13/10/2026
وہیل کی قے "الٹی " دنیا میں لاکھوں ڈالرز کی کیوں بکتی ہے اور انسانوں کیلئے کہاں استعمال کی جاتی ہے ...
سمندر کے کنارے پڑا ہوا ایک بدبودار، پتھر جیسا ٹکڑا، جسے دیکھ کر عام انسان شاید اسے کوڑا سمجھ کر آگے نکل جائے—
اس عجیب و غریب مادے کو Ambergris کہا جاتا ہے، اور اس کا تعلق S***m Whale سے ہے۔ وہیل سمندر میں بڑی مقدار میں سکویڈ کھاتی ہے۔ سکویڈ کی کچھ سخت چونچیں مکمل طور پر ہضم نہیں ہوتیں۔ بعض اوقات وہیل کے نظامِ ہاضمہ میں ان ذرات کے گرد ایک خاص مومی مادہ بنتا رہتا ہے، جو بالآخر جسم سے باہر نکل کر سمندر میں تیرتا رہتا ہے اور برسوں کی دھوپ، نمکین پانی اور ہوا کے اثر سے اس کی بو اور ساخت بدل جاتی ہے۔
اور یہاں سے شروع ہوتی ہے اس مادے کی حیران کن کہانی…
تازہ Ambergris کی بو ناگوار ہو سکتی ہے، لیکن پرانا اور پختہ Ambergris ایک پیچیدہ، میٹھی، مٹیالی اور musk جیسی خوشبو پیداکرتا ہے ۔ یہی چیز خوشبو کی دنیا میں انتہائی قیمتی خام مال سمجھی جاتی ہے۔
پرفیوم کی صنعت میں اسے انتہائی قیمتی مال کی حیثیت سے خرید لیا جاتا ہے .
اسی وجہ سے اس کی قیمت اتنی بڑھ جاتی تھی کہ لوگ سمندر کے کناروں پر اسے تلاش کرتے پھرتے تھے۔ تاریخی ریکارڈ میں ایسے بڑے ٹکڑوں کا ذکر بھی ملتا ہے جن کی قیمت بہت زیادہ تھی، جبکہ National Geographic نے ایک پاؤنڈ سے زیادہ وزنی دریافت کے لیے ممکنہ قیمت تقریباً 63 ہزار ڈالر تک بتائی تھی۔
اکثر مشہور یا مہنگے برانڈ کا پرفیوم ل "وہیل کی قے" سے بنتا ہے۔
اور سب سے حیران کن بات؟
جس جانور سے یہ خزانہ منسوب ہے، امریکی NOAA کے مطابق S***m Whale endangered species کے طور پر listed ہے، اور امریکہ میں Ambergris کو رکھنا یا فروخت کرنا ممنوع ہے کیونکہ اسے protected marine mammal کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔
یعنی جس چیز کو کبھی انسان سمندر کا بدبودار فضلہ سمجھ سکتا ہے، اسی نے خوشبو کی تاریخ میں ایک ایسا مقام بنایا کہ اس کے چند ٹکڑوں کی قیمت ہزاروں بلکہ بعض غیر معمولی تاریخی مثالوں میں دسیوں ہزار ڈالر تک بتائی گئی۔
قدرت کبھی کبھی ایسی چیز کو خزانہ بنا دیتی ہے جسے انسان پہلی نظر میں فضلہ سمجھتا ہے۔