29/09/2025
یادوں کا قافلہ… میٹرک کے بعد ایک لمحہ
برائے سال 2007
میٹرک کا امتحان ختم ہوا، اور یوں لگا جیسے زندگی کا ایک باب بند ہو کر نئے سفر کا آغاز ہونے والا ہے۔ انہی دنوں ایک دن، جگری کلاس فیلوز کے ساتھ ایک گروپ فوٹو لی — ایک تصویر، جو بظاہر تو محض ایک لمحے کی قید تھی، مگر درحقیقت وہ پورا بچپن سمیٹے ہوئے تھی۔
وہ ہنسی، وہ شوخیاں، وہ بستوں میں چھپے خواب، وہ وقفے میں مل کر چپس بانٹنا، استادوں کی ڈانٹ اور دوستوں کی ڈھال بن جانا… سب کچھ اس ایک تصویر میں سانس لیتا محسوس ہوا۔
جب اس تصویر کو دیکھا، دل ایک دم ماضی کی گلیوں میں جا نکلا۔ والدین کی چھاؤں، ان کا بےلوث پیار، وہ بےفکری کے دن جب ہر مسئلے کا حل ایک آئس کریم یا والد کی مسکراہٹ ہوا کرتا تھا۔ آج کے الجھے، مصروف اور فکرمند حالات دیکھ کر دل بےاختیار سوچنے پر مجبور ہوا — کہ کاش وقت وہیں تھم جاتا۔
زندگی کے موجودہ دھندلکوں میں وہ تصویری لمحہ ایک روشنی کی مانند ہے، جو یاد دلاتا ہے کہ اصل خوشی سادگی میں تھی، اصل سکون بےنیازی میں تھا، اور اصل دولت وہ رشتے تھے جنہیں ہم نے کبھی معمولی جانا۔
کبھی کبھی ایک تصویر، ایک لمحہ، ایک پرانا دوست… انسان کو وہ سب کچھ یاد دلا دیتا ہے جو آج بھی دل کے سب سے خوبصورت گوشے میں محفوظ ہوتا ہے۔