Kashmiri & World News

Kashmiri & World News News and Articles

دنیا کا گندہ ترین دریا ۔ بنارس میں گنگا کنارے مانیکارنیکا شمشان گھاٹ۔ہر ہندو کی خواہش ہوتی ہے کہ مرنے کے بعد اس ک لاش کو...
28/02/2026

دنیا کا گندہ ترین دریا ۔ بنارس میں گنگا کنارے مانیکارنیکا شمشان گھاٹ۔
ہر ہندو کی خواہش ہوتی ہے کہ مرنے کے بعد اس ک لاش کو اس گھاٹ پر چتا دی جائے۔ بہت سے جاں بلب مریض اپنی موت سے پہلے یہاں ڈیرہ ڈال لیتے ہیں تاکہ مرنے کے فورا" بعد ان کی چتا کو اس متبرک مقام پر آگ نصیب ہو سکے۔

اس مقصد کے لئے گھاٹ کنارے باقاعدہ کمرے بھی دستیاب ہیں جہاں مریض اور اس کے ساتھ آئے رشتے دار قیام کرتے ہیں۔ بنارس کے مختلف گھاٹوں پر روزانہ تقریبا" سو چتائوں کو آگ لگائ جاتی ہے جہاں ہر وقت جلے گوشت کی چراند پھیلی رہتی ہے۔ لکڑی مہنگی ہونے کی وجہ سے بعض اوقات چتا کو جلانے والے متوفی کے لواحقین کے جانے کے بعد لکڑی بچانے کے لئے ادھ جلی لاش کو ہی کھینچ تان کر گنگا برد کردیتے ہیں جہاں اکثر ادھ جلی لاشیں پانی میں تیرتی نظر آتی ہیں ۔

بعض اوقات کنارے سے لگ جانے والی لاشوں کو کتے بھنبھؤڑتے ہیں۔ ان لاشوں کی راکھ گنگا میں بہا دی جاتی ھے اور اسی پانی میں یاتری خود کو غوطے دے کر اشنان کرتے ہیں اور اپنے پاپ دھوتے ہیں۔ اس مقام پر گنگا دنیا کا غلیظ ترین دریا بن جاتا ھے ۔

بنارس کے یہ چتا گھاٹ زمین پر جہنم کا منظر پیش کرتے ہیں۔ جہاں کہیں ارتھیاں پڑی ہوتی ہیں تو کہیں چتا میں مردے کی لاش آگ سے اکڑ رہی ہوتی ھے ۔
لکڑی اور چتا کو آگ لگانے والوں سے مول تول کرتے لوگ۔ کہیں لاش جل کانے کے بعد بانسوں کی مدد سے کھوپڑی پر ضربیں لگا کر اس کے ٹکڑے کہے جا رہے ہوتے ہیں۔
رات میں یہ منظر مزید بھیانک ہو جاتا ھے جب جگہ جگہ جلتی چتائیں اور دھوتی میں ملبوس آسیب نما افراد چتائوں کے گرد جمع ہوتے ہیں۔ ہر طرف راکھ کوئلے آگ کیچڑ اور بدبو کا راج ہوتا ھے ۔
الحمدللہ ہم مسلمان ہیں اور پاکیزگی ہمارا ایمان ہے
اللہ نے انسان کے لئے قبر کا وہ راستہ منتخب کیا ہے جیسے اس کا بھرم بھی رہ جائے اور اس کی پاکیزگی بھی برقرار رہے...

خان صاحب کی اپنے والد اور والدہ کے ساتھ ایک یادگار تصویر اللہ پاک اس اعظیم ماں کی قبر پر کروڑوں رحمتیں نازل فرمائے آمین ...
22/02/2026

خان صاحب کی اپنے والد اور والدہ کے ساتھ ایک یادگار تصویر اللہ پاک اس اعظیم ماں کی قبر پر کروڑوں رحمتیں نازل فرمائے آمین ثم آمین!

21/02/2026

سما نیوز کی رپورٹ کے مطابق سرکار نے سوشل میڈیا کنٹرول کرنے کے لیے اربوں روپے سے بنائی گئی فائر وال کو بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ فیصلہ 5G سپیکٹرم کی فروخت کے لیے کیا گیا ہے کیونکہ فائر وال کی موجودگی میں کوئی کمپنی فائیو جی کی خرید کے لیے رضامند نہیں ہے۔ اس فائر وال نے اپنی لاگت کے علاوہ ملک کے آئی ٹی سیکٹر کو اربوں ڈالرز کا نقصان بھی پہنچایا ہے جبکہ سوشل میڈیا کنٹرول کرنے کا ہدف بھی حاصل نہیں ہو سکا۔
ایسی ہی شاندار اور حکیمانہ پالیسیوں کے باعث آج پاکستان ایشیا بھر میں سب سے کم فارن ڈائریکٹ انویسٹمنٹ حاصل والا ملک ہے، بڑی ملٹی نیشنل کمپنیز یہاں سے رخصت ہو رہی ہیں اور غربت بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے البتہ یہ بات 45 فیصد گروتھ والے دماغوں میں نہیں سما سکتی۔

17/02/2026

میں الگورتھم کی پاور پر اندھا یقین کرتی ہوں لیکن بہت سارے سالوں میں پاکستان میں جو کونٹینٹ میں نے وائرل ہوتے دیکھا ہے ان میں سے اکثریت کی ہیڈلائنز یہ ہیں ۔

فلانے کا فلانی سے ٹانکا انکی شادی ہونے سے پہلے ہی فٹ تھا۔

فلاں کے بندے نے اسے طلاق دے دی ۔

فلاں کا کٹنے کے بعد پھر جڑ گیا۔

فلانی بلوگر کا فل ٹوٹا چاہیے تو انبوکس میں آ جائیں ۔

فلانی اداکارہ کی بھابھی کا بچہ شادی کے چھے ماہ میں ہوا ، ڈلیوری کا ڈرامہ اب رچایا جا رہا ہے فلانے نے ہاف سلیو پہنی ہے لیکن اب تو سردی ہے ۔

فلانی کا اپنے ایکس بواۓ فرینڈ کے گانے کے بارے میں سٹیٹس ۔

فلانی ایک بھیانک ساس/بہو ہے ۔

یہ وہ چند ایک انتہائی فارغ پوسٹس ہیں جنکی ratings اتنی زیادہ ہوتی ہیں کہ فیسبک کملا جاتا ہے اور سبکو زبردستی دکھا رہا ہوتا ہے ۔

ہماری دلچسپی انتہائی پست اور گِری ہوئی چیزوں میں ہے کہ ہمیں شغل کے لئے بھی دوسروں کی ذاتی زندگی کا تماشہ چاہیے اور پھر اسکے لئے ہم کسی حد تک بھی جائینگے لیکن ایک لمحے کو سوچیں تماشہ لگانے والے کے ساتھ تماشہ دیکھنے والے بھی اتنے ہی ذمیدار ہوتے ہیں ۔

کسی نے اپنی پرسنل تصاویر / ویڈیوز سوشل میڈیا پر لگائی ، آپنے لائک کی ، کمینٹ کیا ، بکواس کی ، کچھ بھی کیا ، اپنے کونٹینٹ کو فروغ دیا ۔ آپ بھی گنہگار ہیں ۔

کسی کے بچے کو بغیر ثبوت کے حرام قرار دیا تو اسلام میں آپ نے بہتان لگایا اور اسکی سزا بھی پڑھ لیں ۔

آپنے کسی کو اسلئے گشتی ، ٹیکسی بلایا کہ اسکے گناہ آپکے گناہوں سے مختلف ہیں تو تکبر کیا۔ یاد رکھیں اپنے گناہوں پر اترا کر لوگوں کی زندگی میں خدا لگنے کی کی سزا آپکے حصے میں ضرور آئیگی ۔

کسی کی طلاق کو اسکی نااہلی قرار دینے کا مطلب ہے دنیا میں آپ صرف شادی کے علاوہ کچھ کرنے نہیں آئے اور نہ آپ میں کوئی اور گن ہے ۔ آپ خود بھی جاہل ہیں اور چاہتے ہیں لوگوں کی پرکھ کا عام معیار بھی آپکی اسی جھالت کو رکھا جائے ۔

بات کرنے کی ہمیں تمیز نہیں ہے، عورتیں بات بات پر طعنے دیتی ہیں ۔ اپنے گھر کی خبر نہیں ہوتی باقی سبکے گھر کی ایسے مانیٹرنگ کرتی ہیں جیسے آکسیجن کا ایک واحد ذریعہ وہی ہے ۔ بندے بچارے اتنے سادہ ہیں کہ بس ایک عورت کے گرد ہی سب گھوم رہا ہے انکا ۔ اس سے نکلیں تو کچھ اور بن پڑے ۔بچے ہمارے اتنے بےلگام ہیں کہ ماں باپ کی تربیت کو آتے ہیں اگر جو انکی تربیت کرنا چاہے کوئی تو ۔

کتنا فارغ ٹائم ہے ہمارے پاس بکواس سننے کا ، افواہیں پھیلانے کا اور لوگوں کا تماشہ بنانے کا اور outcome ہمیں چاہیے کلاسک گروتھ مطلب ٹریڈ لنڈا اور ایکسپیکٹیشن ہائی اینڈ برانڈز ۔

اور پھر ہم ان لوگوں کو گالیاں دیتے ہیں جو ہمیں جگانے کی غلطی کریں ۔ کہا جاتا ہے رواج بدل نہیں سکتے ۔ آپ لوگ پورا مذہب بدل دیتے ہیں رواج تو ایک سائڈ پر رکھ دیں ! لیکن سوال ہے ایسے میں ہم کیسے سدھریں گے ؟؟

خیر آپ خود ہی کچھ خیال کریں کیوں کہ ہم کچھ کھینگے تو آپ گالیاں دینگے ۔ ہمارے باہر ہونے کے طعنے مارینگے ۔ ہمیں عیاش اور نہ جانے کون کون سے القابات سے نوازیں گے !

اللّٰہ ہدایت دے!

خوش رہیں اور خوش رہنے دیں!

COPIED

08/02/2026

‏ہیرو۔
1951 میں، آسٹریلیا کے ایک 14 سالہ لڑکے جیمز ہیریسن کی آنکھ اسپتال کے بستر پر کھلی، اس کے سینے پر 100 ٹانکے لگے ہوئے تھے۔
ڈاکٹروں نے ابھی اس کا ایک پھیپھڑا نکالا تھا۔ زندہ رہنے کے لیے اسے اجنبی لوگوں سے عطیہ کیے گئے خون کے 13 یونٹس درکار تھے—ایسے لوگ جن کے نام وہ کبھی نہیں جان پاتا۔

اس کے والد، ریگ، اس کے پاس بیٹھے اور وہ بات کہی جس نے اس کی زندگی بدل دی:
“تم صرف اس لیے زندہ ہو کیونکہ لوگوں نے خون عطیہ کیا۔”

وہیں جیمز نے ایک وعدہ کر لیا۔ جیسے ہی وہ 18 سال کا ہوگا، وہ خون عطیہ کرے گا۔ وہ اس تحفے کا قرض اتارے گا جس نے اس کی جان بچائی تھی۔

مگر ایک مسئلہ تھا۔
جیمز کو سوئیوں سے بہت ڈر لگتا تھا۔

لیکن 1954 میں، جس دن وہ عطیہ دینے کے قابل ہوا، وہ پھر بھی بلڈ ڈونیشن سینٹر چلا گیا۔ وہ کرسی پر بیٹھا، چھت کی طرف دیکھا، اور نرس کو سوئی لگانے دی۔
اس نے کبھی نہیں دیکھا۔ ایک بار بھی نہیں۔ 64 برس تک۔

جیمز کو یہ معلوم نہیں تھا کہ اس کا خون عام نہیں تھا۔
چند عطیات کے بعد، ڈاکٹروں نے ایک غیر معمولی بات دریافت کی۔ اس کے پلازما میں ایک نہایت نایاب اینٹی باڈی موجود تھی—غالباً ان تمام خون کی منتقلیوں کے نتیجے میں جو اسے بچپن میں ملی تھیں۔ یہ اینٹی باڈی ایک مہلک بیماری، رِیسَس ڈیزیز، سے بچاؤ کر سکتی تھی۔

اس دریافت سے پہلے، ہر سال آسٹریلیا میں ہزاروں بچے جان سے جا رہے تھے۔ جب Rh-منفی خون والی حاملہ عورت کے پیٹ میں Rh-مثبت بچہ ہوتا، تو ماں کا جسم بچے کے خون کے خلیات پر حملہ کر دیتا تھا۔
نتیجہ: اسقاطِ حمل، مردہ پیدائش، دماغی نقصان۔

جیمز کے خون میں اس مسئلے کا حل موجود تھا۔

ڈاکٹروں نے اس سے پوچھا کہ کیا وہ پلازما عطیہ کرنے پر آمادہ ہوگا۔
اس کا مطلب تھا زیادہ طویل سیشن—20 منٹ کے بجائے 90 منٹ۔
اور یہ کہ اسے زندگی بھر ہر چند ہفتوں بعد آنا پڑے گا۔

جیمز نے اپنے خوف کے بارے میں سوچا۔
پھر اس نے بچوں کے بارے میں سوچا۔
اس نے ہاں کر دی۔

64 برس تک، جیمز ہیریسن نے ایک بھی اپائنٹمنٹ نہیں چھوڑی۔
اس نے خوشی میں بھی عطیہ دیا اور غم میں بھی۔
اس نے ریلوے کلرک کی ملازمت کے دوران بھی عطیہ دیا۔
ریٹائرمنٹ کے بعد بھی دیا۔
2005 میں اپنی اہلیہ باربرا کے انتقال کے بعد بھی دیتا رہا—جن دنوں کو وہ اپنے “سب سے تاریک دن” کہتا تھا۔

ہر بار—تمام 1,173 عطیات کے دوران—وہ چھت کی طرف دیکھتا رہا۔
نرسوں سے باتیں کرتا رہا۔
دیواروں کو دیکھتا رہا۔
سوئی کی طرف دیکھنے سے بچنے کے لیے کچھ بھی۔

خوف کبھی ختم نہیں ہوا۔
لیکن وہ ہر بار آتا رہا۔

ایک خوبصورت اتفاق یہ تھا کہ جب اس کی اپنی بیٹی حاملہ ہوئی تو اسے وہی دوا درکار ہوئی جو اس کے خون سے تیار کی گئی تھی۔
اس کا نواسہ اسکاٹ آج زندہ ہے کیونکہ اس کے دادا نے دہائیوں پہلے یہ انتخاب کیا تھا۔

مئی 2018 میں، 81 سال کی عمر میں، آسٹریلوی قانون کے تحت جیمز کو اپنا آخری عطیہ دینا پڑا۔
کمرے میں صحت مند بچوں کو گود میں لیے مائیں موجود تھیں—اس کی خاموش ہیروئیزم کا جیتا جاگتا ثبوت۔ وہ آنسوؤں کے ساتھ اس کا شکریہ ادا کر رہی تھیں۔

جیمز آخری بار کرسی پر بیٹھا، آخری بار اپنے بازو سے نظریں چرائیں، اور اپنا 1,173واں عطیہ دیا۔

1967 سے اب تک اس کے خون پر مشتمل اینٹی-ڈی دوا کی 30 لاکھ سے زائد خوراکیں جاری کی جا چکی ہیں۔
سائنس دانوں کے اندازے کے مطابق، اس کی خدمات نے صرف آسٹریلیا میں تقریباً 24 لاکھ بچوں کی جان بچائی۔

جب لوگ اسے ہیرو کہتے، تو وہ بات کو ٹال دیتا۔
وہ کہتا:
“میں ایک محفوظ کمرے میں بیٹھ کر خون عطیہ کرتا ہوں۔ وہ مجھے کافی کا کپ اور کچھ کھانے کو دے دیتے ہیں۔ پھر میں اپنے راستے پر چل پڑتا ہوں۔ نہ کوئی مسئلہ، نہ کوئی مشکل۔”

جیمز ہیریسن 17 فروری 2025 کو اپنی نیند میں پُرسکون طریقے سے انتقال کر گیا۔ اس کی عمر 88 برس تھی۔

ہم اکثر ہیروز کو فلموں یا تاریخ کی کتابوں میں تلاش کرتے ہیں—ایسے لوگ جن کے پاس سپر پاورز، دولت یا شہرت ہو۔
لیکن کبھی کبھی ہیرو وہ ہوتا ہے جو 64 برس تک خاموشی سے ایک وعدہ نبھاتا رہتا ہے۔

ایسا شخص جو خوف محسوس کرتا ہے—گہرا، لرزہ دینے والا خوف—اور پھر بھی درست کام کرتا ہے۔

آج لاکھوں لوگ زندہ ہیں کیونکہ ایک شخص نے یہ فیصلہ کیا کہ اس کا خوف دوسروں کی جانوں سے کم اہم ہے۔

آپ کون سا چھوٹا سا بہادری کا عمل کر سکتے ہیں، چاہے وہ آپ کو ڈراتا ہی کیوں نہ ہو؟ 🙏🏼

استادِ محترم پھر بے نقاب ہو گئے! 🥴2018 میں بسنت کو حرام کہہ کر عوام کو گمراہ کرنے والے انجینئر علی مرزا صاحب نے 2026 میں...
07/02/2026

استادِ محترم پھر بے نقاب ہو گئے! 🥴
2018 میں بسنت کو حرام کہہ کر عوام کو گمراہ کرنے والے انجینئر علی مرزا صاحب نے 2026 میں اُسی بسنت کو حلال قرار دے دیا
نہ کوئی وضاحت نہ معذرت نہ پہلے مؤقف سے رجوع بس وقت کے ساتھ فتوے بھی یوٹرن لے گئے
علمائے کرائم سے عاجزانہ گزارش ہے کہ فتویٰ بدلنے سے پہلے اپنی پرانی ویڈیوز ضرور ڈیلیٹ کر لیا کریں
کیونکہ انٹرنیٹ کا حافظہ بہت تیز ہوتا ہے اور منافقت کو فوراً پہچان لیتا ہے۔

Address

Bagh
12500

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Kashmiri & World News posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share