Bazme jam

Bazme jam Bazm-e-jam (بزم جام) is an Urdu literary (Adabi) page on Facebook
We present Urdu Classical Poetry

20/04/2026

65 likes, 18 comments. “Jeenay Ki Hay Takeed Hamen Zehar Pela Kar”

20/04/2026

50 likes, 9 comments. “Dayar-e-Noor Main Teera Sabon Ka Sathi Ho | Iftekhar Arif Poetry”

20/04/2026

tiktok.com/

18/04/2026

Aj shab Pari hay unhen Zaroorat charagh ki

پروفیسر صوفی غلام مصطفی تبسم اُستادوں کے اُستاد تھے، جگت اُستاد تھے ۔ گورنمنٹ کالج لاہور میں فارسی پڑھاتے تھے، جہاں احمد...
11/04/2026

پروفیسر صوفی غلام مصطفی تبسم اُستادوں کے اُستاد تھے، جگت اُستاد تھے ۔ گورنمنٹ کالج لاہور میں فارسی پڑھاتے تھے، جہاں احمد شاہ پطرس بخاری پرنسپل تھے۔ ایک مرتبہ بخاری صاحب کسی کلاس میں گئے۔ صوفی تبسم کے صاحبزادے بھی کلاس روم میں بطور طالب علم موجود تھے ۔ فارسی شاعری پر کوئی بات چلی تو پطرس بخاری نے پوچھا: ” تم لوگوں کو فارسی کون پڑھاتا ہے؟“ صوفی صاحب کے صاحبزادے نے فخریہ بتایا کہ ابا پڑھاتے ہیں۔
بخاری صاحب نے کہا : " اونوں تے آپ فارسی نئی آؤندی تہانوں کی پڑھائے گا ؟“
یہ بات فارسی کے مستند استاد کے بارے میں اُس کے بیٹے سے کہی جا رہی تھی ، خیر بات آئی گئی ہو گئی۔ کچھ عرصے بعد صوفی صاحب کا بخاری صاحب سے آمنا سامنا ہوا تو صوفی صاحب نے گلہ کیا :
یار بخاری ! گل تے تیری سچی اے، پر بچیاں نوں اے گلاں نئی دسی دیاں"
😆😆
(شاعروں ادیبوں کے لطیفے, صفحہ 241)

https://youtu.be/XyFa9UXvgbM
09/04/2026

https://youtu.be/XyFa9UXvgbM

Faqeerana Aye Sada Kar Chaly | فقیرانہ آئے صدا کر چلے | Mir Taqi Mir Poetry 🔹 poetry of : Mir...

27/03/2026

Mujh Say Pehli Si Mohabbat Meri Mehboob Na Mang, Faiz Ahmad Faiz Romantic Urdu Nazm

جب نامور گلو کار مہدی حسن نے ساغر صدیقی کی غزل " چراغِ طور جلاؤ بڑا اندھیرا ہے"گائی تو ان کی آواز میں یہ غزل ہندوستان بھ...
10/03/2026

جب نامور گلو کار مہدی حسن نے ساغر صدیقی کی غزل " چراغِ طور جلاؤ بڑا اندھیرا ہے"گائی تو ان کی آواز میں یہ غزل ہندوستان بھی پہنچی اور اسے دیگر ہندوستانی گلوکاروں نے بھی گایا ۔ واقعہ یہ ہے کہ ایک دن ساغر صدیقی سوتر منڈی (پاکستان) میں ایک پان کی دکان کے سامنے سے گزر رہے تھےتو اس وقت آل انڈیا ریڈیو کے کسی سٹیشن سے کوئی گائک ان کی یہی غزل گا رہا تھا ، ساغر صدیقی رک گئے ۔غزل کے اختتام پر اناؤنسر نے جب یہ کہا ''ابھی آپ پاک و ہند کے مشہور شاعر ساغر صدیقی کی غزل سن رہے تھے'' تو ساغر نے ہنس کر کہا ''واہ رے مولا ان کو معلوم ہی نہیں کہ ساغر کس حال میں زندہ ہے'' ،اور یہ شعر کہہ کر چل دیے ۔
ساقیا تیرے بادہ خانے میں
نام ساغر ہے مے کو ترسے ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چراغ طور جلاؤ بڑا اندھیرا ہے
ذرا نقاب اٹھاؤ بڑا اندھیرا ہے

ابھی تو صبح کے ماتھے کا رنگ کالا ہے
ابھی فریب نہ کھاؤ بڑا اندھیرا ہے

وہ جن کے ہوتے ہیں خورشید آستینوں میں
انہیں کہیں سے بلاؤ بڑا اندھیرا ہے

مجھے تمہاری نگاہوں پہ اعتماد نہیں
مرے قریب نہ آؤ بڑا اندھیرا ہے

فراز عرش سے ٹوٹا ہوا کوئی تارہ
کہیں سے ڈھونڈ کے لاؤ بڑا اندھیرا ہے

بصیرتوں پہ اجالوں کا خوف طاری ہے
مجھے یقین دلاؤ بڑا اندھیرا ہے

جسے زبان خرد میں شراب کہتے ہیں
وہ روشنی سی پلاؤ بڑا اندھیرا ہے

بنام زہرہ جبینان خطۂ فردوس
کسی کرن کو جگاؤ بڑا اندھیرا ہے

ساغر صدیقی

کاپیڈ

09/03/2026

امرتا پریتم بیسویں صدی کی اُن نمایاں ادیباؤں میں شمار ہوتی ہیں جنہوں نے محبت، دکھ، اور انسانی حوصلے کو بہت سچے لہجے میں لکھا۔ تقسیمِ ہند نے جس طرح کے زخم دیے، اُن کی تحریروں میں وہ درد بھی ہے اور جینے کی ضد بھی۔ 1982 میں انہیں "کاغذ تے کینوس" پر بھارت کے اعلیٰ ادبی اعزاز، گیان پیٹھ ایوارڈ سے نوازا گیا۔ ان کی آواز نرم سہی، مگر اثر بہت گہرا ہے، ان کی ایک خوبصورت نظم پڑھیں

میں تینوں فیر ملاں گی
کِتھے؟ کس طرح؟ پتا نئیں

شاید!!
تیرے تخیل دی چِھنڑک بن کے
تیرے کینوس تے اتراں گی
یا ھورے!! تیرے کینوس دے اُتے
اک رہسمئی لکیر بن کے
خاموش تینوں تکدی رواں گی

یا ھورے!! سُورج دی لو بن کے
تیرے رنگاں وچ گھُلاں گی
یا رنگاں دیاں باھنواں وچ بیٹھ کے
تیرے کینوس نُوں ولاں گی

پتا نئیں کس طرح، کتھے
پر تینوں ضرور مِلاں گی

یا ھورے!! اِک چشمہ بنڑیں ھوواں گی
تے جیویں جھرنیاں دا پانی اڈ دا اے
میں پانی دیاں بُونداں
تیرے پِنڈے تے مَلاں گی
تے اک ٹھنڈک جئی بن کے
تیری چھاتی دے نال لگاں گی

میں ھور کج نئیں جانندی
پر اینا جاندی آں, کہ وقت جو وی کرے گا
اے جنم میرے نال ٹُُرے گا
اے جسم مُکدا اے
تے سب کج مُک جاندا اے

پر چیتیاں دے دھاگے
کائناتی کنڑاں دے ہوندے
میں انہاں کنڑاں نُوں چنڑاں گی
تاگیاں نُوں ولاں گی

تے تینوں میں فیر ملاں گی

اَمرتا پریتم

پروین شاکر ایک بے حد حساس ذھن کی مالک تھیں۔ ایک جلا وطن کی طرح اپنے خوابوں کے جزیروں کی تلاش میں بھٹکتی رھی ، دکھوں اور ...
23/02/2026

پروین شاکر ایک بے حد حساس ذھن کی مالک تھیں۔ ایک جلا وطن کی طرح اپنے خوابوں کے جزیروں کی تلاش میں بھٹکتی رھی ، دکھوں اور اذیتوں کی طویل مسافتیں طے کیں اورسوچ ، خیال کے نئے نئے الف لیلوی جزیرے خلق کیے۔

اور انہی جزیروں میں وہ ایک شہزادی کی طرح ماضی کی کتھا سناتی رھیں کیونکہ”جب زندگی کے میلے میں رقص کی گھڑی آئی تو سنڈریلا کی جوتیاں ھی غائب تھیں نہ وہ خواب تھا ، نہ وہ باغ تھا ، نہ وہ شہزادہ“.

اچھے رنگوں کی سب پریاں اپنے طلسمی دیس کو اڑ چلی تھیں اور اپنی لہولہان ھتھیلیوں سے آنکھوں کو ملتی شہزادی جنگل میں اکیلی رہ گئی۔

ان کی یہ نظم کچھ ایسے ھی خوابوں اور خیالوں سے مطعلق ھے۔

”اندیشہ ھائے دُور دراز“

اُداس شام دریچوں میں مُسکراتی ھے
ھَوا بھی ، دھیمے سُروں میں ، کوئی اُداس سا گیت
مِرے قریب سے گُزرے تو گُنگناتی ھے

میری طرح سے شفق بھی کِسی کی سوچ میں ھے
میں اپنے کمرے میں کِھڑکی کے پاس بیٹھی ھُوں
مِری نِگاہ دُھندلکوں میں اُلجھی جاتی ھے

نہ رنگ ھے، نہ کِرن ھے، نہ روشنی، نہ چراغ
نہ تیرا ذِکر، نہ تیرا پتہ، نہ تیرا سُراغ
ھَوا سے، خُشک کتابوں کے اُڑ رھے ھیں وَرق
مگر میں بُھول چُکی ھُوں تمام اُن کے سبق

اُبھر رھا ھے تخیّل میں بس تیرا چہرہ
میں اپنی پَلکیں جَھپکتی ھُوں اُس کو دیکھتی ھُوں
میں اُس کو دیکھتی ھُوں اور ڈر کے سوچتی ھُوں

کہ کل یہ چہرہ کِسی اور ھاتھ میں پہنچے
تو میرے ھاتھوں کی لِکھی ھُوئی کوئی تحریر
جو اِن خطوُط میں روشن ھے آگ کی مانند
نہ اُن ذھین نگاھوں کی زد میں آ جائے

”پروین شاکر“
_________________

Address

1
Bahawalnagar
62300

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Bazme jam posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Establishment

Send a message to Bazme jam:

Share

Category