Deeپ Jaly

Deeپ Jaly شاعری-جذبات-احساس-تلخیاں-
poetry video status key liyeh is page pey visit kry

21/06/2020

کسی نے پھر ہمیں تسخِیر کر لیا شاید
کوئی مِثال تو آئی تِری مثال کے بعد!

21/06/2020

مرشد سنا تھا ، وقت ہر درد کی دوا ھے
پر مرشد ہمارا "درد" تو بڑھتا ہی چلا گیا

تمہارے شہر کا موسم بڑا سہانا لگےمیں ایک شام چرا لوں اگر برا نہ لگےتمہارے بس میں اگر ہو تو بھول جاؤ مجھےتمہیں بھلانے میں ...
19/06/2020

تمہارے شہر کا موسم بڑا سہانا لگے
میں ایک شام چرا لوں اگر برا نہ لگے

تمہارے بس میں اگر ہو تو بھول جاؤ مجھے
تمہیں بھلانے میں شاید مجھے زمانہ لگے

جو ڈوبنا ہے تو اتنے سکون سے ڈوبو
کہ آس پاس کی لہروں کو بھی پتا نہ لگے

وہ پھول جو مرے دامن سے ہو گئے منسوب
خدا کرے انہیں بازار کی ہوا نہ لگے

نہ جانے کیا ہے کسی کی اداس آنکھوں میں
وہ منہ چھپا کے بھی جائے تو بے وفا نہ لگے

تو اس طرح سے مرے ساتھ بے وفائی کر
کہ تیرے بعد مجھے کوئی بے وفا نہ لگے

تم آنکھ موند کے پی جاؤ زندگی قیصرؔ
کہ ایک گھونٹ میں ممکن ہے بد مزہ نہ لگے

قیصر الجعفری

19/06/2020

نہیں لکھنے ہیں افسانے
نہ نظموں کی ٖضرورت ہے
مجھے بس اتنا کہنا ہے
مجھے تم سے محبت ہے

19/06/2020

الله سائیں مجھے ایسی طاقت عطا فرما کہ جن چیزوں کو میں تبدیل نہ کر سکوں ان کے لئے اپنی جان عذاب میں نہ ڈالوں اور جن چیزوں کو میں تبدیل کر سکون ان کے لئے مجھے جرأت عنایت فرمائی جائے -

ساتھ ہی مجھے وہ عقل بھی عطا فرمائی جائے ، جو ان دونوں حقیقتوں کے درمیان فرق کر سکے تا کہ میں بیکار اور بے یار و مددگار بھٹکتا نہ پھروں! “

اشفاق احمد

09/06/2020

میں دشت دشت رُسوا،تُو سراب سا مسلسل..
میں لمحہ لمحہ تنہا،تُو خواب سا مسلسل..
مشہور ہیں نگر میں میری تشنگی کے قصے
میں قریه قریہ پیـاسا،تُو آب سا مسلسل..
میں عکسِ آشنائی،تُو سراپا دل لگی ہے..
میں خار خار زندگی،تُو گلاب سا مسلسل..
میں گلی گلی مسافر،تیرے قُرب کا دیوانه،
میں کوچہ کوچہ بکھرا،تُو نایاب سا مسلسل.....!

09/06/2020

محبت جِن سے کرتے ہیں اُنہیں پھر اُڑنے دیتے ہیں
کہ جِن کو چاہ ہوتی ہے وہ خُود ہی قید رہتے ہیں
عاطف مسعود

08/06/2020

یار تکے جداں

کوٹ مٹھن شریف میں ایک مجذوب تھا، جو ہر آتے جاتے سے ایک ہی سوال پوچھتا رہتا کہ
*" عید کداں؟
کچھ لوگ اس مجذوب کی بات اَن سُنی کر دیتے اور کچھ سُن کر مذاق اُڑاتے گُزر جاتے
ایک دن حضرت خواجہ غلام فرید رحمة اللہ علیہ اس جگہ سے گزرے تو وہ مجذوب مزید ترستی آنکھوں سے
گُویا ھوا:
عید کداں؟
آپ صاحبِ حال بزرگ تھے، اُس کا سوال سُن کر مسکرائےاور کہا *یار ملے جداں۔ ( جب محبوب ملے، وہی دن عید کا دن ھو گا۔ ) یہ الفاظ سُنتے ھی مجذوب کی آنکھُوں سے مُوتیُوں کی طرح آنسُوں جاری ھو گئے۔ وہ مزید ترستی آنکھوں سے گُویا ھوا: سرکار! " یار ملے کداں؟
خواجہ غلام فرید رحمة اللہ علیہ نے فرمایا
" مَیں مرِے جداں " *
بس یہ فرمانا تھا کہ مجذوب نے کپکپاتے اور تھرتھراتے ھوۓ عرض کیا :
حضور !" مَیں مرےِ کداں " سرکار رحمة اللہ علیہ مسکراۓ۔ اُسے پیار سے تھپکی دیتے یہ کہتے چل دیے,
"یار تکے جداں "

07/06/2020

Address

Attock

Telephone

+923155703231

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Deeپ Jaly posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Establishment

Send a message to Deeپ Jaly:

Share