Aawaarah

Aawaarah Urdu adab Poetry and letratur

07/04/2026

سبھی کچھ ہے تیرا دیا ہوا سبھی راحتیں سبھی کلفتیں
کبھی صحبتیں کبھی فرقتیں کبھی دوریاں کبھی قربتیں

یہ سخن جو ہم نے رقم کیے یہ ہیں سب ورق تری یاد کے
کوئی لمحہ صبح وصال کا کوئی شام ہجر کی مدتیں

جو تمہاری مان لیں ناصحا تو رہے گا دامن دل میں کیا
نہ کسی عدو کی عداوتیں نہ کسی صنم کی مروتیں

چلو آؤ تم کو دکھائیں ہم جو بچا ہے مقتل شہر میں
یہ مزار اہل صفا کے ہیں یہ ہیں اہل صدق کی تربتیں

مری جان آج کا غم نہ کر کہ نہ جانے کاتب وقت نے
کسی اپنے کل میں بھی بھول کر کہیں لکھ رکھی ہوں مسرتیں

فیض احمد فیض

1979 میں ایک سولہ سالہ لڑکا دریائے برہم پتر کے ایک ویران ریتلے ٹاپو پر کھڑا تھا۔ وہاں اس نے سیکڑوں سانپ دیکھے جو سخت دھو...
06/04/2026

1979 میں ایک سولہ سالہ لڑکا دریائے برہم پتر کے ایک ویران ریتلے ٹاپو پر کھڑا تھا۔ وہاں اس نے سیکڑوں سانپ دیکھے جو سخت دھوپ میں جل کر مر چکے تھے۔

اس نے اپنے اردگرد پھیلے اس سنسان، بے جان منظر کو دیکھا اور ایک ایسا عہد کیا جس نے ایک دن 1,360 ایکڑ زمین کو زندگی سے بھر دینا تھا۔

اس کا نام جادھو پائینگ تھا۔

یہ جگہ تھی مجولی جزیرہ، آسام، بھارت۔ وہ ریتلا ٹکڑا صرف ریت اور گاد پر مشتمل تھا۔ نہ کوئی پودا، نہ سایہ، نہ زندگی۔ یہ سانپ سیلاب کے دوران وہاں پھنس گئے تھے۔ جب پانی اتر گیا تو ان کے پاس تیز دھوپ سے بچنے کے لیے کوئی پناہ نہ تھی۔ اس لیے وہ سب مر گئے۔

جادھو مقامی محکمہ جنگلات کے پاس گیا اور ان سے کہا کہ اس ریتلے علاقے میں درخت لگائے جائیں۔

وہ ہنس پڑے۔ انہوں نے کہا، “یہاں کچھ نہیں اگے گا۔ یہ صرف ریت ہے۔ ہمارا وقت ضائع نہ کرو۔”

تب جادھو نے فیصلہ کیا کہ وہ یہ کام خود کرے گا۔

وہ صرف سولہ سال کا تھا۔ اس کے پاس نہ پیسہ تھا، نہ رسمی تعلیم، نہ جنگلات یا نباتات کی تربیت۔ وہ میسنگ قبیلے سے تعلق رکھتا تھا، ایک مقامی برادری جسے اکثر مرکزی سماج سنجیدگی سے نہیں لیتا تھا۔

لیکن وہ ایک بات سمجھتا تھا جو ان ماہرین نے نہیں سمجھی، اگر آپ درخت لگائیں اور ان کی دیکھ بھال کریں، تو وہ اگتے ہیں۔ حتیٰ کہ ریت میں بھی۔

اس نے ابتدا بانس سے کی، کیونکہ بانس مضبوط ہوتا ہے، تیزی سے پھیلتا ہے، اور زمین کو بکھرنے سے بچاتا ہے۔ اس نے ایک چھوٹے سے حصے میں 20 پودے لگائے۔

ہر روز وہ واپس آتا، ان کو پانی دیتا، دریا سے برتن بھر بھر کر پانی لاتا، شدید گرمی میں گھنٹوں چلتا رہتا۔

آہستہ آہستہ بانس نے جڑ پکڑ لی۔

حوصلہ پا کر اس نے اپنا کام بڑھا دیا۔ اس نے آس پاس کے جنگلات سے بیج جمع کیے، مثلاً کاٹن کے درخت، برگد، ارجن، موج اور دوسرے پودے۔ وہ ان کو لگاتا، پانی دیتا، جانوروں سے بچاتا۔

سال بہ سال، دہائی بہ دہائی۔

اس کے گھر والوں کو لگتا تھا کہ وہ پاگل ہو گیا ہے۔ گاؤں کے لوگ سمجھ نہیں پاتے تھے کہ وہ اپنی زندگی ایک بے کار ریتلے ٹاپو پر کیوں ضائع کر رہا ہے۔ وہ کھیتی باڑی کر سکتا تھا، پیسہ کما سکتا تھا، ایک عام زندگی گزار سکتا تھا۔

لیکن اس نے درخت لگانے کا راستہ چنا۔ اکیلا، ہر دن۔

لوگ پوچھتے، “اس کا کیا فائدہ؟ یہ تو صرف ریت ہے۔ یہاں کبھی کچھ نہیں ہوگا۔”

جادھو نے بحث نہیں کی۔ وہ بس درخت لگاتا رہا۔

بانس پھیلنے لگا۔ درخت بلند ہونے لگے۔ ان کی جڑوں نے مٹی کو تھاما۔ گرتے پتوں نے نامیاتی مادہ پیدا کیا۔ ریت آہستہ آہستہ زرخیز زمین میں بدلنے لگی۔

پانچ سال بعد پہلے جانور نمودار ہوئے۔ پرندوں نے شاخوں پر گھونسلے بنائے۔ کیڑے مکوڑے آئے۔ چھوٹے جانوروں کو پناہ ملنے لگی۔

دس سال بعد وہاں ایک چھوٹا جنگل واضح نظر آنے لگا۔ پورا نظام زندگی کی طرف لوٹ رہا تھا، پودے، جانور، کیڑے، سب اپنی اپنی جگہ بناتے جا رہے تھے۔

جادھو درخت لگاتا رہا۔

اس کے ذہن میں کوئی عظیم منصوبہ نہیں تھا۔ وہ یہ خواب نہیں دیکھ رہا تھا کہ ایک دن وہ دنیا کا سب سے بڑا انسان کے ہاتھوں بنایا گیا جنگل کھڑا کر دے گا۔ وہ صرف ایک ایسی جگہ چاہتا تھا جہاں جانور زندہ رہ سکیں، جہاں سانپ دھوپ میں مرنے پر مجبور نہ ہوں۔

وہ اپنی گایوں کا دودھ بیچ کر گزر بسر کرتا تھا۔ سادہ زندگی گزارتا تھا۔ کبھی جنگل کے اندر اپنی بنائی ہوئی ایک چھوٹی سی جھونپڑی میں سوتا، کبھی اپنے خاندان کے ساتھ گاؤں میں۔

ہر صبح وہ اپنے درختوں کے پاس واپس آتا۔ لگانا، سنبھالنا، حفاظت کرنا۔

دہائیاں گزر گئیں۔ جنگل بڑھتا گیا۔ اور جادھو پائینگ اسی جنگل میں گم ہو گیا، ان درختوں کے درمیان جنہیں اس نے اپنے ہاتھوں سے اگایا تھا، ایک تنہا انسان، جسے دنیا جانتی بھی نہ تھی۔

پھر 2000 کی دہائی میں ایک غیر معمولی بات ہوئی۔

جنگلی ہاتھیوں نے اس جنگل کو ڈھونڈ لیا۔

100 سے زیادہ ہاتھیوں کا ایک ریوڑ، ایسے ہاتھی جن کے روایتی مسکن تباہ ہو رہے تھے، جادھو کے جنگل تک پہنچا اور وہیں رک گیا۔ اس جنگل نے انہیں خوراک، پانی اور پناہ دی۔

پھر ہرن آئے۔ پھر گینڈے۔ پھر بنگال کے شیر۔

جو جگہ کبھی ویران ریت تھی، وہاں اب ایک مکمل، زندہ ماحولیاتی نظام قائم ہو چکا تھا۔ شکاری بھی، شکار بھی۔ پرندے بھی، کیڑے بھی۔ ایک ایسا گھنا جنگل جو بڑے جانوروں کو بھی سنبھال سکتا تھا۔

اور اس سب کے مرکز میں جادھو پائینگ تھا، وہ انسان جس نے ہر درخت اپنے ہاتھ سے لگایا تھا۔

2008 میں ایک فوٹو جرنلسٹ اس جنگل تک پہنچا۔ وہ دراصل ایک غیر معمولی مقام پر ہاتھیوں کی موجودگی کی خبر کی تحقیق کر رہا تھا۔ جب اس نے یہ جنگل دیکھا تو حیران رہ گیا۔ مقامی حکام نے تصدیق کی کہ یہ جنگل تقریباً 1,360 ایکڑ پر پھیلا ہوا تھا، یعنی نیویارک کے سینٹرل پارک سے بھی بڑا، اور یہ سب ایک ہی انسان نے تیس برس میں بنایا تھا۔

پھر یہ کہانی دنیا تک پہنچی۔ میڈیا آیا۔ وہ “پاگل” آدمی جسے گاؤں والے برسوں تک نظر انداز کرتے رہے تھے، اچانک ایک ماحولیاتی ہیرو کے طور پر پہچانا جانے لگا۔

سائنس دانوں نے اس جنگل کا مطالعہ کیا۔ تحفظ ماحول کے کارکنوں نے اس کا جشن منایا۔ وہ سرکاری افسران جنہوں نے کبھی اس کی بات نہ سنی تھی، اب اسے اعزاز دینا چاہتے تھے۔

2015 میں اسے پدم شری دیا گیا، جو بھارت کے بڑے سول اعزازات میں سے ایک ہے۔ دنیا اسے “دی فاریسٹ مین آف انڈیا” کے نام سے جاننے لگی۔

لیکن اس شہرت نے جادھو کو نہیں بدلا۔ وہ آج بھی جنگل میں رہتا ہے۔ آج بھی اپنے درختوں کی دیکھ بھال کرتا ہے۔ آج بھی نئے پودے لگاتا ہے۔

جب اس سے پوچھا جاتا ہے کہ اس نے یہ سب کیوں کیا، تو اس کا جواب بہت سادہ ہوتا ہے:
“سانپ اس لیے مر گئے تھے کیونکہ وہاں درخت نہیں تھے۔ میں نہیں چاہتا تھا کہ کوئی اور مخلوق بھی اسی طرح مرے۔”

آج مولائی جنگل، جو اس کے عرفی نام پر رکھا گیا، 100 سے زیادہ ہاتھیوں، کئی بنگال ٹائیگرز، بھارتی گینڈوں، ہرنوں، جنگلی سوروں، سینکڑوں پرندوں اور بے شمار چھوٹی مخلوقات کا گھر بن چکا ہے۔ ایک مکمل، پھلتا پھولتا ماحولیاتی نظام، وہاں جہاں کبھی صرف ریت تھی۔

ایک شخص۔ نہ پیسہ۔ نہ ادارہ جاتی مدد۔ نہ رسمی تربیت۔

صرف عزم۔ صرف ہر روز واپس آنے کی عادت۔ صرف یہ انکار کہ ایک ویران ریتلا ٹاپو ہمیشہ ویران ہی رہے گا۔

محکمہ جنگلات کے ماہرین نے کہا تھا یہ ناممکن ہے۔ فطرت نے جادھو کی مدد سے انہیں غلط ثابت کر دیا۔

تیس برس تک اس نے یہ جنگل اکیلے بنایا، بغیر کسی پہچان، بغیر فنڈنگ، بغیر مدد کے۔ وہ حکومت، جسے مسکن بچانے اور درخت لگانے چاہییں تھے، کچھ نہ کر سکی۔

ایک غریب آدمی، ایک محروم برادری سے تعلق رکھنے والا شخص، اکیلا وہ کام کر گیا جو پورا محکمہ جنگلات نہ کر سکا۔

اور جب ہاتھی “بہت زیادہ” ہونے لگے، کیونکہ اس نے ان کے لیے اتنا اچھا مسکن بنا دیا تھا، تو حکام نے انہیں وہاں سے ہٹانے کا ارادہ کیا، جس سے وہ پورا نظام تباہ ہو سکتا تھا جسے اس نے اپنی زندگی دے کر بنایا تھا۔

جادھو ڈٹ گیا۔ اس نے کہا:
“یہ میرے خاندان کی طرح ہیں۔ انہیں ہٹانا ہے تو پہلے مجھے گولی مارنی ہوگی۔”

ہاتھی وہیں رہے۔

آج جادھو اپنی ساٹھ کی دہائی میں ہے۔ وہ آج بھی درخت لگاتا ہے۔ آج بھی جنگل سنبھالتا ہے۔ آج بھی جانوروں کے درمیان سادہ زندگی گزارتا ہے۔

اس کے پاس تقریباً کچھ بھی نہیں۔ یہ جنگل قانونی طور پر اس کی ملکیت بھی نہیں، کیونکہ یہ سرکاری زمین پر ہے۔ اس نے کبھی اس سے منافع نہیں کمایا۔

وہ تو صرف ایک ایسی جگہ چاہتا تھا جہاں سانپ دھوپ میں نہ مریں، جہاں جانور زندہ رہ سکیں، جہاں زندگی پھل پھول سکے۔

اور آج 1,360 ایکڑ پر پھیلا ہوا ایک گھنا جنگل، جو ہزار سے زیادہ فٹبال میدانوں کے برابر ہے، صرف اس لیے موجود ہے کہ ایک سولہ سالہ لڑکے نے مردہ سانپ دیکھے اور یہ ماننے سے انکار کر دیا کہ کچھ نہیں کیا جا سکتا۔

اگلی بار جب کوئی آپ سے کہے کہ ایک انسان فرق نہیں ڈال سکتا، تو جادھو پائینگ کو یاد کیجیے۔

جب کوئی کہے کہ مسئلہ بہت بڑا ہے، کام بہت مشکل ہے، دنیا بہت خراب ہو چکی ہے، تو اس کہانی کو یاد رکھیے۔

جادھو پائینگ نے ہر روز درخت لگائے۔ چالیس سال تک۔

اور آج وہ ایسے جنگل میں رہتا ہے جہاں ہاتھی اور شیر بستے ہیں، وہاں جہاں سائنس دانوں نے کہا تھا کہ کبھی کچھ نہیں ہو سکتا۔

ایک شخص۔ ایک پودا ایک وقت میں۔ چالیس سال۔

اسی طرح پہاڑ ہلتے ہیں۔ اسی طرح ریت سے جنگل بنتے ہیں۔ اسی طرح “ناممکن” ثابت ہوتا ہے کہ دراصل اس کا مطلب صرف یہ تھا کہ کسی نے پوری کوشش نہیں کی۔

جادھو پائینگ نے حکومت کا انتظار نہیں کیا۔ فنڈنگ کا انتظار نہیں کیا۔ اجازت، منظوری یا تعریف کا انتظار نہیں کیا۔

اس نے ایک مسئلہ دیکھا، اور اپنی زندگی کے چار عشرے اسے حل کرنے میں لگا دیے۔

بھارت کا فاریسٹ مین، جس نے ایک ناممکن جنگل پیدا کر دیا کیونکہ وہ یہ برداشت نہیں کر سکا کہ سانپ دھوپ میں مرتے رہیں۔

اور آج وہ 1,360 ایکڑ اس بات کا زندہ ثبوت ہیں کہ ایک پختہ ارادے والا انسان واقعی زمین کا منظر بدل سکتا ہے۔

🌎

05/04/2026

تُجھ کو مَعلوم نہیں ٫ تُجھ کو بَھلا کیا مَعلوم
تیرے چہرے کے یہ سادہ سے , اَچُھوتے سے نَقوش
میرے تخّیل کو , کیا رَنگ عَطا کرتے ھیں۔؟

تیری زُلفیں ، تیری آنکھیں ، تیرے عارِض ، تیرے ھونٹ
کیسی اَنجانی سی , مَعصُوم خطا کرتے ھیں۔

تیرے قامت کا , لَچکتا ھُوا مَغرور تناؤ
جیسے پُھولوں سے لَدی شاخ ، ھَوا میں لہرائے۔

وہ چَھلکتے ھُوئے ٫ ساغر سی جوانی ، وہ بَدن
جیسے شُعلہ سا نِگاھوں میں ، لپک کر رہ جائے۔

خَلوتِ بَزم ھو ، یا جَلوتِ تنہائی ھو
تیرا پیکر ، میری نظروں میں اُبَھر آتا ھے۔

کوئی ساعت ھو ، کوئی فِکر ھو ، کوئی ماحول
مجھ کو ھر سِمت، تیرا حُسن نظر آتا ھے

چَلتے چَلتے , جو قدم آپ ٹِھٹَھک جاتے ھیں
سوچتا ھُوں , کہ کہیں تُو نے پُکارا تو نہیں؟

گُم سی ھو جاتی ھیں , نَظریں تو خیال آتا ھے
اِس میں پنہاں , تیری آنکھوں کا اِشارہ تو نہیں؟

دُھوپ میں سایہ بھی ھوتا ھے ، گُریزاں جِس دَم
تیری زُلفیں , میرے شانوں پہ ٫ بِکھر جاتی ھیں

جُھک کے جب سَر ، کِسی پتھر پہ ٹِکا دیتا ھُوں
تیری بانہیں , میری گردن میں ٫ اُتر آتی ھیں۔

آنکھ لگتی ھے , تو دِل کو یہ گماں ھوتا ھے
سر بالیں کوئی بیٹھا ھے ، بڑے پیار کے ساتھ۔

میرے بکھرے ھُوئے ، اُلجھے ھُوئے , بالوں میں کوئی
اُنگلیاں پھیرتا جاتا ھے , بڑے پیار کے ساتھ۔

جانے کیوں تُجھ سے , دِلِ زار کو اِتنی ھے لَگن
کیسی کیسی , تمناؤں کی تَمہید ھے تُو۔

دِن میں تو اِک شَبِ مَہتاب ھے , میری خاطر
سَرد راتوں میں , میرے واسطے ٫ خُورشید ھے تُو

اپنی دیوانگئ شوق پہ , ھَنستا بھی ھُوں میں
اور پِھر اَپنے خیالات میں , کھو جاتا ھُوں

تجھ کو اپنانے کی ھِمت ھے , نہ کھو دینے کا ظَرف
کبھی ھَنستے ، کبھی روتے ھُوئے , سو جاتا ھُوں میں

کِس کو مَعلوم , میرے خُوابوں کی تَعبیر ھے کیا۔
کون جانے , کہ میرے غَم کی ٫ حَقیقت کیا ھے۔

میں سمجھ بھی لُوں ، اگر اِس کو محبت کا جُنوں
تجھ کو ٫ اِس عشقِ جُنوں خیز سے , نسبت کیا ھے۔؟

تُجھ کو مَعلوم نہیں ، تُجھ کو نہ ھو گا مَعلوم
تیرے چہرے کے ٫ یہ سادہ سے , اَچُھوتے سے نقُوش
میری تَخئیل کو , کیا رنگ عَطا کرتے ھیں

تیری زُلفیں ، تیری آنکھیں ، تیرے عارِض ، تیرے ھونٹ
کیسی انجانی سی , مَعصُوم خَطا کرتے ھیں

❞حَمایت علی شاعر❝

05/04/2026

اب نہ وہ عشق نہ کچھ اس کی خبر باقی ہے
ہے سفر ختم اک آشوب سفر باقی ہے

کوئی آیا نہ گیا برسوں سے ان راہوں میں
معرکہ کیسا سر راہ گزر باقی ہے

جلنے پاتا نہیں کوئی دیا کوئی جگنو
طاق دل میں گئی آندھی کا اثر باقی ہے

اب بھی کہلاتا ہے وہ شخص تو محبوب نظر
دل دکھانے کا ابھی اس میں ہنر باقی ہے

آخری شمع تو لو بجھ گئی جل کر یارو
اس دھوئیں میں مگر امکان سحر باقی ہے

سب مراحل سے گزر بھی لئے کب کے ہم آہؔ
حبس تنہائی میں مر جانے کا ڈر باقی ہے

(آہ سنبھلی)

31/03/2026

تم کو بھلا رہی تھی کہ تم یاد آ گئے
میں زہر کھا رہی تھی کہ تم یاد آ گئے

کل میری ایک پیاری سہیلی کتاب میں
اک خط چھپا رہی تھی کہ تم یاد آ گئے

اس وقت رات رانی مرے سونے صحن میں
خوشبو لٹا رہی تھی کہ تم یاد آ گئے

ایمان جانئے کہ اسے کفر جانئے
میں سر جھکا رہی تھی کہ تم یاد آ گئے

کل شام چھت پہ میر تقی میرؔ کی غزل
میں گنگنا رہی تھی کہ تم یاد آ گئے

انجمؔ تمہارا شہر جدھر ہے اسی طرف
اک ریل جا رہی تھی کہ تم یاد آ گیے

انجم رہبر

30/03/2026

اس وقت زمین سے 420 کلومیٹر دور خلا میں امـریکہ کینیـڈا اور چین کے ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو مختلف چیزوں پر تجربات کررہے ہیں یہ لوگ مسلسل زمین کے اردگرد چکر لگا رہے ہیں یہ اس قدر دوری پر واقع ہے کہ وہاں ہوا کے مالیکیولز نہ ہونے کے برابر ہے۔ عام ہوائی اور جنگی جہاز نہیں پہنچ سکتے کیونکہ ان کو اڑانے کے لیے ہوا نہیں ہے میں دراصل بین الاقوامی خلائی اسٹیشن ISS کی بات کر رہا ہوں۔ جب ہم بنـدوق سے فائر کرتے ہیں تو وہ گـولی ایک سیکنڈ میں زیادہ سے زیادہ ایک یا دو کلومیٹر کا فاصــلہ طے کرتی ہے، یعنی اگر بنـدوق سیدھی آسمان کی طرف چلائی جاتی ہے۔ پھر وہ گولی ایک یا دو کلومیٹر تک جائے گی اور پھر زمین پر گرے گی کیونکہ زمین گـولی پر برابر کی قوت لگا رہی ہے، جسے سائنـس کی زبان میں "کشش ثقل قوت" کہا جاتا ہے۔

ہم جس چـیز کو بھی اوپر کی طرف پھینکتے ہیں، وہ واپس نیچے آتا ہے اور گرتا ہے لیکن اگر ہم ایسی بنــدوق چلائیں جس سے گولی گیارہ کلومیٹر فی سیکنڈ کی رفتار پکڑ لیتے ہیں، تو وہ گولی زمین پر واپس نہیں گرے گی کیونکہ یہ زمین سے باہر نکلنے کی ولاسٹی ہے جن کو ہم "اسکیپ ولاسٹی" کہتے ہیں، اس سے کم رفتار سے ہم چاہتے ہوئے بھی "زمین" کی "کشش ثقل" سے خود کو آزاد نہیں کر سکتے۔

ناسا جب خلابازوں یا خوراک وغیرہ کو "آئی ایس ایس" پر بھیجتا ہے تو وہ خلائی جہاز کی رفـتار اس حد تک بڑھا دیتے ہیں ناسا اور اسپیس ایکــــس کمپنی والے جب انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن ISS کو پانی یا خوراک لیکر جاتے ہیں تو وہ اپنی خلائی جہاز کی رفتار اس قدر بڑھا دیتے ہیں کہ وہ زمین کی "کشش ثقل" سے نکل جائے، اگر کوئی خلائی جہاز سولر سسٹم سے مکمل باہر نکلنا چاہتا ہے، تو وہ 42 کلومیٹر فی سیکنڈ کی رفتار حاصــل کریں گے تب جاکر وہ ہمارے "سولر سسٹم" سے باہر نکل سکتا ہے، اس سے کم رفتار پر وہ سولر سسٹم سے باہر نہـیں نکل سکتا۔ کیوں کہ یہ سولر سسٹم کی اسکیپ ولاسٹی ہے۔

بالکل اسی طرح اگر ہمیں اپنی ملکی وے کہکـشاں سے باہر نکلنا ہو تو اس کے لئے ہمیں 550 کومیٹر فی سیکنڈ کی رفتار پکڑنی ہوگی اگر ہم نظام شمسی سے باہر نکلنے میں کامــیاب ہو بھی گٸے تو آگے ملکی وے کہکشاں سے باہر نکلنا مشــکل نہیں بلکہ ناممکن ہے 550 کلومیٹر فی سیکنڈ رفتار حاصل کرنا کوئی مزاق نہیں ہے۔ یعنی ہم ملکی وے کہکشاں کے اندر بند ہیں اور بند ہی رہیں گے اگر مستقبل میں ہم نے ترقی کی اور ملکی وے سے کسی طرح نکل بھی گئے تو آگے لوکل گروپ کلسٹر سے نہیں نکل پائیں گے اگر ان سے بھی نکل گئے تو پھر آگے ورگو سپر کلسٹر ہے، ہم کائنات میں پوری طرح سے بند ہے۔ ہم زیادہ سے زیادہ چاند اور مـریخ نامی سیارے تک کوشش کرسکتے ہیں۔ ناسا ماہرین کے مطابق پوری کاٸنات میں دو ہزار ارب کے قریب کہکشائیں ہیں اگر ایک سال کا بچہ کھانے پینے اور سوئے بغیر کائنات میں موجود سـتارے گننے لگے تو یہی ایک سال کا بچہ گنتے گنتے 60 سال کی عمر تک پہنچ جائے گا۔۔۔۔۔ لیکن کاٸنات میں پاٸے جانے والے تمام ستارے گن نہیں پاٸے گا، کیـوں کہ کاٸنات میں ستاروں کی تعداد زمین پر موجود تمام ذرات سے زیادہ ہے۔

ناسا سائنسدانوں کے مطابق وائجر ون خلائی جہاز اس وقت سولر سسٹم کے آخری کناروں پر موجود ہے دلچسپ بات یہ ہے کہ وائجر ون اس طویل سفر میں اکیلا نہیں ہے بلکہ انکے پیچھے وائجر دوم بھی بڑھ رہا ہے وائجر دوم بھی اکیلا نہیں ہے۔ بلکہ اس کے پیچھے پائنیر دس بھی بڑھ رہا ہے پائنـیر دس بھی اکیلا نہیں ہے، بلکہ اس پیچھے پائنیر گیارہ بھی بڑھ رہا ہے۔ سائنسدانوں کے مطابق چاروں اسپیس کرافٹس سولر سسٹم سے باہر نکلنے کی طرف بڑھ رہے ہیں واٸجر ون ہم سے اتنا دور جا چکا ہے کہ اس کے بھیجے ہوٸے سگنلز 22 گھنٹے بعد ہی زمین پر پہنچتے ہیں۔۔ اس سے آپ بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ واٸــجر ون اس وقت کہاں ہوگا ؟ اگر آپ یہ سوچ رہے ہیں کہ یہی چاروں اسپیس کرافٹـس ہماری ملکی وے کہکشاں سے باہر نکل سکیں گے تو آپ غلط سوچ رہے ہیں کیونکہ ملکی وے کہکشاں سے باہر نکلنے کے لٸے لاکھـوں اور کروڑوں سال چاہیے جو کہ ہمارے پاس نہیں ہے ہمیں صرف 60 سال کی زندگی ملی ہے اور اس مختصر عمر کے ساتھ کائنات کو ایکسپلور کرنا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہے انکے لیے کم از کم ایک دو کروڑ سال کی عمر چاہیے ہے جو ہمارے پاس نہیں ہے۔ ہم نے کائنات کو ابھی تک ایک فیــصد بھی مکمل دریافـت نہیں کیا کیونکہ کائنات 93 بلین نوری سال پر پھیلا ہوا ہے ۔۔۔۔۔۔!!!

31/01/2026

زندگی کا درد لے کر انقلاب آیا تو کیا
ایک دوشیزہ پہ غربت میں شباب آیا تو کیا

تشنہ انوار ہے اب تک عروسِ زندگی
بادلوں کی پالکی میں آفتاب آیا تو کیا

اب تو آنکھوں میں غمِ ہستی کے پردے پڑ گئے
اب کوئی حسنِ مجسم بے نقاب آیا تو کیا

پھر وہی جہدِ مسلسل پھر وہی فکر معاش
منزل جاناں سے کوئی کامیاب آیا تو کیا

اک تجلی سے منور کیجئے قصرِ حیات
ہر تجلی پر دلِ خانہ خراب آیا تو کیا

بات جب ہے غم کے ماروں کو جلا دے اے شکیل
تو یہ زندہ میتیں مٹی میں داب آیا تو کیا

شکیل بدایونی

18/01/2026
11/01/2026

Address

Kapilvastu

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Aawaarah posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category