15/09/2023
ایک بچے کے والدین ہر سال اسے ٹرین میں اس کی دادی کے پاس گرمیوں کی چھٹیاں گزارنے کے لیے لے کر جاتے
والدین اسے چھوڑ کر اگلے دن واپس آجایا کرتے تھے۔ اور بچہ بخوشی اپنی چھٹیاں دادی کے پاس گزارتا
پھر ایک سال ایسا ہوا کہ
بچے نے والدین سے کہا:
"میں اب بڑا ہو گیا ہوں،
اگر اس سال میں دادی کے پاس اکیلا چلا گیا تو کیا ہوگا ؟"
والدین نے پہلے تو سمجھایا ۔
لیکن پھر مختصر بحث کے بعد اتفاق کر لیا
اور پھر مقررہ دن اسٹیشن کے پلیٹ فارم پر پپہنچ گٸے
والد نے جونہی کچھ سفر کی ہدایات دینا شروع کیں
تو بیٹا اکتاہٹ بھرے لہجے میں کہنے لگا ۔۔
" اباجان ! "میں ہزار مرتبہ یہ ہدایات سن چکا ہوں پلیز !"
ٹرین کے روانہ ہونے سے ایک لمحہ پہلے،
اس کے والد اس کے قریب آئے
اور اس کے کان میں سرگوشی کی:
"یہ لو، اگر تم اکیلے میں خوفزدہ ہو جاؤ
یا خود کو بیمار سمجھو
تو یہ تمہارے لیے ہے" اور اپنے بچے کی جیب میں کچھ ڈال دیا۔
بچہ پہلی بار والدین کے بغیر ٹرین میں اکیلا بیٹھا تھا،
وہ کھڑکی سے باہر کی خوبصورتی کو دیکھتا رہا
اور اپنے اردگرد اٹھنے بیٹھنے والے اجنبیوں کا شور سنتا رہا ،
کبھی اپنی سیٹ سے اٹھ کر کیبن سے باہر نکلتا تو کبھی اندر چلاجاتا۔
یہاں تک کہ ٹرین کے
ٹی ٹی نے بھی حیرانگی کا اظہار کیا اور
اس سے بغیر کسی بڑے کے اکیلے سفر بارے سوال کیا۔
اسی طرح ایک عورت نے اسے اداس دیکھ کر گھورا ۔
لڑکا شدید الجھن میں تھا
یہاں تک کہ اس نے محسوس کیا کہ اس کی طبیعت خراب ہو رہی ھے
پھر وہ کچھ خوفزدہ سا ہو گیا...
یہاں تک کہ وہ اپنی کرسی پر سے گر گیا
اور
اس کی آنکھیں آنسوؤں سے بھر گئیں۔
اسی لمحے اسے اپنے باپ کی سرگوشی یاد آئی،
اور
یاد آیا کہ کہ اس کے باپ نے اس کی جیب میں کچھ ڈالا تھا۔
اس نے کانپتے ہوئے ہاتھ سے جیب میں تلاش کیا تو
چھوٹا سا کاغذ ملا۔ اس نے اسے کھولا:
تو لکھا تھا۔۔
’’بیٹا، . . . . . . . 😢
خود کو اکیلا مت سمجھنا
میں ٹرین کے آخری ڈبے میں بیٹھا ہوں۔‘‘
یہ
الفاظ پڑھتے ہی گویا اس کی روح واپس لوٹ آٸی ۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
زندگی بھی ایسی ہی ہے،
والدین اپنے بچوں کو اگر کبھی اکیلا چھوڑتے بھی ہیں
تو وہ بھی صرف انہیں خود پر اعتماد دلانے کے لئے..
لیکن جب تک وہ زندہ رہتے ہیں،
اسی طرح بچوں کی حفاظت کے لئے
کبھی آگے تو کبھی پیچھے
ک