تصویر کے نیچے ہلکے سے لفظ لکھے تھے:
“میرے پیارے بیٹے کے نام — تمہارا باپ”
مالک کے ہونٹ کانپنے لگے۔ اس نے تڑپ کر ویٹر کو بازو سے پکڑا اور کرسی پر بٹھا دیا۔
“یہ تصویر… تمہیں کہاں سے ملی؟”
سب لوگ حیران تھے۔ ابھی جو مالک غصے سے آگ بگولا تھا، اب اس کی آنکھوں میں آنسو تیر رہے تھے۔
ویٹر نے سسکتے ہوئے جواب دیا،
“یہ… میرے ابا کی تصویر ہے۔ وہ مجھے بچپن میں چھوڑ کر چلے گئے تھے۔ اماں کہا کرتی تھیں کہ وہ ایک بڑے آدمی بننے کا خواب لے کر شہر آئے تھے۔ مگر پھر کبھی واپس نہیں آئے۔ اماں نے مرتے وقت یہ تصویر دی تھی اور کہا تھا، اگر کبھی قسمت تمہیں تمہارے باپ سے ملا دے تو انہیں معاف کر دینا۔”
مالک کے قدموں تلے واقعی زمین نکل چکی تھی۔ وہ تصویر میں موجود جوان آدمی خود تھا۔ بیس سال پہلے کا چہرہ… وہی آنکھیں… وہی مسکراہٹ۔
بیس سال پہلے…
وہ ایک غریب آدمی تھا۔ بیوی اور ننھا بیٹا اس کی دنیا تھے۔ مگر غربت نے اسے توڑ دیا تھا۔ وہ شہر آیا، محنت کی، قسمت نے یاوری کی اور وہ کامیاب ہو گیا۔ دولت، شہرت، بڑا ہوٹل، سب کچھ حاصل کر لیا۔ مگر اس کامیابی کی دوڑ میں اس نے پلٹ کر کبھی پیچھے نہیں دیکھا۔ اس نے نہ خط لکھا، نہ خبر لی۔ اسے لگا شاید بیوی نے کسی اور سے شادی کر لی ہو گی، بچہ اسے بھول گیا ہو گا۔
اور آج… وہی بچہ اس کے سامنے ویٹر بن کر کھڑا تھا۔ اس کے ہاتھوں تھپڑ کھا چکا تھا۔
مالک کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ اس نے کپکپاتی آواز میں کہا،
“تمہارا نام کیا ہے؟”
“احمد…” ویٹر نے دھیمی آواز میں جواب دیا۔
مالک نے سر جھکا لیا۔
“احمد… میں ہی تمہارا باپ ہوں۔”
ہال میں بیٹھے لوگ ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔ کسی کو یقین نہیں آ رہا تھا۔ ویٹر کی آنکھیں پھیل گئیں۔
“نہیں… میرے ابا ایسے نہیں ہو سکتے۔ وہ تو ہمیں چھوڑ کر گئے تھے، مگر وہ برے انسان نہیں تھے۔”
مالک کے دل پر یہ جملہ تیر کی طرح لگا۔
“میں ہی وہ بد نصیب ہوں جس نے تمہیں اور تمہاری ماں کو تنہا چھوڑ دیا۔ میں دولت کے پیچھے اندھا ہو گیا تھا۔ مجھے لگا تھا کہ جب کامیاب ہو جاؤں گا تو تم دونوں کو شاہانہ زندگی دوں گا… مگر میں واپس ہی نہ جا سکا۔ پھر شرم آڑے آتی رہی۔”
احمد کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔
“اماں آپ کا انتظار کرتے کرتے دنیا سے چلی گئیں۔ آخری سانس تک کہتی رہیں کہ آپ ضرور آئیں گے۔”
یہ سن کر مالک چیخ اٹھا۔ اس نے دونوں ہاتھوں سے اپنا چہرہ ڈھانپ لیا۔
“میں نے سب کچھ پا لیا… مگر اصل دولت کھو دی۔”
ہال میں مکمل خاموشی تھی۔ مہمانوں کی نظریں اس منظر پر جمی ہوئی تھیں۔ کسی کی ہمت نہیں ہو رہی تھی کہ کچھ بولے۔
مالک نے آہستہ سے احمد کا ہاتھ پکڑا۔
“بیٹا… اگر ہو سکے تو مجھے معاف کر دو۔ میں تمہارے ہر دکھ کا ذمہ دار ہوں۔ آج سے یہ ہوٹل تمہارا ہے۔ میں تمہیں بیٹے کی حیثیت سے اپنانا چاہتا ہوں، نوکر کی طرح نہیں۔”
احمد کے دل میں برسوں کا خلا تھا۔ وہ بچپن سے باپ کے لمس کو ترسا تھا۔ اس کے اندر غصہ بھی تھا، درد بھی، مگر ماں کی آخری وصیت اس کے کانوں میں گونج رہی تھی:
“اگر کبھی باپ مل جائے تو معاف کر دینا…”
احمد نے کانپتے ہوئے ہاتھوں سے آنسو پونچھے۔
“میں نے آپ کو کبھی دیکھا نہیں تھا… مگر اماں نے آپ کی برائیاں نہیں کیں۔ وہ کہتی تھیں کہ آپ حالات کے مارے ہوئے ہیں۔ اگر وہ آپ کو معاف کر سکتی تھیں تو میں کون ہوتا ہوں نفرت کرنے والا؟”
مالک پھوٹ پھوٹ کر رو پڑا۔ اس نے بیٹے کو گلے لگا لیا۔ ہال تالیوں سے گونج اٹھا۔ کئی مہمانوں کی آنکھیں بھی نم تھیں۔
مالک نے فوراً مینیجر کو بلایا اور اعلان کیا،
“آج سے احمد میرا بیٹا اور اس ہوٹل کا شریک مالک ہے۔ اور یاد رکھو، آج کے بعد یہاں کسی ملازم کی عزت پر ہاتھ نہیں اٹھے گا۔ غلطی سب سے ہوتی ہے، مگر عزت سب کی برابر ہے۔”
اس دن کے بعد ہوٹل کا ماحول بدل گیا۔ مالک کا رویہ بھی بدل گیا۔ وہ ملازمین کے ساتھ نرمی سے پیش آنے لگا۔ احمد نے بھی محنت جاری رکھی، مگر اب سر جھکا کر نہیں بلکہ سر اٹھا کر۔
کچھ مہینوں بعد ہوٹل کے استقبالیہ پر ایک نئی تصویر لگائی گئی۔ اس میں مالک اور احمد ایک ساتھ کھڑے تھے، مسکرا رہے تھے۔ نیچے لکھا تھا:
“رشتے دولت سے نہیں، دل سے جیتے جاتے ہیں۔”
مالک جب بھی اس تصویر کو دیکھتا، اسے وہ بلیک اینڈ وائٹ تصویر یاد آتی جو اس کی زندگی بدل گئی تھی۔ اسے احساس ہو چکا تھا کہ اصل کامیابی اونچی عمارتیں نہیں، بلکہ ٹوٹے ہوئے رشتوں کو جوڑنا ہے۔
اور احمد جب بھی پلیٹ اٹھاتا، اس کے ہاتھ اب نہیں کانپتے تھے۔ کیونکہ اسے معلوم تھا کہ وہ صرف ایک ویٹر نہیں، بلکہ ایک بیٹا ہے… اور ایک باپ کا پچھتاوا اس کی زندگی کا سہارا بن چکا ہے۔

15/02/2026

گاؤں کے سرکاری اسپتال کے کمرے میں جب ڈاکٹر نے سنجیدہ لہجے میں کہا،
“آپ کی ماں کا علاج ممکن ہے، مگر کم از کم دس لاکھ روپے لگیں گے”،
تو میرے پیروں تلے زمین نکل گئی۔
میں نے فوراً اپنے بڑے بھائی سلیم کو فون کیا۔ اس نے سرد لہجے میں جواب دیا،
“ہمارا ماں سے اب کوئی رشتہ نہیں۔ جو کرنا ہے تم خود کرو۔”
چھوٹے بھائی نے بھی یہی کہا۔
“میں اپنے بچوں کا سوچوں یا اس بوڑھی عورت کا؟”
میں نے کانپتے ہاتھوں سے فون بند کیا۔ میرے سامنے وہی ماں تھی جس نے ہمیں پالنے کے لیے دن رات محنت کی تھی۔ ابو کے انتقال کے بعد اس نے سلائی کر کے، لوگوں کے گھروں میں کام کر کے ہمیں پڑھایا۔ آج وہی ماں بستر پر بے بس پڑی تھی۔
میں نے اپنی ساری جمع پونجی نکال لی۔ پانچ لاکھ جو میں نے برسوں کی محنت سے جوڑے تھے۔ باقی رقم کے لیے میں نے اپنا موٹر سائیکل بیچ دیا، بیوی کے زیور رہن رکھ دیے اور دوستوں سے قرض لے لیا۔ علاج شروع ہو گیا۔
مہینوں تک میں اسپتال کے چکر لگاتا رہا۔ بھائیوں نے ایک بار بھی ماں کا حال نہ پوچھا۔ مگر عجیب بات یہ تھی کہ ماں اکثر بڑے بھائی کو کوستی تھی۔
وہ کہتی،
“سلیم نے میرا دل توڑا ہے، اللہ اسے کبھی سکون نہ دے۔”
میں حیران ہوتا کہ ماں کو اس سے اتنی نفرت کیوں ہو گئی ہے۔
ایک رات ماں کی طبیعت بہت بگڑ گئی۔ ڈاکٹر نے کہا آخری وقت ہے۔ میں اس کے سرہانے بیٹھا قرآن پڑھ رہا تھا کہ ماں نے کمزور آواز میں کہا،
“سلیم کو بلا دو…”
میرا دل ٹوٹ گیا۔ جس بیٹے نے حال تک نہ پوچھا، ماں آخری وقت میں اسی کو یاد کر رہی تھی۔ میں نے دل پر پتھر رکھ کر بھائی کو فون کیا۔ وہ آیا، سفید کپڑوں میں ملبوس، آنکھوں پر سیاہ چشمہ۔
ماں نے سب کو کمرے سے باہر جانے کو کہا۔ میں دروازے کے باہر کھڑا تھا۔ کچھ دیر بعد بھائی باہر نکلا، اس کے چہرے پر عجیب سا اطمینان تھا۔
چند گھنٹوں بعد ماں دنیا سے چلی گئی۔
تدفین کے بعد وکیل نے سب کو اکٹھا کیا۔ ماں کی وصیت پڑھی گئی۔
“میری تمام جائیداد، دو کنال کا پلاٹ اور شہر کا پکا مکان، میرے بڑے بیٹے سلیم کے نام ہو گا۔ جبکہ میرے چھوٹے بیٹے ریحان کو گاؤں کا کچا مکان دیا جاتا ہے۔”
مجھے لگا کسی نے میرے سینے میں خنجر گھونپ دیا ہو۔ میں وہی بیٹا تھا جس نے سب کچھ لٹا دیا، اور بدلے میں کچا مکان؟
بھائیوں نے طنزیہ مسکراہٹوں کے ساتھ میری طرف دیکھا۔ سلیم بولا،
“ماں کو پتہ تھا کون قابل ہے۔”
میں خاموش رہا۔ آنکھوں میں آنسو تھے، مگر زبان بند تھی۔
اسی شام میں گاؤں کے کچے مکان کی طرف چل پڑا۔ وہی پرانا گھر جس کی دیواریں کچی اینٹوں کی تھیں، چھت ٹین کی چادروں کی۔ میں نے کانپتے ہاتھوں سے تالا کھولا۔
دروازہ چرچراتا ہوا کھلا۔
اندر نیم اندھیرا تھا۔ مگر کمرے کے بیچوں بیچ ایک عورت نقاب میں بیٹھی تھی۔
میرا دل دھڑک اٹھا۔
“آپ کون ہیں؟”
وہ خاموش رہی۔ پھر آہستہ آہستہ اس نے نقاب اتارا۔
میرا کلیجہ پھٹ گیا۔
وہ میری بیوی عائشہ تھی… جسے میں نے دو سال پہلے طلاق دے دی تھی۔
میں لڑکھڑاتا ہوا پیچھے ہٹا۔
“تم…؟ یہاں کیسے؟”
عائشہ کی آنکھوں میں آنسو تھے۔
“مجھے امّی نے بلایا تھا۔”
“کیا مطلب؟”
وہ بولی،
“آپ کی ماں نے مجھے کبھی بہو نہیں سمجھا تھا، مگر جب آپ نے مجھے طلاق دی تو وہ بہت روئیں۔ انہوں نے مجھے خفیہ طور پر بلایا اور کہا کہ ریحان ضدی ہے، مگر دل کا صاف ہے۔ وہ غصے میں آ کر تمہیں چھوڑ بیٹھا ہے۔ میں چاہتی ہوں کہ تم دونوں دوبارہ اکٹھے ہو جاؤ۔”
میری آنکھوں کے سامنے وہ لمحہ گھوم گیا جب معمولی غلط فہمی پر میں نے عائشہ کو چھوڑ دیا تھا۔ بھائیوں نے بھی مجھے بھڑکایا تھا کہ “عورتوں کی کمی نہیں۔”
عائشہ نے کانپتی آواز میں کہا،
“امّی نے یہ مکان میرے نام کیا ہے، مگر شرط رکھی کہ میں تب ہی بتاؤں جب وہ دنیا سے چلی جائیں۔ یہ مکان دراصل ایک راز ہے۔”
میں حیران رہ گیا۔
“راز؟”
وہ مجھے اندر والے کمرے میں لے گئی۔ کچے فرش کے ایک کونے میں اینٹ ہٹائی۔ نیچے ایک لوہے کا صندوق تھا۔
اس نے چابی نکالی اور صندوق کھولا۔
اندر فائلیں تھیں، زمین کے کاغذات، بینک کی رسیدیں اور ایک خط۔
میں نے خط کھولا۔ وہ ماں کی تحریر تھی۔
“میرے بیٹے ریحان،
میں جانتی ہوں تم نے میرے لیے سب کچھ قربان کیا۔ مگر میں چاہتی تھی کہ تمہیں دنیا کی اصل حقیقت کا پتہ چلے۔ جو بیٹا ماں کو چھوڑ سکتا ہے، وہ جائیداد سنبھال نہیں سکتا۔ میں نے سلیم کے نام جو کچھ کیا ہے وہ صرف دکھاوے کو ہے۔ اصل جائیداد اور بینک بیلنس اس صندوق میں ہے۔ یہ سب تمہارے نام ہے۔ مگر شرط یہ ہے کہ تم اپنی غلطی سدھارو، عائشہ کو واپس لاؤ اور اپنے گھر کو جوڑو۔”
میری آنکھوں سے آنسو ٹپکنے لگے۔
عائشہ روتے ہوئے بولی،
“امّی نے کہا تھا کہ سلیم لالچ میں اندھا ہے۔ وہ جلد ہی سب بیچ دے گا۔ مگر تمہیں اصل حقیقت وقت کے ساتھ پتہ چلے گی۔”
میں زمین پر بیٹھ گیا۔
ماں ہمیں آزما رہی تھی۔
چند ماہ بعد واقعی خبر ملی کہ سلیم نے شہر والا مکان بیچ دیا، پلاٹ پر قرض لے لیا اور کاروبار میں نقصان اٹھا بیٹھا۔ وہ پریشان حال ہو گیا۔
میں نے قانونی مشورہ لے کر اصل کاغذات سامنے رکھے۔ حقیقت سب پر آشکار ہو گئی۔ سلیم کو کچھ نہ ملا، کیونکہ وصیت کے ساتھ منسلک اصل دستاویزات میرے نام تھیں۔
مگر اس دن میں نے بدلہ نہیں لیا۔
میں خود اس کے پاس گیا اور کہا،
“بھائی، ماں نے ہمیں جو سکھایا وہ بانٹنا تھا، چھیننا نہیں۔”
وہ رو پڑا۔
میں نے عائشہ سے معافی مانگی۔ ہم نے دوبارہ نکاح کیا۔ کچے مکان کی جگہ ہم نے نیا گھر بنایا، مگر اس کمرے کو ویسے ہی چھوڑ دیا جہاں صندوق دفن تھا۔ وہ ہمارے لیے یادگار بن گیا۔

15/02/2026

جاتے وقت پرانے مینیجر نے تین مہر بند لفافے نئے تعینات ہونے والے مینیجر کے حوالے کیے جن پر بالترتیب نمبر 1، 2 اور 3 لکھا تھا اور کہا:-

جب بھی آپ کو اس دفتر میں کوئی بڑا مسئلہ درپیش ہو تو اس نمبر 1 لفافے کو کھولیں اور جب بھی آپ کو دوسرا بڑا مسئلہ درپیش ہو تو اس نمبر 2 لفافے کو کھولیں اور جب بھی آپ کو کوئی تیسرا بڑا مسئلہ درپیش ہو تو اس نمبر 3 لفافے کو کھولیں۔

نئے تعینات ہونے والے مینیجر نے خوشی سے رضامندی ظاہر کی اور تینوں لفافے بحفاظت اپنے پاس رکھ لیے۔
کافی عرصے بعد ہیڈ آفس نے کاروبار نہ بڑھنے پر سخت تنبیہی خط لکھا۔
مینیجر کو اندازہ نہیں تھا کہ انتظامیہ کو کیا جواب دے۔
تبھی اسے یاد آیا اور اس نے لفافہ نمبر 1 کھولا..... اندر سے جو خط نکلا اس پر لکھا تھا.......
"اپنا سارا الزام پرانے مینیجر پر ڈال دو کہ اس نے کچھ نہیں کیا اس لیے وہ نئے سرے سے سب کچھ ٹھیک کر رہا ہے.. 😀"
منیجر نے بھی ایسا ہی کیا اور مسئلہ حل ہوگیا۔
چند ماہ بعد پھر ایسا ہی اور خط آیا کہ اہداف پورے نہیں ہو رہے، کیوں نہ آپ کے خلاف کارروائی کی جائے۔
گھبرا کر منیجر نے لفافہ نمبر 2 کھولا، اس میں لکھا تھا...
"عملہ محنت اور توجہ سے کام نہیں کرتا، وہ کچھ کو نکال رہا ہے اور کچھ کو یہاں سے ٹرانسفر کر رہا ہے، دفتر میں بہتری کے لیے سخت تبدیلیاں کرنا وقت کی ضرورت ہے"
منیجر نے بھی ایسا ہی کیا اور مسئلہ ٹل گیا۔
کچھ عرصہ بعد ہیڈ آفس نے دوبارہ کاروبار نہ ہونے پر شدید تشویش کا اظہار کیا اور بتایا گیا کہ چیئرمین صاحب بھی سخت ناراض ہیں۔
اب منیجر کو تیسرا لفافہ یاد آیا۔ اس نے لفافہ نمبر 3 کھولا تو اس میں لکھا تھا...
اب آپ بھی 3 لفافے بنا لیں۔

15/02/2026

میرے دوست فہد کی شادی کو ابھی صرف ایک سال ہوا تھا۔ اُس کی بیوی مریم نہایت سادہ مزاج اور پردہ کرنے والی خاتون تھی۔ جب بھی میں اُن کے گھر جاتا، وہ سامنے نہ آتی۔ فہد اکثر ہنستے ہوئے کہتا، “یار، تم تو اپنے جیسے ہو، اس سے پردہ کرنے کی کیا ضرورت ہے؟” مگر مریم ہمیشہ اپنے کمرے تک محدود رہتی۔
مجھے کبھی اس بات کا برا نہیں لگا۔ بلکہ میں دل ہی دل میں اُس کی عزت کرتا تھا کہ وہ اپنے شوہر کے دوست سے بھی فاصلہ رکھتی ہے۔ مگر ایک بات مجھے ہمیشہ عجیب لگتی تھی کہ فہد مجھے زبردستی اپنے گھر کھانے پر بلاتا۔ میں کئی بار منع کرتا مگر وہ ہنستے ہوئے میرا بازو پکڑ لیتا، “آج نہیں تو کبھی نہیں، چل میرے ساتھ۔”
ایک دن ہم دونوں بازار میں تھے۔ فہد کی نظر ایک سنار کی دکان پر پڑی۔ وہ مجھے ساتھ لے کر اندر چلا گیا۔ اُس نے شیشے کے اندر رکھی ہوئی ایک نہایت خوبصورت چاندی کی پازیب نکلوائی۔ اس میں ننھے ننھے گھنگرو لگے ہوئے تھے جو ہلکی سی حرکت پر مدھم سی آواز دیتے تھے۔
“کیسی ہے؟” اُس نے مسکرا کر پوچھا۔
میں نے کہا، “بہت خوبصورت ہے، مریم کو پسند آئے گی۔”
وہ خوش ہو کر بولا، “بس پھر یہی پیک کر دو۔”
شام کو میں اپنے گھر واپس آیا تو دل میں ایک عجیب سا سکون تھا۔ مگر جیسے ہی میں نے دروازہ کھولا اور اندر داخل ہوا، میری نظر اپنی بیوی عائشہ کے پاؤں پر پڑی۔ وہ کچن سے باہر آ رہی تھی اور اُس کے پاؤں میں وہی چاندی کی پازیب چمک رہی تھی۔ میں ساکت رہ گیا۔ وہی ڈیزائن، وہی ننھے گھنگرو، حتیٰ کہ ایک طرف ہلکا سا خراش کا نشان بھی تھا جو میں نے دکان پر دیکھا تھا۔
میرے دل میں جیسے کسی نے برف جما دی ہو۔
میں نے خود کو سنبھالتے ہوئے پوچھا، “یہ پازیب کہاں سے آئی؟”
عائشہ نے قدرے گھبرا کر جواب دیا، “ایک جاننے والی نے تحفے میں دی ہے۔ اچھی نہیں لگ رہی کیا؟”
میں نے مصنوعی مسکراہٹ کے ساتھ کہا، “نہیں… اچھی ہے۔”
مگر اُس رات میری آنکھوں سے نیند غائب تھی۔ میرے ذہن میں سوالوں کا طوفان تھا۔ کیا فہد نے…؟ نہیں، یہ ممکن نہیں۔ وہ میرا بچپن کا دوست تھا۔ ہم نے ساتھ پڑھا، ساتھ کھیلے، ہر دکھ سکھ میں ساتھ رہے۔ مگر یہ پازیب…؟
اگلے دن میں نے فیصلہ کیا کہ بغیر اطلاع دیے فہد کے گھر جاؤں گا۔ شاید میرا شک غلط ہو۔ شاید سب محض اتفاق ہو۔
دوپہر کا وقت تھا۔ میں سیدھا اُس کے گھر پہنچا اور دروازہ ہلکا سا کھٹکھٹایا۔ دروازہ پوری طرح بند نہیں تھا، ذرا سا دھکا دینے پر کھل گیا۔ میں اندر داخل ہوا اور جیسے ہی صحن میں قدم رکھا، میری جان ہی نکل گئی۔
صحن میں میری بیوی عائشہ کھڑی تھی۔
وہ چونک کر میری طرف دیکھنے لگی۔ اُس کے چہرے کا رنگ فق ہو گیا۔ اُس کے پاؤں میں وہی پازیب تھی جو کل رات میں نے دیکھی تھی۔ اندر کمرے سے فہد کی آواز آ رہی تھی، “عائشہ، چائے بن گئی؟”
میری ٹانگیں جیسے زمین میں دھنس گئیں۔ مجھے لگا جیسے دنیا گھوم رہی ہو۔
فہد کمرے سے باہر آیا تو مجھے دیکھ کر رک گیا۔ اُس کے چہرے پر حیرت تھی، مگر شرمندگی نہیں۔
“ارے! تم؟ اچانک؟” اُس نے مصنوعی خوشی سے کہا۔
میں نے بمشکل خود کو سنبھالا۔ “یہ سب کیا ہے، فہد؟”
چند لمحے کے لیے خاموشی چھا گئی۔ صرف گھنگروؤں کی ہلکی سی آواز سنائی دے رہی تھی جو عائشہ کے کانپتے قدموں سے نکل رہی تھی۔
فہد نے گہرا سانس لیا۔ “بات وہ نہیں ہے جو تم سمجھ رہے ہو۔”
میں غصے سے بولا، “تو پھر کیا ہے؟ میری بیوی یہاں کیا کر رہی ہے؟ اور وہ پازیب…؟”
عائشہ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ اُس نے دھیمی آواز میں کہا، “میں سچ بتا دیتی ہوں۔”
پتہ چلا کہ عائشہ اور مریم پرانی سہیلیاں تھیں۔ شادی سے پہلے وہ ایک ہی محلے میں رہتی تھیں۔ مگر شادی کے بعد رابطہ کم ہو گیا تھا۔ چند ماہ پہلے بازار میں اچانک ملاقات ہوئی تو انہوں نے دوبارہ آنا جانا شروع کر دیا۔ مریم نے ہی عائشہ کو فہد کے گھر بلانا شروع کیا تھا، مگر پردے کی وجہ سے فہد نے کبھی مجھے نہیں بتایا کہ اُس کی بیوی میری بیوی کی سہیلی ہے۔
“اور پازیب؟” میں نے سخت لہجے میں پوچھا۔
فہد بولا، “میں نے مریم کے لیے خریدی تھی۔ مگر اُس نے کہا کہ یہ ڈیزائن عائشہ کو زیادہ پسند آئے گا۔ اُس نے وہی دکان سے ویسی ہی ایک اور بنوا لی ہے۔ تم نے جو خراش دیکھی تھی، وہ تو اکثر ہاتھ سے بنی چیزوں میں ہو جاتی ہے۔”
میں خاموش ہو گیا۔ کیا واقعی ایسا ہو سکتا ہے؟ یا یہ سب مجھے مطمئن کرنے کے لیے کہا جا رہا ہے؟
اتنے میں اندر سے مریم باہر آئی۔ اُس نے پردہ کیا ہوا تھا مگر آواز صاف تھی۔ “بھائی جان، اگر شک ہو تو اندر آ کر دیکھ لیں۔ میری پازیب بھی وہی ہے۔”
میں ہچکچاتے ہوئے اندر گیا۔ مریم نے پردے کے پیچھے سے اپنا پاؤں ذرا سا آگے کیا۔ واقعی اُس کے پاؤں میں بھی ویسی ہی پازیب تھی، اور دونوں میں معمولی فرق نظر آ رہا تھا۔
میرا سر جھک گیا۔ میں نے جلدبازی میں اپنے دوست اور اپنی بیوی دونوں پر شک کر لیا تھا۔
فہد نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھا۔ “دوستی اعتماد سے چلتی ہے۔ اگر ہم ایک دوسرے پر ہی شک کرنے لگیں تو رشتہ باقی نہیں رہتا۔”
عائشہ خاموش کھڑی تھی، اُس کی آنکھوں میں دکھ تھا کہ میں نے اُس پر اعتبار نہیں کیا۔
میں نے آہستہ سے کہا، “مجھے معاف کر دو۔ میں شاید اپنے ہی خوف کا شکار ہو گیا تھا۔”
اس دن میں نے ایک سبق سیکھا۔ شک ایک ایسا زہر ہے جو مضبوط سے مضبوط رشتے کو بھی کھوکھلا کر دیتا ہے۔ اگر میں اس غلط فہمی کو دل میں دبائے رکھتا تو شاید میرا گھر بھی برباد ہو جاتا اور دوستی بھی ختم ہو جاتی۔
گھر واپس آ کر میں نے عائشہ کے پاؤں میں بندھی پازیب کو غور سے دیکھا۔ وہ ہلکی ہلکی بج رہی تھی، مگر اب اُس کی آواز مجھے چبھ نہیں رہی تھی بلکہ جیسے یاد دلا رہی تھی کہ رشتوں کی خوبصورتی اعتماد سے ہے، نہ کہ بدگمانی سے۔
اور میں نے دل ہی دل میں عہد کیا کہ آئندہ کسی بھی شبہے کو دل میں جگہ دینے سے پہلے سچ جاننے کی کوشش ضرور کروں گا۔

26/01/2026

اسکی عادت تھی کہ وہ اذان سے کافی پہلے مسجد میں آ جاتا اور وضو کر کے قرآن پاک کی تلاوت شروع کردیتا. اس طرح جماعت ہونے سے پہلے اسے تلاوت کیلئے کافی وقت مل جاتا.
آج بھی کچھ اسی طرح ہوا تھا وہ مسجد میں بیٹھا تلاوت کر رہا تھا کہ ایک چھوٹا بچہ مسجد میں داخل ہوا اور ہاتھ منہ دھو کر مسجد کے ایک کونے میں بیٹھ گیا. اس نے مسکرا کر بچے کی طرف دیکھا تو بچے نے بھی مسکراہٹ سے جواب دیا.
وہ سر جھکا کر پھر تلاوت میں مشغول ہوگیا. تھوڑی دیر بعد تلاوت کے دوران اس نے سر اٹھا کر دیکھا تو وہ چھوٹا بچہ اپنے ننھے ہاتھ اٹھا کر آنکھیں بند کر کے دعا مانگ رہا تھا.
اس کے لبوں پر مسکراہٹ پھیل گئی. بچے کا دعا مانگنے کا انداز اتنا پیارا تھا کہ وہ بے ساختہ قرآن مجید بند کر کے اسے دیکھنے لگا.
تھوڑی دیر بعد اس بچے نے دعا ختم کی اور باہر جانے لگا تو اس کا دل چاہا کہ وہ اس بچے کی حوصلہ افزائی کے لئے اسے کچھ دے. اس نے بچے کو پاس بلایا اور سر پر ہاتھ پھیر کر اس کو سو کا نوٹ دیا . بچے نے تھوڑی سی ہچکچاہٹ کے بعد وہ نوٹ قبول کر لیا.
اس نے بچے سے پوچھا کہ بتاؤ تم اللہ س کیا دعا مانگ رہے تھے؟
بچے نے مسکراتے ہوئے کہا .... میرا چاکلیٹ کھانے کا دل کر رہا تھا تو میں نے اللہ جی سے سو روپے مانگے تھے .. یہ کہہ کر وہ چلا گیا.
بچے کے جانے کے بعد بھی وہ اسی سمت دیکھتا رہا جس طرف وہ بچہ گیا تھا جو اسے یقین اور اخلاص سے دعا مانگنے کا ایک طریقہ سکھایا گیا تھا..

16/01/2026

مکہ چینل پر گفتگو کرتے ہوئے مشہور فٹبال کوچ برونو مِیتسو (Bruno Metsu) کہتے ہیں:
میں نے 2002ء کے ورلڈ کپ میں سینیگال کی قومی ٹیم کی کوچنگ کی اور طویل عرصہ سینیگال میں مقیم رہا۔ چونکہ فرانس میرا وطن تھا، اس لیے میں باقاعدگی سے فرانسیسی خبریں سنتا اور دیکھتا تھا۔ روزانہ درجنوں خودکشیوں کی خبریں سامنے آتیں: کوئی گاڑی کے نیچے آ جاتا، کوئی بالکونی سے کود جاتا اور اکثر یہ خبریں ایسے پیش کی جاتیں جیسے یہ کوئی معمول کا حادثہ ہو۔
میں خود سے سوال کرنے لگا: فرانس جیسے ملک میں خودکشی کیوں؟ جہاں انسان کے پاس زندگی کی ہر سہولت، ہر آزادی اور ہر آسائش موجود ہے، پھر وہ کیوں اپنی جان لینے کا فیصلہ کرتا ہے؟
اسی دوران میں نے سینیگال میں ایک عجیب بات محسوس کی۔ سینیگالی شہری انتہائی سادہ زندگی گزارتا ہے، اس کے وسائل محدود ہیں، وہ یورپی انسان جیسی عیش و عشرت نہیں رکھتا، اس کے باوجود میں نے وہاں تقریباً خودکشی کے واقعات نہیں دیکھے۔ میں نے خود سے پوچھا: آخر ایسا کیوں ہے کہ سادگی میں جینے والا انسان زندگی سے مایوس نہیں ہوتا؟
ایک دن میں ہوٹل میں تھا کہ اذان کی آواز سنائی دی۔ چونکہ سینیگال ایک مسلم ملک ہے، اس لیے ہر نماز کے وقت اذان فضا میں گونجتی ہے۔ وہ فجر کی اذان تھی اور ہر طرف سے اٹھنے والی ان آوازوں نے پورے ماحول کو سکون سے بھر دیا۔ میں لفٹ کے ذریعے نیچے اترا تو دیکھا کہ مسجد نمازیوں سے بھری ہوئی ہے، سینکڑوں مرد رات کی نیند چھوڑ کر اللہ کے سامنے کھڑے تھے اور ان کے دل طمانیت سے لبریز تھے۔ اس لمحے میں نے ایک ایسی اندرونی راحت محسوس کی جو میں نے پہلے کبھی محسوس نہیں کی تھی۔
بعد ازاں میری ملاقات ایک سینیگالی خاتون سے ہوئی، جنہوں نے مجھے اسلام کے بارے میں سکھایا اور اللہ تک پہنچنے کا راستہ دکھایا۔ میں نے اسلام قبول کر لیا اور مجھے یقین ہو گیا کہ یہی اللہ کا سچا دین ہے، جو دل کو حقیقی سکون عطا کرتا ہے۔
تب مجھے فرانس اور یورپ میں خودکشیوں کی اصل وجہ سمجھ میں آ گئی: انسان کے پاس اگرچہ مادی طور پر سب کچھ ہو، لیکن اگر اس کے دل میں روحانی سکون نہ ہو تو وہ اندر سے ٹوٹ جاتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
وَمَن أَعْرَضَ عَنْ ذِكْرِي فَإِنَّ لَهُ مَعِيشَةً ضَنْكًا وَنَحْشُرُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَعْمَىٰ
"اور جو میری یاد سے منہ موڑے گا، اس کے لیے تنگ زندگی ہے، اور ہم قیامت کے دن اسے اندھا اٹھائیں گے"
(سورۂ طٰہٰ: 124)
میں نے سینیگال میں مسلمانوں کو دیکھا کہ وہ انسانوں کے ساتھ رحم، محبت اور انسانیت سے پیش آتے ہیں، حتیٰ کہ ایک اجنبی کے ساتھ بھی۔ وہ میرے ساتھ ایسے پیش آئے جیسے میں انہی میں سے ہوں، حالانکہ میرا اپنا وطن فرانس ماضی میں افریقی اقوام کا استحصال کرتا رہا ہے۔ وہاں میں نے سچی محبت کو پہچانا اور جان لیا کہ دل رنگ یا قومیت نہیں دیکھتا، بلکہ ایمان اور نیت کو دیکھتا ہے۔
اس تجربے سے میں نے یہ سبق سیکھا کہ انسان کو حقیقی خوشی نہ دولت دیتی ہے، نہ مقام، بلکہ وہ طمانیت دیتی ہے جو اللہ کے قریب ہونے سے حاصل ہوتی ہے۔
میں نے مکمل یقین کے ساتھ اسلام قبول کیا، ایک سینیگالی مسلمان خاتون سے شادی کی، جنہوں نے مجھے اسلام کی طرف راغب کیا۔ میں نے اپنا نام بدل کر عبد الکریم رکھ لیا۔ اللہ نے مجھے ایک بیٹا اور ایک بیٹی عطا فرمائی۔ میں اسلام کا مدافع بن گیا اور اپنے خاندان سے بے حد محبت کرتا ہوں۔
مصری سوشل ایکٹوسٹ عمر تارک کہتے ہیں کہ 2011 میں افریقہ میں ایک بار میری ان سے ملاقات ہوئی۔ وہ ایک افریقی دوست حبیب آداما کے گھر آئے ہوئے تھے، جن کی ان کی اہلیہ سے رشتہ داری تھی۔ وہ نہایت وجیہ، رعب دار اور بلند قامت شخصیت تھے۔ میں نے ان سے کہا: “مرحبا مسٹر میتسو”
انہوں نے مسکرا کر جواب دیا:
“میں عبد الکریم ہوں اور تم بھی عبد الکریم ہو۔ ہم سب کو اسی کریم کی عبادت کے لیے پیدا کیا گیا ہے۔ دعا ہے کہ جنت میں ہم اس کے چہرۂ کریم کا دیدار کریں۔”
اسی ملاقات میں انہوں نے کہا:
“افریقہ میں اسلام کو کوئی خطرہ نہیں، یہاں کے لوگ فطری طور پر مسلمان ہیں۔ اللہ کے بعد اگر کسی نے مجھے اللہ سے ملوایا تو یہی لوگ ہیں۔”
عبد الکریم میتسو 14 اکتوبر 2013 میں کینسر کے مرض میں مبتلا ہو کر وفات پا گئے۔
ان کے آخری الفاظ تھے:
“اسلام نعمت ہے… اسلام کبھی نہیں مرتا… الحمدللہ، میں اسلام پر مر رہا ہوں۔”
وہ دنیا کے بہترین فٹبال کوچز میں تھے۔ سینیگال کی قومی ٹیم کو ورلڈ کپ 2002 میں انہوں نے ہی کوارٹر فائنل تک پہنچایا۔

16/01/2026

دمشق کا معروف و مشہور تاجر رات کے پچھلے پہر سڑکوں پہ ٹہل رہا تھا۔ موسم خوشگوار ہونے کے باوجود اس کا دم گھٹا جا رہا تھا۔
ڈاکٹروں کے مطابق اس کے پاس ہفتہ یا دس دن سے زیادہ ٹائم نہیں تھا۔ دنیا کی ہر آسائش کے ہوتے ہوئے بے بسی کا یہ عالم تھا کہ ٹائم سے ‏پہلے ہی سب کچھ ختم ہوتا محسوس ہو رہا تھا۔ ملک کے ڈاکٹروں نے جواب دے دیا تھا۔ ایک ننھی سی امید تھی کہ امریکا میں علاج ہو سکتا ہے وہ بھی دم توڑ گئی۔ جب وہاں کئی مہینے ٹیسٹ وغیرہ کروانے کے بعد سینئر ترین ڈاکٹر نے آخر کار ایک دن آ کر نرمی سے سمجھایا کہ آپ کے پاس زیادہ ٹائم نہیں ہے ۔ ‏لہٰذا میرا مشورہ ہے اور عقل مندی یہی ہو گی کہ باقی کا قیمتی ٹائم آپ اپنے بیوی بچوں کے ساتھ گزاریں-

رات کے اس پہر بے خبری کے عالم میں نہ جانے کتنی دیر ٹہلتا رہا۔ اس کی سوچوں کا تسلسل تب ٹوٹا جب ٹہلتے ٹہلتے وہ ایک تنگ سے بے رونق پل پر پہنچ چکا تھا۔
‏سڑک پار دوسری طرف سٹریٹ لائٹ کے نیچے ایک خاتون کھڑی کسی آدمی سے گفتگو کر رہی تھی۔ تیس سال کے لگ بھگ خاتون کا انداز منت سماجت والا تھا، جبکہ بندہ کوئی اوباش قسم کا تھا جو کہ اس کی بات نہیں مان رہا تھا۔ اس کے چلنے کی رفتار خود بخود آہستہ ہو گئی، کانوں میں جب آواز پہنچنا ‏شروع ہوئی تو خاتون کہہ رہی تھی:
خدا کے لئے مجھے اتنے پیسوں کی ضرورت ہے، بچے بھوکے ہیں، میں تمہارے ساتھ چلنے کے لئے تیار ہوں۔

جبکہ وہ اوباش قسم کا بندہ اس خاتون کی (قیمت) آدھی سے بھی کم دینا چاہ رہا تھا اور یہ کہ تمہاری اس سے بھی کم قیمت بنتی ہے بول رہا تھا۔ پھر وہ ‏کندھے اُچکاتا ہوا چل پڑا اور خاتون حسرت کی تصویر بنی کھڑی رہ گئی-

وہ تھوڑا آگے جا کر مُڑا اور خاتون کی طرف چل دیا۔ اسے نزدیک آتا دیکھ کر خاتون چوکنی ہو گئی۔ اُمید بھری نظروں سے قریب آتے کو دیکھنے لگی۔ نزدیک پہنچنے سے پہلے خاتون آگے بڑھی اس کا انداز ایسا تھا کہ جیسے اپنے آپ سے ‏زبردستی کر رہی ہو ۔ اس نے قریب پہنچ کر سلام کیا۔ خاتون نے مصنوعی مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا اور ٹٹولتی نظروں سے دیکھا اور تھوڑا قریب ہوتے ہوئے معنی خیز انداز بنا کر پوچھا کیا موڈ ہے؟
وہ پیچھے ہٹا اور نرمی سے کہا، نہیں ایسی کوئی بات نہیں ہے۔ دراصل میں نے ابھی گزرتے ہوئے تمہاری ‏اس آدمی کے ساتھ تھوڑی سی گفتگو سنی ہے۔ مجھے بتاؤ میری بہن تمہارا کیا مسئلہ ہے؟
اس طرح پوچھنا تھا کہ خاتون جو کہ مضبوط دکھائی دینے کی کوشش کر رہی تھی یکدم روہانسی ہو گئی بولی:
”بھائی قسم ہے اس ذات کی جو ہماری گفتگو سن رہا ہے، میں اس ٹائپ کی عورت نہیں ہوں جو اس وقت گھر سے نکل کر ‏سڑک پہ کسی کا انتظار کرے ۔ مگر میں بہت مجبوری کے عالم میں اس وقت اس جگہ پہ ہوں۔”

اسے لگا کسی نے اس کا دل مٹھی میں لے لیا ہو۔ اس نے مزید نرمی سے کہا دلوں کا حال تو اللّٰـــہ جانتا ہی ہے بہن، مجھے بتاؤ کیا بات ہے؟ بولی:
”میں ایک بیوہ عورت ہوں میرے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں شوہر کو فوت ہوئے ۔ سال ہونے کو ہے۔ شروع میں تو پڑوسی، رشتےدار کچھ مدد وغیرہ کر دیتے تھے، پھر آہستہ آہستہ سب نے ہاتھ کھینچ لیا۔ گھر میں راشن نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔ کرائے دار کا صبر بھی ختم ہو گیا ہے، اس نے کل شام تک کی آخری مہلت دی ہے۔ اگر کرایہ نہ دیا تو سامان سمیت گھر سے نکال دے گا ۔ میرے پاس اب اور کوئی چارہ نہیں رہا سوائے کہ اپنے آپ کو ۔۔۔“

یہ کہتے ہوئے اس کی آواز بیٹھ گئی۔ اس نے بھی جلدی سے دوسری طرف مڑ کر بہانے سے اپنے آنسو صاف کئے۔ پھر مڑ کر جلدی سے بولا، بس بس ٹھیک ہے بہن کوئی بات نہیں اور اپنی جیبوں میں ہاتھ ڈالے تو پتہ چلا کہ جیبوں میں جو رقم ہے، ‏وہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ کیونکہ جس عالم میں وہ نکلا تھا اسے تو ہوش ہی نہیں تھا، اس نے خاتون سے کہا فی الحال یہ رکھو اور مجھے اپنا ایڈریس بتاؤ فکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے، اپنے گھر جاؤ ان شاء اللّٰہ سب ٹھیک ہو جائے گا۔ خاتون بے یقینی کے انداز میں اس کی طرف دیکھ رہی تھی ۔۔۔
‏جیسے سوچ رہی ہو کہ اس پہ بھروسہ کرے کہ نا کرے
اس نے پھر سے یقین دھانی کرائی کہ تم جاؤ اور ایڈریس بتا دو بس۔ اس نے آخر کار ایڈریس بتا دیا اور پھر ایک طرف کو چل پڑی۔
تھوڑی دیر تک خاتون کو جاتا دیکھنے کے بعد وہ مڑا اور واپسی کی طرف تیزی سے قدم اٹھانے لگا۔
‏گھر پہنچ کر اس نے کافی مقدار میں نقدی لی اور ڈرائیور کو بڑی وین نکالنے کو کہا پھر خود ڈرائیو کرتے ہوئے شہر کے چوبیس گھنٹے کھلے رہنے والے سٹور سے راشن کی بڑی مقدار وین میں بھری اور خاتون کے بتائے ہوئے ایڈریس پہ پہنچ کر سارا راشن اس کے گھر اتارا باقی کی رقم خاتون کو دی اور کہا ۔۔۔
‏صبح کرائے دار سے وہ خود بات کر لے گا اور کرائے کا معاملہ نمٹا دے گا اور ان شاء اللّٰہ ہر مہینے مخصوص رقم آپ تک پہنچا دی جائے گی۔ یہ کہہ کر جلدی سے بنا کچھ کہے سنے واپس مڑ گیا۔ خاتون بُت بنى بے یقینی کے عالم میں کھڑی آنسؤوں بھری نگاہوں سے دیکھتی رہ گئی اور وہ وین سمیت نظروں سے اوجھل ہو گیا۔

‏اس کی کیفیت اب کافی بلکہ بہت مختلف تھی، اس کے انگ انگ سے خوشی پھوٹ رہی تھی۔ کچھ گھنٹوں پہلے جو اس کی حالت تھی وہ اب یکسر بدل گئی تھی۔ اب اسے ہفتہ دس دن گزارنے کی جو فکر تھی وہ تھوڑی کم ہو گئی تھی۔ ہفتہ دس دنوں کا خیال آتے ہی اس نے کاغذ قلم لے کر خاتون کا ایڈریس لکھ کر وصیت لکھی ‏کہ ہر ماہ باقاعدگی سے چار لوگوں کے معقول سے بڑھ کر خرچے کی رقم اس ایڈریس پہ بھجوائی جائے۔ اور کاغذ کو لفافے میں بند کر کے تجوری میں رکھ دیا۔

اب اسے لگ رہا تھا کہ اپنے آخری سفر کے لئے وہ تیار ہے یا تھوڑی بہت تیاری کر لی ہے۔ پھر ہفتہ گزر گیا اور دس دن گزر گئے۔ پھر مزید دس اور پورے پندرہ دن گزر گئے۔ گھر والوں کے کہنے کے باوجود وہ ہسپتال نہیں گیا اور پھر پورا ایک مہینہ گزر گیا اور اگلے مہینے کی رقم بھی اس نے فوراً بھجوا دی۔
پھر ایسے ایک ایک مہینہ کرتے پورا سال گزر گیا اور وہ معمول کے مطابق رقم بھجواتا رہا۔ پھر پانچ سال، پھر دس سال گزر گئے اور پھر پورے بیس سال گزر جانے کے بعد ایک رات وہ معمول کے مطابق تہجد کے لئے اٹھا، وضو کر کے تہجد شروع کی اور سجدے میں دعا کرتے کرتے اس کی سانسیں ختم ہو گئیں ۔ وہ اس جہانِ فانی سے سجدے کی حالت میں رخصت ہو گیا۔

یہ سچا واقعہ یہاں ختم نہیں ہوتا اصل خلاصہ تو اب آنا ہے ۔
گھر والے جب صبح اٹھے تو اس کو سجدے کی حالت میں مردہ پایا۔ افسوس کے ساتھ ساتھ گھر والوں کو اس بات کی خوشی سی بھی تھی کہ اچھی اور مبارک موت ہوئی ہے۔
خیر تکفین و تدفین اور دیگر انتظامات کے بعد اولاد کا تجوری اور وصیت کھولنے کا وقت آیا تو وہ بند لفافہ بھی نکل آیا جو کم از کم بیس سال پہلے کی تاریخ کا ان کے والد ‏کے ہاتھ کا لکھا ہوا تھا اور اس کا مطلب تھا اس لکھے گئے ایڈریس پہ بیس سال سے رقم دی جاتی رہی ہے۔ لفافہ پڑھنے کے بعد ان کو پتہ چلا کہ والد صاحب کو فوت ہوئے سات دن ہو گئے ہیں جو کہ تکفین و تدفین اور رشتے دار لوگوں کے ملنے ملانے میں نکل گئے ہیں اور وصیت کے مطابق رقم کی ادائیگی سات دن لیٹ ہو گئی ہے۔

رقم لے کر وہ لوگ اس ایڈریس پر پہنچے تو دروازہ کھٹکھٹانے پر خاتون باہر آئی جو کہ اب پچاس سے اوپر کی ہو چکی تھی۔ سلام دعا کے بعد تاجر کے بڑے لڑکے نے خاتون سے مؤدب انداز میں کہا کہ ہم آپ کو والد صاحب کی طرف سے جو ماہانہ مخصوص رقم ہے وہ دینے آئے ہیں اور معذرت چاہتے ہیں کہ رقم کی ادائیگی سات دن لیٹ ہو گئی وہ اصل میں۔۔۔
خاتون جلدی سے بولی، ارے نہیں نہیں کوئی بات نہیں آپ کے والد صاحب کے ہم پر بہت احسانات ہیں۔ آپ لوگ میری طرف سے والد صاحب کو بہت بہت شکریہ بولئے گا اور اور انہیں بتائیے گا کہ ہم ہمیشہ انہیں دعاؤں میں یاد ‏رکھتے ہیں اور رکھیں گے، اور میری طرف سے آداب کے ساتھ انہیں بتائیے گا کہ اب انہیں رقم بھیجنے کی ضرورت نہیں ہے۔
بیٹا حیرانگی سے بولا کیوں؟ اب کیوں نہیں ہے ضرورت رقم کی؟
‏خاتون نے خوشی کے آنسووں میں ملی آواز میں جواب دیا، اللّٰـــہ کے فضل سے مہینہ پہلے میرے بڑے بیٹے کی ملازمت لگی تھی اور سات دن پہلے ہی بیٹے اس کو اس کی پہلی تنخواہ ملی ہے ۔
خاتون روانی میں پتہ نہیں کیا کیا بولے چلے جا رہی تھی جب کہ لڑکوں کے کانوں میں خاتون کا یہی جملہ اٹک کر رہ گیا،
”سات دن پہلے ہی میرے بیٹے کو اس کی پہلی تنخواہ ملی ہے۔“
”سات دن پہلے ہی میرے بیٹے کو اس کی پہلی تنخواہ ملی ہے۔“
(عربی سے منقول)

Address

Chunian
55220

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when بے مثال واقعات posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category