09/04/2026
تمہیں ہے اپنے ستم کا ملال ویسے ہی
ہمارے دوش پہ سر تھا وبال ویسے ہی
چلا تھا ذکر زمانے کی بے وفائی کا
سو آگیا ہے تمہارا خیال ویسے ہی
میں روکنا ہی نہیں چاہتا تھا وار اس کا
گری نہیں میرے ہاتھوں سے ڈھال ویسے ہی
ہم آگئے تہہ دام تو نصیب اپنا
وگرنہ اس نے تو پھینکا تھا جال ویسے ہی
ہمیں بھی شوق نہ تھا داستان سنانے کا
فراز اس نے بھی پوچھا تھا حال ویسے ہی
احمد فراز