27/07/2025
میں چولستان یونیورسٹی بہاولپور کی طالبہ ہوں لیکن میرا تعلق حاصل پور سے ہے۔
آج کل یونیورسٹی کی چھٹیاں ہیں، اس لیے میں اپنے گھر حاصل پور میں ہوں، لیکن میرا دل نہیں لگ رہا۔
بہاولپور میں بطور اسٹوڈنٹ ہاسٹل میں رہتے ہوئے میں نے پورے شہر کی سیر کی ہے۔
جب بھی وقت ملتا تھا، میں پیدل یا رکشے پر اپنی کلاس فیلو کے ساتھ گھومنے نکل جایا کرتی تھی۔
کبھی فرید گیٹ، کبھی گلزار صادق پارک، اور کبھی کمرشل ایریا کے کھانے۔
جب سے میں نے بہاولپور دیکھا ہے، میرا اپنا شہر حاصل پور مجھے پھیکا پھیکا لگنے لگا ہے۔
نجانے کیوں میرا گھر میں دل نہیں لگتا۔
آج کل چھٹیوں میں دن بھر بہاولپور کے خیالات آتے رہتے ہیں۔
کہنے کو یہ چھوٹا شہر ہے، لیکن یہاں سکون بہت ہے۔
مجھ جیسی طالبہ بھی اس شہر کی سڑکوں پر اکیلی گھوم سکتی ہے، بغیر کسی خوف کے۔
اتنا محفوظ شاید ہی کوئی شہر ہو۔
آج گھر میں بیٹھ کر مجھے بہاولپور کی بہت یاد آ رہی ہے۔
میں دل سے کہہ رہی ہوں کہ بہاولپور جیسا شہر پاکستان میں کہیں نہیں ہو سکتا۔
مجھے انتظار ہے کہ کب چھٹیاں ختم ہوں اور میں بہاولپور واپس آوؤں۔