Pushtopoint.com

Pushtopoint.com Fun

مشتاق احمد کی بہادری اپنی جگہ پر مگر گلوبل صمود فلوٹیلا قافلے میں شریک اس غیر مسلم لڑکی کی جرآت غیرت ولولہ خیرت انگیز ھے...
02/10/2025

مشتاق احمد کی بہادری اپنی جگہ پر مگر گلوبل صمود فلوٹیلا قافلے میں شریک اس غیر مسلم لڑکی کی جرآت غیرت ولولہ خیرت انگیز ھے تاریخ لکھی جائے گی کہ جس وقت مسلمان خواب غفلت میں پڑے ہوئے تھے اور اہل غ زہ پر تاریخ کا بدترین ظلم برپا تھا ، اس وقت اللہ تعالیٰ ایک غیر مسلم خاتون گریٹا تھونبرگ کے زریعے اپنے دین کی مدد کر رہا تھا ، یہ وہ عظیم خاتون ہے جو گلوبل صمود فلوٹیلا کی روح رواں ہے ، اللہ پاک گریٹا سمیت تمام افراد جو گلوبل صمود فلوٹیلا کا حصہ ہیں حفاظت فرما، اور اس عظیم خاتون کا سینہ اسلام کی روشنی سے منور کر دے

ایک نڈر شخص ایک کاز کے لئےدو مختلف فورسز کے ہاتھوں دو مختلف جگہوں سے گرفتارایک اسلام آباد ڈی چوکدوسرا غ ز ہ کا ساحل سمند...
02/10/2025

ایک نڈر شخص
ایک کاز کے لئے
دو مختلف فورسز کے ہاتھوں دو مختلف جگہوں سے گرفتار
ایک اسلام آباد ڈی چوک
دوسرا غ ز ہ کا ساحل سمندر
ایک تصویر میں مظلوموں کے لئے احتجاج کی جرم میں گرفتار کیا گیا تھا
جبکہ
دوسری تصویر میں ننھے منے اور شیر خوار بچوں کو امن دلانے اور خوراک پہنچانے کے لئے ہزاروں میل کا بحری راستہ عبور کرتے ہوئے غ ز ہ کے ساحل پر آج گرفتار کیاگیا۔۔۔۔
دونوں فورسسز نے ان کو مظلوموں کے حق میں آواز بلند کرنے کی پاداشات میں گرفتار کیا تھا /کیا ہے۔۔۔ دونوں کا ایجنڈا ایک ہے کہ مظلوم کو بس مظلوم ہی رہنے دوں ۔۔۔ دونوں کے نزدیک مظلوم کے لئے آواز بلند کرنا بھی ایک جرم ہے۔۔۔
بس فرق صرف اتنا ہے
کہ ایک اسلام کے قلعے کے سپاہی ہے جب کہ دوسرا نجس کے سپاہی ہے۔۔۔

خواجہ آصف بڑا خوش تھا کہ امریکہ پہنچنے پر مہدی حسن کی جانب سے اسے اپروچ کیا گیا ہے۔ اسے لگا کہ جیسے اب وہ بھی عمران خان ...
27/09/2025

خواجہ آصف بڑا خوش تھا کہ امریکہ پہنچنے پر مہدی حسن کی جانب سے اسے اپروچ کیا گیا ہے۔ اسے لگا کہ جیسے اب وہ بھی عمران خان کی طرح عالمی میڈیا پر ایک مقبول لیڈر کے طور پر ابھرے گا۔ لیکن اسے اندازہ نہیں تھا کہ مہدی حسن کے سوالات کی تپش کس قدر جھلسا دینے والی ہوتی ہے

پہلا وار تب ہوا جب مہدی حسن نے عام سے سوالات کے بعد اچانک کہا: "مسٹر آصف، آپ پر الزام ہے کہ آپ نے آٹھ فروری کے انتخابات میں عوامی مینڈیٹ چرایا ہے۔ آپ کی حکومت ایک چوری شدہ مینڈیٹ پر کھڑی ہے۔ فارم 47 کے ذریعے آپ لوگوں کو اقتدار میں لایا گیا۔"

یہ سنتے ہی خواجہ آصف کا چہرہ بجھ گیا۔ اس کی مسکراہٹ غائب ہو گئی۔ وہ چونک کر اینکر کی طرف دیکھنے لگا، جیسے کوئی طالبعلم امتحان میں مشکل سوال دیکھ کر گھبرا جائے۔ اس نے ہکلانے کی کوشش کی اور کہا کہ یہ سب الزامات ہیں، مگر اینکر نے اگلے ہی لمحے ویڈیو کلپ چلایا جس میں خواجہ آصف خود کہہ رہا تھا کہ اس کے پاس فارم 45 موجود ہیں اور ان کی بنیاد پر وہ شکست تسلیم کر چکا ہے۔

ابھی یہ زخم تازہ ہی تھا کہ مہدی حسن نے ایک اور نشتر مارا۔ اس نے کہا: "عمران خان کو غیر قانونی طور پر قید کیا گیا ہے۔ کیا یہ سیاسی انتقام نہیں؟" خواجہ آصف نے حسبِ روایت کہا کہ عمران خان کرپٹ ہیں۔ لیکن مہدی حسن نے فوراً پلٹ کر کہا: "کیا وجہ ہے کہ ان کے خلاف کرپشن کے یہ مقدمے ان کی حکومت کے دوران سامنے نہیں آئے؟ ان کے ساڑھے تین سالہ دور میں تو کوئی سکینڈل سامنے نہیں آیا۔ بلکہ آپ کی حکومت کے دوران تو سکینڈلز کی بھرمار ہو گئی۔ پھر یہ کیسے مان لیا جائے کہ عمران خان کرپٹ تھے؟"

خواجہ آصف نے عدالتوں کا ذکر کیا مگر مہدی حسن نے کمال مہارت سے جواب دیا: "کون سی عدالتیں؟ وہی عدالتیں جنہیں آپ نے 26ویں آئینی ترمیم کے ذریعے کنٹرول کر لیا؟ وہی عدالتیں جن پر خود ججز نے خط لکھ کر اداروں کی مداخلت کا اعتراف کیا؟"

یہاں خواجہ آصف کے چہرے پر ہوائیاں اڑنے لگیں۔ وہ پسینے میں شرابور ہونے لگا۔ پانی کے گھونٹ لیتا، مائیک کو دیکھتا اور بار بار گلا کھنکھارتا۔ لیکن مہدی حسن کہاں باز آنے والا تھا۔

انٹرویو کے دوران ایک موقع پر اینکر نے کہا: "پاکستان میں تحریک انصاف کو الیکشن سے باہر نکالا گیا جبکہ نون لیگ اور پیپلز پارٹی کو کھلی چھوٹ دی گئی۔ کیا یہ سب ریاستی اداروں کے مکمل تعاون کے بغیر ممکن تھا؟"

خواجہ آصف نے کہا کہ سپریم کورٹ نے ایسا کیا۔ مگر مہدی حسن نے تیز لہجے میں کہا: "سپریم کورٹ نے صرف انٹرا پارٹی الیکشنز کی بنیاد پر فیصلہ کیا تو پھر نون لیگ اور پیپلز پارٹی کے انٹرا پارٹی انتخابات کی جانچ کیوں نہیں ہوئی؟ کیا یہ سب کچھ پہلے سے طے شدہ کھیل نہیں تھا؟"

یہ سوال سنتے ہی خواجہ آصف کے ہاتھوں کی انگلیاں بے قابو ہو کر میز پر بجنے لگیں۔ اس نے سر جھکا کر کچھ مبہم سا کہا، لیکن جھوٹ کا بوجھ اتنا بھاری تھا کہ اس کے چہرے پر عیاں ہو گیا۔

اس کے بعد مہدی حسن نے انسانی حقوق کے حوالے سے سوال اٹھایا۔ "پاکستان کی جیلوں میں خواتین قید ہیں، ہزاروں کارکنان بغیر مقدمے کے گرفتار ہیں، صحافیوں کو اٹھایا جا رہا ہے۔ کیا یہ سب آپ کی حکومت نہیں کر رہی؟" خواجہ آصف نے کہا کہ یہ سب نو مئی کے ملزمان ہیں۔ مہدی حسن نے فوراً وار کیا: "نو مئی کی تحقیقات کہاں ہیں؟ اگر تحقیقات ہی نہیں ہوئیں تو پھر کس بنیاد پر ہزاروں کارکنان کو جیلوں میں ڈالا گیا؟"

یہاں تو خواجہ آصف کی زبان لڑکھڑانے لگی۔ اس نے کہا کہ شواہد کی بنیاد پر گرفتاریاں ہوئیں۔ مگر مہدی حسن نے سوال کیا: "کیا واقعی پاکستان کی پولیس اتنی تیز ہے کہ دو دن کے اندر ہزاروں لوگوں کے شواہد حاصل کر لیے گئے اور پھر ان کی بنیاد پہ پندرہ ہزار لوگوں کے گھروں پر چھاپے مار کر انہیں گرفتار کر لیا گیا؟ یہ دنیا کی تاریخ کا انوکھا واقعہ ہے۔"

یہ سن کر خواجہ آصف کی آنکھوں میں گھبراہٹ صاف جھلکنے لگی۔

پھر آئینی ترامیم کی بات آئی۔ مہدی حسن نے کہا: "26ویں آئینی ترمیم کو پاکستان کی تاریخ کی سیاہ ترین ترمیم کہا جا رہا ہے۔ اس کے ذریعے عدالتوں کو کنٹرول کیا گیا۔ کیا یہ سچ نہیں ہے؟"

خواجہ آصف نے کہا کہ یہ ترامیم پارلیمنٹ کے ذریعے آئیں۔ مگر مہدی حسن نے فوراً جواب دیا: "کیا یہ سچ نہیں کہ سینیٹرز کو اغوا کیا گیا، دباؤ ڈالا گیا اور زبردستی ووٹ لیے گئے؟ اختر مینگل کے اپنے سینیٹرز نے پریس کانفرنس میں کہا کہ انہیں دھمکایا گیا۔ تو پھر یہ ترامیم کیسے آزادانہ طور پر منظور ہوئیں؟"

یہاں خواجہ آصف کی حالت اس قیدی جیسی تھی جو قاضی کے سامنے جھوٹ بولنے کی کوشش کرے اور قاضی اس کے سامنے ہر ثبوت رکھ دے۔ وہ بار بار موضوع بدلنے کی کوشش کرتا رہا مگر مہدی حسن بار بار اصل سوال کی طرف لے آتا۔

انٹرویو کے آخری لمحات میں خواجہ آصف مکمل طور پر ہار چکا تھا۔ اس کی آواز بیٹھ گئی تھی، الفاظ ٹوٹ پھوٹ گئے تھے۔ وہ بار بار "یہ عدالتوں کا کام ہے" دہراتا رہا یہ جملہ اب ایک بے بسی کی چیخ بن چکا تھا۔ دوسری طرف مہدی حسن فاتحانہ انداز میں بیٹھا تھا، جیسے شکاری اپنے شکار کو بے بس دیکھ کر مسکرا رہا ہو۔

29/08/2025

سوات موٹروے لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے بند ھیں لہذا جی ٹی روڈ ملاکنڈ استعمال کریں
۔29/08/2025

21/08/2025

جنگلات کی کٹائی بھی بارشوں میں سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کا سبب بنتی ہے
ملاکنڈ ڈویژن میں ہر سال جنگلات
کو آگ بھی لگائی جاتی ہے

17/08/2025

بونیر باجوڑ سوات

25/06/2025

اگرحکمرانوں میں ہمت ہے تو ایران سے سستا تیل خریدیں۔

اگر ریڑھی والا ایک کلو سبزی کے دس روپے زیادہ وصول کر لے تو پاکستان کا سارا سسٹم متحرک ہوجاتا ھے.اس ڈاکہ زنی پر کسی کی نظ...
25/05/2025

اگر ریڑھی والا ایک کلو سبزی کے دس روپے زیادہ وصول کر لے تو پاکستان کا سارا سسٹم متحرک ہوجاتا ھے.

اس ڈاکہ زنی پر کسی کی نظر کیوں نہیں پڑھتا.

بچوں کے دل کی بات جاننا چاہتے ہیں؟ یہ پانچ کہانیاں آزمائیں!ماہرینِ نفسیات کا کہنا ہے کہ اگر والدین چاہیں تو کہانیوں کے ذ...
14/05/2025

بچوں کے دل کی بات جاننا چاہتے ہیں؟ یہ پانچ کہانیاں آزمائیں!

ماہرینِ نفسیات کا کہنا ہے کہ اگر والدین چاہیں تو کہانیوں کے ذریعے اپنے بچوں کے دل کی باتیں جان سکتے ہیں — ان کے جذبات، خوف، اور وہ رشتے جن سے وہ جڑے ہوئے ہوتے ہیں۔

اکثر بچوں کا ایک فطری جھکاؤ ماں یا باپ میں سے کسی ایک کی طرف زیادہ ہوتا ہے۔ لیکن والدین اگر یہ پوچھ بیٹھیں کہ "تمہیں امی زیادہ اچھی لگتی ہیں یا ابو؟" تو یہ سوال نہ صرف بچے کو الجھن میں ڈال دیتا ہے بلکہ اس کا اعتماد بھی متاثر کر سکتا ہے۔

اسی لیے چائلڈ سائیکالوجسٹ نے پانچ دلچسپ اور نرم طریقے بتائے ہیں، جنہیں کہانیوں کے انداز میں پیش کر کے آپ اپنے بچے کے دل کے راز جان سکتے ہیں — بغیر سوالوں کی بوچھاڑ کیے۔

1. پرندوں کی کہانی

اپنے بچے کو ایک کہانی سنائیں: ایک درخت پر پرندوں کا گھونسلہ تھا — ماں، باپ اور ایک ننھا پرندہ۔ ایک رات تیز آندھی آئی، اور گھونسلہ نیچے گر گیا۔ باپ پرندہ ایک درخت پر جا بیٹھا، ماں پرندہ دوسرے درخت پر۔
اب اپنے بچے سے پوچھیں: "ننھا پرندہ کہاں گیا ہوگا؟"

اگر بچہ کہے: "باپ کے پاس"، تو اس کا مطلب ہے وہ اپنے والد سے زیادہ جڑا ہوا ہے۔ اگر کہے: "ماں کے پاس"، تو وہ ماں کو اپنے تحفظ کی جگہ سمجھتا ہے۔

2. ڈرنے والے بچے کی کہانی

اسے بتائیں کہ ایک بچہ ہے جو اکثر روتا ہے اور کہتا ہے کہ وہ بہت ڈرتا ہے۔ پھر اس سے پوچھیں:
"تمہیں کیا لگتا ہے، وہ بچہ کس سے ڈرتا ہوگا؟"

بچے کا جواب اس کے اندر چھپے خوف، اور ان افراد کے بارے میں بتا سکتا ہے جن کی موجودگی اسے خوفزدہ کرتی ہے۔

3. دور جانے والے شخص کی کہانی

کہانی سنائیں کہ ایک شخص ہے جو بہت دور سفر پر جانے والا ہے — اتنا دور کہ کبھی واپس نہیں آئے گا۔ پھر بچے سے پوچھیں:
"تمہارے خیال میں وہ کون ہو سکتا ہے؟"

اگر بچہ کسی خاص فرد کا نام لیتا ہے، تو یہ اس کی دوری کی خواہش یا ناراضی کی علامت ہو سکتی ہے۔ لیکن اگر وہ کہے "میں جا رہا ہوں"، تو یہ خود سے نفرت یا مایوسی کی علامت ہو سکتی ہے، جو خاص توجہ کی متقاضی ہے۔

4. نئی خبر کی کہانی

بتائیں کہ ایک بچہ اسکول سے گھر آیا، اور اس کی ماں نے کہا:
"میرے پاس تمہارے لیے ایک زبردست خبر ہے!"
پھر بچے سے پوچھیں: "تمہیں کیا لگتا ہے وہ خبر کیا ہوگی؟"

یہ سوال آپ کو بچے کی امیدوں، خواہشات اور کچھ چھپے ہوئے ڈر تک لے جا سکتا ہے۔

5. خواب والی کہانی

کہیں کہ ایک بچہ رات کو اٹھا اور اپنی ماں سے کہا کہ اس نے ایک خوفناک خواب دیکھا ہے۔
اب اپنے بچے سے پوچھیں: "تمہارے خیال میں اس نے کیا خواب دیکھا ہوگا؟"

یہ جواب آپ کو بچے کے ذہن میں موجود الجھنوں، تعلقات کی کمزوریوں، یا اس کے دوستوں اور گھر والوں کے ساتھ تعلقات کی جھلک دکھا سکتا ہے۔

آخر میں ایک اہم بات:

بچے کے کسی بھی جواب کو فوراً رد نہ کریں، اور نہ ہی اس پر ناراضی ظاہر کریں۔ اسے یہ احساس نہ دلائیں کہ آپ کسی خاص جواب کی امید رکھتے تھے۔
ان کہانیوں کا مقصد صرف ایک ہے — بچے کے اندر چھپے احساسات کو سمجھنا اور اس کے جذبات کی عزت کرنا۔


#علم

سندھ جہاں غذائی قلت کی وجہ سے ماہانہ اوسطا 55 بچے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں -سندھ جہاں 41 لاکھ بچے تعلیمی اخراجات نہ ہ...
15/07/2024

سندھ جہاں غذائی قلت کی وجہ سے ماہانہ اوسطا 55 بچے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں -

سندھ جہاں 41 لاکھ بچے تعلیمی اخراجات نہ ہونے کی وجہ سے سکولوں سے باہر ہیں -

سندھ جہاں 1 کروڑ سے زائد لوگ پینے کے صاف پانی سے محروم ہیں وہ ڈنگروں کے ساتھ تالاب سے پانی پیتے ہیں -

جی ہاں اسی سندھ میں 1 A نمبر پلیٹ 10 کروڑ روپے میں فروخت ہوئی ہے-

صرف یہی نہیں ،ایک نمبر پلیٹ 8 کروڑ کی ایک 6 کروڑ کی اسی طرح 55کروڑ کی بولیاں صرف نمبر پلیٹوں پر لگی ہیں -

ان نفسیاتی بیماروں سے کوئی پوچھے کہ ایک نمبر والی نمبر پلیٹ لگانے سے تمہاری شان اونچی ہوگی؟ مقام بلند ہوگا -

یہ چاہتے تو یہی پیسہ انسانیت کی خدمت پر لگا سکتے تھے لیکن انہیں یہ سب باتیں تب یاد آتی ہیں جب قربانی کا موقع ہوتا ہے کہ قربانی کی بجائے کسی غریب کی بیٹی کی شادی کردو ،پانی کا کولر لگا دو -
Copied Facebook Facebook

14/05/2024

اگر منگلا ڈیم سے کشمیریوں کو بجلی سستی مل سکتی ہے،
تو پھر تربیلا ڈیم اور ديگر ڈيم پختون خوا میں ہیں،
پختون کیوں لاوارث؟

Address

Allahdand

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Pushtopoint.com posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Establishment

Send a message to Pushtopoint.com:

Share

Category

//iconSize: [32, 32], //html: '' }) .bindTooltip(name, { //permanent: true, direction: 'bottom', //offset: L.point(12, 25), //opacity: 0.88, interactive: true }) .bindPopup(name); markersLayer.addLayer(marker); } function getMore() { if (gettingMore) { return; } gettingMore = true; var center = map.getCenter(); $.ajax({ url: "/vicinitysearch", data: { lat: center.lat, lng: center.lng, country: "PAKISTAN" } }) .done(function(data) { var added = 0; data.forEach(function(loc) { if (!locationIds.includes(loc.id)) { var mapLoc = {id:loc.id,lat:loc.latitude,lng:loc.longitude,title:trunc20(loc.name),popupHtml:loc.popupHtml,urlPath:loc.urlPath,pictureUrl:loc.pictureUrl}; locations.push(mapLoc); locationIds.push(loc.id); map._addMarker(mapLoc); added++; } }); }) .always(function() { gettingMore = false; }); } map._clearMarkers = function() { markersLayer.clearLayers(); } }); }, 4000); });