TheCharsadda

Directions Website

TheCharsadda Exploring the Ancient History, Rich Culture, Heritage, and Identity of Charsadda. In old days Charsadda was known as Pushkalavati meaning Lotus City.

History of Charsadda:

******************************
THE CHARSADDA
******************************
Background History:
Charsadda ( چارسده ) is a town and headquarters of Charsadda District, in the Pakhtunkhwa province of Pakistan. It is about 25-28 KM from Peshawar (Provincial Capital) It is located on the banks of Swat River, near its junction with Kabul River. Pushkalavati was the capital of ancient kingdom Gandhara from the 6th century BC, when it became an Achaemenid local capital, to 2nd century AD. The ruins of Pushkalavati consist of many stupas and sites of two old cities. Charsadda is also known as Hashtnaghar (Ashtnaghar) Hashtnaghar is from Sanskrit word 'Ashtanagara', meaning Eight Cities. Once cities are now villages named: Prrang, Charsadda, Rajjar, Utmanzai, Turangzai, Umarzai, Sherpao, Tangi. The city was captured in 324 B.C. after the siege of 30 days, by the troops of Alexander the Great and its formal surrender was received by Alexander himself. It has been established beyond doubt that this city was the metropolitan center of Asiatic trade and meeting place of oriental and occidental cultures even as long ago as 500 to 1000 B.C. Administration:
Now a days, Charsadda has been divided in 03 Tehsils i.e. Charsadda, Shabqadar & Tangi. Population:
The Population of Charsadda District varies according to different source
According to KP Govt. official web-site Population in 1981 was 630811 and 1998 census shows 1022364. TheNews.com shows the figure of Charsadda Population increased to 1,349,390 (32% increase since 1998)

References:
http://en.wikipedia.org/
http://www.khyberpakhtunkhwa.gov.pk/
TheNews.com.pk

09/10/2026

*⭕ چارسدہ پولیس | اہم ٹریفک ایڈوائزری*

*چارسدہ: جماعت اسلامی کے جلسے کے پیشِ نظر نوشہرہ روڈ آج ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند رہے گی، شہری متبادل راستے اختیار کریں* ۔

ضلعی پولیس سربراہ چارسدہ رفعت اللہ خان (PSP) کی ہدایات پر ٹریفک پولیس چارسدہ نے شہریوں کی سہولت اور ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کے لیے متبادل ٹریفک پلان جاری کر دیا ہے۔

⭕ تنگی روڈ اور پشاور روڈ سے نستہ انٹرچینج جانے والے شہری: اے سی چوک سے براستہ پڑانگ مقبرہ روڈ استعمال کریں۔

⭕ مردان روڈ سے نستہ انٹرچینج جانے والے شہری: کلاڈھیر چوک سے براستہ غنی خان روڈ سفر کریں۔

⭕ نستہ انٹرچینج سے چارسدہ چوک یا ہسپتال آنے والے شہری: پڑانگ، مقبرہ روڈ یا غنی خان روڈ کے متبادل راستے اختیار کریں۔

⭕ ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے اور شہریوں کی رہنمائی کے لیے مختلف مقامات پر ٹریفک پولیس کے اہلکار تعینات کر دیے گئے ہیں۔ شہری ٹریفک پولیس کے ساتھ تعاون کریں اور ڈیوٹی پر موجود اہلکاروں کی ہدایات پر عمل کریں۔

⭕ عوام الناس سے اپیل ہے کہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں، متبادل راستے اختیار کریں اور ایمرجنسی کی صورت میں ایمبولینس کو فوری راستہ فراہم کریں۔

چارسدہ پولیس عوام کی سہولت، تحفظ اور محفوظ سفر کے لیے ہمہ وقت مصروفِ عمل۔

Via Charsadda Police

09/10/2026

حضرت ﻋﻤﺮ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻋﻨﮧ
ﺭﻭﺯﺍﻧﮧ ﺻﺒﺢ ﮐﯽ ﻧﻤﺎﺯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺳﯿﺪﻧﺎ
ﺍﺑﻮ ﺑﮑﺮ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻋﻨﮧ ﮐﻮ ﻏﺎﺋﺐ
ﭘﺎﺗﮯ۔ ﻭﮦ ﺩﯾﮑﮫ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ﮐﮧ ﺍﺑﻮﺑﮑﺮ
ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﻧﻤﺎﺯ ﮐﯽ ﺍﺩﺍﺋﯿﮕﯽ ﮐﯿﻠﺌﮯ
ﺗﻮ ﺑﺎﻗﺎﻋﺪﮔﯽ ﺳﮯ ﻣﺴﺠﺪ ﻣﯿﮟ ﺁﺗﮯ ﮨﯿﮟ
ﻣﮕﺮ ﺟﻮﻧﮩﯽ ﻧﻤﺎﺯ ﺧﺘﻢ ﮨﻮﺋﯽ ﻭﮦ ﭼﭙﮑﮯ
ﺳﮯ ﻣﺪﯾﻨﮧ ﮐﮯ ﻣﻀﺎﻓﺎﺗﯽ ﻋﻼﻗﻮﮞ ﻣﯿﮟ
ﺍﯾﮏ ﺩﯾﮩﺎﺕ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﻧﮑﻞ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔
ﮐﺌﯽ ﺑﺎﺭ ﺍﺭﺍﺩﮦ ﺑﮭﯽ ﮐﯿﺎ ﮐﮧ ﺳﺒﺐ ﭘﻮﭼﮫ
ﻟﯿﮟ ﻣﮕﺮ ﺍﯾﺴﺎ ﻧﮧ ﮐﺮ ﺳﮑﮯ ۔

ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺭ ﻭﮦ ﭼﭙﮑﮯ ﺳﮯ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﺑﻮﺑﮑﺮ
ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮐﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﭼﻞ ﺩﯾﺌﮯ۔
ﺳﯿﺪﻧﺎ ﺍﺑﻮ ﺑﮑﺮ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﺩﯾﮩﺎﺕ
ﻣﯿﮟ ﺟﺎ ﮐﺮ ﺍﯾﮏ ﺧﯿﻤﮯ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﭼﻠﮯ
ﮔﺌﮯ۔ ﮐﺎﻓﯽ ﺩﯾﺮ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺟﺐ ﻭﮦ ﺑﺎﮨﺮ
ﻧﮑﻞ ﮐﺮ ﻭﺍﭘﺲ ﻣﺪﯾﻨﮯ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﻟﻮﭦ
ﭼﮑﮯ ﺗﻮ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ
ﺍُﺱ ﺧﯿﻤﮯ ﻣﯿﮟ ﺩﺍﺧﻞ ﮨﻮﺋﮯ،

ﮐﯿﺎ
ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺧﯿﻤﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ
ﺍﻧﺪﮬﯽ ﺑُﮍﮬﯿﺎ ﺩﻭ ﭼﮭﻮﭨﮯ ﭼﮭﻮﭨﮯ
ﺑﭽﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺑﯿﭩﮭﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﮨﮯ۔
ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﻧﮯ ﺑﮍﮬﯿﺎ
ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ؛ ﺍﮮ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﺑﻨﺪﯼ، ﺗﻢ ﮐﻮﻥ
ﮨﻮ؟
ﺑﮍﮬﯿﺎ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ؛ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﻧﺎﺑﯿﻨﺎ ﺍﻭﺭ
ﻣﻔﻠﺲ ﻭ ﻧﺎﺩﺍﺭ ﻋﻮﺭﺕ ﮨﻮﮞ، ﮨﻤﺎﺭﮮ
ﻭﺍﻟﺪﯾﻦ ﮨﻤﯿﮟ ﺍﺱ ﺣﺎﻝ ﻣﯿﮟ ﭼﮭﻮﮌ ﮐﺮ
ﻓﻮﺕ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﻣﯿﺮﺍ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﺩﻭ
ﻟﮍﮐﯿﻮﮞ ﮐﺎ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﺳﻮﺍ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﺁﺳﺮﺍ
ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ۔

ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﻧﮯ ﭘﮭﺮ
ﺳﻮﺍﻝ ﮐﯿﺎ؛ ﯾﮧ ﺷﯿﺦ ﮐﻮﻥ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ
ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﺁﺗﺎ ﮨﮯ؟
ﺑﻮﮌﮬﯽ ﻋﻮﺭﺕ ( ﺟﻮ ﮐﮧ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﺑﻮﺑﮑﺮ
ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮐﯽ ﺍﺻﻠﯿﺖ ﻧﮩﯿﮟ
ﺟﺎﻧﺘﯽ ﺗﮭﯽ ) ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ
ﺍﺱ ﺷﯿﺦ ﮐﻮ ﺟﺎﻧﺘﯽ ﺗﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﮕﺮ ﯾﮧ
ﺭﻭﺯﺍﻧﮧ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﺁﮐﺮ ﺟﮭﺎﮌﻭ
ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ، ﮨﻤﺎﺭﮮ ﻟﺌﯿﮯ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﺑﻨﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ
ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺑﮑﺮﯾﻮﮞ ﮐﺎ ﺩﻭﺩﮪ ﺩﻭﮦ ﮐﺮ ﮨﻤﺎﺭﮮ
ﻟﺌﯿﮯ ﺭﮐﮭﺘﺎ ﺍﻭﺭ ﭼﻼ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔

ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﯾﮧ ﺳُﻦ ﮐﺮ ﺭﻭ ﭘﮍﮮ ﺍﻭﺭ
ﮐﮩﺎ؛ ﺍﮮ ﺍﺑﻮ ﺑﮑﺮ، ﺗﻮ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﻌﺪ ﮐﮯ ﺁﻧﮯ
ﻭﺍﻟﮯ ﺣﮑﻤﺮﺍﻧﻮﮞ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺍﯾﮏ ﺗﮭﮑﺎ ﺩﯾﻨﮯ
ﻭﺍﻻ ﺍﻣﺘﺤﺎﻥ ﮐﮭﮍﺍ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺭﮐﮫ ﺩﯾﺎ ﮨﮯ۔

( ﺭﻭﺿۃ ﺍﻟﻤُﺤﺒﯿﻦ ﻭ ﻧﺰﮬۃ ﺍﻟﻤﺸﺘﺎﻗﯿﻦ-
ﺍﺑﻦ ﺍﻟﻘﯿﻢ ﺭﺣﻤۃ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ )

08/10/2026
08/10/2026

دی چارسدہ کے لئے یہ ویڈیو ریکارڈ کرنے اور معلومات لینے کے لئے عبداللہ بھائی اور وسیم بھائی آپ دونوں کا شکریہ۔
°=°=°=°=°=°=°=°=°=°=°=°=°=°=°=°
دڈلدار گھڑی کے مراد بھائی کا شکریہ جنھوں نے اصلی سرمہ نہ صرف دکھایا بلکہ پہچان بھی کرائی۔ مزید یہ بھی بتایا گیا کہ اصلی سرمہ کے لئے پتھر سعودی عرب سے منگوایا جاتا یے اور یہ کہ دلدار گڑھی کے نوجوان شوق سے اس کام سے وابستہ ہوگئے ہیں۔

#دلدارگھڑی۔
#سرمہ #چارسدہ #کخیری

08/10/2026

🌸عیب پوشی 🌸

کسی بشر میں
ہزار خامی
اگر جو دیکھو تو چپ ہی رہنا
✦ 🌸 ✦
کسی بشر کا جو راز پاؤ
یا عیب دیکھو
تو چپ ہی رہنا

اگر منادی کو لوگ آئیں
تمہیں کُریدیں
تمہیں منائیں
تمہاری ہستی کے گیت گائیں
❀
تمہیں کہیں کہ
بشر میں دیکھی برائیوں کو بیان کر دو
تو چپ ہی رہنا

جواز یہ ہے
دلیل یہ ہے
ضعیف لمحوں کی لغزشوں کو
حرام ناطے کی قربتوں کو
ہماری ساری حماقتوں کو
ہماری ساری خباثتوں کو
🌸 ✦ 🌸
وہ جانتا ہے
وہ دیکھتا ہے
مگر وہ چپ ہے
اگر وہ چپ ہے
تو میری مانو
کہ...
🌸 چپ ہی رہنا 🌸

07/10/2026

کخیری بابا کا اپنا نام عبدالصمد تھا آج انکے نواسے اور پڑپوتےکام کو سنبھال رہے ہیں۔ فخر کی بات یہ ہے کہ آج دلدار گڑھی کا سرمہ پاکستان کے علاوہ یورپ، امریکہ اور مڈل ایسٹ وغیرہ میں آرڈر پر بھیجا جارہا ہے، ماشاء اللہ
تفصیلی رپورٹ انشاء اللہ بہت جلد

ڈی پی او چارسدہ، جناب رفعت اللہ خان کے لئے ایک جملہ
07/10/2026

ڈی پی او چارسدہ، جناب رفعت اللہ خان کے لئے ایک جملہ

Welcome, Har Kala Rasba top fans! 💎 Durani Khan, Abdul Samad, Wajid Khan, Faizi Jan, Mian Nasir Shah Ziam, Ali Bahadur
07/10/2026

Welcome, Har Kala Rasba top fans! 💎 Durani Khan, Abdul Samad, Wajid Khan, Faizi Jan, Mian Nasir Shah Ziam, Ali Bahadur

07/10/2026

ایک پردیسی کی فریاد اور تمام پاکستانیوں سے سوال
»»»»»«««««»»»»««««»»»»»«««««
12 سال پہلے یہ سوچ کر پردیس آیا تھا کہ بھائی پڑھ جائے گا، شادی ہو جائے گی، گھر بن جائے گا، والدین کو حج و عمرہ کروا دوں گا اور پھر واپس اپنے وطن لوٹ جاؤں گا۔

آج 12 سال گزر گئے بھائی ڈاکٹر بن گیا، گھر بھی بن گیا، زمین بھی بن گئی، مگر میری جوانی پردیس میں گزر گئی۔

اب پاکستان واپس جانے کی بات کرتا ہوں تو گھر والے کہتے ہیں:
"پاکستان میں کچھ نہیں، واپس مت آؤ۔"

میرا سوال صرف اتنا ہے:

کیا واقعی پاکستان میں کچھ نہیں؟
یا ہم نے اپنے وطن میں کچھ کرنے کی امید چھوڑ دی ہے؟
آخر کب تک پاکستانی اپنی جوانی پردیس کے نام کرتے رہیں گے؟
کیا وطن واپس آنا واقعی غلط فیصلہ ہے؟

ایک مسافر پختون پاکستانی

Address

Charsadda
24420

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Friday 09:00 - 17:00
Saturday 09:00 - 17:00

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when TheCharsadda posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share