Kashmiri & World News

Kashmiri & World News News and Articles

دنیا کا گندہ ترین دریا ۔ بنارس میں گنگا کنارے مانیکارنیکا شمشان گھاٹ۔ہر ہندو کی خواہش ہوتی ہے کہ مرنے کے بعد اس ک لاش کو...
28/02/2026

دنیا کا گندہ ترین دریا ۔ بنارس میں گنگا کنارے مانیکارنیکا شمشان گھاٹ۔
ہر ہندو کی خواہش ہوتی ہے کہ مرنے کے بعد اس ک لاش کو اس گھاٹ پر چتا دی جائے۔ بہت سے جاں بلب مریض اپنی موت سے پہلے یہاں ڈیرہ ڈال لیتے ہیں تاکہ مرنے کے فورا" بعد ان کی چتا کو اس متبرک مقام پر آگ نصیب ہو سکے۔

اس مقصد کے لئے گھاٹ کنارے باقاعدہ کمرے بھی دستیاب ہیں جہاں مریض اور اس کے ساتھ آئے رشتے دار قیام کرتے ہیں۔ بنارس کے مختلف گھاٹوں پر روزانہ تقریبا" سو چتائوں کو آگ لگائ جاتی ہے جہاں ہر وقت جلے گوشت کی چراند پھیلی رہتی ہے۔ لکڑی مہنگی ہونے کی وجہ سے بعض اوقات چتا کو جلانے والے متوفی کے لواحقین کے جانے کے بعد لکڑی بچانے کے لئے ادھ جلی لاش کو ہی کھینچ تان کر گنگا برد کردیتے ہیں جہاں اکثر ادھ جلی لاشیں پانی میں تیرتی نظر آتی ہیں ۔

بعض اوقات کنارے سے لگ جانے والی لاشوں کو کتے بھنبھؤڑتے ہیں۔ ان لاشوں کی راکھ گنگا میں بہا دی جاتی ھے اور اسی پانی میں یاتری خود کو غوطے دے کر اشنان کرتے ہیں اور اپنے پاپ دھوتے ہیں۔ اس مقام پر گنگا دنیا کا غلیظ ترین دریا بن جاتا ھے ۔

بنارس کے یہ چتا گھاٹ زمین پر جہنم کا منظر پیش کرتے ہیں۔ جہاں کہیں ارتھیاں پڑی ہوتی ہیں تو کہیں چتا میں مردے کی لاش آگ سے اکڑ رہی ہوتی ھے ۔
لکڑی اور چتا کو آگ لگانے والوں سے مول تول کرتے لوگ۔ کہیں لاش جل کانے کے بعد بانسوں کی مدد سے کھوپڑی پر ضربیں لگا کر اس کے ٹکڑے کہے جا رہے ہوتے ہیں۔
رات میں یہ منظر مزید بھیانک ہو جاتا ھے جب جگہ جگہ جلتی چتائیں اور دھوتی میں ملبوس آسیب نما افراد چتائوں کے گرد جمع ہوتے ہیں۔ ہر طرف راکھ کوئلے آگ کیچڑ اور بدبو کا راج ہوتا ھے ۔
الحمدللہ ہم مسلمان ہیں اور پاکیزگی ہمارا ایمان ہے
اللہ نے انسان کے لئے قبر کا وہ راستہ منتخب کیا ہے جیسے اس کا بھرم بھی رہ جائے اور اس کی پاکیزگی بھی برقرار رہے...

خان صاحب کی اپنے والد اور والدہ کے ساتھ ایک یادگار تصویر اللہ پاک اس اعظیم ماں کی قبر پر کروڑوں رحمتیں نازل فرمائے آمین ...
22/02/2026

خان صاحب کی اپنے والد اور والدہ کے ساتھ ایک یادگار تصویر اللہ پاک اس اعظیم ماں کی قبر پر کروڑوں رحمتیں نازل فرمائے آمین ثم آمین!

ویٹر کھانا پیک کر دیں ہم ایک مہنگے ریسٹورنٹ سے کھانا کھا چکے تھے تو کچھ کھانا بچ گیا، اتنا کہ ایک یا دو لوگوں کے لیے کاف...
22/02/2026

ویٹر کھانا پیک کر دیں ہم ایک مہنگے ریسٹورنٹ سے
کھانا کھا چکے تھے تو کچھ کھانا بچ گیا، اتنا کہ ایک یا دو لوگوں کے لیے کافی ہو سکتا تھا۔ میں نے برتن اٹھاتے ویٹر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا:"اسے پیک کر دو"ویٹر نے طنزیہ نگاہوں اور لہجے میں کہا: "اس کو؟ میں نے پورے اعتماد سے جواب دیا: "جی، اس کو گھر والوں نے کھانا ہے"میری اس حرکت پر گھر والے مجھے دیکھنے لگے تو میں نے دوسری طرف دیکھتے ہوئے اپنا تقویت
دہ فقرہ دہرایا کہ "کون پرواہ کرتا ہے، بل ادا کرنے کے بعد…"

ویٹر نے پیک کھانے کا ڈبہ میز کے درمیان رکھ دیا۔ سب ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے کہ اسے کون اٹھائے گا؟؟؟

میں نے ڈبہ اٹھاتے ہوئے کہا: "میں کس لیے ہوں"

واپسی پر ایک چوک سے ذرا پہلے ایک خاتون دری پر بیٹھی مانگ رہی تھی اور پاس ہی اس کا چھوٹا سا بیٹا کھیل رہا تھا۔ میں نے اس کے پاس گاڑی روکی اور ڈیش بورڈ پر پڑا کھانے کا ڈبہ ساتھ بیٹھی امی کو دے کر شیشہ نیچے کرتے ہوئے کہا:

"یہ اسے پکڑا دیں!!!"

جیسے ہی امی نے کھانا پکڑانے کے لیے اپنا ہاتھ باہر نکالا تو اس خاتون نے کھانا پکڑنے کے ساتھ ہی امی کا ہاتھ اپنے دونوں ہاتھوں سے پکڑ کر اس پر اپنی دونوں آنکھیں لگا کر چومتے ہوئے کہا:

"اللہ بھلا کرے!!!!"

کافی دیر کے بھوکے تھے، جسم میں جان بھی نہیں تھی کہ کچھ کھانے کو لے آتے۔ وہ جلدی سے پیکٹ کھول کر خود بھی کھانے لگی اور بچے کو بھی کھلانے لگی…

میں نے مڑ کر سب کو دیکھا (اب دیکھنے کی باری جو میری تھی) اور کہا:
"ہم ویٹر کی نظروں میں امیر نظر آنے کی کوشش میں اتنی بڑی نیکی سے محروم ہو جاتے ہیں…"

ہمیں ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے کہ ہم اللہ کو جواب دہ ہیں، ویٹر یا لوگوں کو نہیں۔ کیونکہ بے شمار لوگ ہمارے عمل کے ایک حصے کو دیکھ کر رائے قائم کر لیتے ہیں مگر اللہ ہمارے پورے عمل سے واقف ہوتا ہے، وہ ہمیں اسی کے مطابق سزا یا جزا دیتا ہے…

اللہ ہم سب کو غریبوں کی مدد کرنے کی توفیق دے… آمین 🤲
ہر اس شخص کے لیے بطور خاص تحریر جو رزق کو اپنے گھر کی لونڈی سمجھتے ہیں اور اس کی قدر نہیں کرتے۔

COPIED

21/02/2026

سما نیوز کی رپورٹ کے مطابق سرکار نے سوشل میڈیا کنٹرول کرنے کے لیے اربوں روپے سے بنائی گئی فائر وال کو بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ فیصلہ 5G سپیکٹرم کی فروخت کے لیے کیا گیا ہے کیونکہ فائر وال کی موجودگی میں کوئی کمپنی فائیو جی کی خرید کے لیے رضامند نہیں ہے۔ اس فائر وال نے اپنی لاگت کے علاوہ ملک کے آئی ٹی سیکٹر کو اربوں ڈالرز کا نقصان بھی پہنچایا ہے جبکہ سوشل میڈیا کنٹرول کرنے کا ہدف بھی حاصل نہیں ہو سکا۔
ایسی ہی شاندار اور حکیمانہ پالیسیوں کے باعث آج پاکستان ایشیا بھر میں سب سے کم فارن ڈائریکٹ انویسٹمنٹ حاصل والا ملک ہے، بڑی ملٹی نیشنل کمپنیز یہاں سے رخصت ہو رہی ہیں اور غربت بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے البتہ یہ بات 45 فیصد گروتھ والے دماغوں میں نہیں سما سکتی۔

آئیں مل کر آواز اٹھائیں۔ اپنی طاقت پہچانیں۔۔۔ فاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی  کی عمارت آج بھی ویسی ہی کھڑی ہے۔ دیواریں خامو...
20/02/2026

آئیں مل کر آواز اٹھائیں۔ اپنی طاقت پہچانیں۔۔۔
فاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی کی عمارت آج بھی ویسی ہی کھڑی ہے۔ دیواریں خاموش ہیں، راہداریاں سنسان ہیں۔ مگر ایک کمرہ ایسا ہے جہاں وقت جیسے رک گیا ہو کیونکہ وہاں فریحہ کی ہنسی کی بازگشت اب نہیں آتی۔
فریحہ ابراہیم…
پانچویں سال کی طالبہ۔
آنکھوں میں ڈاکٹر بننے کا خواب، دل میں ماں باپ کی خدمت کا عزم، اور ہاتھوں میں وہ کتابیں جن پر اس نے راتوں کی نیند قربان کی تھی۔
گھر میں اس کے والدین ہر فون کال پر چونک اٹھتے تھے۔
"بس چند ماہ اور… پھر ہماری بیٹی سفید کوٹ میں ہوگی۔"
ماں نے تو اس کے وائیٹ کوٹ کی تقریب کے لیے پہلے ہی کپڑے سِلوا رکھے تھے۔ باپ ہر ملنے والے سے فخر سے کہتا،
"میری بیٹی ڈاکٹر بننے والی ہے۔"
مگر پھر ایک دن فون آیا۔
ایسا فون جس نے زندگی کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا — پہلے اور بعد میں۔
کہا گیا کہ وہ تیسری منزل سے گری ہے… یا شاید اس نے خود چھلانگ لگا لی۔
لفظ آسان تھے، مگر یقین کرنا ناممکن۔
جو لڑکی زندگی بچانے کا ہنر سیکھ رہی ہو، وہ اپنی زندگی یوں ختم کر دے؟
جو بیٹی والدین کے خوابوں کی تعبیر بننے والی ہو، وہ یوں خاموشی سے رخصت ہو جائے۔
اس ملک میں شاید خون سستا ہو گیا ہے…
مگر ایک باپ کے لیے بیٹی کا خون کبھی ارزاں نہیں ہوتا۔
ایک ماں کے لیے بیٹی کی لاش پوری کائنات کے بکھرنے کے برابر ہوتی ہے
فریحہ کی موت اب ایک سوال ہے۔
ایک چیخ ہے جو دیواروں سے ٹکرا کر لوٹ آتی ہے۔
ایک معمہ ہے جس کا جواب کوئی دینے کو تیار نہیں۔
کیا وہ واقعی گری؟
یا اسے گرایا گیا؟
کیا اس پر کوئی دباؤ تھا؟
کیا اس نے کسی ظلم کے خلاف آواز اٹھائی تھی؟
کیا سچ کہیں دفن کر دیا گیا ہے؟
یہ سوال صرف ایک خاندان کے نہیں، پوری قوم کے ہیں۔
ہم حکومتِ پاکستان، متعلقہ تحقیقاتی اداروں اور اعلیٰ عدلیہ سے پُرزور اپیل کرتے ہیں کہ فریحہ ابراہیم کی موت کی شفاف، غیر جانبدار اور مکمل تحقیقات کی جائیں۔
سی سی ٹی وی ریکارڈ، کال ریکارڈ، فرانزک شواہد، گواہوں کے بیانات — ہر پہلو کو سامنے لایا جائے۔
اگر یہ حادثہ تھا تو حقیقت واضح کی جائے۔
اگر یہ خودکشی تھی تو اس کے پس منظر کو بے نقاب کیا جائے۔
اور اگر اس کے پیچھے کوئی جرم ہے تو مجرموں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔
کیونکہ انصاف صرف ایک خاندان کا حق نہیں، یہ پورے معاشرے کی ضرورت ہے۔
فریحہ تو چلی گئی۔
مگر اس کا سفید کوٹ اب بھی سوال بن کر لٹکا ہوا ہے۔
اس کی کتابیں اب بھی انصاف کی دہائی دے رہی ہیں۔
اور اس کے والدین کی آنکھیں اب بھی دروازے کی طرف دیکھتی ہیں — شاید کوئی آئے اور کہے:
"ہم نے سچ ڈھونڈ لیا ہے۔"
کیا یہ سچ سامنے آئے گا؟
یا یہ بھی ہمارے معاشرے کے ان گنت معماؤں میں ایک اور اضافہ بن جائے گا؟
فریحہ کی قبر پر مٹی تو ڈال دی گئی ہے،
مگر اس کی کہانی ابھی دفن نہیں ہوئی۔
یہ کہانی انصاف مانگ رہی ہے۔




17/02/2026

میں الگورتھم کی پاور پر اندھا یقین کرتی ہوں لیکن بہت سارے سالوں میں پاکستان میں جو کونٹینٹ میں نے وائرل ہوتے دیکھا ہے ان میں سے اکثریت کی ہیڈلائنز یہ ہیں ۔

فلانے کا فلانی سے ٹانکا انکی شادی ہونے سے پہلے ہی فٹ تھا۔

فلاں کے بندے نے اسے طلاق دے دی ۔

فلاں کا کٹنے کے بعد پھر جڑ گیا۔

فلانی بلوگر کا فل ٹوٹا چاہیے تو انبوکس میں آ جائیں ۔

فلانی اداکارہ کی بھابھی کا بچہ شادی کے چھے ماہ میں ہوا ، ڈلیوری کا ڈرامہ اب رچایا جا رہا ہے فلانے نے ہاف سلیو پہنی ہے لیکن اب تو سردی ہے ۔

فلانی کا اپنے ایکس بواۓ فرینڈ کے گانے کے بارے میں سٹیٹس ۔

فلانی ایک بھیانک ساس/بہو ہے ۔

یہ وہ چند ایک انتہائی فارغ پوسٹس ہیں جنکی ratings اتنی زیادہ ہوتی ہیں کہ فیسبک کملا جاتا ہے اور سبکو زبردستی دکھا رہا ہوتا ہے ۔

ہماری دلچسپی انتہائی پست اور گِری ہوئی چیزوں میں ہے کہ ہمیں شغل کے لئے بھی دوسروں کی ذاتی زندگی کا تماشہ چاہیے اور پھر اسکے لئے ہم کسی حد تک بھی جائینگے لیکن ایک لمحے کو سوچیں تماشہ لگانے والے کے ساتھ تماشہ دیکھنے والے بھی اتنے ہی ذمیدار ہوتے ہیں ۔

کسی نے اپنی پرسنل تصاویر / ویڈیوز سوشل میڈیا پر لگائی ، آپنے لائک کی ، کمینٹ کیا ، بکواس کی ، کچھ بھی کیا ، اپنے کونٹینٹ کو فروغ دیا ۔ آپ بھی گنہگار ہیں ۔

کسی کے بچے کو بغیر ثبوت کے حرام قرار دیا تو اسلام میں آپ نے بہتان لگایا اور اسکی سزا بھی پڑھ لیں ۔

آپنے کسی کو اسلئے گشتی ، ٹیکسی بلایا کہ اسکے گناہ آپکے گناہوں سے مختلف ہیں تو تکبر کیا۔ یاد رکھیں اپنے گناہوں پر اترا کر لوگوں کی زندگی میں خدا لگنے کی کی سزا آپکے حصے میں ضرور آئیگی ۔

کسی کی طلاق کو اسکی نااہلی قرار دینے کا مطلب ہے دنیا میں آپ صرف شادی کے علاوہ کچھ کرنے نہیں آئے اور نہ آپ میں کوئی اور گن ہے ۔ آپ خود بھی جاہل ہیں اور چاہتے ہیں لوگوں کی پرکھ کا عام معیار بھی آپکی اسی جھالت کو رکھا جائے ۔

بات کرنے کی ہمیں تمیز نہیں ہے، عورتیں بات بات پر طعنے دیتی ہیں ۔ اپنے گھر کی خبر نہیں ہوتی باقی سبکے گھر کی ایسے مانیٹرنگ کرتی ہیں جیسے آکسیجن کا ایک واحد ذریعہ وہی ہے ۔ بندے بچارے اتنے سادہ ہیں کہ بس ایک عورت کے گرد ہی سب گھوم رہا ہے انکا ۔ اس سے نکلیں تو کچھ اور بن پڑے ۔بچے ہمارے اتنے بےلگام ہیں کہ ماں باپ کی تربیت کو آتے ہیں اگر جو انکی تربیت کرنا چاہے کوئی تو ۔

کتنا فارغ ٹائم ہے ہمارے پاس بکواس سننے کا ، افواہیں پھیلانے کا اور لوگوں کا تماشہ بنانے کا اور outcome ہمیں چاہیے کلاسک گروتھ مطلب ٹریڈ لنڈا اور ایکسپیکٹیشن ہائی اینڈ برانڈز ۔

اور پھر ہم ان لوگوں کو گالیاں دیتے ہیں جو ہمیں جگانے کی غلطی کریں ۔ کہا جاتا ہے رواج بدل نہیں سکتے ۔ آپ لوگ پورا مذہب بدل دیتے ہیں رواج تو ایک سائڈ پر رکھ دیں ! لیکن سوال ہے ایسے میں ہم کیسے سدھریں گے ؟؟

خیر آپ خود ہی کچھ خیال کریں کیوں کہ ہم کچھ کھینگے تو آپ گالیاں دینگے ۔ ہمارے باہر ہونے کے طعنے مارینگے ۔ ہمیں عیاش اور نہ جانے کون کون سے القابات سے نوازیں گے !

اللّٰہ ہدایت دے!

خوش رہیں اور خوش رہنے دیں!

COPIED

08/02/2026

‏ہیرو۔
1951 میں، آسٹریلیا کے ایک 14 سالہ لڑکے جیمز ہیریسن کی آنکھ اسپتال کے بستر پر کھلی، اس کے سینے پر 100 ٹانکے لگے ہوئے تھے۔
ڈاکٹروں نے ابھی اس کا ایک پھیپھڑا نکالا تھا۔ زندہ رہنے کے لیے اسے اجنبی لوگوں سے عطیہ کیے گئے خون کے 13 یونٹس درکار تھے—ایسے لوگ جن کے نام وہ کبھی نہیں جان پاتا۔

اس کے والد، ریگ، اس کے پاس بیٹھے اور وہ بات کہی جس نے اس کی زندگی بدل دی:
“تم صرف اس لیے زندہ ہو کیونکہ لوگوں نے خون عطیہ کیا۔”

وہیں جیمز نے ایک وعدہ کر لیا۔ جیسے ہی وہ 18 سال کا ہوگا، وہ خون عطیہ کرے گا۔ وہ اس تحفے کا قرض اتارے گا جس نے اس کی جان بچائی تھی۔

مگر ایک مسئلہ تھا۔
جیمز کو سوئیوں سے بہت ڈر لگتا تھا۔

لیکن 1954 میں، جس دن وہ عطیہ دینے کے قابل ہوا، وہ پھر بھی بلڈ ڈونیشن سینٹر چلا گیا۔ وہ کرسی پر بیٹھا، چھت کی طرف دیکھا، اور نرس کو سوئی لگانے دی۔
اس نے کبھی نہیں دیکھا۔ ایک بار بھی نہیں۔ 64 برس تک۔

جیمز کو یہ معلوم نہیں تھا کہ اس کا خون عام نہیں تھا۔
چند عطیات کے بعد، ڈاکٹروں نے ایک غیر معمولی بات دریافت کی۔ اس کے پلازما میں ایک نہایت نایاب اینٹی باڈی موجود تھی—غالباً ان تمام خون کی منتقلیوں کے نتیجے میں جو اسے بچپن میں ملی تھیں۔ یہ اینٹی باڈی ایک مہلک بیماری، رِیسَس ڈیزیز، سے بچاؤ کر سکتی تھی۔

اس دریافت سے پہلے، ہر سال آسٹریلیا میں ہزاروں بچے جان سے جا رہے تھے۔ جب Rh-منفی خون والی حاملہ عورت کے پیٹ میں Rh-مثبت بچہ ہوتا، تو ماں کا جسم بچے کے خون کے خلیات پر حملہ کر دیتا تھا۔
نتیجہ: اسقاطِ حمل، مردہ پیدائش، دماغی نقصان۔

جیمز کے خون میں اس مسئلے کا حل موجود تھا۔

ڈاکٹروں نے اس سے پوچھا کہ کیا وہ پلازما عطیہ کرنے پر آمادہ ہوگا۔
اس کا مطلب تھا زیادہ طویل سیشن—20 منٹ کے بجائے 90 منٹ۔
اور یہ کہ اسے زندگی بھر ہر چند ہفتوں بعد آنا پڑے گا۔

جیمز نے اپنے خوف کے بارے میں سوچا۔
پھر اس نے بچوں کے بارے میں سوچا۔
اس نے ہاں کر دی۔

64 برس تک، جیمز ہیریسن نے ایک بھی اپائنٹمنٹ نہیں چھوڑی۔
اس نے خوشی میں بھی عطیہ دیا اور غم میں بھی۔
اس نے ریلوے کلرک کی ملازمت کے دوران بھی عطیہ دیا۔
ریٹائرمنٹ کے بعد بھی دیا۔
2005 میں اپنی اہلیہ باربرا کے انتقال کے بعد بھی دیتا رہا—جن دنوں کو وہ اپنے “سب سے تاریک دن” کہتا تھا۔

ہر بار—تمام 1,173 عطیات کے دوران—وہ چھت کی طرف دیکھتا رہا۔
نرسوں سے باتیں کرتا رہا۔
دیواروں کو دیکھتا رہا۔
سوئی کی طرف دیکھنے سے بچنے کے لیے کچھ بھی۔

خوف کبھی ختم نہیں ہوا۔
لیکن وہ ہر بار آتا رہا۔

ایک خوبصورت اتفاق یہ تھا کہ جب اس کی اپنی بیٹی حاملہ ہوئی تو اسے وہی دوا درکار ہوئی جو اس کے خون سے تیار کی گئی تھی۔
اس کا نواسہ اسکاٹ آج زندہ ہے کیونکہ اس کے دادا نے دہائیوں پہلے یہ انتخاب کیا تھا۔

مئی 2018 میں، 81 سال کی عمر میں، آسٹریلوی قانون کے تحت جیمز کو اپنا آخری عطیہ دینا پڑا۔
کمرے میں صحت مند بچوں کو گود میں لیے مائیں موجود تھیں—اس کی خاموش ہیروئیزم کا جیتا جاگتا ثبوت۔ وہ آنسوؤں کے ساتھ اس کا شکریہ ادا کر رہی تھیں۔

جیمز آخری بار کرسی پر بیٹھا، آخری بار اپنے بازو سے نظریں چرائیں، اور اپنا 1,173واں عطیہ دیا۔

1967 سے اب تک اس کے خون پر مشتمل اینٹی-ڈی دوا کی 30 لاکھ سے زائد خوراکیں جاری کی جا چکی ہیں۔
سائنس دانوں کے اندازے کے مطابق، اس کی خدمات نے صرف آسٹریلیا میں تقریباً 24 لاکھ بچوں کی جان بچائی۔

جب لوگ اسے ہیرو کہتے، تو وہ بات کو ٹال دیتا۔
وہ کہتا:
“میں ایک محفوظ کمرے میں بیٹھ کر خون عطیہ کرتا ہوں۔ وہ مجھے کافی کا کپ اور کچھ کھانے کو دے دیتے ہیں۔ پھر میں اپنے راستے پر چل پڑتا ہوں۔ نہ کوئی مسئلہ، نہ کوئی مشکل۔”

جیمز ہیریسن 17 فروری 2025 کو اپنی نیند میں پُرسکون طریقے سے انتقال کر گیا۔ اس کی عمر 88 برس تھی۔

ہم اکثر ہیروز کو فلموں یا تاریخ کی کتابوں میں تلاش کرتے ہیں—ایسے لوگ جن کے پاس سپر پاورز، دولت یا شہرت ہو۔
لیکن کبھی کبھی ہیرو وہ ہوتا ہے جو 64 برس تک خاموشی سے ایک وعدہ نبھاتا رہتا ہے۔

ایسا شخص جو خوف محسوس کرتا ہے—گہرا، لرزہ دینے والا خوف—اور پھر بھی درست کام کرتا ہے۔

آج لاکھوں لوگ زندہ ہیں کیونکہ ایک شخص نے یہ فیصلہ کیا کہ اس کا خوف دوسروں کی جانوں سے کم اہم ہے۔

آپ کون سا چھوٹا سا بہادری کا عمل کر سکتے ہیں، چاہے وہ آپ کو ڈراتا ہی کیوں نہ ہو؟ 🙏🏼

استادِ محترم پھر بے نقاب ہو گئے! 🥴2018 میں بسنت کو حرام کہہ کر عوام کو گمراہ کرنے والے انجینئر علی مرزا صاحب نے 2026 میں...
07/02/2026

استادِ محترم پھر بے نقاب ہو گئے! 🥴
2018 میں بسنت کو حرام کہہ کر عوام کو گمراہ کرنے والے انجینئر علی مرزا صاحب نے 2026 میں اُسی بسنت کو حلال قرار دے دیا
نہ کوئی وضاحت نہ معذرت نہ پہلے مؤقف سے رجوع بس وقت کے ساتھ فتوے بھی یوٹرن لے گئے
علمائے کرائم سے عاجزانہ گزارش ہے کہ فتویٰ بدلنے سے پہلے اپنی پرانی ویڈیوز ضرور ڈیلیٹ کر لیا کریں
کیونکہ انٹرنیٹ کا حافظہ بہت تیز ہوتا ہے اور منافقت کو فوراً پہچان لیتا ہے۔

پورے عرب کے خطاط ایک دفعہ حیران رہ گئے کہ اجنبی نام اور غیر عرب کیسے اہل عرب سے جیت گیا، اور وہ شخص جیتا جسے مقابلے میں ...
03/02/2026

پورے عرب کے خطاط ایک دفعہ حیران رہ گئے کہ اجنبی نام اور غیر عرب کیسے اہل عرب سے جیت گیا، اور وہ شخص جیتا جسے مقابلے میں شریک ہی نہیں ہونے دیا جارہا تھا۔

کراچی سے مدvینہ تک

دروازے پر زور زور سے دستک ہوئی، بوڑھے شخص نے دروازہ کھولا تو ہمسائے اور اہل محلہ سارے اکٹھے تھے، تیور تو غصے والے تھے جنہیں دیکھ کر گھر سے برآمد ہونے والے بزرگ تھورا سا پریشان ہوئے، اور پوچھا کیا بات ہے سب خیریت ہے نا؟

خیریت کہاں ہے بھائی تمھارا لڑکا آئے روز ہمارے گھر کی دیواروں پر کوئلے سے پتا نہیں کیا نقش و نگار بناتا رہتا ہے، ساری دیواریں اس نے کالی کررکھی ہیں، تم اپنے لاڈلے کو منع کیوں نہیں کرتے؟

اسے سمجھاؤ ورنہ اچھا نہیں ہوگا۔"

بڑے میاں نے وقتی طور پر اہل محلہ کو سمجھا بجھا کر بھیج تو دیا، لیکن وہ اس شکایت سے قدرے نالاں بھی تھے، بیٹے کو سمجھایا " یار باز آجا کیوں تو لوگوں کو تنگ کرتا ہے، اپنی پڑھائی پر دھیان دے اور آئندہ شکایت کا موقع نہ دینا"

بیٹے نے سر جھکا کر سن تو لیا، لیکن وہ باز رہنے والا کہاں تھا۔ یہ آڑھی ترچھی لکیریں تو اس کا شوق تھا اور شوق سے لاتعلقی کون اختیار کرسکتا ہے۔

پھر اس لڑکے نے باپ کا مان رکھتے ہوئے دیواروں کو کالا کرنا ترک تو کردیا لیکن دیواروں کے علاوہ جو بھی خالی جگہ ملتی وہاں وہ چاک یا کوئلے سے کچھ نہ کچھ بناتا رہتا، یوں یہ شوق پروان چڑھتا رہا، اسکول میں اساتذہ کی غیر موجودگی میں تختہ سیاہ پر چاک کی مدد سے وہ اپنے شوق کی تکمیل کرتا رہتا، کبھی ڈانٹ اور کبھی حوصلہ افزائی دونوں برابر ملتے رہے.

وقت گزرتا رہا، اسکول میں منعقدہ خطاطی اور خوش نویسی کے مقابلوں میں حصہ لینا شروع کردیا، جو بھی لکھا ہوا، یا بنا ہوا نمونہ دیکھتا اسے ہو بہو چاک کی مدد سے بنا لیتا تھا۔

خوش نویسی کے قواعد یا خطوں کی پہچان تو اسے بالکل بھی نہیں تھی لیکن جیسا بھی مشکل سے مشکل خط ہوتا وہ اسے کاغذ پر اتار لیتا، کوئی پوچھتا کہ یہ کون سا خط ہے یا کون سا اسٹائل ہے تو وہ بتا نہیں سکتا تھا کیونکہ اس کے پاس باقاعدہ تعلیم تو نہیں تھی نہ ہی پہچان تھی۔ کلاس میں سب سے پہلے آتا، چاک سے تختہ سیاہ پر اپنی مشق کرتا رہتا، باقی ہم جماعتوں اور اساتذہ کے آنے سے پہلے وہ ٹھیک ٹھاک مشق کرلیتا اور اگر کبھی کبھار کوئی استاد دیکھ لیتا تو حیران رہ جاتا کہ نو عمر اور نو آموز بچے کا اتنا عمدہ خوش خط۔ آہستہ آہستہ اس کی مشق میں پختگی تو آگئی لیکن باقاعدہ راہنمائی سے محروم ہی رہا، اسکول میں کوئی خطاطی کا استاد نہیں تھا اور آرٹ یا ڈرائنگ کا استاد اسے تھوڑا بہت سکھا تو دیتا تھا لیکن وہ لڑکا ان استادوں سے زیادہ بہتر لکھ لیتا تھا۔ چھوٹے چھوٹے مقابلے جیتتا رہا، محلے میں بھی بینر اور اشتہار لکھنے والے کی حیثیت سے پہچان بنوا لی۔ اسی دوران میٹرک کرلی اور آگے تعلیم جاری رکھنا مشکل ہوگیا تو اسکول جانا چھوڑ دیا۔برش اور رنگ لیتا اور گلیوں محلوں میں نکل جاتا لوگوں کی دکانوں پر نام لکھتا، بینر لکھتا اور چند پیسے کماتا، اس کام سے اسے تسکین نہیں مل رہی تھی وہ اس کام کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنانا چاہتا تھا لیکن اسے کوئی راہ نہیں مل رہی تھی۔ اسکول جب چھوڑ دیا تو وقت کی فراوانی بھی ہوگئی اور کام میں روانی بھی ہوگئی۔

ایک دن اسے کہیں سے ایک کتاب مل گئی جس کا نام تھا، خوشخطی سیکھیں۔ اس کتاب میں اردو اور عربی کے خطوں کے متعلق معلومات تھیں جیسے برش، قلم اور رنگوں کی بنیادی معلومات۔ اس نے وہ کتاب حفظ کرلی اور خطوں کی شکلیں یاد کرکے ان کی مشق شروع کردی۔ ایک دن وہ بڑی کتابوں کی دوکان میں گیا اور وہاں سے اپنے کام کے متعلق کسی کتاب کا پوچھا، اسے کوئی خاص کتاب تو نہ ملی مگر عربی رسم الخط کے متعلق اسے ایک چھوٹا سا کتابچہ مل گیا اس نے وہی خرید لیا۔ اب عربی تو وہ پڑھ نہیں سکتا تھا لیکن عربی خطوں کی شکلیں اسے پتا چل گئیں،

چھوٹے چھوٹے کام کرتے ہوئے وہ بڑی کمپنیوں اور اداروں کے کام کرنے لگا۔

ایک دفعہ کراچی کی ایک مصروف شاہراہ پر وہ یونہی تاج کمپنی کا سائن بورڈ لکھنے میں مصروف تھا کہ ایک بڑی گاڑی اس بورڈ کے نیچے آکر رک گئی اور گاڑی میں بیٹھے شخص نے اسے نیچے آنے کا اشارہ کیا۔ وہ نیچے آیا تو دیکھا اس سے مخاطب ایک عربی شخص ہے اور عربی زبان سے تو وہ ناواقف تھا، اس بڑی گاڑی کے پیچھے ایک چھوٹی گاڑی بھی آکر رکی اس میں عربی شخص کے جاننے والے پاکستانی افراد تھے۔ وہ نیچے اترے اور اس لڑکے سے کہنے لگے کہ شیخ چاہتا ہے کہ تم اس کے ساتھ سعودی عرب چلو اور وہاں جاکر اس کے لیے خطاطی کا کام کرو۔ لڑکا کہنے لگا مجھے تو عربی بولنا اور لکھنا آتی ہی نہیں میں کیسے یہ کام کروں گا، تو اس عربی شخص نے بتایا کہ تم جس خط میں یہ بینر لکھ رہے ہو یہ عرب کا مشہور خط ہے اور اسے ہر کوئی لکھ بھی نہیں سکتا۔ تم تو اسے کمال مہارت سے لکھ رہے ہو اور کہتے ہو میں جانتا بھی نہیں۔

وہ عربی سعودی سفیر کا دوست تھا اور پاکستان سے ہنر مند افراد کو لینے آیا تھا، اسے پاکستانی خطاط لڑکے کا کام پسند آگیا اور اسے ساتھ چلنے کا کہا۔ یوں گھر سے اجازت لے کر اس نے پاسپورٹ بنوا کر شیخ کے حوالے کیا اور چند دنوں بعد وہ سعودی شہر ریاض میں بیٹھا بینر لکھ رہا تھا۔ جب کام کرتے ہوئے کافی سال گزر گئے تو سعودیہ میں رہنے سے ایک تو اس نے عربی زبان میں مہارت حاصل کرلی دوسرا تمام عربی خط اور رسم الخط میں وہ تقریباً کمال کے درجے تک جا پہنچا۔ اس کا کفیل اچھا آدمی تھا اور اس پاکستانی خطاط کی بے پناہ عزت بھی کرتا تھا، وہ اپنے کفیل سے اجازت لے کر کئی بار عمرہ اور زیارتیں وغیرہ بھی کر آیا۔

ایک دفعہ مدینہ منورہ میں مسجد نبوی ﷺ کے اندر نماز ادا کرتے ہوئے اس کے دل میں خواہش نے جنم لیا کہ کاش مجھے موقع ملے اور مسجد نبویﷺ کے اندر اپنے ہاتھ سے ایک تختی پر ایسی خطاطی کروں کہ دنیا حیران رہ جائے. یہ خواہش لے کر وہ وہاں سے ریاض آگیا، کام کاج کرتا رہا، وقت گزرتا رہا لیکن خواہش برابر پروان چڑھتی رہی۔

ایک بار اس نے کہیں سے سنا کہ مدینہ منورہ میں اعلان ہوا کہ دنیا بھر سے خطاط حضرات کو دعوت ہے کہ وہ ایک مقررہ تاریخ پر ایک مخصوص رسم الخط میں ایک مخصوص عبارت لکھ کر جمع کروائیں جو خطاط اس مقابلے میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے میں کامیاب ہوگیا اسے مسجد نبویﷺ کا خطاط مقرر کیا جائے گا۔ اسے لگا جیسے اس کی خواہش پوری ہونے کا وقت آگیا ہے، وہ وہاں گیا تو دیکھا وہاں دنیا بھر سے ایسے ایسے خطاط اپنا کام لے کر آئے تھے کہ ان سب کے سامنے اس کی حیثیت کچھ بھی نہیں تھی۔ وہ گیا اور اپنا کام پیش کرنے کی خواہش کی لیکن کسی نے بھی اسے سنجیدہ نہ لیا، نہ تو وہ معروف تھا اور نہ ہی اس کا کوئی کام ایسا تھا جو مشہور ہو، اور اوپر سے وہ کتابت کی جگہ سائن بورڈ اور بینر لکھنے والا اور پھر اہل زبان بھی نہیں، اور یوں اسے حصہ نہ لینے دیا گیا اور وہ مایوس ریاض لوٹ آیا۔ مقابلے کے اختتام کا وقت قریب تھا اور اس کی ایک بھی نہیں چل رہی تھی، تقریباً اس نے دل چھوڑ ہی دیا تھا کہ اس کی دکان پر ایک عربی آیا اس نے کہا مجھے فلاں سائز کی تختی خط ثلث میں چاہیے، اس نے لکھ دی تو وہ حیران رہ گیا کہ اتنے چند ریالوں میں اتنا بہترین کام تو کوئی بھی نہیں کرتا۔ اس نے کہا تم میرے ساتھ چلو اور میرے لیے کام کرو وہاں معاوضہ دگنا ملے گا۔ اس لڑکے نے انکار کردیا تو وہ عربی کہنے لگا میں ایک دکان مدینہ منورہ میں کھولنا چاہ رہا ہوں اگر کوئی دوسرا خطاط ہوا تو بتانا۔ جب اس لڑکے نے مدینہ منورہ کا نام سنا تو کہا مجھے لے چلو میں وہاں کام کروں گا۔ اسے ایک امید لگ گئی کہ شاید میرا وسیلہ بن جائے۔

یوں وہ کسی نہ کسی طرح پہلے مہربان کفیل کو تقریباً ناراض ہی کرکے مدینہ منورہ چلا گیا۔ مقابلے کے اختتام کا وقت قریب تھا اور نئے کفیل کے ساتھ کام کاج بہت زیادہ تھا، دکان چھوڑ کر نکلنا بڑا مشکل تھا۔ نیا کفیل اس کے کام سے حد درجہ خوش تھا، اس جیسا کام تو سعودیہ میں کوئی دوسرا کرنے والا تھا ہی نہیں۔ کفیل تو یوں تھا جیسے اس کا مرید ہوگیا ہو، اسے بہترین کھانے کھلاتا، جب بھی ملتا تو ہاتھ اور ماتھا چومتا، غرض بڑی آؤ بھگت کرتا۔ اس نے ایک دن کفیل سے اپنا مدعا بیان کیا کہ میں مسجد نبوی ﷺ میں خطاطی کے مقابلے میں حصہ لینا چاہتا ہوں میری کچھ مدد کردو۔

کفیل نے اس کی بات مان لی اور اپنے جاننے والوں سے کہہ کہلوا کر اسے کسی طرح اس مقابلے تک لے ہی گیا، بڑی مشکل سے اس کا نام رجسٹر ہوا اور اسے مقابلے کے لیے بطورِ نمونہ پہلے ایک عبارت لکھوائی گئی پھر اسے شریک کیا گیا۔ یوں اس کی لکھی ہوئی تختی اور وہ اس مقابلے میں شریک ہوگئے۔

مقابلہ ختم ہوا اور نتائج کے اعلان کا دن تھا، دنیا بھر سے ماہر اساتذہ کے درمیان اس کا کام کیا حیثیت رکھتا تھا، بہرحال مقابلے کے نتیجے کا اعلان ہوا اور خلاف توقع وہ دنیا بھر کے ماہر خطاطوں کو پچھاڑ کر اوّل انعام کا حقدار ٹھہرا، امام الحرم اور جیوری نے جب اس خطاط کا نام اور ملک پوچھا تو کہنے لگا:

الزمان، پاکستان سے"

پورے مجمعے پر خاموشی چھا گئی اور پورے عرب کے خطاط ایک دفعہ حیران رہ گئے کہ اجنبی نام اور غیر عرب کیسے اہل عرب سے جیت گیا، اور وہ شخص جیتا جسے مقابلے میں شریک ہی نہیں ہونے دیا جارہا تھا۔

یوں جناب محترم شفیق الزمان کی خوش نصیبی اور سعادت کہ کہاں ایک تختی لگانے کی خواہش اور کہاں در و دیوار منور کرنے کے لیے مسجد نبوی ﷺ کا خطاط مقرر کیا گیا۔ آہستہ آہستہ وہ وہاں کے تمام خطاطوں کے استاد بن گئے۔ آج سعودی عرب میں نصف صدی کے لگ بھگ عرصہ گزارنے کے بعد مسجد نبوی ﷺ کے در دیوار پر پچاسی فیصد کام شفیق الزماں کے ہاتھوں کا لکھا ہوا ہے، حتیٰ کہجس دروازے (باب سلام) سے داخل ہوکر اور جس مقام پر پہنچ کر سارا عالم اسلام روضۂ اقدسﷺ پر حاضری اور سلام کی سعادت حاصل کرتا ہے ان تمام جگہوں کو شفیق الزمان کے قلم اور برش نے مزین کررکھا ہے۔ ایک عجمی کا خطاط المسجد النبوی ﷺ پانا ایک معجزہ اور ایک سعادت سے کم نہیں۔ آج حرم مکی کے امام، حرم مدنی کے خطاط سے ملنے میں سعادت اور فخر سمجھتے ہیں اور حرمین الشریفین کے تمام خطاطی کے کاموں کے لئے شفیق الزمان سے مشاورت کی جاتی ہے۔

منقول

حضور ﷺ كا کھانے پینے کا ذوق بہت نفیس تھا، گوشت سے خاص رغبت تھی، زیادہ ترجیح دست، گردن اور پیٹھ کے گوشت کو دیتے، نیز پہلو...
03/02/2026

حضور ﷺ كا کھانے پینے کا ذوق بہت نفیس تھا، گوشت سے خاص رغبت تھی، زیادہ ترجیح دست، گردن اور پیٹھ کے گوشت کو دیتے، نیز پہلو کی ہڈی پسند تھی، ثرید (گوشت کے شوربہ میں روٹی کے ٹکڑے بھگو کر یہ مخصوص عربی کھانا تیار کیا جاتا تھا) تناول فرمانا مرغوب تھا، پسندیدہ چیزوں میں شہد، سرکہ، خربوزہ، ککڑی، لوکی، کھچڑی، مکھن وغیرہ اشیاء شامل تھیں، دودھ کے ساتھ کھجور (بہترین مکمل غذا بنتی ہے) کا استعمال بھی اچھا لگتا اور مکھن لگا کے کھجور کھانا بھی ذوق میں شامل تھا، کھرچن (تہ دیگی) سے بھی اُنس تھا، ککڑی نمک لگا کر اور خربوزہ شکر لگا کر بھی کھاتے، مریضوں کی پرہیزی غذا کے طور پر حریرا کو اچھا سمجھتے اور تجویز بھی فرماتے، میٹھا پکوان بھی مرغوب خاص تھا، اکثر جو کے ستو بھی استعمال فرماتے۔
ایک مرتبہ بادام کے ستو پیش کئے گئے تو یہ کہہ کر انکار کردیا کہ یہ امراء کی غذا ہے، گھر میں شوربہ پکتا تو کہتے کہ ہمسایہ کے لئے ذرا زیادہ بنایا جائے، پینے کی چیزوں میں نمبر ایک میٹھا پانی تھا اور بطور خاص دو روز کی مسافت سے منگوایا جاتا، دودھ، پانی ملا دودھ (جسے کچی لسی کہا جاتا ہے) اور شہد کا شربت بھی رغبت سے نوش فرماتے، غیر نشہ دار نبیذ بھی قرین ذوق تھی، افراد کا الگ الگ بیٹھ کر کھانا ناپسند تھا، اکٹھے ہوکر کھانے کی تلقین فرمائی، سونے چاندی کے برتنوں کو بالکل حرام فرما دیا تھا، کانچ، مٹی، تانبہ اور لکڑی کے برتنوں کو استعمال میں لاتے رہے، دسترخوان پر ہاتھ دھونے کے بعد جوتا اتار کر بیٹھتے، سیدھے ہاتھ سے کھانا لیتے اور اپنے سامنے کی طرف سے لیتے، برتن کے وسط میں ہاتھ نہ ڈالتے، ٹیک لگا کر کھانا پینا بھی خلاف معمول تھا، دو زانو یا اکڑوں بیٹھتے، ہرلقمہ لینے پر بسم اللہ پڑھتے، ناپسندیدہ کھانا بغیر عیب نکالے خاموشی سے چھوڑ دیتے، زیادہ گرم کھانا نہ کھاتے، کھانا ہمیشہ تین انگلیوں سے لیتے اور ان کو لتھڑنے نہ دیتے، دعوت ضرور قبول فرماتے اور اگر اتفاقاً کوئی دوسرا آدمی (بات چیت کرتے ہوئے یا کسی اور سبب سے) ساتھ ہوتا تو اسے لیتےجاتے مگر صاحب خانہ سے اس کے لئے اجازت لیتے، مہمان کو کھانا کھلاتے تو بار بار اصرار سے کہتے کہ اچھی طرح بے تکلفی سے کھاؤ، کھانے کی مجلس سے بہ تقاضائے مروّت سب سے آخر میں اٹھتے، دوسرے لوگ اگر پہلے فارغ ہوجاتے تو ان کے ساتھ آپ ﷺ بھی اٹھ جاتے، فارغ ہوکر ہاتھ ضرور دھوتے، دعا کرتے جس میں خدا کی نعمتوں کیلئے ادائے شکر کے کلمات ہوتے، نیز طلب رزق فرماتے اورصاحب خانہ کے لئے برکت چاہتے۔

کھانے کی کوئی چیز آتی تو حاضر دوستوں کو باصرار شریک کرتے اور غیر حاضر دوستوں کا حصہ رکھ دیتے، پانی غٹ غٹ کی آواز نکالے بغیر پیتے اور بالعموم تین بار پیالہ منہ سے الگ کرکے سانس لیتے اور ہر بار آغاز" بسم اللہ" اور اختتام " الحمد للہ والشکرللہ" پر کرتے، عام طریقہ بیٹھ کر پانی پینے کا تھا، پینے کی چیز مجلس میں آتی تو بالعموم داہنی جانب سے دور چلاتے اور جہاں ایک دور ختم ہوتا دوسرا وہیں سے شروع کرتے، بڑی عمر کے لوگوں کو ترجیح دیتے مگر داہنے ہاتھ والوں کے مقررہ استحقاق کی بناء پر ان سے اجازت لےکر ہی ترتیب توڑتے، کھانے پینے کی چیزوں میں پھونک مارنا یا ان کو سونگھنا نا پسندتھا، کھانے پینے کی چیزوں کو ڈھانکنے کا حکم دیا ہے، کوئی نیا کھانا سامنے آتا تو کھانے سے پہلے اس کا نام معلوم فرماتے، زہر خورانی کے واقعہ کے بعد معمول ہوگیا تھا کہ اگر کوئی اجنبی شخص کھانا کھلاتا تو پہلے ایک آدھ لقمہ خود اسے کھلاتے۔

کبھی اُکڑوں بیٹھتے، کبھی دونوں ہاتھ زانوؤں کے گرد حلقہ زن کرلیتے، کبھی ہاتھوں کے بجائے کپڑا (چادر وغیرہ) لپیٹ لیتے، بیٹھے ہوئے ٹیک لگاتے تو بالعموم الٹے ہاتھ پر، فکر یا سوچ کے وقت بیٹھے ہوئے زمین کو لکڑی سے کریدتے، سونے کے لئے سیدھی کروٹ سوتے اور دائیں ہاتھ کی ہتھیلی پر داہنا رخسار پر رکھ دیتے، کبھی چت بھی لیٹتے اور پاؤں پر پاؤں بھی رکھ لیتے، مگر ستر کا اہتمام رکھتے، پیٹ کے بل اور اوندھا لیٹنا سخت ناپسند تھا اور اس سے منع فرماتے تھے، ایسے تاریک گھر میں سونا پسند نہ تھا جس میں چراغ نہ جلایا گیا ہو، کھلی چھت پر جس کے پردے کی دیوار نہ ہو سونا اچھا نہ سمجھتے، وضو کرکے سونے کی عادت تھی اور سوتے وقت مختلف دعائیں پڑھنے کے علاوہ آخری تین سورتیں (سورۂ اخلاص اور معوذتین) پڑھ کر بدن پر دم کرلیتے، سوتے ہوئے ہلکی آواز سے خراٹے لیتے، رات میں قضائے حاجت کے لئے اٹھتے تو فارغ ہونے کے بعد ہاتھ منہ ضرور دھوتے، سونے کے لئے ایک تہ بند علیحدہ تھا، کرتا اتار کر ٹانگ دیتے۔“

سیرت النبی ﷺ .. مولانا شبلی نعمانی..

ای چالان کا ایک اور غیرحتمی غیر سرکاری ڈرامہصباء نامی خاتون  کو اس وقت  جھٹکا لگا جب ملتان میں کھڑی کورے کار کا ای چالان...
02/02/2026

ای چالان کا ایک اور غیرحتمی غیر سرکاری ڈرامہ
صباء نامی خاتون کو اس وقت جھٹکا لگا جب ملتان میں کھڑی کورے کار کا ای چالان پنجاب چورنگی کراچی میں 10000 کا چالان بھیج دیا۔ جب سکتے سے باہر آئِی تو۔ ڈرگ روڈ میں واقع ٹریفک سیکشن میں واقعہ کا بتایا تو خاتون کو محضہ خیز جواب دیا کہ آپ کو پتا ہوگا کہ آپ کی گاڑی کہاں ہے۔ چلیں ایک کام کریں اپنی گاڑی کے کاغذات اور آگے پیچھے کی تصاویر لا دیں۔ پھر اس معاملے کو دیکھتے ہیں۔ خاتون کا کہنا ہے میری گاڑی کی جعلی نمبر پلیٹ کراچی کی سڑکوں پر گھوم رہی ہے۔ کوئی پوچھنے والا نہیں۔کیمرے میں اب چہرے بھی واضع ہیں۔ قانون کو حرکت میں آنے کے بجائے ان کو الٹا مفید مشورے دیئے جا رہیں۔
مذکورہ خاتون کا کہنا تھا کہ برائے مہربانی تصویر میں نظر آنے والے شخص کو تلاش کر کے قانونی کارروائی کی جائے۔

30/01/2026

Address

Bagh
12500

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Kashmiri & World News posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share