24/07/2023
جامِ حسن اور زخمِ حسین
حضرت مولانا جلال الدین رومی نے ایک خوب صورت شعر میں سیدنا امام حسن اور سیدنا امام حسین کو اپنے خاص رنگ میں یوں خراجِ محبت و ارادت پیش کیا ہے:
ہر کآتشِ من دارد، او خرقہ ز من دارد
زخمی چو حسین استش، جامی چو حسن دارد
اس کا مفہوم یہ ہے کہ جس اہلِ دل کو بھی خوش قسمتی سے میرے عشق اور ذوق و شوق کے بھڑکتے ہوئے الاؤ سے کچھ حصہ ملا ہے، وہ میرا مرید بھی ہے اور خلیفہ بھی. میری طرف سے وہ صاحبِ خرقہ و سجّادہ ہے. وہ امام حسین کو نام نہاد امت کی طرف سے لگنے والے ہر زخم کا وارث بھی ہے اور امام حسن کو فریب کاری سے پلائے گئے زہر بھرے پیالے کا امین بھی. اگرچہ امام حسن کی زندگی کے آخری برسوں میں کوئی لمحہ بھی ایسا نہیں تھا جب انھیں زہر کے گھونٹ نہ پینے پڑے ہوں.
اس شعر کے ذیل میں تین نکتوں کی کچھ وضاحت ضروری معلوم ہوتی ہے:
ایک تو یہ بہت قابلِ ذکر اور لائقِ تحسین تاریخی حقیقت ہے اور حضرتِ رومی کے عجیب و غریب امتیازات میں سے ہے کہ اتنے جلیل القدر اور کثیر الفیضان شیخِ طریقت نے زندگی بھر خود عملاً گنتی کے چند خوش نصیبوں ہی کو بہ راہِ راست مرید کیا. وہ زیادہ تر لوگوں کو اپنے پیر و مرشد حضرت برہان الدین محقق ترمذی، اپنے محب و محبوب حضرت شمس تبریزی اور اپنے محبوب فیض یافتگان مثلاً شیخ صلاح الدین زرکوب، حضرت حسام الدین چلبی، شیخ کریم الدین بکتمور اور اپنے بڑے بیٹے حضرت سلطان ولَد سے بیعت ہونے کا حکم دیتے رہے. ان سے عقیدت و محبت رکھنے والے مخلصین کسی رسمی بیعت کے بغیر بھی ان کی زندگی میں بھی انھی کے مرید گنے جاتے رہے اور ان کے بعد -بہ طریقِ اویسی- بھی.
دوسری بات یہ ہے کہ مولانا رومی نے بڑی وضاحت و صراحت سے اپنی شہرۂ آفاق کتاب مثنویِ معنوی کو بھی خَلقِ خدا کے لیے مرشدِ طریقت قرار دیا ہے. جیسے سلطان المشائخ خواجہ نظام الدین اولیا نے داتا گنج بخش حضرت سید علی ہجویری کی کتاب کشف المحجوب کے تعلق سے ارشاد کر رکھا ہے. گویا مثنویِ معنوی ہر اعتبار سے مولانا رومی کا مستند اور متفقہ خلیفۂ اعظم ہے جس کا حلقۂ بیعت مشرق و مغرب کو محیط ہے. رومی کی دوسری شاعری اور دیگر تصانیف یعنی خطبات، مکتوبات اور ملفوظات وغیرہ بھی ضمنی طور پر اسی شرفِ عام میں داخل ہیں.
چنانچہ اکثر دیکھا گیا ہے کہ مولانا رومی کی تصانیف میں علمی ارتکاز، ذوقی انہماک اور مشربی محویت رکھنے والے لوگ اپنی اپنی استعداد کے مطابق مولانا کی خاص روحانی نسبت کے منفرد رنگ،مسحور کن خوشبو، بے مثال ذائقے اور گوناگوں برکات و ثمرات سے خالی نہیں رہتے. اس طبقے میں یورپ اور امریکا کے کچھ بڑے دماغ اور وسیع دل بھی شامل ہیں.
تیسرا ضروری نکتہ یہ ہے کہ مولانا رومی اس شعر میں اپنے رنگِ افکار و کردار، اسلوبِ عرفان اور معیارِ طریقت کو نجیب الطرفین حسنی حسینی اندازِ ظاہر و باطن کہہ رہے ہیں. گویا جو بھی رومی کی شخصیت، شاعری، فکر اور پیغام سے متاثر ہے، وہ حسنَین کریمَین سے کبھی مستغنی نہیں ہو سکتا. خرقۂ رومی عبارت ہی جامِ حسن اور زخمِ حسین سے ہے.
مستند سوانح نگاروں کے بہ قول مولانا خود حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اولاد تھے اور اپنے جدِ اعلیٰ سے بے پناہ محبت کرتے تھے. یہ محبت و عقیدت ان کی تصانیف سے ظاہر ہے. میدانِ طریقت میں وہ تمام اکابر اولیاء اللہ کی طرح امام الاولیا امیر المؤمنین حضرت علی اور اہلِ بیتِ کرام کی عظمت و ارادت کا دَم بھرتے ہیں، ان کی محبت اور اتباع کے بغیر ایمان کو کامل اور روحانیت کو ثمر بخش نہیں مانتے اور اسوۂ حسنی وحسینی کو سب اہلِ عشق و درد کے لیے مشعلِ راہ قرار دیتے ہیں کہ ولایت کے تمام سرچشمے انھی کی دہلیز سے پھوٹتے ہیں.
حضرتِ امام حسن نے شہادتِ خفی پائی اور حضرتِ امام حسین کے حصے میں شہادتِ جلی آئی. ان کے توسط سے قرآنی الفاظ ذبحِ عظیم کے معانی کی تکمیل ہوئی. بدنصیب امت نے بھی بڑی فراخ دلی سے صدیوں یہ تختِ مصائب و آلام اور تاجِ جراحت و شہادت ائمۂ اہلِ بیت ہی کے لیے مخصوص کیے رکھا. حسنَین کریمَین ہمارے لیے صبر، استقامت، استقلال، صداقت، حریت، شجاعت، ایثار اور مظلومیت کے سب سے بڑے جگمگاتے استعارے ہیں.
مولانا رومی کی یہی محبتِ اہلِ بیت دورِ جدید میں ان کے سب سے بڑے فرزندِ روحانی علامہ محمد اقبال کے ہاں عقیدہ و فن کے اوجِ کمال تک پہنچی. اقبال نے اس معاملے میں رومی کے علاوہ متعدد دیگر علما و مشائخ کے مشرب سے بھی جی بھر کے فیض اٹھایا اور صداقت، استقامت اور مزاحمت کی ان ابد گیر علامتوں کی نئی معنویت روشناس کروائی.
معین نظامی