21/02/2025
بد اخلاقی، بد تمیزی، زبان درازی۔
آج کل سوشل میڈیا پر یہ عام سکھایا جا رہاہے کہ کوئی ایک سنائے تم چار سنا کر اس کی تسلی کر دو۔جو عزت کرے، اس کی عزت کرو۔ جو عز ت نہ دے اسے چلتا کرو۔
کہتے ہیں بچے کو منہ سے کچھ نہ بتاو بس اس کا ماحول ٹھیک کر دو۔وہ خود ہی سب کچھ سیکھ جائے گا۔ آج کل بچے بڑوں سب کا ماحول خراب ہے۔ کیونکہ آپ سارا وقت موبائل کے ساتھ مصروف ہیں۔اور وہیں سے یہ سب سیکھ رہے ہیں۔آپ ایک ڈرامہ دیکھ رہے ہیں، وہاں ہیرو یا ہیروئن منہ پھٹ ہے۔ آ پ کو اس کا منہ پھٹ ہونا اچھالگا، کیونکہ اس کے لیے تالیاں بجتی ہیں۔ اس کی ریل جگہ جگہ شیئر ہو رہی ہے۔ آپ اس ویڈیو کلپ سے یہی کچھ سیکھ رہے ہیں کہ طبیعت صاف کر دینا ہی اصل بہادری ہے۔
لیکن دین نے کہیں نہیں کہا کہ کوئی ایک سنائے، تم چار سناو۔ زبان دراز ہو جاؤ، منہ پھٹ بن جاؤ۔ بدتمیزی کو فیشن سمجھو۔ بد اخلاقی لے کر گھر سے باہر نکلو۔ دین نے کب کہا کہ جو عزت کرے اس کی عزت کرو؟ بڑوں کو شفقت، چھوٹوں کا احترام کی تعلیم دی ہے۔ یہ کہیں نہیں کہا کہ سامنے والا بدتمیزی کرے تو تم بھی وہی کرو۔
پھر تربیت کس چیز کا نام ہے؟
پھر اخلاق کون سی چیڑیا مینا ہے؟
انکل آنٹی، بھائی، بہن، گھر کے اندر، گھر کے باہر، تقریبا ہر کوئی بد تمیز ہو چکا ہے۔زبان چلا رہا ہے۔ اچھے اخلاق کو کمزوری سمجھتا ہے۔
اس وقت دنیا آپ کو کچھ بھی سیکھا رہی ہو لیکن فائدہ صرف دین کی تعلیم میں ہے جس کے مطابق اعلی اخلاق ہی فلاح ہے۔ ورنہ باقی سب خسارہ ہے۔
سمیراحمید