25/02/2026
آنکھوں میں رہا دل میں اُتر کر نہیں دیکھا
کشتی کے مسافر نے سمندر نہیں دیکھا
بے وقت اگر جاؤ گا تو سبھی چونک پڑے گے
اک عمر ہوئی دن میں کبھی گھر نہیں دیکھا
یہ پھول مُجھے کوئی وراثت میں ملے ہیں
تُو نے میرا کانٹوں بھرا بستر نہیں دیکھا
یاروں کی محبت کا یقین کر لیا میں نے
پھولوں میں چُھپایا ہوا خنجر نہیں دیکھا
محبوب کا در ہو یا بزرگوں کی زمینیں
جو چھوڑ دیا اُسے پھر موڑ کے نہیں دیکھا
جس دن سے چلا ہوں میرے منزل پہ نظر ہے
اس آنکھوں نے کبھی میل کا پتھر نہیں دیکھا
خط ایسا لکھا ہے کہ نگینے سے جڑے ہیں
وہ ہاتھ کے جس نے کوئی زیور نہیں دیکھا
پھتر مُجھے کہتا ہے میرا چاہنے والا
میں موم ہوں اُس نے مُجھے چھو کر نہیں دیکھا
بشیر بدر صاحب